اہم خبريں

خانداني مضبوط واستوار تعلقات
23 جماي الآخر 1437ھ مطابق 1 اپریل 2016ء

awkaf-

پہلا: عناصر:

  1. اسلام میں خاندان کا مقام۔
  2. خاندان کے استقرار کیلئے اسلام کا منہج۔

ا- انتخاب میں عمدگي۔

ب- حقوق وواجبات کي رعایت۔

ج- الفت ومحبت کا وجود۔

د- اچھي زندگي گزارنا۔

ھ- اولاد کے درمیان انصاف۔

  1. خاندان کے استقرار کا معاشرہ پر اثر۔

دوسرا: دلیليں:

قرآن کی دلیليں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ } [الروم: 21] . (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔)
  2. الله تعالى فرماتا ہے: {وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ} [نحل: 72]. (الله تعالى ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺗﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻛﮭﺎﻧﮯ ﻛﻮ ﺩﯾﮟ۔ ﻛﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻛﯽ ﻧﺎﺷﻜﺮﯼ ﻛﺮﯾﮟ ﮔﮯ؟)
  3. الله تعالى فرماتا ہے: {وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ}[نور: 32]. (ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮯ نكاح ﻛﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ كا نكاح ﻛﺮ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ نيكـ ﺑﺨﺖ ﻏﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﻧﮉﯾﻮﮞ كا ﺑﮭﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﻔﻠﺲ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺗﻮ الله تعالى ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻏﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ الله تعالى ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔)
  4. الله تعالى فرماتا ہے: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [بقره: 228]. (ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻛﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﻀﻠﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔)
  5. الله تعالى فرماتا ہے: {وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا}[نساء: 19]. (ﺍﻥ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﺍﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﻭﺑﺎﺵ ﺭﻛﮭﻮ، ﮔﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﻛﺮﻭ ﻟﯿﻜﻦ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﻜﻦ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺑﺮﺍ ﺟﺎﻧﻮ، ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻛﺮ ﺩﮮ۔)
  6. الله تعالى فرماتا ہے:{وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا}[نساء: 35]. (ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺁﭘﺲ ﻛﯽ ﺍﻥ ﺑﻦ كا ﺧﻮﻑ ﮨﻮ ﺗﻮ ايكـ ﻣﻨﺼﻒ ﻣﺮﺩ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ايكـ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﻛﺮﻭ، ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺻﻠﺢ ﻛﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ الله ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﺍ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﭘﻮﺭﮮ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻻ ﭘﻮﺭﯼ ﺧﺒﺮ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔)
  7. الله تعالى فرماتا ہے: {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا}[طلاق: 7] . (ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺧﺮﭺ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺯﻕ ﻛﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻛﮧ ﺟﻮ كچهـ الله تعالى ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ (ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺴﺐ ﺣﯿﺜﯿﺖ) ﺩﮮ، ﻛﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻛﻮ الله تكليف ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﮨﮯ)

حدیث نبوى کی دلیليں:

  1. عبد الله بن مسعود (رضى الله عنه) سے روايت ہے كہ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) نے فرميايا: (يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ) (متفق عليه). (اے نوجوانوں كے گروه! جو تم ميں سے شادى كى طاقت ركهتا ہے اسے چاہيے كہ وه شادى كرے كيونكہ يہ غضِ بصر كا باعث اور عصمت كى خوب حفاظت كرنے والى ہے- اور جسے طاقت نہ ہو تو وه روزے ركهے كيونكہ يہ اس كے ضبطِ نفس كا ذريعہ ہے-) (متفق عليه)
  2. ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا: ( تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاك َ). (رواه البخاري). «عورت سے نكاح چار چيزوں كى بنياد پر كيا جاتا ہے- اس كے مال كى وجہ سے اور اسكے خاندانى شرف كى وجہ سے اور اسكى خوبصورتى كى وجہ سے اور اسكے دين كى وجہ سے اور تو ديندار عورت سے نكاح كر كے كاميابى حاصل كر، اگر ايسا نہ كرے تو تيرے ہاتهوں كو مٹى لگے گى (يعنى اخير ميں تجھ كو ندامت ہو گى)» (بخارى)
  3. حضرت انسt بن مالكـ نے بيان كيا كہ تين حضرات (على بن ابى طالب، عبد الله بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون- رضى الله عنہم-) نبى كريم r كى ازواج مطہرات كے گهروں كى طرف آپ كى عبادت كے متعلق پوچهنے آئے، جب انہيں حضور اكرم r كا عمل بتايا گيا تو جيسے انہوں نے اسے كم سمجها اور كہا كہ ہمارا آنحضرت r سے كيا مقابلہ! آپ كى تو تمام اگلى پچهلى لغزشيں معاف كر دى گئى ہيں- ان ميں سے ايكـ نے كہا كہ آج سے ميں ہميشہ رات بهر نماز پڑها كروں گا- دوسرے نے كہا كہ ميں ہميشہ روزے سے رہوں گا اور كبهى ناغہ نہيں ہونے دوں گا- تيسرے نے كہا كہ ميں عورتوں سے جدائى اختيار كر لوں گا اور كبهى نكاح نہيں كروں گا- پهر آنحضرتr تشريف لائے اور ان سے پوچها كيا تم نے ہى يہ باتيں كہى ہيں؟ سن لو! الله تعالى كى قسم! الله رب العالمين سے ميں تم سب سے زياده ڈرنے والا ہوں- ميں تم سب سے زياده پرہيزگار ہوں ليكن ميں اگر روزے ركهتا ہوں تو افطار بهى كرتا رہتا ہوں- نماز بهى پڑهتا ہوں (رات ميں) اور سوتا بهى ہوں اور ميں عورتوں سے نكاح كرتا ہوں- ميرے طريقے سے جس نے بے رغبتى كى وه مجھ ميں سے نہيں ہے- (بخارى)
  4. (روايت ہے ابو حاتم مزنى سے كہا انہوں نے فرمايا رسولِ خدا r نے فرميايا: ( إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ ، إِلاَّ تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادٌ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ؟ قَالَ: إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ. (رواه الترمذي) يعنى جب آئے تمہارے پاس ايسا شخص كہ تم پسند كرو اس كے دين كو اور خلق اور عادات كو تو نكاح كر دو اس سے اگر ايسا نہ كرو گے تو بڑا فتنہ ہو گا زمين ميں اور بہت فساد لوگوں نے كہايا رسول الله اگر اس ميں كچھ ہو يعنى مفلسى يا تنگ دستى كہ بيوى كو اپنى روٹى نہ دے سكے تو فرمايا آپ نے جب آوے تمہارے پاس ايسا شخص كہ پسند كرو تم اس كا دين اور عادات تو نكاح كر دو اس سے تين بار يہى فرمايا-) (ترمذى)
  5. (عبد الله بن عمر – رضى الله عنہما- نے كہا انہوں نے رسول كريم r سے سنا، رسول الله نے فرمايا كہ ہر آدمى حاكم ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- امام حاكم ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- مرد اپنے گهر كے معاملات كا افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- عورت اپنے شوہر كے گهر كى افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- خادم اپنے سيد كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كے بارے ميں سوال ہو گا- انہوں نے بيان كيا كہ ميں نے نبى كريمr سے يہ باتيں سنى ہيں اور مجهے خيال ہے كہ آپ نے يہ بهى فرمايا تها كہ مرد اپنے باپ كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- غرض تم ميں سے ہر فرد حاكم ہے اور سب سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا-) (بخارى).

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُمَا) سے روايت ہے كہ  رَسُولَ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: (آدمی کے گناہ کے لئے اتنا کافی ہے کہ اپنے عیال کو ضائع کردے) (احمد)

تیسرا: موضوع:

اسلام نے خاندان کا بہت زیادہ اہتمام کیا ہے، کیونکہ یہ معاشرہ کی تعمیر کی پہلي اینٹ ہیں، اسکي اصلاح  معاشرہ کي اصلاح ہے اور اسکا فساد معاشرہ کا فساد ہے، اسي لئے اسلام نے انسان اور معاشرہ کي حفاظت کے خاطر خاندان کیلئے اصول وقواعد  بنایاہے، جو اسکے قیام کو منظم کرتا ہے اور اسکي سلامتي اور استقرار کا خیال رکھتا ہے، اس لئے کہ خاندان کے استقرار ہي معاشرہ کا استقرار ہے۔

خاندان کے سلسلے میں اسلام کا اہتمام اسکے بنیادي مرحلہ سے ہي شروع ہوجاتا ہے، جو خاندان کے تمام افراد کے  درمیان باہم الفت ومحبت اور یکجہتي ورواداري اور ہم آہنگي  پیدا  کرتا ہے، اور اسکي بنیاد کے ڈھاجانے  اور گرنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں، تو اسلام نے اپنے پیروکاروں کو قانوني طور پر خاندان کے بنانے پر زور دیا ہے، جس میں  انسان کي عزت کي حفاظت ہے اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق بھي ہے۔ اور وہ ہے شادي جو تمام مخلوق میں اللہ تعالی کي ایک سنت ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [ذاريات: 49] (ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﻮﮌﺍ ﭘﯿﺪﺍﻛﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻭ) اور فرمايا ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ} [يس: 36] (ﻭﮦ پاكـ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻛﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮯ ﺧﻮﺍﮦ ﻭﮦ ﺯﻣﯿﻦ ﻛﯽ ﺍﮔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﻮﮞ، ﺧﻮﺍﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻧﻔﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺍﮦ ﻭﮦ (ﭼﯿﺰﯾﮟ) ﮨﻮﮞ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔). شادى ايكـ فطرى سنت ہے- الله تعالى فرماتا: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} [روم: 21] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔).

اسي طرح اسلام نے زمین ووطن کي تعمیر اور معاشرہ  اصلاح کے لئے خاندان کے بنانے اور اسکے استقرار پر زور دیا ہے، تاکہ اعلی مقاصد حاصل ہو سکے اور وہ ہے شرافت وپاکدامني کو پھیلانا اور ہر طرح کي گندگیوں سے معاشرہ کي حفاظت، اور خاندانوں کے درمیان آپس میں رشتوں کا ربط، اور اسکے علاوہ بھي دیگر حکمتیں اور مقاصد ہیں۔ الله ةتعالى فرماتا ہے:}وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ * وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ  { [نور: 32 – 33] (ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮯ نكاح ﻛﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ كا نكاح ﻛﺮ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ نيكـ ﺑﺨﺖ ﻏﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﻧﮉﯾﻮﮞ كا ﺑﮭﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﻔﻠﺲ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺗﻮ الله تعالى ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻏﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ الله تعالى ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔ (٣٢) ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ پاكـ ﺩﺍﻣﻦ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ نكاح ﻛﺮﻧﮯ كا ﻣﻘﺪﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﯾﮩﺎﮞ تكـ ﻛﮧ الله تعالى ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ، ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻛﻮﺋﯽ كچھ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﻛﺮ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻛﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻛﺮﺍﻧﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺟﻮ ﻣﺎﻝ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﻮ ﻟﻮﻧﮉﯾﺎﮞ پاكـ ﺩﺍﻣﻦ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻛﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻛﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﻛﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺑﺪكارى ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻛﺮﺩﮮ ﺗﻮ الله تعالى ﺍﻥ ﭘﺮ ﺟﺒﺮ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺨﺸﺶ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔). بلکہ نبي صل اللہ علیہ وسلم نے  شادي کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے نوجوانوں کو اس سنت کے ادا کرنے پر ابھارا ہے- الله كے رسول(r) كا ارشاد ہے:: (اے نوجوانوں كے گروه! جو تم ميں سے شادى كى طاقت ركهتا ہے اسے چاہيے كہ وه شادى كرے كيونكہ يہ غضِ بصر كا باعث اور عصمت كى خوب حفاظت كرنے والى ہے- اور جسے طاقت نہ ہو تو وه روزے ركهے كيونكہ يہ اس كے ضبطِ نفس كا ذريعہ ہے-) (متفق عليه)

اس کے مقابلہ میں اسلام  نے ہر ان امور سے منع کیا ہے جو عالم کى تعمیر کے منافى ہے، جیسے کنواراپن اور عورتوں سے بے تعلقي رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں سے منع فرمایا ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے کو خصی بنا لیتے ۔  (بخارى) (حضرت انسt بن مالكـ نے بيان كيا كہ تين حضرات (على بن ابى طالب، عبد الله بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون- رضى الله عنہم-) نبى كريم r كى ازواج مطہرات كے گهروں كى طرف آپ كى عبادت كے متعلق پوچهنے آئے، جب انہيں حضور اكرم r كا عمل بتايا گيا تو جيسے انہوں نے اسے كم سمجها اور كہا كہ ہمارا آنحضرت r سے كيا مقابلہ! آپ كى تو تمام اگلى پچهلى لغزشيں معاف كر دى گئى ہيں- ان ميں سے ايكـ نے كہا كہ آج سے ميں ہميشہ رات بهر نماز پڑها كروں گا- دوسرے نے كہا كہ ميں ہميشہ روزے سے رہوں گا اور كبهى ناغہ نہيں ہونے دوں گا- تيسرے نے كہا كہ ميں عورتوں سے جدائى اختيار كر لوں گا اور كبهى نكاح نہيں كروں گا- پهر آنحضرتr تشريف لائے اور ان سے پوچها كيا تم نے ہى يہ باتيں كہى ہيں؟ سن لو! الله تعالى كى قسم! الله رب العالمين سے ميں تم سب سے زياده ڈرنے والا ہوں- ميں تم سب سے زياده پرہيزگار ہوں ليكن ميں اگر روزے ركهتا ہوں تو افطار بهى كرتا رہتا ہوں- نماز بهى پڑهتا ہوں (رات ميں) اور سوتا بهى ہوں اور ميں عورتوں سے نكاح كرتا ہوں- ميرے طريقے سے جس نے بے رغبتى كى وه مجھ ميں سے نہيں ہے-) (بخارى)

    جب خاندانى استقرار – ہر اس کلمہ سے عبارت ہے جو سکون واطمئنان کے معنی میں شامل ہے- شرعي اور دنیاوي  مقصد ہے، تو اسلام نے اسکے لئے درست شرعي اصول اور مضبوط منہج بنایا ہے تاکہ میاں بیوي کے درمیان ہمیشہ الفت ومحبت اور استقرار قائم رہے، اور ان اہم اصولوں میں سے چند ذیل ہے:

*میاں بیوي کا ایک دوسرے کو صحیح انتخاب کرنا، نبي صل اللہ علیہ وسلم نے شوہر کو اپنے لئے بیوي کے اچھے انتخاب کي وصیت فرمایا ہے، کہ وہ اچھي مربیہ اور اپنے شوہر کے مال اور اسکے آبرو کي حفاظت کرنے والي ہو، یہ دنیا کي سب سے اچھي چیز ہے، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "دنیا سازوسامان ہے، اور دنیا کا بہترین سازوسامان نیک بیوي ہے، جب اچھے انتخاب کے ساتھ خاندان کي بنیاد رکھي جاتي ہے تو سکون اور استقرار اور غیر منقطع محبت اور باہم رحم وکرم وجود میں آتا ہے، اسوقت شادي سب سے عمدہ نعمت اور بابرکت چیز ہوتي ہے۔

ضروري ہے کہ یہ انتخاب دین اور اخلاق کي بنیاد پر ہوں-

(ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا: عورت سے نكاح چار چيزوں كى بنياد پر كيا جاتا ہے- اس كے مال كى وجہ سے اور اسكے خاندانى شرف كى وجہ سے اور اسكى خوبصورتى كى وجہ سے اور اسكے دين كى وجہ سے اور تو ديندار عورت سے نكاح كر كے كاميابى حاصل كر، اگر ايسا نہ كرے تو تيرے ہاتهوں كو مٹى لگے گى (يعنى اخير ميں تجھ كو ندامت ہو گى))- (بخارى)-

تو خاندان کي دیکھ ریکھ میں بیوي کا اہم  کردار ہے،  اسکے صلاح میں خاندان کا استقرار ہے، بلکہ تمام معاشرے کا استقرار ہے اور اسکے فساد میں خاندان کا انہدام ہے۔ شاعر کا قول ہے:

ماں ایک مدرسہ ہے اگر تم اسے تیار کر لو ، تو تم ایک پختہ اور اچھي قوم تیار کرلوگے۔

اسي طرح  نبي صل اللہ علیہ وسلم نے بیوي کو بھي اپنے لئے شوہر کے انتخاب کي وصیت فرمایا ہے کہ وہ دین اور اخلاق کي بنیاد پر ہونا چاہئے-

 (روايت ہے ابو حاتم مزنى سے كہا انہوں نے فرمايا رسولِ خدا r نے جب آئے تمہارے پاس ايسا شخص كہ تم پسند كرو اس كے دين كو اور خلق اور عادات كو تو نكاح كر دو اس سے اگر ايسا نہ كرو گے تو بڑا فتنہ ہو گا زمين ميں اور بہت فساد لوگوں نے كہايا رسول الله اگر اس ميں كچھ ہو يعنى مفلسى يا تنگ دستى كہ بيوى كو اپنى روٹى نہ دے سكے تو فرمايا آپ نے جب آوے تمہارے پاس ايسا شخص كہ پسند كرو تم اس كا دين اور عادات تو نكاح كر دو اس سے تين بار يہى فرمايا-) (ترمذى)- نبي صل اللہ علیہ وسلم نے دین اور اخلاق کو نیک شوہر کي اہم صفت بنایا، یہاں سے یہ بات صاف ہوگئي کہ دین کي بنیاد پر انتخاب سے خاندان میں  استقرار پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کي ترقي کا سبب ہوتا ہے۔

*اسى طرح خاندان کے استقرار کي بنیاد میں سے یہ ہے: کہ اس کے ہر افراد کو چاہئے کہ جو انکے حقوق و واجبات ہیں اس کا خیال رکھے، تو اسلام نے دونوں کو ایک دوسرے پر مساوي حقوق وواجبات دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [ سورة البقرة : 228] (ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻛﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﻛﮯ ﺳﺎﺗھ ﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﻀﻠﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) اسلئے فرض يہ ہے کہ خاندان کا کوئي فرد اپنے حقوق کا اس وقت تک مطالبہ نہ کرے جب تک کہ وہ اپنے ذمہ واجبات ادا نہ کر لے، تاکہ الفت ومحبت اور سکون پیدا ہو جس سے  خاندان میں استقرار پیدا ہوتا ہے۔

اسلام نے ان حقوق وواجبات کو بیان کیا ہے، اور خاندان کے تمام افراد پر تقسیم کیا ہے، اور ہر ایک پر اس کي حفاظت ضروري قرار دیا ہے،  ان حقوق میں سے مادي ومعنوي اور تربیتي حقوق ہیں، اور ان میں سے تعمیري کاموں میں شراکت اور زندگي کے مطالبات اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں باہم مدد کرنا بھي ہے- عبد الله بن عمر – رضى الله عنہما- نے كہ انہوں نے رسول كريم r سے سنا آپr نے فرمايا كہ: (كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)، قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلاَءِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)، وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: (وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ) (رواه البخاري( (ہر آدمى حاكم ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- امام حاكم ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- مرد اپنے گهر كے معاملات كا افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- عورت اپنے شوہر كے گهر كى افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- خادم اپنے سيد كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كے بارے ميں سوال ہو گا- انہوں نے بيان كيا كہ ميں نے نبى كريمr سے يہ باتيں سنى ہيں اور مجهے خيال ہے كہ آپ نے يہ بهى فرمايا تها كہ مرد اپنے باپ كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- غرض تم ميں سے ہر فرد حاكم ہے اور سب سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا-) (بخارى)- عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُمَا) سے روايت ہے كہ رسول الله r نے فرمايا: (آدمی کے گناہ کے لئے اتنا کافی ہے کہ اپنے عیال کو ضائع کردے) (احمد)

ايكـ صحابى نے رسول اللهr سے دريافت كيا: (اے الله كے رسول! ہم پر بيوى كے كيا حقوق ہيں؟ آپ نے فرمايا: "جب تو كهائے تو اسے كهلائے، جب تو پہنے تو اسے پہنائے-” يا يوں كہا: "جب كما كر لائے (تو اسے پہنائے) اور چہرے پر نہ مار، برانہ بول اور اس سے جدانہ ہو مگر گهر ميں-") (ابو داود)

یہ اسماء بنت یزید انصاریہ ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتي ہیں کہتي ہیں: (۔۔۔۔ ہم عورتوں کي جماعت تو آپ لوگوں کے گھروں کي دیواروں میں قید اور آپ کي شہوتوں کي تکمیل اور آپ کي اولادوں کو پیدا کرنے کي ذمہ داریوں میں مشغول ہوتي ہیں،  اور آپ مرد لوگ جمعہ اور جماعت اور مریضوں کي عیادت اور جنازہ میں شرکت اور ایک کے بعد ایک حج  اور اس سے بھي زیادہ افضل اللہ کے راستہ میں جھاد کے ذریعہ ہم پر فوقیت لے جاتے ہیں، اور آپ میں سے جب کوئي مرد حج یا عمرہ یا اللہ کے راستہ میں نکلتا ہے تو ہم انکے مال کي حفاظت انکے لئے کپڑے بننا  اور انکے اولاد کي تربیت کرتے ہیں، تو اے اللہ کے رسول کیا ہم آپکے ساتھ اجر میں شریک نہیں ہیں؟،  کہا: کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم اپنا پورا چہرا صحابہ کي طرف کرکے فرمایا: کیا تم لوگوں نے دین کے مسئلہ میں اس عورت کي بات سے بہتر کوئي بات سني؟،لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ہم گمان نہیں کرسکتے تھے کہ ایک عورت ایسي بات کہہ سکتي ہے،پھر نبی صل اللہ علیہ وسلم ان عورت کي جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے عورت تم لوٹ جاؤ اور دوسري عورتوں کو بھي بتادو کہ جو اپنے شوہروں کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اسکي خوشنودي چاہے وہ سب برابر کي شریک ہیں، کہتے ہیں: عورت لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتے ہوئے خوشي سے لوٹ گئي۔(شعب الإيمان).

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم خاندان کي کامیابي اور اسکا استقرار تمام افراد کے حقوق وواجبات کي حفاظت کرنے، اور اس سے عدم تجاھل اور عدم کوتاہي میں ہے۔

*اور وہ امور جو خاندان کے استقرار میں مددگار ہے، ان میں سے ایک افراد کے درمیان رحمت کا پایا جانا ہے، کیونکہ رحمت خوشحال گھر کا ایک اہم  ستون ہے، اور کسي بھی کامیاب خاندان کي مضبوط بنیاد ہے، اور وہ ایسے مبادي وقیم ہیں جن سے میاں بیوي کو آراستہ ہونا چاہئے تاکہ خاندان سکون واطمئنان اور الفت ومحبت اور استقرار کي نعمت سے سرفراز ہوسکے-

الله تعالى فرماتا ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُم أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ}[روم:21] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ  ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ  ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ،  ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔)

تو معاشرہ کے تمام افراد کے درمیان رحم کا پایا جانا خاندان میں  پایے جانے کا سبب ہے، اور رسول اللہ کي زندگي میں ہمارے لئے ایک اچھا نمونہ ہے، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ رحم میں آڈیل اور نمونہ ہیں، اپني بیوي اور بچوں یہاں تک کہ اپنے نواسوں اور خادموں کے ساتھبھي، تو آپ صل اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر تھے۔

جب رحمت کسي گھر سے مفقود ہوجائے تو خانداني زندگی تباہ وبرباد ہوجاتي ہے، تو خاندان کے ہر افراد کو چاہئے کہ رحمت کے وجود کیلئے سنجیدگي کے ساتھ کوشش کرے۔

*اسي طرح خاندان کے استقرار کي بنیاد میں سے یہ ہے:کہ حسن وخوبي کے ساتھ زندگي گزارنا، اور اس بات کا ہمیں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے، اور نبي صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کي ہے،

الله تعالى فرماتا ہے :{وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا}[سورة النساء: 19] (ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﻭﺑﺎﺵ ﺭﻛﮭﻮ، ﮔﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﻛﺮﻭ ﻟﯿﻜﻦ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﻜﻦ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺑﺮﺍ ﺟﺎﻧﻮ، ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻛﺮ ﺩﮮ۔)

تو ہرایک میاں بیوي سے باہم صلہ رحمي اور حسن معاملہ کا مطالبہ ہے تاکہ خاندان میں الفت ومحبت اور تعاون قائم ہو اور اسي کے ساتھ اس تعلق کا مقصد پورا ہوتا ہے،

الله تعالى كا ارشاد ہے: {هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ}[بقره: 187] (ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻟﺒﺎﺱ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﮨﻮ)- الله تعالى فرماتا ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً َورَحْمَةً} [روم:21] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ) ارشاد بارى ہے: {وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا}[اعراف: 189] (ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ كا ﺟﻮﮌﺍ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﺍﻧﺲ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﮮ)

اور وہ جس سے اچھي زندگي کا وجود ہوتا ہے: اچھي بات، اچھے کام ، اور رواداري، تعاون، احترام، مشورہ، رازوں کي حفاظت ہے، اور لڑائي جھگڑے کے اسباب اور تمام بري عادتوں سے بچنا اور اجتناب کرنا بھي ہے۔

نبي صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے سامنے حسن زندگي کي شاندار مثال پیش کي، حدیث اسود میں کہتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ سے پوچھاکہ رسول اللہ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ کہتي ہیں: (اپنے گھر والوں کا کام کرتے تھے، یعني انکي مدد کرتے تھے،جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ نماز کیلئے چلے جاتے)، (صحيح البخاري)، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہےکہتے ہیں: میں عورت کیلئے بننا سنورنا پسند کرتا ہوں جیساکہ میں چاہتا ہوںکہ عورت میرے لئے سنگار کرے، اس لئے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [بقره: 228] (ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻛﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ)

اور میں پسند نہیں کرتا کہ اپنا تمام حق ان سے لوں کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ}[بقره: 228]  (ﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﻀﻠﯿﺖ ﮨﮯ) (المصنف لابن أبي شيبة).

میاں بیوى کے درمیان اچھي زندگي کا مطلب: یہ ہے کہ کسي ایک کے کندھے پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے جسے دوسرا جھیل رہا ہے، اچھي زندگي ایسا کلمہ ہے جو ازدواجي زندگي کے ہر خیر کو شامل ہے، اور اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ ازدواجي زندگي میں الفت ومحبت اور ہم آہنگي اور تفاھم ہو، اور یہ معاشرہ کي اصلاح کیلئے اہم قدم ہے۔

*اور وہ امور جو خاندان کے استقرار میں مددگار ہے: میاں بیوي کا ایک دوسرے سے مشورہ کرنا ہے، تو مشورہ سے آپس میں الفت ومحبت پیدا ہوگا، یہاں تک کہ بعض ان مسئلہ میں بھي جن کو بعض لوگ چھوٹا محسوس کرتے ہیں، اور یہ دو سال میں دودھ  چھوڑانے کا  مسئلہ ہے-

الله تعالى كا ارشاد ہے:{فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضِ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَليهِمَا}[بقره: 233] (ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ) ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭼﮭﮍﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻛﭽﮫ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ)

تو میاں بیوى کے درمیان مشورہ بلکہ خاندان کے تمام افراد کے درمیان ہمارى اسلامى زندگى کا منہج ہے، اور اللہ کي کتاب میں عموم کے صیغہ کے ساتھ اس کا حکم نازل ہوا ہے-

الله تعالى فرماتا ہے:{وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ}[سورۂ شورى: 38] (ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﻛﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ كا (ﮨﺮ) كام ﺁﭘﺲ ﻛﮯ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ (ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ) ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔)

اس کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے عملى طور پر کر کے دیکھایا ہے، اوراپنى بیویوں کے ساتھ  مشورہ پر سنت نبوى میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کے متعدد واقعات ہیں، ان میں سے :

 (پهر جب صلح نامہ سے آپ فارغ ہو چكے تو صحابہ – رضوان الله عليہم- سے فرمايا كہ اب اٹهو اور (جن جانوروں كو ساتهـ لائے ہو ان كى) قربانى كر لو اور سر بهى منڈوالو- انہوں نے بيان كيا كہ الله گواه ہے صحابہ ميں سے ايكـ شخص بهى نہ اٹها اور تين مرتبہ آپr نے يہ جملہ فرمايا- جب كوئى نہ اٹها تو حضرتr ام سلمہ كے خيمہ ميں گئے اور ان سے لوگوں كے طرز عمل كا ذكر كيا- حضرت ام سلمہ – رضى الله عنہا- كہا اے الله كے نبى! كيا آپ يہ پسند كريں گے كہ باہر تشريف لے جائيں اور كسى سے كچهـ نہ كہيں بلكہ اپنا قربانى كا جانور ذبح كر ليں اور اپنے حجام كو بلا ليں جو آپ كے بال مونڈ دے- چنانچہ آنحضرت r باہر تشريف لائے- كسى سے كچهـ نہيں كہا اور سب كچهـ كيا، اپنے جانور كى قربانى كر لى اور اپنے حجام كو بلوايا جس نے آپr كے بال مونڈے- جب صحابہ نے ديكها تو وه بهى ايكـ دوسرے كے بال مونڈنے لگے، ايسا معلوم ہوتا تها كہ رنج وغم ميں ايكـ دوسرے سے لڑپڑيں گے-)  (بخارى)

حسن بصرى رحمہ الله  کہتے ہیں: گرچہ رسول اللہ کو ام سلمہ سے مشورہ کي ضرورت نہيں تھي ، لیکن آپ نے چاہا کہ لوگ اس معاملہ میں آپ کي پیروى کرے، اور یہ کہ مرد عورت کے ساتھ مشورہ میں شرم اور جھجھک محسوس نہ کرے۔

*اسي طرح خاندان کے استقرار کي بنیاد میں سے ہے:خاندان کے تمام افراد پر خرچ کرنا، اور یہ وہ حق ہے جسے اللہ تعالی نے ذمہ دار شخص پر واجب کیا ہے،

الله تعالى فرماتا ہے:{الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ}[النساء:34] (ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﻛﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻛﮧ الله تعالى ﻧﮯ ايكـ ﻛﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻛﮧ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﻛﺌﮯ ﮨﯿﮟ) الله تعالى كا ارشاد ہے: {وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ}[البقرة : 233] (ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻛﮯ ﺑﭽﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺫﻣﮧ ﺍﻥ كا ﺭﻭﭨﯽ ﻛﭙﮍﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﻛﮯ ﮨﻮ۔ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ تكليف ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺘﻨﯽ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮨﻮ۔ ﻣﺎﮞ ﻛﻮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﭽﮧ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﯾﺎ ﺑﺎﭖ ﻛﻮ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺍﻭﻻﺩﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﺿﺮﺭ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻭﺍﺭﺙ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮨﮯ) ارشاد بارى ہے:{لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا}[الطلاق : 7 ] (ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺧﺮﭺ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺯﻕ ﻛﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻛﮧ ﺟﻮ ﻛﭽﮫ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ (ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺴﺐ ﺣﯿﺜﯿﺖ) ﺩﮮ، ﻛﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻛﻮ الله تكليف ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﮨﮯ)

*اور وہ امور جو خاندان کے استقرار میں مددگار ہے:خاندان کے افراد کے درمیان انصاف کا پایا جاناہے، تو بچوں کي دیني تربیت اور دیني شعار کي تعلیم ، اور انکے درمیان انصاف خانداني استقرار کي اہم بنیاد ہے، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے خانداني ربط کي حفاظت  اور افراد کے درمیان الفت کے خاطر بچوں کے درمیان معاملات میں تفریق کرنے سے ڈرایا ہے-

بلاشبہ  اسلام نے خاندان کو عزت واحترام کي نگاہ سے دیکھا ہے، تو یہ اسلام کي نگآہ میں ایک مقدس بندھن ہے جس کا بلند مقصد ہے، اور اسلام نے اسکےطاقتور اور مضبوط رہنے پر زور دیا ہے،تاکہ اپنے مقصد کو پورا کر سکے اور کٹھن اور آزمائش کي گھڑي میں ثابت قدم رہ سکے، اس لئے اسلام نے تمام آداب پر زور دیا ہے تاکہ تعمیر مضبوط  رہے، اسي طرح اسلام معاشرہ کو استقرار بخشتا ہے اور ہر طرح کي زیادتي اور سرکشي سے اسکي حفاظت کرتا ہے، تو اسلام نے خاندان اور اسکے استقرار کا اہتمام کیا ہے تاکہ امت کے افراد کے درمیان باہم ربط قائم ہو، اور ترقي اور خوشحالي میسر ہو۔

جب خاندان میں استقرار ہوگا تو تمام افراد ہر صورت میں امن وامان محسوس کر یں گے، جیسا کے نفسي ، جسماني، معاشرتي، اقتصادي، جسکا عکس معاشرے کے امن وسلامتي پر پڑے گا، تو خانداني استقرار کو اسلام معاشرہ کا فساد وبگاڑ سے  حفاظت کا وسیلہ مانتا ہے، تو معاشرہ کے امن کي ابتدا خاندان کے امن سے ہے پھر اسکول ومدرسہ امن اور پھر معاشرہ کا امن ہے۔

خاندان یہ پہلا مدرسہ ہے جہاں بچہ حق وباطل اور خیر وشر کي تعلیم حاصل کرتا ہے، اور ذمہ داریاں اٹھانا اور رائے کي آزادي سیکھتا ہے، اور خاندان میں بچوں کے شخصي عناصر متحد ہوتے ہیں، اور اسکي شخصیت کے خد وخال میں تمیز پیدا ہوتا ہے، اور ایک صالح معاشرہ کا اچھا فرد ثابت ہوتا ہے۔

امن وامن صرف طاقت کے ذریعہ سے قائم نہیں کیا جا سکتا ہے، بلکہ وہ معاشرہ کے افراد سے انکے ضمیر کے نتیجہ میںوجود میں آتا ہے، ، تو خاندان کے لوگوں کے اندر ضمیر بیدار کرنے میں خاندان کا اہم رول ہے۔

صحابہ کرام رضي اللہ عنھم کے فضائل، اور انکي پاکیزہ سیرت کے نمونے۔
16 جمادي الآخر 1437ھ مطابق 25/3/20016ء

awkaf-

پہلا: عناصر:

  • صحابہ کرام کا مقام اور انکا بلند رتبہ ۔
  • قرآن و سنت میں صحابہ کرام کے فضائل۔
  • صحابہ کرام سے محبت ایمان کا جزء ہے۔
  • صحابہ کرام کي پیروى کرنے پر زور۔
  • صحابہ کرام پر طعن و تشنيع کى حرمت۔

صحابہ کرام کى سیرت کے  نمونے۔

دوسرا: دلیلں:

قرآن کی دلیلں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً}[الفتح:29]. (ﻣﺤﻤﺪ (ﹲ) الله ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ كافروں ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﮯ ﮔﺎ ﻛﮧ ﺭﻛﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ الله تعالى ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ كا ﻧﺸﺎﻥ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻛﮯ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻛﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺜﻞ ﺍﺳﯽ ﻛﮭﯿﺘﯽ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﻜﮭﻮﺍ نكالا ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻛﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﭨﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻛﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺧﻮﺵ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ كافروں ﻛﻮ ﭼﮍﺍﺋﮯ، ﺍﻥ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ الله ﻧﮯ ﺑﺨﺸﺶ كا ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺛﻮﺍﺏ كا ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ۔)
  2. ارشاد بارى ہے:{وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[التوبة:100]. (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺧﻼﺹ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﮨﯿﮟ الله ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﻣﮩﯿﺎ ﻛﺮ ﺭﻛﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

الله تعالى فرماتا ہے:{وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ * أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ * فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ * ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ * وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ}[الواقعة:10-14]. (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ (١٠)  ﻭﮦ بالكل ﻧﺰﺩﯾﻜﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١١) ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (١٢) (ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ) ﮔﺮﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ (١٣) ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ۔)

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِيَ أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}[الأعراف:157]. (ﺳﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﻮﺭ كا ﺍﺗﺒﺎﻉ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﭘﻮﺭﯼ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ۔)

ارشاد بارى ہے:{لَقَد تَّابَ الله عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ}[التوبة:117]. (الله تعالى ﻧﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻛﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ كا ساتهـ ﺩﯾﺎ، ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ايكـ ﮔﺮﻭﮦ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ كچهـ ﺗﺰﻟﺰﻝ ﮨﻮ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔ ﺑﻼﺷﺒﮧ الله تعالى ﺍﻥ ﺳﺐ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺷﻔﯿﻖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔)

الله تعالى فرماتا ہے:{لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[التوبة:88-89]. (ﻟﯿﻜﻦ ﺧﻮﺩ ﺭﺳﻮﻝ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﻛﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻼﺋﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ كاميابى ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٨٨) ﺍﻧﮩﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ الله ﻧﮯ ﻭﮦ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا}[الفتح: 18]. (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﻣﻮﻣﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﺒﻜﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻠﮯ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﻛﯽ ﻓﺘﺢ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ)

الله تعالى كا فرمان ہے:{لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ*وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}[الحشر:8-9]. ((فىء كا ﻣﺎﻝ) ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﻣﺴﻜﯿﻨﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ نكال ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ الله ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ۔ (٨) ﺍﻭﺭ (ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ) ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺪﯾﻨﮧ) ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﺠﺮﺕ ﻛﺮﻛﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﻛﻮ ﺟﻮ ﻛﭽﮫ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﺑﻠﻜﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﻮ ﺧﻮﺩ ﻛﻮ ﻛﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺨﺖ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ (ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ) ﻛﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﻛﮯ ﺑﺨﻞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﯽ كامياب (ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻣﺮﺍﺩ) ﮨﮯ۔)

حدیث نبوى سے دلیليں:

  • عبد اللهt بن مسعود نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا كہ (خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ) (متفق عليه). «بہترين زمانہ ميرا زمانہ ہے- پهر ان لوگوں كا جو اس زمانہ كے بعد آئيں گے پهر ان لوگوں كا جو اس كے بعد آئيں گے- اس كے بعد ايكـ ايسى قوم پيدا ہو گى كہ گواہى دينے سے پہلے قسم ان كى زبان پر آ جايا كرے گى اور قسم كهانے سے پہلے گواہى ان كى زبان پر آ جايا كرے گى-»
  • حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ: (لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِى، لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِى، فَوَالَّذِى نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ) (رواه الشيخان). «ميرے صحابہ- y- كو بُرا بهلا مت كہو- ميرے صحابہ – y- كو بُرا بهلا مت كہو- اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-»
  • رسول اللہ نے فرمایا کہ:  (اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى، اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى، لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِى، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِى أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِى، وَمَنْ آذَانِى فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ) (مسند أحمد). میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجهـ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالى کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اللہ تعالی عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔ (احمد)
  • حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ: (مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): (مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ) (صحيح مسلم). تم ميں سے آج كون روزه دار ہے؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- آپr نے فرمايا كون تم ميں سے آج جنازه كے ساتهـ گيا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مسكين كو كهانا كهلايا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مريض كى عيادت كى؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- اس پر رسول اللهr نے فرمايا جس آدمى ميں يہ سب باتيں جمع ہو گئيں وه جنت ميں داخل ہو گيا-) (مسلم)

تیسرا: موضوع:

اللہ تعالی نے اپنے نبي صل اللہ علیہ وسلم کیلئے برگزیدہ اشخاص اور نیک وصالح اصحاب کا انتخاب فرمایا، جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی مدد کي، اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کي درسگاہ سے فارغ ہوئے اور آپ کے ہاتھوں انکي تعلیم وتربیت ہوئي، اور ایسے صاف و شفاف چشمہ سے سیراب ہوئے جو ایمان اور قوت سے چھلک رہا تھا ، تو وہ لوگوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے سچے، اور ان میں سب سے زیادہ ذي علم، اور فہم کے اعتبار سے سب سے زیادہ تیز اور عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے تھے، جو دین کا جھنڈا لیکر دنیا کے کونے کونے گھومتے رہے،  اور اللہ کے سلسلے میں کسي ملامت کرنے والوں کي ملامت کي پرواہ نہیں کي،  تو انہیں اللہ عزوجل کي خوشنودي حاصل ہوئي، اور اللہ تعالی نے اپنے قرآن کریم میں انکي تعریف کى-  ارشاد بارى ہے: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[توبہ: 100] (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺧﻼﺹ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﮨﯿﮟ الله ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﻣﮩﯿﺎ ﻛﺮ ﺭﻛﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔) یہ لوگ اللہ کے رسول کے وہ صحابہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے آخري رسول صل اللہ علیہ وسلم کي صحبت کییلئے منتخب فرمایا ہے۔

وہ ایسى نسل ہیں جسے زندگي کے رخ کو موڑنے میں سبقت حاصل تھا، انہوں نے اس نور کو ساری دنیا تک پہونچایا جس نور کو سید الرسلین صل اللہ علیہ وسلم لیکر تشریف لائے، ہم چاہیں جو بھی کر لیں ہم ان کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہونچ سکتے ہیں، ہمارے لئے اتنا جان لینا کافي ہے کہ اگر ہم ہر روز احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کریں تب بھی ہم انکے برابر یا انکے آدھے بھی کو نہیں پہونچ سکتے ہیں، جیساکہ حبیب خدا صل اللہ علیہ وسلم نے بتایاہے، فرمایا : ( … فَوَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ) (رواه الشيخان). «اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-» اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس دین کو پہونچانے کي ذمہ داري نبھائی اور اس کے خاطر سب کچھ برداشت کیا،  اور اللہ عز وجل   کے دین اور اسکے رسول کی مدد کے لئے انہوں نے اپني جان و مال تک لگا دیا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [توبہ:111] (ﺑﻼﺷﺒﮧ الله تعالى ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﻮ ﺟﻨﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ الله ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﻛﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﭽﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪ ﻛﻮ ﻛﻮﻥ ﭘﻮﺭﺍ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﯿﻊ ﭘﺮ ﺟﺲ كا ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﻨﺎؤ،ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم آپ کی سیرت پڑھیں اور آپ کي سنت و ہدایت کي پیروي کریں اور آپ کی شریعت پر عمل کریں،  تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی ہم پر حق ہے کہ ہم انکے رتبہ اور مقام کو پہچانیں اور انکي تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ اعلی اخلاق اور اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگي میں ہم ان کے جیسے ہو جائيں، اور انکى زندگى سے ہم عبرت ونصیحت حاصل کریں، یہ وہى لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے نبى کى صحبت اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کى تبلیغ کیلئے اللہ عزوجل نے انہیں منتخب فرمایا ہے، کیونکہ وہ اس امت کے سب سے زیادہ افضل لوگ ہیں، اللہ تعالی نے انکا ذکر وصف کمال کے ساتھ کیا ہے، انہیں انصاف پسند اور پاکباز بنایا،  تو کائنات انسانیت میں زھد وتقوی اور اخلاص میں انکا کوئي ثاني نہیں، اللہ تعالی نے انکى تعریف کي ہے، اور انکے لئے جو اجرء عظیم تیار کیا ہے اسکو بیان کیا ہے، ارشاد ہے:  {وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ * أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ * فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ * ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ *  وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ}[واقعہ: 10- 14] (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ (١٠)  ﻭﮦ بالكل ﻧﺰﺩﯾﻜﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١١) ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (١٢) (ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ) ﮔﺮﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ (١٣) ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ۔)

انکے رتبہ اور بلند مقام کے بیان کیلئے اللہ تعالی نے اپنے قرآن میں انکي صحبت کے شرف کا ذکر بعض صفات کے ساتھ کیا ہے، بلکہ توراۃ اور انجیل میں انکي تعریف کی ہے،  ارشاد ہے: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً}[فتح: 29] (ﻣﺤﻤﺪ (ﹲ) الله ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ كافروں ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﮯ ﮔﺎ ﻛﮧ ﺭﻛﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ الله تعالى ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ كا ﻧﺸﺎﻥ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻛﮯ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻛﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺜﻞ ﺍﺳﯽ ﻛﮭﯿﺘﯽ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﻜﮭﻮﺍ نكالا ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻛﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﭨﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻛﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺧﻮﺵ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ كافروں ﻛﻮ ﭼﮍﺍﺋﮯ، ﺍﻥ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ الله ﻧﮯ ﺑﺨﺸﺶ كا ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺛﻮﺍﺏ كا ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ۔) اللہ تعالی نے انکا وصف یہ بیان کیا کہ وہ کفار کیلئے بغیر کسي ظلم کے سخت ہیں ، اور آپس میں رحم دل ہیں، صرف اللہ کي عبادت کرتے ہیں اسکے ساتھ کسي کو بھی شریک نہیں ٹہرتے ہیں، رکوع اور سجدوں کي حالت میں ہوتے ہیں، اور صرف اللہ سے ہي فضل اور رضا کے طلبگار ہوتے ہیں، اور عبادت کا ان میں اثر ہوا یہاں تک کہ اسکا اثر انکے اعضاء اور جوارح پر ظاہر ہوا، اگر تم ان میں کسی کو دیکھوگے تو یہ جان لوگے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے اور اس سے ڈرنے والے ہیں، اس لئے اللہ تعالی ان سے راضي ہوگيا، اور یہ عظیم انعام ہے جو اللہ تعالی اپنے بندوں پر کرتا ہے، ارشاد ہے :  {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا}[فتح: 18] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﻣﻮﻣﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﺒﻜﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻠﮯ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﻛﯽ ﻓﺘﺢ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ)

جب ہم حبیب مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کي سنت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم بہت سي احادیث پاتے ہیں جو انکے عظیم فضل اور بلند مقام و رتبہ  پر دالالت کرتي ہیں، اور ان میں سے آپ صل اللہ علیہ وسلم کي گواہي کہ انکا زمانہ سب سے بہتر زمانہ اور وہ سب سے بہتر امت ہیں-  عبد اللهt بن مسعود نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا كہ (خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ) (متفق عليه). «بہترين زمانہ ميرا زمانہ ہے- پهر ان لوگوں كا جو اس زمانہ كے بعد آئيں گے پهر ان لوگوں كا جو اس كے بعد آئيں گے- اس كے بعد ايكـ ايسى قوم پيدا ہو گى كہ گواہى دينے سے پہلے قسم ان كى زبان پر آ جايا كرے گى اور قسم كهانے سے پہلے گواہى ان كى زبان پر آ جايا كرے گى-»

وہ اسلئے سب بہتر ہوئے کہ وہ آپ صل اللہ علیہ وسلم پر اس وقت ایمان لائے جب دیگر لوگوں نے انکار کیا، اور جب لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تو انہوں نے آپ کي تصدیق کي، اور اللہ کے راستہ میں اپني جان و مال کے ذریعہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی نصرت و مدد کي اور پناہ دیا ، اور مسند احمد میں ہے- عبد الله بن مسعود (رضى الله عنه) نے بيان كيا: اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو حضرت محمدr کے دل کو ان سب دلوں سے بہتر پایا تو اس کو رسالت کے لئے مقرر فرمایا، پھر دوسرے قلوب (دلوں) پر نظر ڈالی تو اصحاب محمدr کے قلوب کو دوسرے تمام بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبیؐ کی صحبت کے لئے منتخب کرلیا، پس ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبیr کا وزیر بنالیا، پس جس کام کو مسلمان (صحابہ) اچھا سمجھیں وہ عند اللہ بھی اچھا ہے اور جس کو یہ بُرا سمجھیں وہ اللہ کے پاس بھی بُرا ہے۔

اور ان میں سے: وہ حدیث جس کي جانب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے کہ وہ امت کی ڈھال ہیں- آپr نے فرمايا: «ستارے آسمان كے لئے باعث امن ہيں پس جب ستارے چلے جائيں گے تو آسمان پر وه آ جائے گا جس كا وعده ديا جاتا ہے اور اسى طرح ميں اپنے صحابہ y كے لئے باعثِ امن ہوں- جب ميں چلا جاؤں گا تو ميرے صحابہ y پر وه آ جائے گا جس كا ان سے وعده كيا جاتا ہے اور ميرے صحابہ y ميرى امت كے لئے باعث امن ہيں- پهر جب ميرے صحابہ y چلے جائيں گے تو ميرى امت پر وه آ جائے گا جس كا ان سے وعده كيا جاتا ہے-» (مسلم)- صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا وجود امت میں بدعت کے ظہور سے امان تھا ، بلکہ ان کى برکتیں انکے بعد اگلى دو نسلوں تک پہونچى- حضرت ابو سعيد خدرىt نے بيان كيا كہ رسول الله r نے فرمايا: (يَأْتِى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ. ثُمَّ يَأْتِى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ) (متفق عليه) (ايكـ زمانہ آئے گا كہ اہل اسلام كى جماعتيں جہاد كريں گى تو ان سے پوچها جائے گا كہ كيا تمہارے ساتهـ رسول اللهr كے كوئى صحابى بهى ہيں؟ وه كہيں گے كہ ہاں ہيں- تب ان كى فتح ہو گى- پهر ايكـ ايسا زمانہ آئے گا كہ مسلمانوں كى جماعتيں جہاد كريں گى اور اس موقع پر يہ پوچها جائے گا كہ كيا يہاں رسول اللهr كے صحابى كى صحبت اٹهانے والے (تابعى) بهى موجود ہيں؟ جواب ہو گا كہ ہاں ہيں اور ان كے ذريعہ فتح كى دعا مانگى جائے گى- اس كے بعد ايكـ زمانہ ايسا آئے گا كہ مسلمانوں كى جماعتيں جہاد كريں گى اور اس وقت سوال اٹهے گا كہ كيا يہاں كوئى بزرگ ايسے ہيں جو رسول اللهr كے صحابہ كے شاگردوں ميں سے كسى بزرگ كى صحبت ميں رہے ہوں؟ جواب ہو گا كہ ہاں ہيں تو ان كے ذريعہ فتح كى دعا مانگى جائے گى پهر ان كى فتح ہو گى-) (متفق عليه)

اور ان میں سے : یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے راستہ میں اپني رضا کے حصول کے خاطر  انکے جود و سخا اور مجاھدہ کي گواہي دی ہے، اور اس پر ان سے ہمیشگى کى جنت اور نعمتوں کا وعدہ کیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: "لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ”[توب:88-89] (ﻟﯿﻜﻦ ﺧﻮﺩ ﺭﺳﻮﻝ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﻛﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻼﺋﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ كاميابى ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٨٨) ﺍﻧﮩﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ الله ﻧﮯ ﻭﮦ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

حضرت عمر t بن خطاب بيان كرتے ہيں كہ ايكـ دن رسول اللهr نے ہميں صدقہ كرنے كا حكم ديا- اس موقع پر ميرے پاس مال بهى تها- چنانچہ ميں نے (دل ميں) كہا: اگر ميں ابو بكر t سے سبقت لينا چاہوں تو آج لے سكتا ہوں- چنانچہ ميں اپنا آدها مال (آپ كى خدمت ميں) لے آيا- رسول اللهr نے پوچها: «تم نے اپنے گهروالوں كے ليے كيا باقى چهوڑا ہے؟» ميں نے كہا: اسى قدر (چهوڑ آيا ہوں) اور پهر حضرت ابو بكر t اپنا كل مال (آپ كے پاس) لے آئے- رسول اللهr نے ان سے پوچها: «تم نے اپنے گهروالوں كے ليے كيا باقى چهوڑا ہے؟» كہا: ميں نے ان كے ليے الله اور اس كے رسول كو چهوڑا ہے- تب مجهے كہنا پڑا: ميں كسى شے ميں كبهى بهى ان سے نہيں بڑهـ سكتا-) (ترمذى)

جب یہ رسول اللہ کے صحابہ کا مقام تھا تو ان سے محبت اور دوسروں پر انکے افضلیت کا اقرار ہر مسلمان کا  ایماني فریضہ ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے کہ آپ نے ان سے محبت کیا اور اپنا ساتھی چنا، تو مؤمن اس سے محبت کرتا ہے جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے  اور جس سے اللہ اور اسکا رسول محبت کرتا ہے، اور ان میں سر فہرست صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں- رسول اللہ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اللہ تعالی عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔ (ترمذى، احمد) (حضرت براءt نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا: «انصار سے صرف مومن ہى محبت ركهے گا اور ان سے صرف منافق ہى بغض ركهے گا- پس جو شخص ان سے محبت ركهے اس سے الله محبت ركهے گا اور جو ان سے بغض ركهے گا اس سے الله تعالى بغض ركهے گا (معلوم ہوا كہ انصار كى محبت نشان ايمان ہے اور ان سے دشمنى ركهنا بے ايمان لوگوں كا كام ہے)» (بخارى)

شریعت اسلامیہ نے صحابہ رضی اللہ عنھم پر طعن و تشنیع کو حرام کیا ہے، کیونکہ جس نے انہیں رسول اللہ کی صحبت کیلئے منتخب کیا اور انکي تعریف کي اور ان سے راضي ہوا وہ اللہ سبحانہ تعالی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے انہیں گالي دینے سے ہمیں منع فرمایا ہے- حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ «ميرے صحابہ- y- كو بُرا بهلا مت كہو- ميرے صحابہ – y- كو بُرا بهلا مت كہو- اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-» (مسلم)

(حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، پس ان کے عمل کا ایک لمحہ تم میں سے کسی کے زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے-) (فضائل الصحابة لأحمد)- تو اسي لئے ہم پر ضروري ہے کہ ہم انکي عزت کی حفاظت کریں اور انکے رتبہ اور مقام کو پہچانیں۔

صحابہ کرام  کي زندگی پر نگاہ رکھنے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایمان و یقین کے بلند مقام پر فائز، اور اللہ اور رسول سے محبت کے پیکر ہیں، اور اعلی اخلاق سے آراستہ حقیقي تصویر ہیں، تو وہ سب سے بہتر قائد و رہنما تھے، جنہوں نے اللہ کے دین کی نصرت و مدد کے خاطر جود و سخا اور علم وعمل اور قربانيوں کي شاندار مثال قائم کي،  یہاں تک کہ انکے سلسلے میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: {لِلْفُقَرَاءِ المُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ}[حشر: 8]. ((فىء كا ﻣﺎﻝ) ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﻣﺴﻜﯿﻨﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ نكال ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ الله ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ۔)

اسکى سب سے بڑي مثال حضرت علي بن طالب رضی اللہ عنہ ہیں جو ہجرت کي رات اپني جان کا نظرانہ پیش کرتے ہوئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سوگئے، جبکہ انکو یہ معلوم تھا کہ مشرکین انکو قتل کر سکتس ہیں۔

اسى طرح حضرت صھیب رومى اللہ کے دین اور رسول اللہ کي مدد کے لئے اپنے مال کى  قربانياں دیتے ہیں، جب مدینہ کي جانب ہجرت کا ارادہ کیا، تو کفار قریش نے ان سے کہا کہ تم ہمارے پاس فقیر آئے تھے، ہمارے پاس آکر تمہارا مال بڑھ گیا، اور تم وہ ہو گئے  جو ابھي ہو، اور اب تم اپنا مال اور جان لیکر یہاں سے نکلنا چاہتے ہو، اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ہے، تو انہونے کہا : کیا خیال اگر میں تم لوگوں کو اپنا مال  دے دوں تو کیا تم لوگ میرا راستہ چھوڑ دوگے؟، لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہا کہ: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا مال تم لوگوں کے لئے کر دیا، جب اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: صھیب کامیاب ہوگیا، صھیب کامیاب ہوگیا، اور ان کے سلسلے میں اللہ کا یہ قول نازل ہوا- {وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ} (ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺗﻚ ﺑﯿﭻ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮍﯼ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (بقره: 207)

یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اعلی اخلاق اور عمدہ صفات کي شاندار مثال قائم کي، یہاں تک کہ وہ اچھے نمونہ اور  اعلی اخلاق کے آڈیل بن گئے، اور نبي صل اللہ علیہ وسلم نے انکے جنتي ہونے کي گواہي دی-  (حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ تم ميں سے آج كون روزه دار ہے؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- آپr نے فرمايا كون تم ميں سے آج جنازه كے ساتهـ گيا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مسكين كو كهانا كهلايا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مريض كى عيادت كى؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- اس پر رسول اللهr نے فرمايا جس آدمى ميں يہ سب باتيں جمع ہو گئيں وه جنت ميں داخل ہو گيا-) صحيح مسلم-

یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ایک رات گشت کر رہے تھے، کہ ایک عورت کے پاس سے گزر ہوا جس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور آگ پر ہانڈي رکھي ہوئي تھي اور بچے بلک بلک کے رو رہے تھے، تو حضرت عمر نے ان سے کہا: اے روشني والے تم پر اللہ کي سلامتي ہو ، آپ نے ناپسند کیا کہ انکو آگ والے کہہ کر مخاطب کریں، تو انہوں نے جواب دیا آپ پر اللہ کي سلامتي ہو، عمر نے کہا: کیا حال ہے، عورت نے کہا ٹھیک ہے رہنے دو، عمر قریب ہوئے کہا: تمہاري کیا حالت ہے؟ عورت نے جواب دیا: رات اور سردي نے ہمیں مجبور کر دیا ہے، عمر نے کہا: بچے کیوں بلک رہے ہیں؟ عورت نے کہا: بھوک کي وجہ سے، آپ نے کہا: اس ہانڈي میں کیا ہے؟ عورت نے کہا: انکو چپ کرنے  کیلئے آگ پررکھا ہوا ہے تاکہ یہ سو جائيں، ہمارے اور عمر کے درمیان اللہ ہے، عمر نے کہا: تم پر اللہ کي رحمت ہو، عمر کو بھلا تمہارے حال کا کیسے علم ہو سکتا ہے؟ عورت نے کہا: عمر ہمارا ذمہ دار بن گیا اور ہم سے بے خبر ہوگیا ، اس حدیث کے راوي زید بن اسلم کہتے ہیں: کہ وہ میرے پاس آئے اور کہا: تم میرے ساتھ چلو، تو ہم بھاگتے ہوئے نکلے اور آٹے کے گودام میں پہونچے وہاں سے ایک بوري آٹا لیا اور ایک گولا چربي کا لیا، کہا : اسے مجھ پر رکھ دو، میں نے کہا آپ کے بجائے میں اٹھا لیتا ہوں، تو عمر نے کہا : کیا کل قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤگے؟ راوي کہتے ہیں کہ میں نے انپر رکھ دیا اور وہ تیز بھاگے اور میں بھي انکے ساتھ بھاگا، عورت کے پاس پہونچ کر اس کے سامنے رکھ دیا، پھر کچھ آٹا نکالا، کہنے لگے: اسے نچار لو میں حرکت دیتا ہوں

پھر خود چولہا پھونکنے لگے، پھر ہانڈي اتارا اور کہا: کوئي برتن لاؤ، وہ ایک پلیٹ لیکر آئي، تو آپ نے اس میں انڈیل دیا، پھرعورت سے کہا: تم انہيں کھلاؤ اور میں اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے پھیلاتا ہوں، تو انہیں کھلاتے رہے یہاں تک کہ شکم سیر ہوگئے، اور باقي ماندہ اسي کے پاس چھوڑ دیا، راوي کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہوا، عورت کہنے لگي : جزاک اللہ خیر ،   تم اس امر کے امیر المؤمنین سے زیادہ حقدار تھے، عمر کہتے ہیں جب تم امیر المؤمین کے پاس جانا تو اچھي بات کہنا، اور انشاء اللہ وہاں میري بات کرنا، پھر عورت سے کنارہ ہوکر وہاں سے رخصت ہوگئے، اور دور ہوکر گھات لگا کر بیٹھ گئے، ہم نے ان سے کہا: اس کے علاوہ ہمیں اور بھي کام ہے،  تو آپ نے کچھ بھي جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ بچے  کھیلنے لگے اور پھر سو گئے اور سکون ہوگیا، تو آپ نے کہا: اے اسلم ، بھوک نے انہیں جگایا اور رولایا تھا،  تو جو اب میں نے دیکھا اس کے دیکھنے سے پہلے واپس جانا مجھے اچھا نہ لگا۔ (فضائل صحابہ امام احمد)

اسي طرح اللہ کے دین کی مدد اور نصرت کے خاطر ایثار وقرباني  اور جود و سخا کے بہت سے واقعات صحابیات (رضوان الله تعالى عليهن أجمعين)  کے بھي ہیں، ہم ان میں سے بعض کو بیان کرتے ہیں۔

*  ام المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنھا کا موقف اور کردار ہے جو انہوں نے اللہ کے دین کے نشر و اشاعت کي راہ میں ادا کیا، کہ وہ اپنے شوہر نبي کریم صل اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ کھڑي ہوئيں اور اور اپنے جان و مال کي بازي لگاديں، اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کو تسلي دیں جب غار حراء میں آپ پر وحي نازل ہوئي، تو پورے بھروسہ اور اعتماد سے  بغیر کسي خوف و ڈر کے کہا: (خدا كى قسم آپ كو الله كبهى رسوا نہيں كرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ كے مالكـ ہيں، آپ تو كنبہ پرور ہيں، بے كسوں كا بوجهـ اپنے سر پر ركهـ ليتے ہيں، مفلسوں كے ليے آپ كماتے ہيں، مہان نوازى ميں آپ بے مثال ہيں اور مشكل وقت ميں آپ امر حق كا ساتهـ ديتے ہيں-) (بخارى)- تو اچھي اور وفادار بیوي تھی جو اپنے شوہر کا حق جانتي تھي، اس لئے نبي صل اللہ علیہ وسلم انکي وفادري کي وجہ سے ہمیشہ انکا ذکر اور تعریف کیا کرتے تھے- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی بھی حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی خوب تعریف فرماتے : آپ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں غصہ میں آ گئی اور میں نے کہا کہ آپ سرخ رخساروں والی کا تذکرہ بہت زیادہ کرتے ہیں حالانکہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر عورتیں اس کے نعم البدل کے طور پر آپ کو عطا فرمائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ﷲ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر بدل عطا نہیں فرمایا وہ تو ایسی خاتون تھیں جو مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے اور میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اور اپنے مال سے اس وقت میری ڈھارس بندھائی جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اﷲ تبارک و تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے مجھے اولاد عطا فرمانے سے محروم رکھا۔ (احمد كى روايت)

اسى طرح صحابیات کے اچھے اور عمدہ نمونوں میں سے ایک سیدہ ام عمار ہیں جو کعب انصاریہ کي بیٹي کے رشتہ دار ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ غزوہ احد میں میں نے دائیں بائیں جدھر بھی رخ کیا ام عمار کو دیکھا کہ وہ میرا دفاع کر رہي تھي ، یہاں تک کہ ایک شخص آیا جو رسول اللہ کو قتل کرنا چاہتا تھا جب جب اسنے رسول اللہ کو نیزہ مارنے کا ارادہ کیا ام عمارہ اسکے  درمیان حائل ہو گئيں، وہ ان کو تلوار سے مارنے لگا یہاں تک کہ تلوار کي مار کي وجہ سے ان کے کندھے کي ہڈي جھک گئي، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اے ام عمار تم اپني استطاعت سے زیادہ کر رہي ہو، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ بلکہ میں استطاعت رکھتي ہوں، میں استطاعت رکھتي ہوں، میں استطاعت رکھتي ہوں، رسول اللہ نے ان سے کہا: اے ام عمار تم مجھ سے مانگو، کہتي ہیں: اے اللہ کے رسول میں جنت میں آپ کا ساتھ چاہتي ہوں، تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم  اکیلے ہي نہیں بلکہ تم اور تمہارے اہل خانہ بھي ہونگے، تو انہوں کہا:  کہ دنیا میں مجھے جو مصیبت بھي ملي اس کي کوئي پرواہ نہیں ہے۔ (سير أعلام النبلاء).

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ترقي کریں اور اگے بڑھیں ہلاکت سے محفوظ رہیں،  اور دنیا اور آخرت میں اللہ تعالی کي خوشنودي اور  رضا  حاصل کر سکیں، تو ضروري ہے کہ رسول اللہ کے صحابہ کرام کي زندگی سے روشني حاصل کریں اور انکے نقش قدم پر چلیں، اور انکے اخلاق کو اپنائیں، کیونکہ وہ مؤمنوں اور مسلموں کیلئے آڈیل اور نمونہ ہیں، نبي صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں انکي پیروي کرنے اور انکے راستے پر چلنے کا حکم دیا ہے- (حضرت عرباض بن ساريہt سے روايت ہے… «تو ميرى سنت كو اور ہدايت يافتہ خلفائے راشدين كے طريقے كو اختيار كرنا، اسے ڈاڑهوں سے پكڑ كر ركهنا، (اس پر مضبوطى سے قائم رہنا) اور نئے نئے كاموں سے پرہيز كرنا، كيونكہ ہر بدعت گمراہى ہے-» (سنن ابن ماجہ)

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے بچوں اور عورتوں کو صحابہ کرام کے اخلاق سکھائیں، کہ وہ رسول اللہ کي کیسے اتباع اور پیروي کرتے تھے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے دین کي مدد کیلئے کیسے قربانياں دیتےتھے، یہاں تک کہ انہوں نے اپني جانوں کو بھی اللہ پر ایمان و یقین کے بدلہ بیچ دیا تھا۔

کلمہ ( بات ) کى امانت اور اسکى ذمہ داریاں
1 رجب 1437ھ مطابق 8 اپریل 2016 ء

awkaf-

پہلا عناصر :

  • اسلام میں کلمہ ( بات ) کا مقام ۔
  • زبان پر قابو ایمان کي علامت ہے۔
  • کلمہ ( بات ) کي امانت اور اسکي ذمہ داریاں اخلاقي اور شرعي فریضہ ہے۔

کلمہ ( بات ) کي اہمیت اور معاشرہ اور افراد کي زندگي میں اسکا اثر۔

دوسرا دلیلیں :

قرآن كريم کى دلیلیں:

  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب :70-71] . (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {.. وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا…}[البقرة: 83] . (…ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ…)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا}[ الإسراء: 53] . (ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ نكالا ﻛﺮﯾﮟ ﻛﯿﻮﻧﻜﮧ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﮈﻟﻮﺍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ شكـ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ كا ﻛﮭﻼ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ}[ فصلت:34]. (ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯼ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { الرَّحْمَنُ * عَلَّمَ الْقُرْآنَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ * عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} [الرحمن :1ـ 4] . (ﺭﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ۔(١) ﻗﺮﺁﻥ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔ (٢) ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ۔ (٣) ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ * تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ * وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ} [ إبراهيم: 24ــ 26] . (ﻛﯿﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺎ ﻛﮧ الله تعالى ﻧﮯ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﻛﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ، ﻣﺜﻞ ايكـ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻛﯽ ﺟﮍ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻛﯽ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (٢٤) ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮭﻞ ﻻﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﻭﮦ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﯾﮟ۔ (٢٥) ﺍﻭﺭ ناپاكـ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﮔﻨﺪﮮ ﺩﺭﺧﺖ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﻛﮯ كچهـ ﮨﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﻛﮭﺎﮌ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺳﮯ كچهـ ﺛﺒﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ }[البقرة: 263] . (ﻧﺮﻡ ﺑﺎﺕ ﻛﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻑ ﻛﺮﺩﯾﻨﺎ ﺍﺱ ﺻﺪﻗﮧ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﺬﺍ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺩﺑﺎﺭ ﮨﮯ)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ}[النحل: 116]. (ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﻧﮧ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﻛﮧ الله ﭘﺮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﻮ، سمجهـ ﻟﻮ ﻛﮧ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ كاميابى ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى}[طه :43- 44] . (ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﻛﯽ ﮨﮯ۔ (٤٣) ﺍﺳﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎؤ ﻛﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ سمجهـ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮈﺭ ﺟﺎﺋﮯ۔)

سنت نبوى کى دلیلیں:

  • (حضرت ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى كريمr نے فرمايا بنده الله كى رضامندى كے لئے ايكـ بات زبان سے نكالتا ہے اسے وه كوئى اہميت بهى نہيں ديتا مگر اسى كى وجہ سے الله اس كے درجے بلند كر ديتا ہے اور ايكـ دوسرا بنده ايكـ ايسا كلمہ زبان سے نكالتا ہے جو الله كى ناراضگى كا باعث ہوتا ہے اسے وه كوئى اہميت نہيں ديتا ليكن اس كى وجہ سے وه جہنم ميں چلا جاتا ہے-)

  • ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ رسول كريمr نے فرمايا: «انسان كے ہر ايكـ جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے- ہر دن جس ميں سورج طلوع ہوتا ہے- پهر اگر وه انسانوں كے درميان انصاف كرے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے اور كسى كو سوارى كے معاملے ميں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر كہ اسے اس پر سوار كرائے يا اس كا سامان اٹها كر ركهدے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے اور اچهى بات منہ سے نكالنا بهى ايكـ صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز كے لئے اٹهتا ہے وه بهى صدقہ ہے اور اگر كوئى راستے سے كسى تكليف دينے والى چيز كو ہٹا دے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے-»
  • حضرت ابو ہريرهt سے روايت كرتے ہيں، وه رسول الله r سے نقل كرتے ہيں كہ آپr نے فرمايا: «منافق كى علامتيں تين ہيں- جب بات كرے جهوٹ بولے، جب وعده كرے اس كے خلاف كرے اور جب اس كو امين بنايا جائے تو خيانت كرے-»
  • حضرت ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى كريم r نے فرمايا: «جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ اپنے پڑوسى كو تكليف نہ دے، جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ اپنے مہمان كى عزت كرے اور جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ بهلى بات كہے ورنہ چپ رہے-»
  • حضرت ابن عباس – رضى الله عنہما- سے روايت ہے كہ نبىr كے زمانے ميں ہو اسے ايكـ شخص كى چادر اڑ گئى تو اس نے اسے لعنت كر دى، تو نبىr نے فرمايا: «اسے لعنت مت كرو، بلاشبہ يہ (الله كے حكم كى) پابند ہے- اور بلاشبہ جس نے كسى چيز كو لعنت كى جب كہ وه اس كى حق دارنہ ہو، تو يہ لعنت كرنے والے پر لوٹ آتى ہے-»

تیسرا: موضوع:

اللہ سبحانہ تعالی نے انسان کو بہت سي نعمتوں سے نواز جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ}[النحل: 18] (ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ الله ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ كا ﺷﻤﺎﺭ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮ ﺳﻜﺘﮯ۔ بيشكـ الله ﺑﮍﺍ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔) ان نعمتوں میں سے ایک نعمت زبان کي نعمت ہے-{أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ*وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ}[البلد:8 ـ 9](ﻛﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺩﻭ ﺁﻧﻜﮭﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ۔ (٨) ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﭧ (ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ))- پھر اللہ تعالی نے زبان کو بیان کي نعمتوں سے مزین کیا جس کے ذریعہ انسان تمام دیگر مخلوقات سے جداگانہ حیثیت کا حامل ہے-{الرَّحْمَنُ * عَلَّمَ الْقُرْآنَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ * عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} [الرحمن:1ـ 4] (ﺭﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ۔(١) ﻗﺮﺁﻥ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔ (٢) ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ۔ (٣) ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔)- بلاشبہ کلمہ ( بات ) ہى انسان کی پہچان ہے، اور ایک دوسرے سے رابطہ کا ذریعہ ہے، اور اسي کے ذریعہ سے انسان کي زندگي میں سب کچھ ممکن ہے، اور دنیا کي کسی شریعت نے کلمہ ( بات ) کي اہمیت پر ایسا زور نہيں دیا جیساکہ اسلامي شریعت نے ہر حال میں کلمہ کي اہمیت پر زور دیا ہے یہاں تک کہ مزاق کی حالت میں بھي، تو کلمہ ( بات ) کے ذریعہ ہي قوم اور امتیں خوش بخت ہوتی ہیں اور بد بخت بھي، اور اسي کے ذریعہ جان اور عزت و آبرو کي حفاظت ہوتی ہے، اور اسى کے ذریعہ ان کي پائمالی بھى۔

انسان کى زندگى میں کلمہ ( بات ) کي اہمیت کے پیش نظر زبان کي درستگي اور اسکى حفاظت، اور لوگوں کي عزت و آبرو کے تئیں اسے بے لگام نہ ہونے، اور بیکار اور لایعنی باتوں سے بچنے کا اللہ کي جانب سے حکم نازل ہوا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ}[ق: 18] ((ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ نكال ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ۔)

انسان کے تمام اعضاء کا تعلق زبان سے ہے، اگر وہ درست ہے تو سب کچھ درست ہے اور اگر وہ درست نہیں تو کچھ بھی درست نہیں ہے- (روايت ہے ابى سعيد خدرىt سے مرفوع كيا انہوں نے اس حديث كو يعنى قول رسول اللهr ٹهہرايا كہ فرمايا آپ نے جب صبح كرتا ہے آدمى سب اعضا اس كے عاجزى كرتے ہيں زبان كے آگے اور كہتے ہيں ڈر تو الله تعالے سے ہمارے مقدمہ ميں اس ليے كہ ہم تيرے ساتهـ ہيں اگر تو سيدهى ہوئى تو ہم سب سيدهے ہوئے اور اگر تو ٹيڑهى ہوئى تو ہم سب ٹيڑهے ہوئے-)

آپ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بیان فرمایا: بلاشبہ زبان انسان کے جنت یا جہنم کے دخول کا سبب ہو سکتا ہے- وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں آپ صل اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہوگیا ۔۔۔ اور ان میں ۔۔ پھر فرمایا: ( کیا میں تمہے اس تمام کا خلاصہ اور نچوڑ نہ بتا دوں؟) کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے نبي، تو آپ نے اپني زبان مبارک پکڑا اور فرمایا: (اس پر قابو رکھو)- میں نے کہا: اے اللہ کے رسول، کیا ہم جو بولتے ہیں ہم سے اس کا مؤاخذہ ہوگا؟، فرمایا: (اے معاذ تمہاري ماں تمهيں کھو دے) لوگ صرف اپنى زبان کى وجہ سے آگ میں اپنے منہ کے بل ڈالے جائنگے – یا فرمایا: اپنے ناک کے بل-

کلمہ (بات) ایک امانت ہے، اس کے کہنے والوں کو چاہئے کہ اس بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرے، جو اسکي اہمیت و عظمت ہے اور جو اسکي وجہ سے بڑا خیر وجود میں اتا ہے یا بھیانک تباہي، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ بنی صل اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: (بیشک بندہ اللہ کي خوشنودی کے کلمات بولتا ہے، جس پر وہ دھیان بھی نہیں دیتا، اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے، اور بیشک بندہ اللہ کی ناراضگي کے کلمات بولتا ہے جس پر وہ دھیان بھی نہیں دیتا اور اسکي وجہ سے وہ جہنم میں گر جاتا ہے)۔

جیساکہ رسول اللہ ل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا: کہ اچھے کلمات (بات) آدمي کے ایمان کی دلیل ہے، آپ نے فرمایا: (جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے) اسي طرح اللہ تعالی نے ہمیں بلا تفریق تمام لوگوں کے ساتھ سچي بات کہنے کا حکم دیاہے، اور یہ کہ ہم درست بات ہي کہیں جو فساد کے بجایے اصلاح، اور بگاڑ کے بجایے بنانے، اور تخریب کے بجایے تعمیر کا کام کرے- الله تعالى فرماتا ہے: {وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا …} [بقره:83] (…ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ…)- اور ارشاد بارى ہے: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ}[اسراء:53] (ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ نكالا ﻛﺮﯾﮟ)- الله تعالى فرماتا ہے:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}[احزاب:70-71] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔) اعمال کي اصلاح اور گناہوں کی مغفرت اچھی باتوں اور سچے کلمات پر مرتب ہوتے ہیں، اسي لئے اسلام نے باتوں اور افواہوں کی چھان بین پر زور دیا ہے، کہ ہر کہي ہوئی باتوں کي تصدیق نہیں کي جا سکتی ہے- الله تعالى كا ارشاد ہے:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ}[حجرات: 6] (ﺍﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ! ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻛﮧ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻛﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﻛﻮ ﺍﯾﺬﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻛﯿﮯ ﭘﺮ ﭘﺸﯿﻤﺎﻧﯽ ﺍﭨﮭﺎؤ۔)

یہاں سے یہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ زبان کی حفاظت کمال ایمان اور حسن اسلام کي دلیل اور فردوس اعلی تک پہونچنے کا ذریعہ ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}[مؤمنون: 3] (ﺟﻮ ﻟﻐﻮﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) إلى أن قال: {أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ * الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [مؤمنون:10ــ11] (ﯾﮩﯽ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﯿﮟ۔ (١٠) ﺟﻮ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﻛﮯ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔)، سہلt بن سعد سے روايت ہے كہ رسول اللهr نے فرمايا: «مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الجَنَّةَ» (بخارى). (ميرے لئے جو شخص دونوں جبڑوں كے درميان كى چيز (زبان) اور دونوں پاؤں كے درميان كى چيز (شرمگاه) كى ذمہ دارى دے دے ميں اس كے ليے جنت كى ذمہ دارى دے دوں گا-)

بلا شبہ کلمہ (بات) کى امانت اور اسکى ذمہ داریاں اخلاقى اور شرعى فریضہ ہے، کیونکہ وہ امت کو متحد اور اسکے ارادوں کو مضبوط اور دشمن کو دوست بناتا ہے، اور بغض و کینہ کو محبت میں تبدیل کر دیتا ہے، اور شیطان کے مکر کا سد باب کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{ …ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ}[فصلت: 34] (ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔)

جیساکہ اچھى باتیں دلوں کو جوڑتى اور نفس کی اصلاح کرتى ہیں، اور غموں کو دور اور غصہ کو ختم کرتی ہیں، اور اس سے خوش بختى اور رضامندگى کا احساس ہوتا ہے خاص طور پر جب کہ باتوں کے ساتھ ساتھ سچى مسکراہٹ بھی ہو- (اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھ کرمسکرانا صدقہ ہے) (الادب المفرد للبخارى)- کلمہ (بات) کي امانت صاحب کلمہ سے اس بات کا متقاضي ہے کہ خیر اور سچ کے علاوہ کچھ نہ بولے، نہ جھوٹ بولے اور نہ دھوکہ دے اور نہ جھوٹي گواہي دے اور نہ حقیقت کو چھپانے کى کوشش کرے، اور بغیر علم کے کوئی بات نہ کہے- ارشاد بارى ہے: {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ}[النحل: 116] (ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﻧﮧ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﻛﮧ الله ﭘﺮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﻧﺪهـ ﻟﻮ، سمجهـ ﻟﻮ ﻛﮧ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ كاميابى ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) اسى طرح کلمہ (بات) کي امانت صاحب کلمہ سے نصیحت اور مشورہ کے طلبگار کیلئے اس میں سچائي کا متقاضي ہے، تو دین نصیحت ہے جیساکہ صادق و امین صل اللہ علیہ وسلم نے بتایا: (حضرت تميم دارىt سے روايت ہے كہ نبى r نے فرمايا كہ دين خير خواہى اور خلوص (كا نام) ہے- ہم نے عرض كيا كس كے لئے؟ آپr نے فرمايا الله كے لئے اور اس كى كتاب كے لئے اور اس كے رسولr كے لئے، مسلمانوں كے ائمّہ اور ان كے عوام كے لئے-) (مسلم) (حضرت ابو ہريرهt سے روايت ہے كہ رسول اللهr نے فرمايا: «مشوره دينے والا امين ہوتا ہے-») (ابو داود)

نصیحت اور خلوص پر مبنى سچے مشورہ کے ذریعہ بندوں کے معاملات کي اصلاح ہوتى ہے، اور امن و امان کا بول بالا ہوتا ہے اور ملک میں خوشحالي آتى ہے۔

بلاشبہ کلمہ (بات) ایک تباہکن دو دھاري تلوار ہے، یا تو تعمیر و ترقي کا سبب ہوگا، اگر بات سچي اور درست ہو- یا فساد وبگاڑ اور تباہي کا ذریعہ ہوگي اگر بات جھوٹی اور بے بنیاد ہوگی، تو کلمات کوئي معمولي بات نہیں ہے، بلکہ انسان کي زندگي میں اس کي بڑي اہمیت اور مقام ہے، اور لوگوں کے ساتھ جو خرید و فروخت اور عہد و پیمان اور ان جیسے معاملات کیے جاتے ہیں اس میں سچي بات کہنے کا مطالبہ ہے۔ اور لوگوں کے ساتھ تعلق میں سچي بات کا جو اچھا اثر ہے وہ کسي سے چھپا ہوا نہیں ہے، تو پڑوسیوں کے ساتھ اچھي بات جنت میں داخلہ کا سبب بن سکتا ہے، اور ان کے ساتھ بري بات جہنم میں داخلہ کا سبب بھی ہو سکتا ہے-

اسى طرح مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلق میں بات کا اچھا اثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے دشمنوں کے ساتھ بھی نرم بات کہنے کا حکم دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى} [طه :43 -44] (ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﻛﯽ ﮨﮯ۔ (٤٣) ﺍﺳﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎؤ ﻛﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ سمجهـ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮈﺭ ﺟﺎﺋﮯ۔)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لکھي ہوئی باتوں کے بہت سے نقصانات ہیں جو امت کو مکمل طور پر تباہ کر دیتے ہیں، انکے نقصانات بولي جانے والي باتوں سے کم نہیں ہے، تو یہ دونوں باتیں امانت ہیں، یہاں سے یہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ ہر صاحب قلم کو چاہئے کہ اس کا کما حقہ حق ادا کرے، اور کسی طرح کي لغزش کے سرزد ہونے سے پر ہیز کرے، کیونکہ وہ اسکے اخلاق اور اسکي رایے کا عکس ہے، اسے حق کی مدد اور اجھائی کی حمایت میں استعمال کرے، جیسا کہ جاحظ نے کہا ہے: ( قلم دو زبان میں سے ایک زبان ہے، اور اسکا اثر دیر تک باقي رہتا ہے)، بلکہ وہ طاقت میں ایک تلوار ہے، اسکی وار وہاں تک پہونچتي ہے جہاں تک زبان نہیں پہونچ سکتى۔

یہاں سے یہ بات سمجھ میں آتي ہے کہ جھوٹي خبریں پھیلانا اور حقیقت کو بگاڑنا یا اسے چھپانا، یا کسي شریف انسان کو بے آبرو کرنا اور ہر وہ جو معاشرے میں فحش و بے حیائي کو فروغ دے وہ کلمہ (بات) کی خیانت شمار ہوگى۔

ہر لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے، اور اسے اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جو اسنے لکھا ہے وہ اس کے لئے یا اسکے خلاف گواہ ہوگا۔

ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے سامنے اپني مکمل ذمہ داريوں کو محسوس کرے، اسي طرح اپنے ضمیر اور مخلوق کے سامنے بھی اور ہر اس چیز کے تئيں جو وہ کہتا ہے، تاکہ وہ ایک ہی معاشرہ کے افراد کے درمیان اختلاف اور نفرت کا سبب نہ بنے، اور رشتوں کے ٹوٹنے اور لوگوں کے درمیان تعلقات کے بگڑنے کا سبب نہ ہو- تو معاشرے کے افراد کے درمیان الفت و محبت پھیلانے اور بغض اور دوري کو مٹانے کیلئے ہم اچھے کلمات کے کتنے زیادہ محتاج ہیں اسکے اچھے اثر کي وجہ سے- اعمال کى اصلاح اور گناہوں کي مغفرت کیلئے اچھے کلمات کا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}[احزاب:70-71 ] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ،ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔)