اہم خبريں

صحابہ کرام رضي اللہ عنھم کے فضائل، اور انکي پاکیزہ سیرت کے نمونے۔
16 جمادي الآخر 1437ھ مطابق 25/3/20016ء

awkaf-

پہلا: عناصر:

  • صحابہ کرام کا مقام اور انکا بلند رتبہ ۔
  • قرآن و سنت میں صحابہ کرام کے فضائل۔
  • صحابہ کرام سے محبت ایمان کا جزء ہے۔
  • صحابہ کرام کي پیروى کرنے پر زور۔
  • صحابہ کرام پر طعن و تشنيع کى حرمت۔

صحابہ کرام کى سیرت کے  نمونے۔

دوسرا: دلیلں:

قرآن کی دلیلں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً}[الفتح:29]. (ﻣﺤﻤﺪ (ﹲ) الله ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ كافروں ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﮯ ﮔﺎ ﻛﮧ ﺭﻛﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ الله تعالى ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ كا ﻧﺸﺎﻥ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻛﮯ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻛﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺜﻞ ﺍﺳﯽ ﻛﮭﯿﺘﯽ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﻜﮭﻮﺍ نكالا ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻛﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﭨﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻛﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺧﻮﺵ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ كافروں ﻛﻮ ﭼﮍﺍﺋﮯ، ﺍﻥ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ الله ﻧﮯ ﺑﺨﺸﺶ كا ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺛﻮﺍﺏ كا ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ۔)
  2. ارشاد بارى ہے:{وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[التوبة:100]. (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺧﻼﺹ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﮨﯿﮟ الله ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﻣﮩﯿﺎ ﻛﺮ ﺭﻛﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

الله تعالى فرماتا ہے:{وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ * أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ * فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ * ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ * وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ}[الواقعة:10-14]. (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ (١٠)  ﻭﮦ بالكل ﻧﺰﺩﯾﻜﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١١) ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (١٢) (ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ) ﮔﺮﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ (١٣) ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ۔)

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِيَ أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}[الأعراف:157]. (ﺳﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﻮﺭ كا ﺍﺗﺒﺎﻉ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﭘﻮﺭﯼ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ۔)

ارشاد بارى ہے:{لَقَد تَّابَ الله عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ}[التوبة:117]. (الله تعالى ﻧﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻛﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ كا ساتهـ ﺩﯾﺎ، ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ايكـ ﮔﺮﻭﮦ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ كچهـ ﺗﺰﻟﺰﻝ ﮨﻮ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔ ﺑﻼﺷﺒﮧ الله تعالى ﺍﻥ ﺳﺐ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺷﻔﯿﻖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔)

الله تعالى فرماتا ہے:{لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[التوبة:88-89]. (ﻟﯿﻜﻦ ﺧﻮﺩ ﺭﺳﻮﻝ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﻛﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻼﺋﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ كاميابى ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٨٨) ﺍﻧﮩﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ الله ﻧﮯ ﻭﮦ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا}[الفتح: 18]. (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﻣﻮﻣﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﺒﻜﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻠﮯ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﻛﯽ ﻓﺘﺢ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ)

الله تعالى كا فرمان ہے:{لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ*وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}[الحشر:8-9]. ((فىء كا ﻣﺎﻝ) ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﻣﺴﻜﯿﻨﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ نكال ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ الله ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ۔ (٨) ﺍﻭﺭ (ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ) ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺪﯾﻨﮧ) ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﺠﺮﺕ ﻛﺮﻛﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﻛﻮ ﺟﻮ ﻛﭽﮫ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﺑﻠﻜﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﻮ ﺧﻮﺩ ﻛﻮ ﻛﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺨﺖ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ (ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ) ﻛﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﻛﮯ ﺑﺨﻞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﯽ كامياب (ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻣﺮﺍﺩ) ﮨﮯ۔)

حدیث نبوى سے دلیليں:

  • عبد اللهt بن مسعود نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا كہ (خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ) (متفق عليه). «بہترين زمانہ ميرا زمانہ ہے- پهر ان لوگوں كا جو اس زمانہ كے بعد آئيں گے پهر ان لوگوں كا جو اس كے بعد آئيں گے- اس كے بعد ايكـ ايسى قوم پيدا ہو گى كہ گواہى دينے سے پہلے قسم ان كى زبان پر آ جايا كرے گى اور قسم كهانے سے پہلے گواہى ان كى زبان پر آ جايا كرے گى-»
  • حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ: (لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِى، لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِى، فَوَالَّذِى نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ) (رواه الشيخان). «ميرے صحابہ- y- كو بُرا بهلا مت كہو- ميرے صحابہ – y- كو بُرا بهلا مت كہو- اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-»
  • رسول اللہ نے فرمایا کہ:  (اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى، اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى، لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِى، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِى أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِى، وَمَنْ آذَانِى فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ) (مسند أحمد). میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجهـ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالى کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اللہ تعالی عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔ (احمد)
  • حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ: (مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): (مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ) (صحيح مسلم). تم ميں سے آج كون روزه دار ہے؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- آپr نے فرمايا كون تم ميں سے آج جنازه كے ساتهـ گيا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مسكين كو كهانا كهلايا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مريض كى عيادت كى؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- اس پر رسول اللهr نے فرمايا جس آدمى ميں يہ سب باتيں جمع ہو گئيں وه جنت ميں داخل ہو گيا-) (مسلم)

تیسرا: موضوع:

اللہ تعالی نے اپنے نبي صل اللہ علیہ وسلم کیلئے برگزیدہ اشخاص اور نیک وصالح اصحاب کا انتخاب فرمایا، جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی مدد کي، اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کي درسگاہ سے فارغ ہوئے اور آپ کے ہاتھوں انکي تعلیم وتربیت ہوئي، اور ایسے صاف و شفاف چشمہ سے سیراب ہوئے جو ایمان اور قوت سے چھلک رہا تھا ، تو وہ لوگوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے سچے، اور ان میں سب سے زیادہ ذي علم، اور فہم کے اعتبار سے سب سے زیادہ تیز اور عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے تھے، جو دین کا جھنڈا لیکر دنیا کے کونے کونے گھومتے رہے،  اور اللہ کے سلسلے میں کسي ملامت کرنے والوں کي ملامت کي پرواہ نہیں کي،  تو انہیں اللہ عزوجل کي خوشنودي حاصل ہوئي، اور اللہ تعالی نے اپنے قرآن کریم میں انکي تعریف کى-  ارشاد بارى ہے: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[توبہ: 100] (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺧﻼﺹ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﮨﯿﮟ الله ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﻣﮩﯿﺎ ﻛﺮ ﺭﻛﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔) یہ لوگ اللہ کے رسول کے وہ صحابہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے آخري رسول صل اللہ علیہ وسلم کي صحبت کییلئے منتخب فرمایا ہے۔

وہ ایسى نسل ہیں جسے زندگي کے رخ کو موڑنے میں سبقت حاصل تھا، انہوں نے اس نور کو ساری دنیا تک پہونچایا جس نور کو سید الرسلین صل اللہ علیہ وسلم لیکر تشریف لائے، ہم چاہیں جو بھی کر لیں ہم ان کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہونچ سکتے ہیں، ہمارے لئے اتنا جان لینا کافي ہے کہ اگر ہم ہر روز احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کریں تب بھی ہم انکے برابر یا انکے آدھے بھی کو نہیں پہونچ سکتے ہیں، جیساکہ حبیب خدا صل اللہ علیہ وسلم نے بتایاہے، فرمایا : ( … فَوَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ) (رواه الشيخان). «اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-» اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس دین کو پہونچانے کي ذمہ داري نبھائی اور اس کے خاطر سب کچھ برداشت کیا،  اور اللہ عز وجل   کے دین اور اسکے رسول کی مدد کے لئے انہوں نے اپني جان و مال تک لگا دیا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [توبہ:111] (ﺑﻼﺷﺒﮧ الله تعالى ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﻮ ﺟﻨﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ الله ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﻛﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﭽﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪ ﻛﻮ ﻛﻮﻥ ﭘﻮﺭﺍ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﯿﻊ ﭘﺮ ﺟﺲ كا ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﻨﺎؤ،ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم آپ کی سیرت پڑھیں اور آپ کي سنت و ہدایت کي پیروي کریں اور آپ کی شریعت پر عمل کریں،  تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی ہم پر حق ہے کہ ہم انکے رتبہ اور مقام کو پہچانیں اور انکي تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ اعلی اخلاق اور اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگي میں ہم ان کے جیسے ہو جائيں، اور انکى زندگى سے ہم عبرت ونصیحت حاصل کریں، یہ وہى لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے نبى کى صحبت اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کى تبلیغ کیلئے اللہ عزوجل نے انہیں منتخب فرمایا ہے، کیونکہ وہ اس امت کے سب سے زیادہ افضل لوگ ہیں، اللہ تعالی نے انکا ذکر وصف کمال کے ساتھ کیا ہے، انہیں انصاف پسند اور پاکباز بنایا،  تو کائنات انسانیت میں زھد وتقوی اور اخلاص میں انکا کوئي ثاني نہیں، اللہ تعالی نے انکى تعریف کي ہے، اور انکے لئے جو اجرء عظیم تیار کیا ہے اسکو بیان کیا ہے، ارشاد ہے:  {وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ * أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ * فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ * ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ *  وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ}[واقعہ: 10- 14] (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ (١٠)  ﻭﮦ بالكل ﻧﺰﺩﯾﻜﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١١) ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (١٢) (ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ) ﮔﺮﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ (١٣) ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ۔)

انکے رتبہ اور بلند مقام کے بیان کیلئے اللہ تعالی نے اپنے قرآن میں انکي صحبت کے شرف کا ذکر بعض صفات کے ساتھ کیا ہے، بلکہ توراۃ اور انجیل میں انکي تعریف کی ہے،  ارشاد ہے: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً}[فتح: 29] (ﻣﺤﻤﺪ (ﹲ) الله ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ كافروں ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﮯ ﮔﺎ ﻛﮧ ﺭﻛﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ الله تعالى ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ كا ﻧﺸﺎﻥ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻛﮯ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻛﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺜﻞ ﺍﺳﯽ ﻛﮭﯿﺘﯽ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﻜﮭﻮﺍ نكالا ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻛﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﭨﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻛﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺧﻮﺵ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ كافروں ﻛﻮ ﭼﮍﺍﺋﮯ، ﺍﻥ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ الله ﻧﮯ ﺑﺨﺸﺶ كا ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺛﻮﺍﺏ كا ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ۔) اللہ تعالی نے انکا وصف یہ بیان کیا کہ وہ کفار کیلئے بغیر کسي ظلم کے سخت ہیں ، اور آپس میں رحم دل ہیں، صرف اللہ کي عبادت کرتے ہیں اسکے ساتھ کسي کو بھی شریک نہیں ٹہرتے ہیں، رکوع اور سجدوں کي حالت میں ہوتے ہیں، اور صرف اللہ سے ہي فضل اور رضا کے طلبگار ہوتے ہیں، اور عبادت کا ان میں اثر ہوا یہاں تک کہ اسکا اثر انکے اعضاء اور جوارح پر ظاہر ہوا، اگر تم ان میں کسی کو دیکھوگے تو یہ جان لوگے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے اور اس سے ڈرنے والے ہیں، اس لئے اللہ تعالی ان سے راضي ہوگيا، اور یہ عظیم انعام ہے جو اللہ تعالی اپنے بندوں پر کرتا ہے، ارشاد ہے :  {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا}[فتح: 18] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﻣﻮﻣﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﺒﻜﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻠﮯ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﻛﯽ ﻓﺘﺢ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ)

جب ہم حبیب مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کي سنت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم بہت سي احادیث پاتے ہیں جو انکے عظیم فضل اور بلند مقام و رتبہ  پر دالالت کرتي ہیں، اور ان میں سے آپ صل اللہ علیہ وسلم کي گواہي کہ انکا زمانہ سب سے بہتر زمانہ اور وہ سب سے بہتر امت ہیں-  عبد اللهt بن مسعود نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا كہ (خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ) (متفق عليه). «بہترين زمانہ ميرا زمانہ ہے- پهر ان لوگوں كا جو اس زمانہ كے بعد آئيں گے پهر ان لوگوں كا جو اس كے بعد آئيں گے- اس كے بعد ايكـ ايسى قوم پيدا ہو گى كہ گواہى دينے سے پہلے قسم ان كى زبان پر آ جايا كرے گى اور قسم كهانے سے پہلے گواہى ان كى زبان پر آ جايا كرے گى-»

وہ اسلئے سب بہتر ہوئے کہ وہ آپ صل اللہ علیہ وسلم پر اس وقت ایمان لائے جب دیگر لوگوں نے انکار کیا، اور جب لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تو انہوں نے آپ کي تصدیق کي، اور اللہ کے راستہ میں اپني جان و مال کے ذریعہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی نصرت و مدد کي اور پناہ دیا ، اور مسند احمد میں ہے- عبد الله بن مسعود (رضى الله عنه) نے بيان كيا: اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو حضرت محمدr کے دل کو ان سب دلوں سے بہتر پایا تو اس کو رسالت کے لئے مقرر فرمایا، پھر دوسرے قلوب (دلوں) پر نظر ڈالی تو اصحاب محمدr کے قلوب کو دوسرے تمام بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبیؐ کی صحبت کے لئے منتخب کرلیا، پس ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبیr کا وزیر بنالیا، پس جس کام کو مسلمان (صحابہ) اچھا سمجھیں وہ عند اللہ بھی اچھا ہے اور جس کو یہ بُرا سمجھیں وہ اللہ کے پاس بھی بُرا ہے۔

اور ان میں سے: وہ حدیث جس کي جانب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے کہ وہ امت کی ڈھال ہیں- آپr نے فرمايا: «ستارے آسمان كے لئے باعث امن ہيں پس جب ستارے چلے جائيں گے تو آسمان پر وه آ جائے گا جس كا وعده ديا جاتا ہے اور اسى طرح ميں اپنے صحابہ y كے لئے باعثِ امن ہوں- جب ميں چلا جاؤں گا تو ميرے صحابہ y پر وه آ جائے گا جس كا ان سے وعده كيا جاتا ہے اور ميرے صحابہ y ميرى امت كے لئے باعث امن ہيں- پهر جب ميرے صحابہ y چلے جائيں گے تو ميرى امت پر وه آ جائے گا جس كا ان سے وعده كيا جاتا ہے-» (مسلم)- صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا وجود امت میں بدعت کے ظہور سے امان تھا ، بلکہ ان کى برکتیں انکے بعد اگلى دو نسلوں تک پہونچى- حضرت ابو سعيد خدرىt نے بيان كيا كہ رسول الله r نے فرمايا: (يَأْتِى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ. ثُمَّ يَأْتِى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ) (متفق عليه) (ايكـ زمانہ آئے گا كہ اہل اسلام كى جماعتيں جہاد كريں گى تو ان سے پوچها جائے گا كہ كيا تمہارے ساتهـ رسول اللهr كے كوئى صحابى بهى ہيں؟ وه كہيں گے كہ ہاں ہيں- تب ان كى فتح ہو گى- پهر ايكـ ايسا زمانہ آئے گا كہ مسلمانوں كى جماعتيں جہاد كريں گى اور اس موقع پر يہ پوچها جائے گا كہ كيا يہاں رسول اللهr كے صحابى كى صحبت اٹهانے والے (تابعى) بهى موجود ہيں؟ جواب ہو گا كہ ہاں ہيں اور ان كے ذريعہ فتح كى دعا مانگى جائے گى- اس كے بعد ايكـ زمانہ ايسا آئے گا كہ مسلمانوں كى جماعتيں جہاد كريں گى اور اس وقت سوال اٹهے گا كہ كيا يہاں كوئى بزرگ ايسے ہيں جو رسول اللهr كے صحابہ كے شاگردوں ميں سے كسى بزرگ كى صحبت ميں رہے ہوں؟ جواب ہو گا كہ ہاں ہيں تو ان كے ذريعہ فتح كى دعا مانگى جائے گى پهر ان كى فتح ہو گى-) (متفق عليه)

اور ان میں سے : یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے راستہ میں اپني رضا کے حصول کے خاطر  انکے جود و سخا اور مجاھدہ کي گواہي دی ہے، اور اس پر ان سے ہمیشگى کى جنت اور نعمتوں کا وعدہ کیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: "لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ”[توب:88-89] (ﻟﯿﻜﻦ ﺧﻮﺩ ﺭﺳﻮﻝ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﻛﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻼﺋﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ كاميابى ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٨٨) ﺍﻧﮩﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ الله ﻧﮯ ﻭﮦ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

حضرت عمر t بن خطاب بيان كرتے ہيں كہ ايكـ دن رسول اللهr نے ہميں صدقہ كرنے كا حكم ديا- اس موقع پر ميرے پاس مال بهى تها- چنانچہ ميں نے (دل ميں) كہا: اگر ميں ابو بكر t سے سبقت لينا چاہوں تو آج لے سكتا ہوں- چنانچہ ميں اپنا آدها مال (آپ كى خدمت ميں) لے آيا- رسول اللهr نے پوچها: «تم نے اپنے گهروالوں كے ليے كيا باقى چهوڑا ہے؟» ميں نے كہا: اسى قدر (چهوڑ آيا ہوں) اور پهر حضرت ابو بكر t اپنا كل مال (آپ كے پاس) لے آئے- رسول اللهr نے ان سے پوچها: «تم نے اپنے گهروالوں كے ليے كيا باقى چهوڑا ہے؟» كہا: ميں نے ان كے ليے الله اور اس كے رسول كو چهوڑا ہے- تب مجهے كہنا پڑا: ميں كسى شے ميں كبهى بهى ان سے نہيں بڑهـ سكتا-) (ترمذى)

جب یہ رسول اللہ کے صحابہ کا مقام تھا تو ان سے محبت اور دوسروں پر انکے افضلیت کا اقرار ہر مسلمان کا  ایماني فریضہ ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے کہ آپ نے ان سے محبت کیا اور اپنا ساتھی چنا، تو مؤمن اس سے محبت کرتا ہے جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے  اور جس سے اللہ اور اسکا رسول محبت کرتا ہے، اور ان میں سر فہرست صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں- رسول اللہ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اللہ تعالی عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔ (ترمذى، احمد) (حضرت براءt نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا: «انصار سے صرف مومن ہى محبت ركهے گا اور ان سے صرف منافق ہى بغض ركهے گا- پس جو شخص ان سے محبت ركهے اس سے الله محبت ركهے گا اور جو ان سے بغض ركهے گا اس سے الله تعالى بغض ركهے گا (معلوم ہوا كہ انصار كى محبت نشان ايمان ہے اور ان سے دشمنى ركهنا بے ايمان لوگوں كا كام ہے)» (بخارى)

شریعت اسلامیہ نے صحابہ رضی اللہ عنھم پر طعن و تشنیع کو حرام کیا ہے، کیونکہ جس نے انہیں رسول اللہ کی صحبت کیلئے منتخب کیا اور انکي تعریف کي اور ان سے راضي ہوا وہ اللہ سبحانہ تعالی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے انہیں گالي دینے سے ہمیں منع فرمایا ہے- حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ «ميرے صحابہ- y- كو بُرا بهلا مت كہو- ميرے صحابہ – y- كو بُرا بهلا مت كہو- اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-» (مسلم)

(حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، پس ان کے عمل کا ایک لمحہ تم میں سے کسی کے زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے-) (فضائل الصحابة لأحمد)- تو اسي لئے ہم پر ضروري ہے کہ ہم انکي عزت کی حفاظت کریں اور انکے رتبہ اور مقام کو پہچانیں۔

صحابہ کرام  کي زندگی پر نگاہ رکھنے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایمان و یقین کے بلند مقام پر فائز، اور اللہ اور رسول سے محبت کے پیکر ہیں، اور اعلی اخلاق سے آراستہ حقیقي تصویر ہیں، تو وہ سب سے بہتر قائد و رہنما تھے، جنہوں نے اللہ کے دین کی نصرت و مدد کے خاطر جود و سخا اور علم وعمل اور قربانيوں کي شاندار مثال قائم کي،  یہاں تک کہ انکے سلسلے میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: {لِلْفُقَرَاءِ المُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ}[حشر: 8]. ((فىء كا ﻣﺎﻝ) ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﻣﺴﻜﯿﻨﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ نكال ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ الله ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ۔)

اسکى سب سے بڑي مثال حضرت علي بن طالب رضی اللہ عنہ ہیں جو ہجرت کي رات اپني جان کا نظرانہ پیش کرتے ہوئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سوگئے، جبکہ انکو یہ معلوم تھا کہ مشرکین انکو قتل کر سکتس ہیں۔

اسى طرح حضرت صھیب رومى اللہ کے دین اور رسول اللہ کي مدد کے لئے اپنے مال کى  قربانياں دیتے ہیں، جب مدینہ کي جانب ہجرت کا ارادہ کیا، تو کفار قریش نے ان سے کہا کہ تم ہمارے پاس فقیر آئے تھے، ہمارے پاس آکر تمہارا مال بڑھ گیا، اور تم وہ ہو گئے  جو ابھي ہو، اور اب تم اپنا مال اور جان لیکر یہاں سے نکلنا چاہتے ہو، اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ہے، تو انہونے کہا : کیا خیال اگر میں تم لوگوں کو اپنا مال  دے دوں تو کیا تم لوگ میرا راستہ چھوڑ دوگے؟، لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہا کہ: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا مال تم لوگوں کے لئے کر دیا، جب اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: صھیب کامیاب ہوگیا، صھیب کامیاب ہوگیا، اور ان کے سلسلے میں اللہ کا یہ قول نازل ہوا- {وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ} (ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺗﻚ ﺑﯿﭻ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮍﯼ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (بقره: 207)

یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اعلی اخلاق اور عمدہ صفات کي شاندار مثال قائم کي، یہاں تک کہ وہ اچھے نمونہ اور  اعلی اخلاق کے آڈیل بن گئے، اور نبي صل اللہ علیہ وسلم نے انکے جنتي ہونے کي گواہي دی-  (حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ تم ميں سے آج كون روزه دار ہے؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- آپr نے فرمايا كون تم ميں سے آج جنازه كے ساتهـ گيا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مسكين كو كهانا كهلايا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مريض كى عيادت كى؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- اس پر رسول اللهr نے فرمايا جس آدمى ميں يہ سب باتيں جمع ہو گئيں وه جنت ميں داخل ہو گيا-) صحيح مسلم-

یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ایک رات گشت کر رہے تھے، کہ ایک عورت کے پاس سے گزر ہوا جس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور آگ پر ہانڈي رکھي ہوئي تھي اور بچے بلک بلک کے رو رہے تھے، تو حضرت عمر نے ان سے کہا: اے روشني والے تم پر اللہ کي سلامتي ہو ، آپ نے ناپسند کیا کہ انکو آگ والے کہہ کر مخاطب کریں، تو انہوں نے جواب دیا آپ پر اللہ کي سلامتي ہو، عمر نے کہا: کیا حال ہے، عورت نے کہا ٹھیک ہے رہنے دو، عمر قریب ہوئے کہا: تمہاري کیا حالت ہے؟ عورت نے جواب دیا: رات اور سردي نے ہمیں مجبور کر دیا ہے، عمر نے کہا: بچے کیوں بلک رہے ہیں؟ عورت نے کہا: بھوک کي وجہ سے، آپ نے کہا: اس ہانڈي میں کیا ہے؟ عورت نے کہا: انکو چپ کرنے  کیلئے آگ پررکھا ہوا ہے تاکہ یہ سو جائيں، ہمارے اور عمر کے درمیان اللہ ہے، عمر نے کہا: تم پر اللہ کي رحمت ہو، عمر کو بھلا تمہارے حال کا کیسے علم ہو سکتا ہے؟ عورت نے کہا: عمر ہمارا ذمہ دار بن گیا اور ہم سے بے خبر ہوگیا ، اس حدیث کے راوي زید بن اسلم کہتے ہیں: کہ وہ میرے پاس آئے اور کہا: تم میرے ساتھ چلو، تو ہم بھاگتے ہوئے نکلے اور آٹے کے گودام میں پہونچے وہاں سے ایک بوري آٹا لیا اور ایک گولا چربي کا لیا، کہا : اسے مجھ پر رکھ دو، میں نے کہا آپ کے بجائے میں اٹھا لیتا ہوں، تو عمر نے کہا : کیا کل قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤگے؟ راوي کہتے ہیں کہ میں نے انپر رکھ دیا اور وہ تیز بھاگے اور میں بھي انکے ساتھ بھاگا، عورت کے پاس پہونچ کر اس کے سامنے رکھ دیا، پھر کچھ آٹا نکالا، کہنے لگے: اسے نچار لو میں حرکت دیتا ہوں

پھر خود چولہا پھونکنے لگے، پھر ہانڈي اتارا اور کہا: کوئي برتن لاؤ، وہ ایک پلیٹ لیکر آئي، تو آپ نے اس میں انڈیل دیا، پھرعورت سے کہا: تم انہيں کھلاؤ اور میں اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے پھیلاتا ہوں، تو انہیں کھلاتے رہے یہاں تک کہ شکم سیر ہوگئے، اور باقي ماندہ اسي کے پاس چھوڑ دیا، راوي کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہوا، عورت کہنے لگي : جزاک اللہ خیر ،   تم اس امر کے امیر المؤمنین سے زیادہ حقدار تھے، عمر کہتے ہیں جب تم امیر المؤمین کے پاس جانا تو اچھي بات کہنا، اور انشاء اللہ وہاں میري بات کرنا، پھر عورت سے کنارہ ہوکر وہاں سے رخصت ہوگئے، اور دور ہوکر گھات لگا کر بیٹھ گئے، ہم نے ان سے کہا: اس کے علاوہ ہمیں اور بھي کام ہے،  تو آپ نے کچھ بھي جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ بچے  کھیلنے لگے اور پھر سو گئے اور سکون ہوگیا، تو آپ نے کہا: اے اسلم ، بھوک نے انہیں جگایا اور رولایا تھا،  تو جو اب میں نے دیکھا اس کے دیکھنے سے پہلے واپس جانا مجھے اچھا نہ لگا۔ (فضائل صحابہ امام احمد)

اسي طرح اللہ کے دین کی مدد اور نصرت کے خاطر ایثار وقرباني  اور جود و سخا کے بہت سے واقعات صحابیات (رضوان الله تعالى عليهن أجمعين)  کے بھي ہیں، ہم ان میں سے بعض کو بیان کرتے ہیں۔

*  ام المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنھا کا موقف اور کردار ہے جو انہوں نے اللہ کے دین کے نشر و اشاعت کي راہ میں ادا کیا، کہ وہ اپنے شوہر نبي کریم صل اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ کھڑي ہوئيں اور اور اپنے جان و مال کي بازي لگاديں، اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کو تسلي دیں جب غار حراء میں آپ پر وحي نازل ہوئي، تو پورے بھروسہ اور اعتماد سے  بغیر کسي خوف و ڈر کے کہا: (خدا كى قسم آپ كو الله كبهى رسوا نہيں كرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ كے مالكـ ہيں، آپ تو كنبہ پرور ہيں، بے كسوں كا بوجهـ اپنے سر پر ركهـ ليتے ہيں، مفلسوں كے ليے آپ كماتے ہيں، مہان نوازى ميں آپ بے مثال ہيں اور مشكل وقت ميں آپ امر حق كا ساتهـ ديتے ہيں-) (بخارى)- تو اچھي اور وفادار بیوي تھی جو اپنے شوہر کا حق جانتي تھي، اس لئے نبي صل اللہ علیہ وسلم انکي وفادري کي وجہ سے ہمیشہ انکا ذکر اور تعریف کیا کرتے تھے- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی بھی حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی خوب تعریف فرماتے : آپ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں غصہ میں آ گئی اور میں نے کہا کہ آپ سرخ رخساروں والی کا تذکرہ بہت زیادہ کرتے ہیں حالانکہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر عورتیں اس کے نعم البدل کے طور پر آپ کو عطا فرمائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ﷲ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر بدل عطا نہیں فرمایا وہ تو ایسی خاتون تھیں جو مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے اور میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اور اپنے مال سے اس وقت میری ڈھارس بندھائی جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اﷲ تبارک و تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے مجھے اولاد عطا فرمانے سے محروم رکھا۔ (احمد كى روايت)

اسى طرح صحابیات کے اچھے اور عمدہ نمونوں میں سے ایک سیدہ ام عمار ہیں جو کعب انصاریہ کي بیٹي کے رشتہ دار ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ غزوہ احد میں میں نے دائیں بائیں جدھر بھی رخ کیا ام عمار کو دیکھا کہ وہ میرا دفاع کر رہي تھي ، یہاں تک کہ ایک شخص آیا جو رسول اللہ کو قتل کرنا چاہتا تھا جب جب اسنے رسول اللہ کو نیزہ مارنے کا ارادہ کیا ام عمارہ اسکے  درمیان حائل ہو گئيں، وہ ان کو تلوار سے مارنے لگا یہاں تک کہ تلوار کي مار کي وجہ سے ان کے کندھے کي ہڈي جھک گئي، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اے ام عمار تم اپني استطاعت سے زیادہ کر رہي ہو، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ بلکہ میں استطاعت رکھتي ہوں، میں استطاعت رکھتي ہوں، میں استطاعت رکھتي ہوں، رسول اللہ نے ان سے کہا: اے ام عمار تم مجھ سے مانگو، کہتي ہیں: اے اللہ کے رسول میں جنت میں آپ کا ساتھ چاہتي ہوں، تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم  اکیلے ہي نہیں بلکہ تم اور تمہارے اہل خانہ بھي ہونگے، تو انہوں کہا:  کہ دنیا میں مجھے جو مصیبت بھي ملي اس کي کوئي پرواہ نہیں ہے۔ (سير أعلام النبلاء).

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ترقي کریں اور اگے بڑھیں ہلاکت سے محفوظ رہیں،  اور دنیا اور آخرت میں اللہ تعالی کي خوشنودي اور  رضا  حاصل کر سکیں، تو ضروري ہے کہ رسول اللہ کے صحابہ کرام کي زندگی سے روشني حاصل کریں اور انکے نقش قدم پر چلیں، اور انکے اخلاق کو اپنائیں، کیونکہ وہ مؤمنوں اور مسلموں کیلئے آڈیل اور نمونہ ہیں، نبي صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں انکي پیروي کرنے اور انکے راستے پر چلنے کا حکم دیا ہے- (حضرت عرباض بن ساريہt سے روايت ہے… «تو ميرى سنت كو اور ہدايت يافتہ خلفائے راشدين كے طريقے كو اختيار كرنا، اسے ڈاڑهوں سے پكڑ كر ركهنا، (اس پر مضبوطى سے قائم رہنا) اور نئے نئے كاموں سے پرہيز كرنا، كيونكہ ہر بدعت گمراہى ہے-» (سنن ابن ماجہ)

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے بچوں اور عورتوں کو صحابہ کرام کے اخلاق سکھائیں، کہ وہ رسول اللہ کي کیسے اتباع اور پیروي کرتے تھے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے دین کي مدد کیلئے کیسے قربانياں دیتےتھے، یہاں تک کہ انہوں نے اپني جانوں کو بھی اللہ پر ایمان و یقین کے بدلہ بیچ دیا تھا۔

کلمہ ( بات ) کى امانت اور اسکى ذمہ داریاں
1 رجب 1437ھ مطابق 8 اپریل 2016 ء

awkaf-

پہلا عناصر :

  • اسلام میں کلمہ ( بات ) کا مقام ۔
  • زبان پر قابو ایمان کي علامت ہے۔
  • کلمہ ( بات ) کي امانت اور اسکي ذمہ داریاں اخلاقي اور شرعي فریضہ ہے۔

کلمہ ( بات ) کي اہمیت اور معاشرہ اور افراد کي زندگي میں اسکا اثر۔

دوسرا دلیلیں :

قرآن كريم کى دلیلیں:

  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب :70-71] . (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {.. وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا…}[البقرة: 83] . (…ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ…)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا}[ الإسراء: 53] . (ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ نكالا ﻛﺮﯾﮟ ﻛﯿﻮﻧﻜﮧ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﮈﻟﻮﺍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ شكـ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ كا ﻛﮭﻼ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ}[ فصلت:34]. (ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯼ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { الرَّحْمَنُ * عَلَّمَ الْقُرْآنَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ * عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} [الرحمن :1ـ 4] . (ﺭﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ۔(١) ﻗﺮﺁﻥ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔ (٢) ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ۔ (٣) ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ * تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ * وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ} [ إبراهيم: 24ــ 26] . (ﻛﯿﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺎ ﻛﮧ الله تعالى ﻧﮯ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﻛﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ، ﻣﺜﻞ ايكـ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻛﯽ ﺟﮍ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻛﯽ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (٢٤) ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮭﻞ ﻻﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﻭﮦ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﯾﮟ۔ (٢٥) ﺍﻭﺭ ناپاكـ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﮔﻨﺪﮮ ﺩﺭﺧﺖ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﻛﮯ كچهـ ﮨﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﻛﮭﺎﮌ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺳﮯ كچهـ ﺛﺒﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ }[البقرة: 263] . (ﻧﺮﻡ ﺑﺎﺕ ﻛﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻑ ﻛﺮﺩﯾﻨﺎ ﺍﺱ ﺻﺪﻗﮧ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﺬﺍ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺩﺑﺎﺭ ﮨﮯ)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ}[النحل: 116]. (ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﻧﮧ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﻛﮧ الله ﭘﺮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﻮ، سمجهـ ﻟﻮ ﻛﮧ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ كاميابى ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى}[طه :43- 44] . (ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﻛﯽ ﮨﮯ۔ (٤٣) ﺍﺳﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎؤ ﻛﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ سمجهـ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮈﺭ ﺟﺎﺋﮯ۔)

سنت نبوى کى دلیلیں:

  • (حضرت ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى كريمr نے فرمايا بنده الله كى رضامندى كے لئے ايكـ بات زبان سے نكالتا ہے اسے وه كوئى اہميت بهى نہيں ديتا مگر اسى كى وجہ سے الله اس كے درجے بلند كر ديتا ہے اور ايكـ دوسرا بنده ايكـ ايسا كلمہ زبان سے نكالتا ہے جو الله كى ناراضگى كا باعث ہوتا ہے اسے وه كوئى اہميت نہيں ديتا ليكن اس كى وجہ سے وه جہنم ميں چلا جاتا ہے-)

  • ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ رسول كريمr نے فرمايا: «انسان كے ہر ايكـ جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے- ہر دن جس ميں سورج طلوع ہوتا ہے- پهر اگر وه انسانوں كے درميان انصاف كرے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے اور كسى كو سوارى كے معاملے ميں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر كہ اسے اس پر سوار كرائے يا اس كا سامان اٹها كر ركهدے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے اور اچهى بات منہ سے نكالنا بهى ايكـ صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز كے لئے اٹهتا ہے وه بهى صدقہ ہے اور اگر كوئى راستے سے كسى تكليف دينے والى چيز كو ہٹا دے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے-»
  • حضرت ابو ہريرهt سے روايت كرتے ہيں، وه رسول الله r سے نقل كرتے ہيں كہ آپr نے فرمايا: «منافق كى علامتيں تين ہيں- جب بات كرے جهوٹ بولے، جب وعده كرے اس كے خلاف كرے اور جب اس كو امين بنايا جائے تو خيانت كرے-»
  • حضرت ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى كريم r نے فرمايا: «جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ اپنے پڑوسى كو تكليف نہ دے، جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ اپنے مہمان كى عزت كرے اور جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ بهلى بات كہے ورنہ چپ رہے-»
  • حضرت ابن عباس – رضى الله عنہما- سے روايت ہے كہ نبىr كے زمانے ميں ہو اسے ايكـ شخص كى چادر اڑ گئى تو اس نے اسے لعنت كر دى، تو نبىr نے فرمايا: «اسے لعنت مت كرو، بلاشبہ يہ (الله كے حكم كى) پابند ہے- اور بلاشبہ جس نے كسى چيز كو لعنت كى جب كہ وه اس كى حق دارنہ ہو، تو يہ لعنت كرنے والے پر لوٹ آتى ہے-»

تیسرا: موضوع:

اللہ سبحانہ تعالی نے انسان کو بہت سي نعمتوں سے نواز جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ}[النحل: 18] (ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ الله ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ كا ﺷﻤﺎﺭ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮ ﺳﻜﺘﮯ۔ بيشكـ الله ﺑﮍﺍ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔) ان نعمتوں میں سے ایک نعمت زبان کي نعمت ہے-{أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ*وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ}[البلد:8 ـ 9](ﻛﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺩﻭ ﺁﻧﻜﮭﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ۔ (٨) ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﭧ (ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ))- پھر اللہ تعالی نے زبان کو بیان کي نعمتوں سے مزین کیا جس کے ذریعہ انسان تمام دیگر مخلوقات سے جداگانہ حیثیت کا حامل ہے-{الرَّحْمَنُ * عَلَّمَ الْقُرْآنَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ * عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} [الرحمن:1ـ 4] (ﺭﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ۔(١) ﻗﺮﺁﻥ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔ (٢) ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ۔ (٣) ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔)- بلاشبہ کلمہ ( بات ) ہى انسان کی پہچان ہے، اور ایک دوسرے سے رابطہ کا ذریعہ ہے، اور اسي کے ذریعہ سے انسان کي زندگي میں سب کچھ ممکن ہے، اور دنیا کي کسی شریعت نے کلمہ ( بات ) کي اہمیت پر ایسا زور نہيں دیا جیساکہ اسلامي شریعت نے ہر حال میں کلمہ کي اہمیت پر زور دیا ہے یہاں تک کہ مزاق کی حالت میں بھي، تو کلمہ ( بات ) کے ذریعہ ہي قوم اور امتیں خوش بخت ہوتی ہیں اور بد بخت بھي، اور اسي کے ذریعہ جان اور عزت و آبرو کي حفاظت ہوتی ہے، اور اسى کے ذریعہ ان کي پائمالی بھى۔

انسان کى زندگى میں کلمہ ( بات ) کي اہمیت کے پیش نظر زبان کي درستگي اور اسکى حفاظت، اور لوگوں کي عزت و آبرو کے تئیں اسے بے لگام نہ ہونے، اور بیکار اور لایعنی باتوں سے بچنے کا اللہ کي جانب سے حکم نازل ہوا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ}[ق: 18] ((ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ نكال ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ۔)

انسان کے تمام اعضاء کا تعلق زبان سے ہے، اگر وہ درست ہے تو سب کچھ درست ہے اور اگر وہ درست نہیں تو کچھ بھی درست نہیں ہے- (روايت ہے ابى سعيد خدرىt سے مرفوع كيا انہوں نے اس حديث كو يعنى قول رسول اللهr ٹهہرايا كہ فرمايا آپ نے جب صبح كرتا ہے آدمى سب اعضا اس كے عاجزى كرتے ہيں زبان كے آگے اور كہتے ہيں ڈر تو الله تعالے سے ہمارے مقدمہ ميں اس ليے كہ ہم تيرے ساتهـ ہيں اگر تو سيدهى ہوئى تو ہم سب سيدهے ہوئے اور اگر تو ٹيڑهى ہوئى تو ہم سب ٹيڑهے ہوئے-)

آپ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بیان فرمایا: بلاشبہ زبان انسان کے جنت یا جہنم کے دخول کا سبب ہو سکتا ہے- وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں آپ صل اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہوگیا ۔۔۔ اور ان میں ۔۔ پھر فرمایا: ( کیا میں تمہے اس تمام کا خلاصہ اور نچوڑ نہ بتا دوں؟) کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے نبي، تو آپ نے اپني زبان مبارک پکڑا اور فرمایا: (اس پر قابو رکھو)- میں نے کہا: اے اللہ کے رسول، کیا ہم جو بولتے ہیں ہم سے اس کا مؤاخذہ ہوگا؟، فرمایا: (اے معاذ تمہاري ماں تمهيں کھو دے) لوگ صرف اپنى زبان کى وجہ سے آگ میں اپنے منہ کے بل ڈالے جائنگے – یا فرمایا: اپنے ناک کے بل-

کلمہ (بات) ایک امانت ہے، اس کے کہنے والوں کو چاہئے کہ اس بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرے، جو اسکي اہمیت و عظمت ہے اور جو اسکي وجہ سے بڑا خیر وجود میں اتا ہے یا بھیانک تباہي، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ بنی صل اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: (بیشک بندہ اللہ کي خوشنودی کے کلمات بولتا ہے، جس پر وہ دھیان بھی نہیں دیتا، اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے، اور بیشک بندہ اللہ کی ناراضگي کے کلمات بولتا ہے جس پر وہ دھیان بھی نہیں دیتا اور اسکي وجہ سے وہ جہنم میں گر جاتا ہے)۔

جیساکہ رسول اللہ ل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا: کہ اچھے کلمات (بات) آدمي کے ایمان کی دلیل ہے، آپ نے فرمایا: (جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے) اسي طرح اللہ تعالی نے ہمیں بلا تفریق تمام لوگوں کے ساتھ سچي بات کہنے کا حکم دیاہے، اور یہ کہ ہم درست بات ہي کہیں جو فساد کے بجایے اصلاح، اور بگاڑ کے بجایے بنانے، اور تخریب کے بجایے تعمیر کا کام کرے- الله تعالى فرماتا ہے: {وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا …} [بقره:83] (…ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ…)- اور ارشاد بارى ہے: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ}[اسراء:53] (ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ نكالا ﻛﺮﯾﮟ)- الله تعالى فرماتا ہے:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}[احزاب:70-71] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔) اعمال کي اصلاح اور گناہوں کی مغفرت اچھی باتوں اور سچے کلمات پر مرتب ہوتے ہیں، اسي لئے اسلام نے باتوں اور افواہوں کی چھان بین پر زور دیا ہے، کہ ہر کہي ہوئی باتوں کي تصدیق نہیں کي جا سکتی ہے- الله تعالى كا ارشاد ہے:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ}[حجرات: 6] (ﺍﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ! ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻛﮧ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻛﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﻛﻮ ﺍﯾﺬﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻛﯿﮯ ﭘﺮ ﭘﺸﯿﻤﺎﻧﯽ ﺍﭨﮭﺎؤ۔)

یہاں سے یہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ زبان کی حفاظت کمال ایمان اور حسن اسلام کي دلیل اور فردوس اعلی تک پہونچنے کا ذریعہ ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}[مؤمنون: 3] (ﺟﻮ ﻟﻐﻮﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) إلى أن قال: {أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ * الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [مؤمنون:10ــ11] (ﯾﮩﯽ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﯿﮟ۔ (١٠) ﺟﻮ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﻛﮯ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔)، سہلt بن سعد سے روايت ہے كہ رسول اللهr نے فرمايا: «مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الجَنَّةَ» (بخارى). (ميرے لئے جو شخص دونوں جبڑوں كے درميان كى چيز (زبان) اور دونوں پاؤں كے درميان كى چيز (شرمگاه) كى ذمہ دارى دے دے ميں اس كے ليے جنت كى ذمہ دارى دے دوں گا-)

بلا شبہ کلمہ (بات) کى امانت اور اسکى ذمہ داریاں اخلاقى اور شرعى فریضہ ہے، کیونکہ وہ امت کو متحد اور اسکے ارادوں کو مضبوط اور دشمن کو دوست بناتا ہے، اور بغض و کینہ کو محبت میں تبدیل کر دیتا ہے، اور شیطان کے مکر کا سد باب کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{ …ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ}[فصلت: 34] (ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔)

جیساکہ اچھى باتیں دلوں کو جوڑتى اور نفس کی اصلاح کرتى ہیں، اور غموں کو دور اور غصہ کو ختم کرتی ہیں، اور اس سے خوش بختى اور رضامندگى کا احساس ہوتا ہے خاص طور پر جب کہ باتوں کے ساتھ ساتھ سچى مسکراہٹ بھی ہو- (اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھ کرمسکرانا صدقہ ہے) (الادب المفرد للبخارى)- کلمہ (بات) کي امانت صاحب کلمہ سے اس بات کا متقاضي ہے کہ خیر اور سچ کے علاوہ کچھ نہ بولے، نہ جھوٹ بولے اور نہ دھوکہ دے اور نہ جھوٹي گواہي دے اور نہ حقیقت کو چھپانے کى کوشش کرے، اور بغیر علم کے کوئی بات نہ کہے- ارشاد بارى ہے: {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ}[النحل: 116] (ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﻧﮧ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﻛﮧ الله ﭘﺮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﻧﺪهـ ﻟﻮ، سمجهـ ﻟﻮ ﻛﮧ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ كاميابى ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) اسى طرح کلمہ (بات) کي امانت صاحب کلمہ سے نصیحت اور مشورہ کے طلبگار کیلئے اس میں سچائي کا متقاضي ہے، تو دین نصیحت ہے جیساکہ صادق و امین صل اللہ علیہ وسلم نے بتایا: (حضرت تميم دارىt سے روايت ہے كہ نبى r نے فرمايا كہ دين خير خواہى اور خلوص (كا نام) ہے- ہم نے عرض كيا كس كے لئے؟ آپr نے فرمايا الله كے لئے اور اس كى كتاب كے لئے اور اس كے رسولr كے لئے، مسلمانوں كے ائمّہ اور ان كے عوام كے لئے-) (مسلم) (حضرت ابو ہريرهt سے روايت ہے كہ رسول اللهr نے فرمايا: «مشوره دينے والا امين ہوتا ہے-») (ابو داود)

نصیحت اور خلوص پر مبنى سچے مشورہ کے ذریعہ بندوں کے معاملات کي اصلاح ہوتى ہے، اور امن و امان کا بول بالا ہوتا ہے اور ملک میں خوشحالي آتى ہے۔

بلاشبہ کلمہ (بات) ایک تباہکن دو دھاري تلوار ہے، یا تو تعمیر و ترقي کا سبب ہوگا، اگر بات سچي اور درست ہو- یا فساد وبگاڑ اور تباہي کا ذریعہ ہوگي اگر بات جھوٹی اور بے بنیاد ہوگی، تو کلمات کوئي معمولي بات نہیں ہے، بلکہ انسان کي زندگي میں اس کي بڑي اہمیت اور مقام ہے، اور لوگوں کے ساتھ جو خرید و فروخت اور عہد و پیمان اور ان جیسے معاملات کیے جاتے ہیں اس میں سچي بات کہنے کا مطالبہ ہے۔ اور لوگوں کے ساتھ تعلق میں سچي بات کا جو اچھا اثر ہے وہ کسي سے چھپا ہوا نہیں ہے، تو پڑوسیوں کے ساتھ اچھي بات جنت میں داخلہ کا سبب بن سکتا ہے، اور ان کے ساتھ بري بات جہنم میں داخلہ کا سبب بھی ہو سکتا ہے-

اسى طرح مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلق میں بات کا اچھا اثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے دشمنوں کے ساتھ بھی نرم بات کہنے کا حکم دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى} [طه :43 -44] (ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﻛﯽ ﮨﮯ۔ (٤٣) ﺍﺳﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎؤ ﻛﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ سمجهـ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮈﺭ ﺟﺎﺋﮯ۔)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لکھي ہوئی باتوں کے بہت سے نقصانات ہیں جو امت کو مکمل طور پر تباہ کر دیتے ہیں، انکے نقصانات بولي جانے والي باتوں سے کم نہیں ہے، تو یہ دونوں باتیں امانت ہیں، یہاں سے یہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ ہر صاحب قلم کو چاہئے کہ اس کا کما حقہ حق ادا کرے، اور کسی طرح کي لغزش کے سرزد ہونے سے پر ہیز کرے، کیونکہ وہ اسکے اخلاق اور اسکي رایے کا عکس ہے، اسے حق کی مدد اور اجھائی کی حمایت میں استعمال کرے، جیسا کہ جاحظ نے کہا ہے: ( قلم دو زبان میں سے ایک زبان ہے، اور اسکا اثر دیر تک باقي رہتا ہے)، بلکہ وہ طاقت میں ایک تلوار ہے، اسکی وار وہاں تک پہونچتي ہے جہاں تک زبان نہیں پہونچ سکتى۔

یہاں سے یہ بات سمجھ میں آتي ہے کہ جھوٹي خبریں پھیلانا اور حقیقت کو بگاڑنا یا اسے چھپانا، یا کسي شریف انسان کو بے آبرو کرنا اور ہر وہ جو معاشرے میں فحش و بے حیائي کو فروغ دے وہ کلمہ (بات) کی خیانت شمار ہوگى۔

ہر لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے، اور اسے اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جو اسنے لکھا ہے وہ اس کے لئے یا اسکے خلاف گواہ ہوگا۔

ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے سامنے اپني مکمل ذمہ داريوں کو محسوس کرے، اسي طرح اپنے ضمیر اور مخلوق کے سامنے بھی اور ہر اس چیز کے تئيں جو وہ کہتا ہے، تاکہ وہ ایک ہی معاشرہ کے افراد کے درمیان اختلاف اور نفرت کا سبب نہ بنے، اور رشتوں کے ٹوٹنے اور لوگوں کے درمیان تعلقات کے بگڑنے کا سبب نہ ہو- تو معاشرے کے افراد کے درمیان الفت و محبت پھیلانے اور بغض اور دوري کو مٹانے کیلئے ہم اچھے کلمات کے کتنے زیادہ محتاج ہیں اسکے اچھے اثر کي وجہ سے- اعمال کى اصلاح اور گناہوں کي مغفرت کیلئے اچھے کلمات کا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}[احزاب:70-71 ] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ،ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔)

اسلام میں مكارم اخلاق
14 ربیع الاول 1437ھ مطابق 25 دسمبر 2015ء

awkaf

پہلا: عناصر:

  1.  اسلام بلند اخلاق والا دین ہے۔
  2. اخلاق کا زوال امت کا زوال ہے۔
  3.  بلند اخلاق صحیح عبادت کا نتیجہ ہے۔
  4. ہم اپنے اخلاق کے ذریعہ کیسے بلند ہو جائيں؟

دوسرا: دلیلں:

قرآن کی دلیلں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے: }وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيم{[قلم: 4] (ﺍﻭﺭ بيشكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔).
  2. ارشاد بارى ہے :}خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ{[الأعراف: 199] (ﺁﭖ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ نيكـ كام ﻛﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ايكـ ﻛﻨﺎﺭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔).
  3. الله تعالى فرماتا ہے:}وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صالِحاً وَقالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ * وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَما يُلَقَّاها إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَما يُلَقَّاها إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ{. [فصلت: 33 – 35] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﻻ ﻛﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ الله ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﺋﮯ ﺍﻭﺭ نيكـ كام ﻛﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻛﮩﮯ ﻛﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﻘﯿﻨًﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ۔  (٣٤) ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯼ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔  (٣٥) ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﻮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯﺟﻮ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺑﮍﮮ ﻧﺼﯿﺒﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎ ﺳﻜﺘﺎ۔).
  4. الله تعالى كا فرمان ہے :{وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً{[فرقان: 63] (رحمن ﻛﮯ (ﺳﭽﮯ) ﺑﻨﺪﮮ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻓﺮﻭﺗﻨﯽ ﻛﮯ ساتھ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﮯ ﻋﻠﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺳﻼﻡ ﮨﮯ۔).
  5. الله تعالى فرماتا ہے :{يا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلى ما أَصابَكَ إِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ * وَلا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتالٍ فَخُورٍ * وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْواتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ{ [لقمان: 17- 19] (ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ! ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﻛﮭﻨﺎ، ﺍﭼﮭﮯ كاموں ﻛﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ، ﺑﺮﮮ كاموں ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﻧﺎ (ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ) ﻛﮧ ﯾﮧ ﺑﮍﮮ ﺗﺎﻛﯿﺪﯼ كاموں ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ (١٨) ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯﮔﺎﻝ ﻧﮧ ﭘﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﺗﺮﺍ ﻛﺮ ﻧﮧ ﭼﻞ ﻛﺴﯽ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﯿﺨﯽ ﺧﻮﺭﮮ ﻛﻮ الله تعالى ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ۔(١٩) ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺎﻧﮧ ﺭﻭﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺴﺖ ﻛﺮ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﻛﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﮯ۔).
  6. الله تعالى كا ارشاد ہے: }اتْلُ ما أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتابِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ ما تَصْنَعُونَ * وَلا تُجادِلُوا أَهْلَ الْكِتابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلهُنا وَإِلهُكُمْ واحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ{ [عنكبوت: 45 – 46] (ﺟﻮ ﻛﺘﺎﺏ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯﭘﮍﮬﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮﯾﮟ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ كچھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔(٤٦) ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ ساتھ ﺑﺤﺚ ﻭﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻋﻤﺪﮦ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتھ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﺍﻋﻼﻥ ﻛﺮ ﺩﻭ ﻛﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ،ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺒﻮﺩ ايكـ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺑﺮﺍﺩﺭ ﮨﯿﮟ۔).
  7. الله تعالى فرماتا ہے:} الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُوماتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدالَ فِي الْحَجِّ وَما تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوى وَاتَّقُونِ يا أُولِي الْأَلْبابِ}[بقره: 197] (ﺣﺞ ﻛﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﻻﺯﻡ ﻛﺮﻟﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﻞ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﻧﮯ، ﮔﻨﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﭽﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ساتھ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺗﻮﺷﮧ الله تعالى كا ﮈﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﻭ! مجھ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔).
  8. الله تعالى كا ارشاد ہے: } وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ * هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ * مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ * عُتُلٍّ بَعْدَ ذلِكَ زَنِيمٍ * أَنْ كانَ ذا مالٍ وَبَنِينَ * إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ * سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ {[قلم: 10 – 16] (ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﻛﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ كا ﺑﮭﯽ ﻛﮩﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ۔ (١١) ﺑﮯ ﻭﻗﺎﺭ، ﻛﻤﯿﻨﮧ، ﻋﯿﺐ ﮔﻮ، ﭼﻐﻞ ﺧﻮﺭ۔ (١٢) ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﻨﮯﻭﺍﻻ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ۔ (١٣) ﮔﺮﺩﻥ ﻛﺶ ﭘﮭﺮ ساتھ ﮨﯽ ﺑﮯ ﻧﺴﺐ ﮨﻮ۔ (١٤) ﺍﺱ ﻛﯽ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﻣﺎﻝ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔  (١٥) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﻮﮞ ﻛﮯ ﻗﺼﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١٦) ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺳﻮﻧﮉ (ناكـ) ﭘﺮ ﺩﺍﻍ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔).

سنت نبوى کی دلیليں:

  1. نواس بن سمعان (رضٰ اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ e سے نیکی اور گناہ کے کام کے متعلق سوال کیا تو آپe نے جواب ارشاد فرمایا کہ «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَّ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ » (مسلم) (نیکی تو اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل مین کھٹک پیدا کرے اور تجھے یہ ناگوار ہوکہ لوگ اس سے باخبر ہوں۔).
  2. ابو الدرداء t سے روايت ہے كہ نبى (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ» (ترمذى) (مومن كے ترازو ميں (يعنى كفۂ حسنات ميں قيامت كے دن) خلقِ حسن سے زياده كوئى چيز بهارى نہيں- اس ليے كہ بے حيا بدگو كو الله تعالى دشمن ركهتا ہے)-
  1. ابو ہريره (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) نے كہا: حضور r نے فرمايا كہ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» [رواه احمد] (ميں اخلاق حسنہ كى تكميل كے لئے بهيجا گيا ہوں).
  2. ابو ذَرٍّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) سے روايت ہے كہ رسول الله e نے مجهـ سے فرمايا: «اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ » [ترمذى] (ڈر الله سے يہاں كہيں ہو تو اور پيچهے كر ہر بُرائى كے ايكـ بهلائى كہ مٹا دے اس كو اور نيكـ خلقى سے لوگوں كے ساتھ مِل-).
  3. ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ » [احمد] (ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔).
  4. سَعْد بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ سے روايت ہے كہ ميں نے عائشہ رضى الله عنہا سے كہ: "يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ – يَعْنِي عَائِشَةَ – حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) قَالَتْ: «أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) كَانَ الْقُرْآنَ» [مسلم] (اے مسلمانوں كى ماں مجهے رسول اللهe كے اخلاق سے خبر ديجئے؟ انهوں نے فرمايا: كيا تم نے قرآن نہيں پڑها؟ ميں نے كہا: كيوں نہيں- انهوں نے فرمايا: رسول اللهe كا خلق وہى تها جس كا قرآن ميں حكم ہے-).
  5. حضرت عائشہ رضى الله عنہا فرماتى ہيں كہ ميں نے رسول اللهe كو يہ فرماتے ہوئے سنا كہ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ» [ابو داود] (مومن آدمى اپنے اچهے اخلاق كى بدولت اس شخص كا سا درجہ حاصل كر ليتا ہے جو رات بهر كهڑے ہو كر عبادت كرے اور دن كو روزه ركهے-).
  6. جابر (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) سے روايت ہے كہ رسولِ الله ( صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) نے فرمايا: «إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالمُتَشَدِّقُونَ وَالمُتَفَيْهِقُونَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ وَالمُتَشَدِّقُونَ فَمَا المُتَفَيْهِقُونَ؟ قَالَ: «المُتَكَبِّرُونَ» [ترمذى] (تم ميں سے بہت پيارے ميرے نزديكـ اور بہت قريب بيٹهنے ميں ميرے نزديكـ قيامت كے دن وه لوگ ہيں جن كے اخلاق اچهے ہيں اور بہ تحقيق كہ تم ميں سے دشمن زياده ميرے اور دور تر مجھ سے قيامت كے دن بڑے باتونى بڑمارنے والے دہن دراز ہيں، عرض كى لوگوں نے كہ يا رسول الله ہم نے معلوم كيا ثرثارين اور متشدقين كيا ہيں، ليكن متفيہقون كون ہيں؟ رسول الله e نے فرمايا: تكبّر سے باتيں كرنے والے-).

تیسرا: موضوع:

بلا شبہ دینِ اسلام میں عظمت وشان کے کئى وجوہات ہیں- ان بڑائيوں میں سے یہ ہے کہ یہ اخلاق اور قانون والا دین ہے، جو اعلی اقدار وروایات اور شاندار انسانیت کے نمونے کو جمع کرتا ہے جو معيارى، بلند اور اچھے اخلاق كى مرقع كشى كرتى ہيں- اس دین کی عظمت وبڑائى اس بات سے بهى ظاہر ہے کہ یہ دین زنگى کے تمام پہلوؤں کو شامل اور یکجا کرتا ہے- کوئي بھى ایسا شرف وفضیلت کا کام نہیں ہے جس کی دعوت یہ دین نہ دیتا ہو، اور اس کے کرنے پر اکسایا نہ ہو، اور ساتھ ہی کوئى ایسى برائی نہیں ہے جس سے ہوشیار رہنے اور اس سے دور رہنے کا حکم نہ دیا ہو۔

وہ شرف وفضیلت جس کی یہ دین دعوت دیتا ہے، اور ان اخلاق سے آراستہ ہونے کی جانب رغبت دلاتا ہے وہ بلند اخلاق سے آراستہ ہونا ہے- جیسے ، صبر وتحمل ، بردباری، نرمي، سچائي، امانتداری، رحمت ووفاداري، جود وسخا، شرم وحیا، عجز وانکساری، بہادری، عدل وانصاف، ہمدردی ، دوسروں کي ضرورتوں کو پوری کرنا، نگاہ کی حفاظت کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، خندہ پیشانی، خوش گفتارى، اچھا گمان، بڑوں کی عزت، لوگوں کے درمیان صلح وصفائي، ایثار وقربانی، دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا، اور اسکے علاوہ دیگر بلند اخلاق ہیں۔ اس بات كى طرف قرآن مجيد كا اشاره ہے: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا} [اسراء: 9] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺟﻮ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺍﺟﺮ ﮨﮯ۔).

اس سلسلے میں کتاب وسنت نبوىe میں بہت سے نصوص وارد ہیں- ان میں سے اللہ تعالی کا یہ ارشاد اپنے رسول e کو حکم دیتے ہوئے: }خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ{[اعراف: 199]. (ﺁﭖ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ نيكـ كام ﻛﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ايكـ ﻛﻨﺎﺭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔). الله تعالى كا فرمان ہے:{وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا}[بقره: 83] (ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ)- الله تعالى فرماتا ہے:{لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاس وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا}[نساء: 114] (ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﻛﺜﺮ ﺧﻔﯿﮧ ﻣﺸﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﺎﮞ! ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﯿﺮﺍﺕ كا ﯾﺎ نيكـ ﺑﺎﺕ كا ﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﻠﺢ ﻛﺮﺍﻧﮯ كا ﺣﻜﻢ ﻛﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺻﺮﻑ الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﯾﮧ كام ﻛﺮﮮ ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺛﻮﺍﺏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔) اس سلسلے سے متعلق قرآن كريم كى اور بہت سی آیتيں ہیں- جو بھی شخص قرآن كريم کی آیتوں پر غور وفکر کریگا اس پر یہ بات ظاہر ہوجائگی کہ بہت سی آیتيں ہیں جو بلند اخلاق سے آراستگی کی دعوت دیتی ہیں- یہ اس لئے کہ اخلاق ہى وہ شرعى ترازو ہے جو انسان کو مہذب بناتا ہے، اور اسے کمال کی منزل تک پہونچاتا ہے۔

حدیث نبوى e نے انسانى زندگى میں اخلاق کی اہمیت پر زور دیا ہے- رسول الله e كى حديثوں ميں بتایا گيا ہے کہ ان اخلاق کریمہ سے آراستہ ہونے والا شخص بہت بڑے اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔ مثال كے طور پر رسول الله (صلَّى الله عليه وسلَّم) فرماتا ہے: « الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ» (مسلم) (نیکی تو اچھے اخلاق ہے). "البرّ” سے مراد خير وبهلائى كا جامع نام ہے- رسول الله (صلَّى الله عليه وسلَّم ) كا ارشاد ہے: «مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ في الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ» (ميزان ميں حسنِ خلق سے كوئى شئے بهارى زياده نہيں)- دوسرى روايت ہے: ابو الدرداء t سے روايت ہے كہ نبى (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ» (ترمذى) (مومن كے ترازو ميں (يعنى كفۂ حسنات ميں قيامت كے دن) خلقِ حسن سے زياده كوئى چيز بهارى نہيں- اس ليے كہ بے حيا بدگو كو الله تعالى دشمن ركهتا ہے)-

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اچهے اور بلند اخلاق پر بہت زیادہ زور دیتے تهے اور اس کی طرف رغبت دلاتے تهے ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ » [احمد] (ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔).

رسول الله (صلى الله عليه وسلم) سے پوچها گيا: أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا”(ابن ماجہ) (كون سا مومن افضل ہے؟ آپ e نے فرمايا: "جس كا اخلاق زياده اچها ہو”)- كسى نے رسول الله e سے پوچها كہ: كونسى چيز لوگوں كو جنت داخل كرتے ہے؟ رسول الله e نے فرمايا: « تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الخُلُقِ» (سنن الترمذي) (الله سے ڈرنا اور حسن خلق)- رسول الله e نے مكارم اخلاق كو اپنے سے محبت كے اسباب ميں سے ايكـ سبب بنايا ہے- اس سلسلے ميں آپ e فرماتا ہے: « إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَىَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّى مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلاَقًا” (ترمذى) (تم ميں سے بہت پيارے ميرے نزديكـ اور بہت قريب بيٹهنے ميں ميرے نزديكـ قيامت كے دن وه لوگ ہيں جن كے اخلاق اچهے ہيں).

اسلام میں اخلاق کو ایک بہت ہی اعلی مقام حاصل ہے، اور یہی دین اسلام کا خلاصہ اور مغز ہے- رسول اللہ e سے کسي نے پوچھا کہ دین کیا ہے؟ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن الخلق” (اچھے اخلاق) (بروايت مسلم)۔ بلکہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر بہت زیادہ توجہ دى ہے یہاں تک کہ آپe نے اعلان کیا کہ آپe کی بعثت اور رسالت کا پہلا مقصد بلند واعلی اخلاق کی تکمیل ہے۔ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) نے فرماتا ہے: (إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مكارم الأَخْلاقِ) [بروايت بخارى] (مجهے مكارم اخلاق كى تكميل كے لئے بهيجا گيا ہے)- رسالت ملنے سے پہلے بھی آپ صل اللہ علیہ وسلم کو لوگ سچے اور امین کہا کرتے تھے- بلا شبہ رسول الله e اچھے اخلاق کا اعلی نمونہ تھے- اسى لئے پروردگار نے انہیں ان اوصاف سے متصف فرمایا ہے: {وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ{[قلم: 4] (ﺍﻭﺭ بيشكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔). یہ اللہ کي جانب سے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق سے متعلق ایک عظیم الشان گواہي ہے- آپ صل اللہ علیہ وسلم دنیا کی ساری مخلوقات میں اخلاق کے سب سے اعلی مقام پر فائز تھے، کیونکہ آپ e قرآن كريم کو سب سے زیادہ محفوظ کرنے والے تھے، اور اس کے اوامر کو بجالانے والے اور اسکی منہیات سے اجتناب کرنے والے تھے- آپ صل اللہ علیہ وسلم كى شخصيت میں تمام شرف ومنزلت جمع ہوگئيں- اس بات کی تاکید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے جب ان سے کسى نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کے اخلاق كريمہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمايا: کہ "آپ صل اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تها۔”

قرآنى اخلاق کى بجا آورى میں رسول صل اللہ علیہ وسلم ایک عملي نمونہ تھے- آپ e لوگوں میں سب سے زیادہ بلند اخلاق تھے، سب سے زیادہ شفقت ومحبت رکھنے والے، عفو ودرگزر کرنے والے سب سے زیادہ بردبار، بات میں سب سے زیادہ سـچے ، وعدہ کے سب سے زیادہ پکے اور اسے پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ جود وسخا کرنے والے تھے- باوجود کہ آپ سید البشر تھے، آپ صل اللہ علیہ وسلم عاجزى وانکسارى کی مثال تھے- جو آپ e کو دیکھتا وہ مرعوب ہو جاتا اور جو آپ e سے ملتا وہ آپ e سے مانوس ہو جاتا۔ أمُ المؤمنين حضرت خديجہ (رضي الله عنہا) نے آپ e كى صفت كے بارے ميں آپ e سے كہا: "إنك لتصل الرحم، وتحمل الكلَّ، وتكسب المعدوم، وتعين على نوائب الحق ” (ناتے كو جوڑتے ہيں بوجھ اٹهاتے ہيں (يعنى عيال اور اطفال اور يتيم اور مسكين كے ساتھ حسن سلوكـ كرتے ہيں ان كا بار اٹهاتے ہيں) اور نادار كے ليے كمائى كرتے ہيں اور خاطر دارى كرتے ہيں مہمان كى اور سچى آفتوں ميں (جيسے كوئى قرضدار ہو گيا يا مفلس ہو گيا يا اور كوئى تباہى آئى) مدد كرتے ہو لوگوں كى-)- رسول الله e كى صفت كے بارے ميں الله تعالى فرماتا ہے:{ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ }[آل عمران: 159] (الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﻛﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺁﭖ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﺮﻡ ﺩﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺑﺪ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺖ ﺩﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﭖ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﭼﮭﭧ ﺟﺎﺗﮯ، ﺳﻮ ﺁﭖ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ كام كا ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﯾﮟ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺁﭖ كا ﭘﺨﺘﮧ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﻛﺮﯾﮟ، ﺑﮯ شكـ الله تعالى ﺗﻮ كل ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) انہی جیسے اعلی اخلاق کے ذریعہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کیلئے لوگوں کے دلوں اور عقلوں پر قابو پانا ممکن ہو سکا۔

نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے صابہ کرام کو بھی اچهے اور بلند اخلاق کی تربیت دى اور انہیں اس بلند اخلاق سے آراستہ ہونے اور اس کے اہتمام کرنے کا حکم دیا- جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا : "اتق الله حيثما كنت ، وأتبع السيئة الحسنة تمحها ، وخالق الناس بخلق حسن” (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور برائی کے بعد نیکى کرو جو اسے مٹادیگی، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ) تو صحابہ كرام نے عفو ودرگزر اور احسان کو سیکھا- عفو درگزر اور بردباری کے ذریعہ عصبیت اور شدت وغضب سے چھٹکارا پایا، اور انہوں نے عمدہ اخلاق اچھے معاملات اور فرد اور جماعت کے ساتھ نوازش وکرم کی شاندار نمونہ پیش کیا- جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کیا اور مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائى چارہ قائم کیا تو انصار اپنے مہاجر بھائى کو اپنے مال کے آدھے کا شریک بنا رہے تھے- انسانى اخلاق کی بنیاد نوازش وکرم پر ہے- قرآن کریم نے شاندار نمونے پیش کئے ہیں جو افراد کی حد تک ہی منحصر نہیں رہا بلکہ وہ تمام مسلمانوں کی عام صفت ہوگئى ہے۔ ارشاد بارى ہے:{ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ}[حشر: 9] (ﺑﻠﻜﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﻮ ﺧﻮﺩ ﻛﻮ ﻛﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺨﺖ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ).

اسى لئے وہ لوگ اس اخلاق کے ذریعہ قوموں پر حکومت کرتے تھے- جب تک وہ لوگ اس بلند اخلاق پر قائم تھے لوگوں کی نگاہوں کے مرکز ، آڈیل اور نمونہ بنے ہوئے تھے، جب لوگ اچھا اخلاق اور حسن معاملہ دیکھتے تھے تو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے تھے، اور جب اس سیدھے راستہ سے منہ موڑ لیا اور لوگوں کے اخلاق بگڑ گئے تو قیادت ضائع ہو گئى ، قدر وقیمت ختم ہو گئى اور حقائق ہی بدل گئے- امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہى سچى بات کہی ہے: (اس امت کے آخرى فرد کی اصلاح اسى کے ذریعہ ہوسکتى ہے جس سے پہلے کی اصلاح ہوچوکى ہے).

 اچھے اخلاق ہی معاشروں کو گراوٹ سے بچاتے ہیں، اور انارکى اور بدامنى سے اس کی حفاظت کرتے ہیں- امت کی سلامتی اور بنیاد کی پختگى اور اسکے مقام کى بلندی اور نسلوں کی عزت اچھے اخلاق سے وابستگی کے ہی ذریعہ ہے- جیساکہ گراوٹ اور برائی کا عام ہونا اچھے اخلاق اور اچھے کام سے دوری کا نتیجہ ہے۔

صَـلاحُ أَمـــــــــــــرِكَ لِـلأَخـلاقِ مَرجِـعُـهُ

آپ کے امور کى بہتری کا انحصار اخلاق پر ہے

 

فَقَـوِّمِ النَـفـسَ بِـالأَخــــــــــــلاقِ تَستَـقِـمِ

تو تم نفس کو اخلاق کے ذریعہ درست کرو تو تم ثابت قدم رہو گے

 

وَالنَفسُ مِن خَيرِهـا فـي خَيـــــرِ عافِيَـةٍ

نفس کی بھلائى میں خیریت وعافیت ہے

 

وَالنَفسُ مِن شَرِّهـا فـي مَرتَـعٍ وَخِـــــمِ

نفس کی برائى میں نقصان اور بربادی ہے)۔

اسى لئے اخلاقى گراوٹ سے ہوشیار کیا گیا ہے۔ سَهْل بْنِ سَعْدٍ سَّاعِدِى (رضي الله عنہ) سے روايت ہے كہ رسول الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فرمايا: « إِنَّ اللَّهَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا » (المستدرك للحاكم) (يقينًا الله تعالى سخى ہے اور سخاوت اسے پسند ہے، اسے اچهے اور بہترين اخلاق پسند ہے اور اسے بد اخلاق سے نفرت ہے)- "السَّفْسَافُ” سے مراد ہے: برى بات ہے اور ہر وه چيز ہے جو مكارم اخلاق كے منافى ہو-

اخلاق ہى کے ذریعہ قوميں زندہ رہتی ہیں اور اسکے آثار ہمیشہ باقی رہتے ہیں- اخلاق کے زوال اور گراوٹ کی وجہ سے قوميں نیست ونابود ہوجاتی ہیں- بہت سى تہذیبیں اپنی اقتصادی یا فوجى کمزوری کى وجہ سے نہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ صرف اپنے اخلاقى پستی کی وجہ سے ختم ہوگئيں۔ حافظ ابراہيم اپنے اس شعر ميں كہتے ہيں:

وَإِنَّمَا الأُمَمُ الأَخْلاقُ مَا بَقِيَتْ

قوميں اخلاق سے باقى رہتى ہيں

فَإِنْ هُمُ ذَهَبَتْ أَخْلاقُهُمْ ذَهَبُوا

اور جب اخلاق چلے جاتے ہيں تو وه بھى چلى جاتى ہيں

جب ہم قرآن وسنت میں عبادات پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا سب سے اہم مقصد مسلمانوں کے سلوک اور انکے اخلاق کی درستگى ہے- اسلام میں جو بھى عبادتیں دى گئيں ہیں، جیسے نماز روزہ زکات حج سب کا اثر افراد کے سلوک میں اخلاقی بلندی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، بلکہ یہ اثر فرد سے تجاوز کر کے معاشرے تک پہونچتا ہے- اسلام کسی کھوکھلے رسوم ورواج کا نام نہیں ہے جو مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں اور حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے کہ نمازى نماز پڑھـ کر نکلیں تاکہ ملاوٹ کریں اسٹوک کریں اور پڑوسیوں کو تکلیف دیں – تمام مذاہب میں عبادت کا حکم صرف انسانى ترقى اور اخلاقی بلندی کیلئے دیا گیا ہے- نماز کی فرضیت اور اسکے قائم کرنے کی حکمت كى وضاحت الله تعالى اس آيت كريمہ فرماتا ہے:}اتْلُ ما أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتابِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ ما تَصْنَعُون{[عنكبوت: 45] (ﺟﻮ ﻛﺘﺎﺏ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮﯾﮟ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ كچھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔). شر اور برائى سے دوری ، برى باتوں اور برے کاموں سے اجتناب ہی نماز کی حقیقت ہے۔ ابْن عَبَّاسٍ (رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا) سے مروى ہے كہ رسول الله (صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم) نے فرمايا ہے كہ: « قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّمَا أَتَقَبَّلُ الصَّلاةَ مِمَّنْ تَوَاضَعَ بِهَا لِعَظَمَتِي، وَلَمْ يَسْتَطِلْ عَلَى خَلْقِي، وَلَمْ يَبِتْ مُصِرًّا عَلَى مَعْصِيَتِي، وَقَطَعَ نَهَارَهُ فِي ذِكْرِي، وَرَحِمَ الْمِسْكِينَ، وَابن السَّبِيلِ وَالأَرْمَلَةَ، وَرَحِمَ الْمُصَابَ » ]رواه البزار[ (الله تعالى نے ارشاد فرمايا: يقينًا ميں اس شخص كى نماز قبول كرتا ہوں جو نماز كے ذريعے ميرى شان وشوكت كے سامنے سر تسليم خم كرتا ہے، اور ميرى مخلوق پر دست درازى نہيں كرتا، اور ميرى نافرمانى پر مصر ہو كر رات نہيں گزارتا، اپنا دن ميرى ياد ميں گزارتا ہے، اور مسكين، مسافر، بيوه اور مصيبت زده پر مہربانى اور شفقت كرتا ہے) (بروايت بزار)- حضرت عبد الله بن مسعود رضى الله عنہما سے مروى ہے كہ: "جس شخص كى نماز اسكو بهلائى كا حكم نہيں ديتى اور برائى سے نہيں روكتى تو وه الله تعالى سے مزيد دور ہى ہوتا ہے”. (بروايت طبرانى)- جسکى نماز اسے قول وفعل کے شر اور برائی سے دور نہیں کرتی ہے تو گویا کہ اسکى نماز کا سب سے اہم مقصد پورا نہیں ہوا۔

اسى طرح تمام عبادات جیسے نماز روزہ زکات حج ، سبھی عبادتیں نفس کی طہارت وپاکى اور اس کے ذریعہ اچھے اخلاق کی حصول کیلئے فرض کى گئى ہیں۔ الله تعالى زكات سے متعلق فرماتا ہے:{خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ}[توبه:103] (ﺁﭖ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺪﻗﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺠﺌﮯ، ﺟﺲ ﻛﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﻥ ﻛﻮ پاكـ ﺻﺎﻑ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎ ﻛﯿﺠﺌﮯ، ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺁﭖ ﻛﯽ ﺩﻋﺎ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺟﺐ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺧﻮﺏ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔). حضرت ابوذَر رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے ارشاد فرمایا: « تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ تُكْتَبُ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الشَّوْكَةَ وَالْحَجَرَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الضَّالَّ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ » ]بزار[ (تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی کیلئے مسکرانا صدقہ ہے، تمہارا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے، تمہارا کسی کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، پتھر کانٹا ہڈی (وغیرہ) کا راستہ سے ہٹا دینا صدقہ ہے اور کسی بھولے ہوئے کو راستہ بتانا صدقہ ہے-)

روزہ فرض عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے جسے اللہ تعالی نے اس لئے فرض کیا تاکہ بندہ متقى ہو سکے – اللہ تعالی روزے کا جو فائدہ اور مقصد چاہتا ہے وہ اللہ سے تقوی ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}[بقره: 183] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﻛﮭﻨﺎ ﻓﺮﺽ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﻛﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ، ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ تقوى ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﻭ۔). روزے سے مسلم کا ارادہ مضبوط ہوتا ہے – روزه اخلاق کو سنوارتا اور شہوت پر قابو پاتا ہے۔ ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ رسول اللهe نے فرمايا: « الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ»] بخارى[ (روزه دوزخ سے بچنے كے لئے ايكـ ڈهال ہے، اس لئے (روزه دار) نہ فحش باتيں كرے اور نہ جہالت كى باتيں اور اگر كوئى شخص اس سے لڑے يا اسے گالى دے تو اس كا جواب صرف يہ ہونا چاہئے كہ ميں روزه دار ہوں، (يہ الفاظ) دو مرتبہ (كہہ دے)). مطلب یہ ہے کہ روزہ مسلمان كو برے اخلاق اور برائى سے بچاتا ہے- ضرورى ہے کہ روزے کا مسلم کے سلوک اور اخلاق کی درستگي پر اثر ہو۔

فريضۂ حج كے بارے ميں الله تعالى فرماتا ہے:{الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ } [بقره: 197] (ﺣﺞ ﻛﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﻻﺯﻡ ﻛﺮ ﻟﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﻞ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﻧﮯ، ﮔﻨﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﭽﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ الله تعالى ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ساتھ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺗﻮﺷﮧ الله تعالى كا ﮈﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﻭ! مجھ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔). ابو ہريره نے كہا كہ رسول اللهؐ نے فرمايا كہ: « مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ »،]مسلم[ (جو اس گهر ميں آيا اور بيہوده شہوت رانى كى باتيں نہ كيں، نہ گناه كيا وه ايسا پهرا كہ گويا اسے ماں نے ابهى جنا (يعنى گناہوں سے پاكـ ہو گيا-).

ضرورى ہے کہ افراد اور معاشرے پر عبادت کا مثبت اثر ہو- اگر یہ عبادت انسان کے اخلاق اور اسکے سلوک کی درستگی میں اثر انداز نہیں ہوتی ہے تو آخرت میں ایسى عبادت کا کوئى فائدہ نہیں ہے- اس لئے کہ برے اخلاق اسکی عبادت اور نیکی کو ایسے ہی کھا جائگى جیسى کہ آگ لکڑي کو کھا جاتی ہے۔ ابو ہريره t سے مروى ہے كہ رسولِ خدا e نے فرمايا: « أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ»؟ قَالُوا: المُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): « المُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ» ]ترمذى[ (بهلا خبر دو مجهے كہ مفلس كون ہے، صحابہ نے عرض كى كہ مفلس ہمارى اصطلاح ميں يا رسول الله وه ہے كہ درہم ومتاع خانگى نہ ركهتا ہو- رسولِ خداe نے فرمايا: مفلس ميرى امت ميں وه ہے كہ قيامت كے دن روزه نماز اور زكوة ليكر آدمى اس صورت سے آئے گا كہ كسى كو بُرا كہا ہو اور كسى كو گالى دى ہو اور كسى كا مال كها گيا اور كسى كا خون بہايا گيا ہو اور كسى كو مارا ہو، پس اس كو بٹها ديں بدلہ ميں ديويں مظلوموں كو نيكياں اس كى پهر اگر نيكياں اس كى تمام ہو گئيں اس سے پيشتر كہ بدلہ پورا ہو اس كے ظلموں كا تو ليے جا ديں گناه مظلوموں كے اور ركھ ديے جا ديں اس پر اور ڈال ديا جا دے دوزخ ميں-) رسول الله e سے دريافت كيا گيا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي النَّارِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي الْجَنَّةِ»]احمد[ (یا رسول اللہ فلاں عورت کا زیادہ نماز، روزے اور کثرت صدقہ وخیرات کی وجہ سے بڑا چرچا ہے یعنی لوگ کہتے ہیں کہ وہ عورت بہت زیادہ عبادت کرتی ہے اور کثرت سے صدقہ وخیرات کرتی رہتی ہے لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ "وہ دوزخ میں جائے گی۔ اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ فلاں عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت کم روزے رکھتی ہے بہت کم صدقہ دیتی ہے اور بہت کم نماز پڑھتی ہے اور حقیقت میں اس کا صدقہ وخیرات قروط کے چند ٹکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے ہمسائیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: وہ عورت جنت جائے گی۔).

اچھے اخلاق تمام مخلوقات کو شامل ہے- اس میں مسلم یا کسی غیر کی تفریق نہیں ہے- انسانیت میں سبھی بھائى بھائی ہیں۔ اسلئے الله تعالى فرماتا ہے: {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا} [اسراء:70] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﺁﺩﻡ ﻛﻮ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺸﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﯼ ﻛﯽ ﺳﻮﺍﺭﯾﺎﮞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﯽ ﺭﻭﺯﯾﺎﮞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔)- جب رسول الله e كسى شخص كے جنازے كے احترام كرنے كے لئے كهڑا ہو گئے اور صحابہ كرام نے كہا: يہ ايكـ يہودى كا جنازه ہے- تو رسول الله e نے فرمايا: «أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟» ]بروايت بخارى[ (كيا يہ نفس نہيں ہے؟)- الله تعالى فرماتا ہے: {وَلا تُجادِلُوا أَهْلَ الْكِتابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلهُنا وَإِلهُكُمْ واحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ{[عنكبوت: 46] (ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ ساتھ ﺑﺤﺚ ﻭﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻋﻤﺪﮦ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتھ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﺍﻋﻼﻥ ﻛﺮ ﺩﻭ ﻛﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺒﻮﺩ ايكـ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺑﺮﺍﺩﺭ ﮨﯿﮟ۔). مجاہد سے روايت ہے كہ عبد الله بن عمرو (رضى الله عنہما) كے ليے ان كے گهر ميں ايكـ بكرى ذبح كى گئى پهر جب وه آئے تو كہا كيا تم نے ہمارے ہمسايہ يہودى كو ہديہ بهيجا؟ ميں نے آنحضرتe كو كہ فرماتے تهے سُنا: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» ]ترمذى[ (جبرائيل عليہ السلام مجهے ہميشہ پڑوسيوں كے ساتهـ نيكـ سلوكـ كرنے كى تاكيد كرتے رہے يہاں تكـ كہ ميں نے گمان كيا كہ وه اس كو ميراث دلا ديں گےـ)

اچھے اخلاق صرف انسانوں تک ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اسكے دائرے میں حیوانات بھي شامل ہیں- اللہ تعالی نے کتے کو پانى پلانے کی وجہ سے ایک شخص کو جنت میں داخل فرمایا۔ ابو ہريره نے بيان كيا، وه رسول كريمe سے نقل كرتے ہيں- رسول الله e نے فرمايا: «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»]بخارى[ (كہ ايكـ شخص نے ايكـ كتے كو ديكها، جو پياس كى وجہ سے گيلى مٹى كها رہا تها- تو اس شخص نے اپنا موزه ليا اور اس سے پانى بهر كر پلانے لگا، حتى كہ اس كو خوب سيراب كر ديا- الله نے اس شخص كے اس كام كى قدر كى اور اسے جنت ميں داخل كر ديا-). اسكے برعكس ايكـ بلى كى وجہ سے ايكـ عورت كو عذاب ہوا- عبد الله بن عمر (رضى الله عنہما) نے بيان كيا كہ رسول الله e نے فرمايا: « عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»]بروايت بخارى[ (ايكـ بلى كى وجہ سے ايكـ عورت كو عذاب ہوا جسے اس نے اتنى دير تكـ باندهے ركها تها كہ وه بهوكـ كى وجہ سے مر گئى- اور وه عورت اسى وجہ سے دوزخ ميں داخل ہوئى- نبى كريمe نے فرمايا كہ الله تعالى نے اس سے فرمايا تها—- اور الله تعالى ہى زياده جاننے والا ہے—- كہ جب تو نے اس بلى كو باندهے ركها اس وقت تكـ نہ تو نے اسے كچھ كهلايا نہ پلايا اور نہ چهوڑا كہ وه زمين كے كيڑے مكوڑے ہى كها كر اپنا پيٹ بهر ليتى-).

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اخلاق اور معاشرے میں ترقي کریں تو ضرورى ہے کہ اچھے آڈیل اور نمونے کی پیروی کریں، اسلئے كہ اخلاق کے بنانے میں آڈیل اور نمونے کا بنیادی رول ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے: } لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا]{احزاب: 21[ (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ الله ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺪﮦ ﻧﻤﻮﻧﮧ (ﻣﻮﺟﻮﺩ) ﮨﮯ، ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﻛﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻜﺜﺮﺕ الله تعالى ﻛﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) بيشكـ باپ اپنی اولاد کیلئے نمونہ ہے- رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ بچہ اپنی صاف فطرت پر پیدا ہوتا ہے، جس پر اللہ تعالی نے ہرانسان کو پیدا کیا، پھر آڈیل اور نمونے آتے ہیں جو اسے اچھے یا برے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ … » (کوئی بچہ ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہیں ہوتا؛ لیکن ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔) پهر ابو ہريره (رضى الله عنہ) يہ آيت كريمہ پڑهتے ہيں:{فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ القَيِّمُ}[روم: 30] (ﭘﺲ ﺁﭖ يكـ ﺳﻮ ﮨﻮ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺩﯾﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ۔ الله تعالى ﻛﯽ ﻭﮦ ﻓﻄﺮﺕ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ، الله تعالى ﻛﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻛﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ ﻟﯿﻜﻦ ﺍﻛﺜﺮ ﻟﻮﮒ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ۔)

اسي طرح استاد اخلاق اور اچھائي میں اپنے شاگردوں کیلئے نمونہ ہے- کیوں کہ اسٹوڈنٹ ان سے اخلاق سیکھتے ہیں اور انکی پيروى کرتے ہیں- ایک دن امام شافعى ہارون الرشيد کے پاس گئے اور انکے ساتھ سراج الخادم تھے، تو انہیں ابو عبد الصمد کے پاس بیٹھا دیا جو کہ ہارون کے بیٹے کے استاد تھے- سراج نے امام شافعي سے کہا: اے ابو عبد اللہ یہ امیر المؤمنین کے بچے ہیں، اور یہ انکے استاد ہیں، تو آپ انہیں بچوں کى رعايت کریں، تو امام شافعي ابو عبد الصمد کے پاس گئے اور ان سے کہا: امیر المؤمنین کے بچوں کی اصلاح کی شروعات سے پہلے آپ اپنے نفس کی اصلاح کریں، اسلئے کہ انکی آنکھیں آپ کی آنکھ سے وابستہ ہے، تو جسے آپ اچھا سمجھیں گے انکے نزدیک وہ اچھا ہوگا، اور جسے آپ چھوڑ دینگے وہ کام انکے نزدیک برا ہوگا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اچھے اخلاق صرف افراد کی حد تک محدود نہیں ہیں، یہاں فردی اخلاق ہیں جسکا فرد اوامر اور نواہی میں اہتمام کرتا ہے- خانداني اخلاق ہے جیسے میاں بیوي کے درمیان، ماں باپ اور اولاد کے درمیان ، رشتہ داروں کے درمیان وغیرہ، اسی طرح معاشرتى اخلاق بھی ہے جسے خرید وفروخت میں، پڑوسیوں اور ساتھ میں کام کرنے والے دوستوں میں،۔۔۔ وغیرہ- ملکى اخلاق ہے جو ملکوں کے درمیان آپس میں ہوتا ہے، اور امن وسلامتى اور جنگ کے اخلاق بھی ہیں۔

انسان کے اچھے اخلاق میں مدد گار امور ميں سے اللہ تعالی کیلئے اخلاص ہے، پھر اچھے اخلاق کے لئے دعا کرنا ہے، نفس اور شہوتوں کے ساتھ مجاھدہ ہے اور ہمیشہ نفس کا محاسبہ ہے- اسى كے ساتهـ ساتهـ اس بات پر نظر ركهنا ضرورى ہے کہ برے اخلاق کا انجام کیا ہے اور فرد اور معاشرے پر اسكے کے منفى اثرات ہیں۔