:

وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے اور شہید ہونے کا مقام ومرتبہ

   ان دنوں مصری عوام اپنے ایک تاریخی دن  کا جشن منا رہی ہے جس میں اللہ کریم نے مصر کو اپنی سرزمین اورعزت و وقار کو واپس لوٹانے میں  فتح و کامیابی سے سرفراز فرمایا تھا ، یہ 6 اکتوبر 1973میلادی بمطابق 10 رمضان 1393ہجری  کی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور فتح کا جشن ہے جس میں مصری فوج نے بہادری، سرفروشی اور اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنے کی داستانیں رقم کیں اور  پوری دنیا نے مصری فوج کے اللہ پر ایمان اور اس  کی مدد پر بھروسے ، اور اپنے ہدف و مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اس کےقوی عزم و ارادے کا مشاہدہ کیا ۔

   جب اہداف و مقاصد بلند ہوتے ہیں تو اس کے لئے قربانیاں بھی بڑی قیمتی دینی پڑتی ہیں اور اللہ کی راہ میں حصول ِشہادت کے لئے اپنی جان کا  نذرانہ پیش کرنے سے بڑھ  کرکوئی چیز قیمتی  نہیں ہو سکتی ، آدمی اپنے دین ، اپنے وطن اور اپنی  عزت و ناموس کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کو  قربان کر دیتا ہے تاکہ وہ  اللہ تعالی کے ہاں شہادت کے بلند ترین مرتبہ پر  فائز ہو سکے ۔

   شہادت ایک ربانی عطیہ اور خداوندی انعام ہے جس سے  اللہ کریم انبیاء اور صدیقین کے بعد اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین لوگوں کو نوازتا ہے ، ارشاد خداوندی ہے : {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} "اور جو بھی اللہ تعالی کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے ، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا ہے ، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ ، یہ بہترین رفیق ہیں "۔ اللہ  تعالی کا کسی انسان کو شہادت کے مرتبہ پر فائز کرنے کے لئے منتخب کر لینا  اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی اس انسان سے راضی ہے ، اور اس مقام و مرتبہ سے بڑھ کر اور کون سا مقام و مرتبہ ہو سکتا ہے ، اللہ کریم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : {وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ} "اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے "۔ شہید اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے، آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی تمام تر خواہشات اور آرزؤں کو  قربان کرتے ہوئے دین اور وطن کی خاطر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے ۔

   شہید  کو یہ بلند مقام و مرتبہ مبارک ہو ، اس نے نفع بخش سَودا کیا ہے ، اس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: {إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ} "بلاشبہ اللہ تعالی نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی ۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پس وہ قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں ، اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں "۔ شہید نے کتنا عمدہ سودا کیا ہے جس کی جزا جنت  ہے ، حدیث پاک میں آیا ہے کہ ام ربیع بنت براء جو کہ حارثہ بن سراقہ کی ماں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا : اے اللہ کے رسول ، کیا آپ مجھے حارثہ کے بارے میں خبر نہیں دیں گے ؟ حارثہ رضی اللہ عنہ  بدر کے دن کسی نامعلوم تیر انداز کے تیرے لگنے سے شہید ہو گئے ، اگر و ہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی ورنہ میں اس پر خوب آہ و بکا کروں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے حارثہ کی ماں ، جنت میں کئی مقامات ہیں اور تیرے بیٹے کو فردوس الاعلی میں مقام نصیب ہوا ہے "۔

   حقیقی شہید وہ ہے جو اللہ کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے اور اللہ کے دین کی سربلندی ، اپنے وطن کے دفاع اور اس کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لئے اپنی جان تک قربان کردیتا ہے ، ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : ( اے اللہ کے رسول ) ایک آدمی مالِ غنیمت کے لئے لڑتا ہے ، اور ایک آدمی شہرت کے لئے لڑتا ہے اور ایک آدمی اس لئے لڑتا ہے تاکہ اس کی بہادری کے چرچے ہوں ، تو اِن میں سے اللہ کی راہ میں کون لڑ رہا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس لئے لڑتا ہے تاکہ اللہ کادین ہی سربلند ہو تو وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا ہے”۔

   اسی طرح حقیقی شہید وہ ہے جو ہر قسم کے گھٹیا پن کو ناپسند کرتا  ہے ، ذلت و رسوائی کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور اپنے مال و متاع پر ظلم و زیادتی کرنے کی کوشش کر نے والے ہر شخص سے مزاحمت کرتا ہے ، ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ آپ کا کیا خیال ہے  اگر  کوئی شخص آ کر میرا مال چھیننا چاہے ؟  آپ نے فرمایا : تم اپنا مال اسے نہ  دو،  اس نے عرض کی: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ مجھ سے لڑائی کرے؟  آپ نے فرمايا: تم بھی اس سے لڑائی کرو ، اس نے عرض کی: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ مجھے  قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم شہید ہو، اس نے عرض کی :آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اس کو قتل کر دوں ؟  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جہنمی ہے ۔

  اسی طرح حقیقی شہید وہ بھی ہے جو اپنے وطن ، اپنی سرزمین اور اپنی عزت و ناموس کا دفاع کرتا ہے ، ایک حقیقی مسلمان کے نزدیک وطن اور عزت و ناموس کا دفاع کرنا جان و مال اور دین کا دفاع کرنے  کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ دین کے لئے ایک وطن کا ہونا ناگزیر ہے جو اس کی حفاطت کرے ، سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا  وہ شہید ہے اور  جو شخص اپنے  اہل و عیال کا دفاع کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا  وہ شہید ہے اور جو شخص اپنے دین کا دفاع کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے "۔

  اس لئے اگر کوئی شخص  اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے دین کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے یا اپنے وطن کی سرزمین کی حفاظت اور اس پر دشمن کی سرکشی کا جواب دیتے ہوئے اپنی جان قربان کر دیتا ہے تو اس پر شہادت کے مفہوم کا اطلاق ہو گا کیونکہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے ، اور تاریخی معرکہء عبور کے شہداء مبارک باد کے مستحق ہیں جن کے پاکیزہ خون سے مصر کی پاک سرزمین سیراب ہوئی اور ان کی روحیں اللہ کریم کی بارگاہ کی طرف پرواز کرتے ہوئے اس کی خوشنودی اور ان نعمتوں کی مستحق ٹھہریں جن کا اللہ کریم نے ان سے وعدہ کر رکھا تھا ، ہم  اللہ کریم کی بارگاہ میں دست دعا دراز کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی شہادت کی موت نصیب فرمائے ۔

  اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے بہت بڑے انعامات ہیں ، ان میں سے ایک انعام یہ ہے جس کے بارے میں اللہ  تعالی نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ  شہدا ء زندہ ہے اپنے رب کے پاس رزق دیئےجاتے ہیں ، ارشاد خداوندی ہے : {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ* فَرِحِينَ بِمَا آَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ* يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ} ” جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے اپنا فضل جو انہیں دے رکھا ہے اس سے بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا  رہے ہیں ان لوگوں کی بابت جو اب تک ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے ہیں اس پر کہ انھیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اِس سے بھی کہ اللہ تعالی ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا "۔ جی ہاں وہ زندہ ہیں مردہ نہیں ہیں انہیں رزق دیا جاتا ہے اور ان کا رزق اللہ تعالی کی بارگاہ سے ملتا ہے ، وہ اللہ تعالی کی عطاکردہ نعمتوں سے خوش ہو رہے ہیں انہیں وہ جنت نصیب ہوئی ہے جس میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی کسی انسان کے  دل میں ان کا خیال گزرا ہے ، وہ اپنے آنے والے بھائیوں سے خوش ہورہے ہیں ، وہاں نہ کوئی مَلال ہے ، نہ کوئی غم ہے نہ کوئی پریشانی بلکہ وہاں تو صرف خوشیاں ، اللہ کا فضل وکرم اور نعمتیں ہیں ۔

  حضرت جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تجھے پریشان دیکھ رہا  ہو ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور وہ  اہل و عیال اور قرض چھوڑ کر گئے ہیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس بات کی  خوش خبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی ضرور اے اللہ کے رسول تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ رب العزت نے بغیر حجاب کے کبھی کسی سے کلام نہیں کیا لیکن اللہ رب العزت  نے  تمھارے والد کو زندہ کیا اور اس سے بغیر کسی  حجاب  کے براہِ راست کلام کیا ، اللہ نے فرمایا : اے بندے تو تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا  تو (تمہارے والد نے)عرض کی کہ اے میرے رب تو مجھے زندگی عطا کر  تاکہ میں دوبارہ تیرے لئے لڑوں ، اللہ رب العزت نے فرمایا: کہ میرا فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں نہیں لوٹائے جائیں گے ۔حضرت جابر  نے کہا کہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا} "جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں "۔

  اللہ تعالی نے شہداء کو  جو مقام و مرتبے عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں شہید کے لئے چھ خوبیاں ہیں، حضرت مقدام بن معدیکرِب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے ہاں شھید  کیلئے چھ خوبیاں ہیں : اس کے خون کے پہلے قطرے میں اسکو بخش دیا جاتا ہے ،جنت میں اس کا مقام اس کو دکھا دیا جاتا ہے ، عذابِ قبر سے بچا لیا جاتا ہے ، قیامت  کی بڑی ہولناکیوں سے محفوظ رہتا ہے ، اس کے سر پر ایمان کا تاج سجایا جاتا ہے، اور حور العین میں سے بہتر  بیویوں  کے  ساتھ اس کی شادی کی جاتی ہےاور اسکے عزیز و اقارب کے ستر افراد کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔

  اور شہید کی عزت و تکریم کی ایک صورت  یہ ہے کہ فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کرتے ہیں ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  احد کے دن میرے والد کو شہید ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا جبکہ ان کا مُثلَہ کر دیا گیا تھا اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا ، میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے کے لئے گیا تو  میرے ساتھیوں نے مجھے منع کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہ وبکا کرنے والی عورت کی آواز سنی تو فرمایا : ” تم کیوں رو رہی ہو ؟ مت رو ، فرشتے اس پر اپنے پروں سے سایہ کر رہے ہیں ” ۔

  شہید کا ایک انعام یہ ہے  کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے کو پہلے لمحہ ہی بغیر کسی حساب اور عذاب کے جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے ، عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ” اللہ تعالی قیامت کے دن جنت کو بلائے گا پس وہ اپنی زیب و زینت اور آرائش و ستائش کے حاضر ہو گی ، اللہ تعالی فرمائے گا : میرے وہ بندے کہاں ہیں جو میری راہ میں لڑے اور میری راہ میں قتل کر دیئے گئے اور انہیں تکلیفیں پہنچائی گئیں اور انہوں نے میری راہ میں جہاد کیا ،  ( انہیں حکم ہو گا کہ ) جنت میں داخل ہو جاؤ  پس وہ بغیر کسی حساب اور عذاب کے اِس میں داخل ہو جائیں گے ، فرشتے آ کر کہیں گے : اے ہمارے رب ، ہم دن رات تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ، یہ کون لوگ ہیں جنہوں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے ؟ تو اللہ رب العزت ارشاد فرمائے گا : یہ وہ لوگ ہیں جو میری راہ میں لڑے اور انہیں میری راہ میں تکلیفیں دی گئیں پس فرشتے  ان پر ہر دروازے سے یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے کہ "تمہارے صبر کی وجہ سے تم پر سلامتی ہو ، اور آخرت کا گھر  بہت اچھا ہے "۔

  اور شہید کے لئے ایک انعام یہ ہے کہ اس کے لئے جنت میں بہترین اور عمدہ گھر  ہوگا ، سَمُرَہ بن جُندَب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے رات دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے ساتھ لے کر درخت پر چڑھے اور انہوں  نے مجھے ایک گھر میں داخل کیا جو بہت خوبصورت اور عمدہ تھا میں نے اس سے زیادہ خوبصورت گھر کبھی نہیں دیکھا ، انہوں نے مجھے  کہا کہ : یہ شہداء کا گھر ہے "۔

  ان تمام انعامات کی وجہ سے شہید ہی ایک واحد فرد ہو گا جو اس بات کو پسند کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے تاکہ اسے اللہ کی راہ میں دوبارہ  شہید کیا جائے جیساکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کے سوا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص اس بات کو  پسند نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے اور اس کے لئے زمین پر کوئی چیز ہو ، پس شہید جو عزت وتکریم دیکھتا  ہے اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ  شہادت کا جو مقام و مرتبہ دیکھتا ہے  اس کی  وجہ سے وہ  اس بات کی تمنا کرے گا کہ اسے دس مرتبہ  دنیا میں واپس بھیجا جائے  اور قتل کیا جائے "۔

  برادرانِ اسلام !

  اس دنیا میں بڑے اہداف اور اعلی مقاصد تک رسائی حاصل کرنا بڑی قیمتی قربانیوں کو مستلزم ہے ، اس بات میں شک نہیں ہے کہ اہداف و مقاصد کا بلند ہونا بڑی قیمتی  قربانیوں کا تقاضہ کرتا ہے اور یہی ہر اس شخص کا حال ہے جو اپنے وطن اور دین کی راہ میں جان کی قربانی پیش کرتا ہے ۔

  اپنے وطن عزیز اور دین متین کے حق میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق  اپنے وطن کو دشمنوں اور اس کو درپیش چیلنجز  سے محفوظ رکھنے کے لئے  شانہ بشانہ کھڑے ہوں ایک دوسرے کا دست و بازو  بن کر  اس کے دفاع کے لئے کوشش کریں اور ان کے امن و امان کی حفاظت کے لئے ہر وقت بیدار رہیں اور اس کے خلاف اٹھنےوالی ہر آنکھ کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔

  ہم اپنے بہادر سپاہیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا ، اللہ تعالی کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھایا اور اپنے پختہ عزم  اور یقین راسخ کے ذریعے  ہمارے پیارے ملک مصر کو تعمیر وترقی کی راہ پر  گامزن کرنے میں کامیاب ہوئے ، ہم اپنی بہادر مسلح فوج کو ان کی عظیم کامیابی کے دن کے موقع پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔

  اور ہمارے اوپر ایک اور ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ترقی ، خوشحالی ، کام اور محنت کی طرف پیش قدمی کریں تا کہ ہم ساری دنیا کے سامنے ثابت کردیں کہ وہ لوگ جنہوں نےاُس عظیم دن میں قلعوں کی دیواروں اور آگ کے شعلوں کو عبور کیا تھا ان کی اولاد اللہ تعالی کے حکم سے امن و امان کی بحالی اور تعمیروترقی کی راہ میں آنے والی ہر مشکل کا سامنا کرنے پر قادر ہے ، اور ہمیں چاہیے کہ ہم  سب اپنی حکیمانہ سیاسی قیادت ، اپنی بہادر فوج اور پولیس اور تمام قومی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔

  اے اللہ عالم اسلام كے تمام ممالك خاص طور پر مصر اور اس کی عوام ہر برائی اور شر سے محفوظ رکھ۔ آمين

افواہیں پھیلانے کے خطرات

بے شک حق و باطل کے درمیان کشمکش اتنی  ہی  قدیم ہے جتنی انسانیت کی تاریخ قدیم ہے، اور یہ کشمکش    قیامت تک جاری  ہے، اہل ِباطل کا اہلِ حق کے ساتھ اپنی کشمکش میں سب سے نمایاں اور اہم ہتھیار  افواہیں تیار کرنا اور انہیں لوگوں کے درمیان  پھیلانا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بات ایک بہت بڑی امانت اور ذمہ داری ہے خواہ وہ تحریری شکل میں ہو یا صوتی یا مرئی شکل میں ہو، افواہیں بھی صرف ایک بات ہی ہوتی ہے جسے لوگوں کے درمیان پھیلا دیا جاتا ہے، کوئی بیمار دل کا مالک شخص یا  پسِ پَردہ رہ کر  کام کرنے والی شر پسند قوتوں میں سے کوئی ادارہ یا تنظیم ان  افواہوں کو پھیلاتی ہے، اور لوگوں کی زبانیں بغیر کسی تحقیق وتفتیش کے اسے آگے ایک دوسرے کو منتقل کرتی ہیں جس کا عقل اور لوگوں پر منفی اثر پڑتا ہے، تخریبی افکار اور عقائدِ فاسدہ عام ہو جاتے ہیں اور معاشرہ  صبح و شام ایک اضطراب اور بے چینی کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے، بلکہ معاشرے میں امن و امان ختم ہو جاتا ہے، لوگوں کا   ایک دوسرے پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، اور امت  کے افراد جو کہ جسدِ واحد کی مانند ہیں  وہ ایک دوسرے  کو شک کی نِگاہ سے دیکھنے  لگتے ہیں اور ایک دوسرے سے خیانت کرنے لگتے ہیں، اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کے جھوٹے ہونے کے لئے  یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے "، جب انسان کا  ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنا جھوٹ کی ایک قسم ہے جس پر انسان کو آخرت میں سخت سزا دی جائے گی تو  اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے ایسی بات بیان کی جسے نہ اس نے دیکھا ہے اور یہ نہی سنا ہے ؟۔

اسلام نے افواہوں اور انہیں پھیلانے والوں کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا ہے، اور اسے شریعتِ اسلامی کے لائے ہوئے  عمدہ اخلاق اور اعلی انسانی اقدار  کے منافی قرار دیا ہے، کیونکہ اسلام نے اپنے پیروکاروں کو ہر اس بات سے اپنی زبان کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے جو معاشرے میں فتنہ کا باعث بنے یا بے چینی پیدا کرے، اور انہیں  حکم دیا ہے کہ وہ  سچ بولیں، اپنی زبان کی حفاظت کریں اور اپنے کانوں تک پہنچنے والی ہر بات کی تحقیق کریں تاکہ وہ  فتنے پھیلانے، معاشرے کو تباہ کرنے اور لوگوں کی عزت و آبرو  سے کھیلنے کا سبب نہ بنیں،ارشاد باری ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} "اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ "۔ دوسرى جگہ پر ارشاد بارى ہے: {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ} "( انسان ) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نِگہبان تیار ہے”۔ اور ارشاد باری ہے: {وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا} "جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ ۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل اِن میں سے ہر ایک سے پوچھ گَچھ کی جانے والی ہے”۔ اور حدیث معاذ بن جبل میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام کے فرائض اور  خیر کی تمام راہیں بیان کرنے کے بعد اسے فرمایا : ” اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کام کے جوہر، اس کے  ستون اور اس کی چوٹی کی خبر نہ دوں "معاذ نے عرض کی : ہاں اے اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا جوہر اسلام ہے، اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی اللہ کی راہ میں جہاد ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں ان تمام چیزوں کا خلاصہ نہ بتا دوں ” معاذ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول وہ کیا ہے ؟  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا، صحابی کہتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول، ہم جو باتیں اپنے زبانوں سے کہتے ہیں، کیا  اس پر ہماری پکڑ ہو گی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیری ماں تجھے روئے ، لوگوں کی فضول باتیں ہی انہیں جہنم میں منہ کے بَل گرائیں گی "۔

افواہیں اڑانا اور انہیں رواج دینا منافقین کا طریقہ ہے، منافق لوگ  امن و امان تباہ کرنے، قومی یکجہتی کو نشانہ بنانے، بڑھتی ہوئی معیشت کو کمزور کرنے، ملکی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور شہریوں بالخصوص نوجوانوں کے دلوں میں بدشُگونی، ناامیدی اور مایوسی پیدا کرنے کے ذریعے اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کی خاطر یہ طریقہ کار استعمال کرتے ہیں، قرآن کریم نے ان لوگوں کو ” المرجفون ” یعنی افواہیں اور سَنسنی خیز خبریں پھیلانے والا کہا ہے، کیونکہ ان کا ہدف ایسی غلط باتوں اور فتنوں میں مشغول ہونا ہوتا ہے جو معاشرے میں شدید اضطراب پیدا کر دیں، ارشاد خداوندی ہے: {لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا} "اگر ( اب بھی ) یہ منافق اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان ( کی تباہی ) پر مسلط کر دیں گے پھر تو وہ چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں رہ سکیں گے” ۔

افواہیں ایک ایسا جنگی ہتھیار ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی محفوظ نہ رہ سکے، مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو نقصان پہنچانے اور اس کی صورت کو مسخ کرنے کے لئے افواہیں  پھیلا کر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلانِ جنگ کیا، انہوں نے لوگوں کے درمیان یہ بات عام کر دی کہ  آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جادوگر ہیں، ارشاد باری ہے: {وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ} "اور کافروں نے کہا کہ یہ تو جادوگر اور  بڑا ہی جھوٹا ہے "۔ اور انہوں نے جھوٹا دعوی کیا کہ یہ شاعر اور دیوانہ  ہے، ارشاد باری ہے :{وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ} "اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں "۔ اور بعض اوقات انہوں نے یہ بات عام کر دی کہ یہ ایک کاہن ہے، اللہ تعالی ان کے جھوٹ اور افتراء کا  رد کرتے ہوئے فرماتا ہے: "إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ* وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ* وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ* تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ} "بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے ۔ یہ کسی شاعر کا قول نہیں (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے ۔ اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو ۔ (یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے "۔

احد کے دن مشرکین نے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ان کی قوت کو کمزور کرنے کے لئے یہ خبر مشہور کر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں، بس اس خبر کا  سننا تھا کہ مسلمانوں کی صفوں میں اضطراب پیدا ہو گیا، ان کی نفسیاتی قوت کمزور  پڑ گئی، اور ان میں سے بعض نے راہِ  فرار اختیار کی، بعض نے ہتھیار ڈال دیئے اور بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ثابت قدم رہے ۔

حمراء الاسد کے دن مشرکین نے  یہ بات  مشہور کر دی کہ قریش مکہ نے مدینہ پر حملہ کرنے اور نبی کریم اور آپ کے اصحاب سے جنگ کرنے کے لئے  بہت بڑا لشکر تیار کیا ہے لیکن اس کے باوجود مسلمان اپنے دین پر ثابت قدم رہے  اور یہ افواہیں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں، اللہ تعالی نے صحابہ کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : {الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ* فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ} "وہ لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کر لئے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا  کارساز ہے ۔ ( نتیجہ یہ ہوا کہ ) اللہ کی نعمت و فضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی، انہوں نے اللہ تعالی کی رضا مندی کی پیروی کی، اللہ بہت بڑے فضل والا ہے "۔

اور غزوہ حنین کے دن جب یہ افواہ اڑائی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس افواہ کو  رد کرتے ہوئے فرمایا : ” میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ” ۔

افواہیں اڑانے اور ان کو  عام کرنے پر لوگوں کی جانیں، اموال، عزتیں مباح قرار دینے اور زندگی  میں بے چینی پیدا ہونے جیسے خطرات مرتب ہوتے ہیں  جو کسی بھی صاحبِ بصیرت اور عقلمند شخص پر مخفی نہیں ہیں ۔ خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل میں ہمارے لئے بہترین دلیل اور شاہد موجود ہے کہ یہودی عبداللہ بن سبا کی طرف سے پھیلانے جانے والی سَنسنی خیز خبروں اور افواہوں کی وجہ سے مجرم  لوگوں نے آپ کا محاصرہ کیا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کو پانی تک پینے سے روک دیا، حالانکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ہی وہ ہستی ہے جس نے اپنے ذاتی مال سے بئر رومہ کو خریدا تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ فرماتی ہیں کہ : ” جس دن عثمان کو قتل کیا گیا اس سے گزشتہ دن آپ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، پس جب افطاری کا وقت تھا   آپ نے ان لوگو ں سے میٹھا پانی مانگا تو انہوں نے آپ کو پانی نہ دیا، آپ افطاری کئے بغیر سو گئے، جب سحری کا وقت ہوا تو میں اپنے پڑوسیوں کے پاس گئی اور ان سے میٹھا پانی مانگا تو انہوں نے مجھے پانی کا ایک گلاس دیا، میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور حرکت دی تو آپ بیدار ہو گئے ، میں نے کہا کہ یہ میٹھا پانی ہے، آپ نے اپنا سر اوپر اٹھا اور طلوع ِفجر کی طرف دیکھا اور کہا : میں نے روزہ رکھا لیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھت سے مجھ پر نگاہ لطف و کرم فرمائی ہے اور آپ کے پاس  میٹھا پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اے عثمان پانی پیو ) میں نے  پانی پیا یہاں تک کہ میں سیراب ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اور پیو )، میں نے اور پیا یہاں تک کہ میں سیر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( عنقریب بہت سے لوگ آپ کے خلاف  جمع ہو جائیں گے، اگر تم ان سے لڑائی کرو گے تو تمہیں فتح نصیب ہو گی اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو تم  افطاری ہمارے پاس کرو گے، پس وہ لوگ اسی دن آپ کے کاشانہ میں داخل ہوئے اور آپ کو قتل کر دیا  "۔

دورِ حاضر میں بہت سے وسائل اور ذرائع تبدیل ہو چکے ہیں، اور  دنیا  سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جس  تیز ترین اور وسیع پیمان پر ترقی کا مشاہدہ کر رہی ہے اس کے پیشِ نظر اس خبیث فن نے مختلف اور متعدد صورتوں اختیار کر لی ہے کیونکہ اب افواہ  زیادہ وسیع پیمان  اور زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور اسکی تاثیر بھی زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس نے ایک جنگی ہتھیار اور طریقہ کار کی  شکل اختیار کر لی ہے ، اب جنگ محض عسکری یا سکیورٹی یا قدیم انٹیلی جنس کے طریقہ کار کے تقلیدی مفہوم کے مطابق محض  انٹیلی جنس کے دائرہ کار تک  ہی محدود نہیں رہی،  بلکہ جنگوں کے طریقہ کار میں تبدیلی رونما ہو چکی ہے، من گھڑت اور جھوٹی افواہیں پھیلانے کا ہتھیار استعمال کرنے کے طریقہ کار  پر عمل کیا جا رہا ہے جو کہ ایک فن کی شکل اختیار کر چکا ہے اور بعض اداروں کی طرف سے باقاعدہ اس کی تعلیم و تربیت  دی جا رہی ہے، الیکٹرونک دستے مامور کئے جا رہے ہیں، نفسیاتی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ اور پابندی کے لئے زیادہ سے زیادہ حربے استعمال کئے جا رہے ہیں، عوام کو حکمرانوں کے اکسانے،قومی نشانوں کو مسخ کرنے  اور ملکی کامیابیوں  کے بارے میں شکوک و شبھات پیدا  کرنے اور  ان کی   تحقیر کے لئے تن من دھن کی بازی لگائی جا رہی ہے، دہشت گرد قوتوں اور جماعت کے باہمی اتحاد بن رہے ہیں، ایک منظم طریقہ سے عوام اور حکمرانوں کے درمیان پھوٹ پیدا کرنے والا ہر نعرہ بلند  کرنے اور اداروں کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، سوشل میڈیا  کےتمام تر ذرائع استعمال کیا جارہے ہیں، ضروریات اور مصالح سے کھیلا جا رہا ہے جن پر صبر کرنا  بعض لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہے، عوام کے جذبہ اور حکمرانوں کے رعب و دبدبہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، علما، مفکرین، اور قومی تعلیم یافتہ طبقہ کے بارے میں شکوک و شبھات پیدا کئے جا رہے ہیں اور ان کے مخالفین کی مدد کی جا رہی ہے،اپنے اصول پر ڈَٹے ہوئے محبانِ وطن شخصیات کو صراحتا اور کنایۃ دھمکی آمیز خط بھیجے جا رہے ہیں  کہ اگر وہ ان کے ہم نوالہ اور اس کے گمراہ کن پلان کا حصہ نہیں بنتے اور ان کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے تو انہیں اپنے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔

یہ تمام چیزیں ان تندوتیز موجوں کے سامنے عزم و استقلال کے ساتھ ڈٹ جانے کو ایک ایسی استثنائی صورتحال قرار دے رہی ہیں جسے ایمانی عقیدے، قومیت کے فولادی جذبے اور اللہ تعالی کی ذات پر مکمل بھروسے کی ضرورت ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ  جو بغیر کسی تحقیق اور توثیق کے  خبریں یاواقعات وغیرہ شیئر کر رہے ہیں اور  فتنہ و فساد کو ہوا دینے والے لوگوں میں شامل ہو رہے ہیں  وہ ان باتوں کو  معمولی چیز سمجھ رہے ہوں، حالانکہ یہ معمولی بات نہیں ہے  ہو سکتا ہے وہ کوئی ایسی  جھوٹی بات کہہ دے یا لکھ دے یا اس  کو شیئر کر دے جس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو اور وہ پوری دنیا میں عام ہو جائے  تو وہ روز قیامت اس کے  لئے عذاب کا سبب بنے گی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک  آدمی اللہ کی خوشنودی کا باعث بننے والی کوئی بات کہتا ہے  جس پر وہ کوئی توجہ نہیں دیتا،  اللہ تعالی اس کی وجہ سے  اس آدمی کے درجات  بلند کر دیتا ہے اور بے شک آدمی اللہ کی ناراضگی کا باعث بننے والی کوئی بات کہتا ہے جس پر وہ توجہ نہیں دیتا، اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس آدمی کو جہنم میں پھینک دیتا ہے "۔

برادرانِ اسلام !

اسلام نے معاشرے کو افواہوں اور سَنسنی خیز خبروں سے بچانے کے لئے ایک  محکم منہج وضع کیا ہے جس کے اہم  اور نمایاں نقاط درج ذیل ہیں :

٭  کسی بھی ذریعہ  سے خواہ وہ تحریری ہو یا صوتی یا مرئی،  افواہ کو باربار ذکر نہ کرنا، کیونکہ اس کو بار بار ذکر کرنے میں درحقیقت اس کو عام کرنے اور پھیلانے میں کردار ادا کرنا ہے، افواہوں کو جب بار بار ذکر کرنے والی زبانیں، سننے والے کان اور قبول کرنے اور تصدیق کرنے والے لوگ مل جائیں تو یہ افواہیں زیادہ  پھیلاتی ہیں، ارشاد باری ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} "اے مسلمانو! اگر تمہيں كوئى فاسق خبر دے تو تم اس كى اچهى طرح تحقيق كر ليا كرو ايسا نہ ہو كہ نادانى ميں كسى قوم كو ايذا پہنچا دو پهر اپنے كيے پر پشيمانى اٹهاؤ” اور ارشاد باری ہے: }إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ }” جبکہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے وہ بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ  تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالی کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی”۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت وتکریم کرے، اور جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ” ۔

٭ فرزندان ِوطن کے درمیان اتحاد و اتفاق  کی ضرورت، افواہوں کو سنتے وقت حسنِ ظن کو مقدم رکھنا اور ان کو مورد ِالزام ٹھہرانے میں جلدی نہ کرنا،  ارشاد باری ہے : {لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ}” ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس ( بہتان) کو سنا تھا تو مومن مرد اورمومن عورتیں اپنوں کے بارے میں نیک گمان کر لیتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلا بہتان ہے”۔ مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ وہ حسنِ ظن رکھے اور دوسروں سے صادر ہونے والے اقوال و افعال کو  اچھے پہلو پر محمول  کرے  کیونکہ بدگمانی ایک  ایسا مہلک مرض ہے جو  لوگوں کی زندگی میں بے چینی پیدا کرنے اور ان کے درمیان دشمنی اور نزاع کا باعث بنتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا :”بدگمانی سے بچو، بے شک بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، اور ٹوہ نہ  لگاؤ، تجسس نہ کرو، حسد نہ کرو،  قطعِ تعلقی نہ کرو، ایک دوسرے سے نفرت نہ کرو، اور اللہ کے بندوں  بھائی بھائی بن جاؤ ” ۔

٭  حقائق کو بیان کرنے میں ماہرین کی مدد حاصل کرنا اور معاملات کے بارےمیں فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا، اللہ تعالی نے منافقین کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا : {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا }” جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع  کردیا، حالانکہ اگر یہ لوگ اسے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے "۔ یعنی وہ لوگ مدینہ کے معاشرے کے استحکام اور امن و امان کی گھات میں رہتے تھے اور جب  کوئی اسی بات سنتے  جو مسلمانوں کے امن و امان یا ان  کے خوف سے متعلق ہوتی تو وہ  اسے مشہور کردیتے یا خوف، بے چینی  اور اضطراب پیدا کرنے کے ارادہ سے اسے عام کردیتے ۔

ہر محب وطن اور اپنے دین کی غیرت رکھنے والے مومن کو  ان افواہوں کو روکنے اور ان کا رد کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا قیامت کے دن اللہ تعالی اس کے  چہرے سے جہنم کی آگ کو دور کر دے  گا "، اور ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ ہمارے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ ایک امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا ۔

ہم سب کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ہمارے دشمنوں نے فورتھ جنریشن اور ففتھ جنریشن وار، جھوٹی افواہوں، تمام تر کامیابیوں اور قومی رموز کو مسخ کرنے اور ہر قومی علامت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو  ہمارے ملک کو ناکام بنانے، اسے گرانے یا اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے لئے ایک  ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ وہ اپنے  اہداف اور مقاصد حاصل کر سکیں، اور اس حقیقت کا ادراک کرنا بھی ہم پر لازم ہے کہ ہمیں ایک تباہ کن جنگ کا سامنا ہے جو ہمیں ہر طرف سے اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور جھوٹی افواہیں اس کے لئے ایندھن کا کام دے رہی ہیں، ہمیں ہر بات کی تحقیق اور توثیق کرنا ضروری ہے تاکہ ہم دشمن کے فریب میں نہ آ سکیں، اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی ذات، اپنی قیادت، اپنی فوج اور اپنی پولیس پر مکمل اعتماد کریں اور اپنے وطن کے دشمنوں، ہمیں اور ہمارے حوصلے اور جذبے کو نقصان پہنچانے والوں یا ہمارے اندر ناامیدی اور مایوسی پیدا کرنے کے لئے غوروفکر کرنے والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں، اور یہ  چیز اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں اور معاشرے کو امر واقعہ کے متعلق شعور دینے، اپنے آپ کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کرنے اور ان کے حل کے لئے کردار ادا کرنے کے ذریعے محفوظ کریں ۔

اے اللہ ! ہمارے اخلاق کو اچھا بنا دے، اور ہمارے عالم اسلام کی حفاظت فرما، اور ہمیں ہر اس کام کی توفیق  عطا فرما جو تجھے پسند ہے اور تیرے رضا کا باعث ہے  ۔ آمين