:

اسلام میں مكارم اخلاق
14 ربیع الاول 1437ھ مطابق 25 دسمبر 2015ء

awkaf

پہلا: عناصر:

  1.  اسلام بلند اخلاق والا دین ہے۔
  2. اخلاق کا زوال امت کا زوال ہے۔
  3.  بلند اخلاق صحیح عبادت کا نتیجہ ہے۔
  4. ہم اپنے اخلاق کے ذریعہ کیسے بلند ہو جائيں؟

دوسرا: دلیلں:

قرآن کی دلیلں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے: }وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيم{[قلم: 4] (ﺍﻭﺭ بيشكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔).
  2. ارشاد بارى ہے :}خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ{[الأعراف: 199] (ﺁﭖ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ نيكـ كام ﻛﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ايكـ ﻛﻨﺎﺭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔).
  3. الله تعالى فرماتا ہے:}وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صالِحاً وَقالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ * وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَما يُلَقَّاها إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَما يُلَقَّاها إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ{. [فصلت: 33 – 35] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﻻ ﻛﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ الله ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﺋﮯ ﺍﻭﺭ نيكـ كام ﻛﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻛﮩﮯ ﻛﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﻘﯿﻨًﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ۔  (٣٤) ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯼ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔  (٣٥) ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﻮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯﺟﻮ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺑﮍﮮ ﻧﺼﯿﺒﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎ ﺳﻜﺘﺎ۔).
  4. الله تعالى كا فرمان ہے :{وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً{[فرقان: 63] (رحمن ﻛﮯ (ﺳﭽﮯ) ﺑﻨﺪﮮ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻓﺮﻭﺗﻨﯽ ﻛﮯ ساتھ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﮯ ﻋﻠﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺳﻼﻡ ﮨﮯ۔).
  5. الله تعالى فرماتا ہے :{يا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلى ما أَصابَكَ إِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ * وَلا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتالٍ فَخُورٍ * وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْواتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ{ [لقمان: 17- 19] (ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ! ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﻛﮭﻨﺎ، ﺍﭼﮭﮯ كاموں ﻛﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ، ﺑﺮﮮ كاموں ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﻧﺎ (ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ) ﻛﮧ ﯾﮧ ﺑﮍﮮ ﺗﺎﻛﯿﺪﯼ كاموں ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ (١٨) ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯﮔﺎﻝ ﻧﮧ ﭘﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﺗﺮﺍ ﻛﺮ ﻧﮧ ﭼﻞ ﻛﺴﯽ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﯿﺨﯽ ﺧﻮﺭﮮ ﻛﻮ الله تعالى ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ۔(١٩) ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺎﻧﮧ ﺭﻭﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺴﺖ ﻛﺮ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﻛﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﮯ۔).
  6. الله تعالى كا ارشاد ہے: }اتْلُ ما أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتابِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ ما تَصْنَعُونَ * وَلا تُجادِلُوا أَهْلَ الْكِتابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلهُنا وَإِلهُكُمْ واحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ{ [عنكبوت: 45 – 46] (ﺟﻮ ﻛﺘﺎﺏ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯﭘﮍﮬﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮﯾﮟ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ كچھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔(٤٦) ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ ساتھ ﺑﺤﺚ ﻭﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻋﻤﺪﮦ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتھ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﺍﻋﻼﻥ ﻛﺮ ﺩﻭ ﻛﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ،ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺒﻮﺩ ايكـ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺑﺮﺍﺩﺭ ﮨﯿﮟ۔).
  7. الله تعالى فرماتا ہے:} الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُوماتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدالَ فِي الْحَجِّ وَما تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوى وَاتَّقُونِ يا أُولِي الْأَلْبابِ}[بقره: 197] (ﺣﺞ ﻛﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﻻﺯﻡ ﻛﺮﻟﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﻞ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﻧﮯ، ﮔﻨﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﭽﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ساتھ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺗﻮﺷﮧ الله تعالى كا ﮈﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﻭ! مجھ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔).
  8. الله تعالى كا ارشاد ہے: } وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ * هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ * مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ * عُتُلٍّ بَعْدَ ذلِكَ زَنِيمٍ * أَنْ كانَ ذا مالٍ وَبَنِينَ * إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ * سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ {[قلم: 10 – 16] (ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﻛﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ كا ﺑﮭﯽ ﻛﮩﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ۔ (١١) ﺑﮯ ﻭﻗﺎﺭ، ﻛﻤﯿﻨﮧ، ﻋﯿﺐ ﮔﻮ، ﭼﻐﻞ ﺧﻮﺭ۔ (١٢) ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﻨﮯﻭﺍﻻ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ۔ (١٣) ﮔﺮﺩﻥ ﻛﺶ ﭘﮭﺮ ساتھ ﮨﯽ ﺑﮯ ﻧﺴﺐ ﮨﻮ۔ (١٤) ﺍﺱ ﻛﯽ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﻣﺎﻝ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔  (١٥) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﻮﮞ ﻛﮯ ﻗﺼﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١٦) ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺳﻮﻧﮉ (ناكـ) ﭘﺮ ﺩﺍﻍ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔).

سنت نبوى کی دلیليں:

  1. نواس بن سمعان (رضٰ اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ e سے نیکی اور گناہ کے کام کے متعلق سوال کیا تو آپe نے جواب ارشاد فرمایا کہ «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَّ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ » (مسلم) (نیکی تو اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل مین کھٹک پیدا کرے اور تجھے یہ ناگوار ہوکہ لوگ اس سے باخبر ہوں۔).
  2. ابو الدرداء t سے روايت ہے كہ نبى (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ» (ترمذى) (مومن كے ترازو ميں (يعنى كفۂ حسنات ميں قيامت كے دن) خلقِ حسن سے زياده كوئى چيز بهارى نہيں- اس ليے كہ بے حيا بدگو كو الله تعالى دشمن ركهتا ہے)-
  1. ابو ہريره (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) نے كہا: حضور r نے فرمايا كہ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» [رواه احمد] (ميں اخلاق حسنہ كى تكميل كے لئے بهيجا گيا ہوں).
  2. ابو ذَرٍّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) سے روايت ہے كہ رسول الله e نے مجهـ سے فرمايا: «اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ » [ترمذى] (ڈر الله سے يہاں كہيں ہو تو اور پيچهے كر ہر بُرائى كے ايكـ بهلائى كہ مٹا دے اس كو اور نيكـ خلقى سے لوگوں كے ساتھ مِل-).
  3. ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ » [احمد] (ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔).
  4. سَعْد بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ سے روايت ہے كہ ميں نے عائشہ رضى الله عنہا سے كہ: "يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ – يَعْنِي عَائِشَةَ – حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) قَالَتْ: «أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) كَانَ الْقُرْآنَ» [مسلم] (اے مسلمانوں كى ماں مجهے رسول اللهe كے اخلاق سے خبر ديجئے؟ انهوں نے فرمايا: كيا تم نے قرآن نہيں پڑها؟ ميں نے كہا: كيوں نہيں- انهوں نے فرمايا: رسول اللهe كا خلق وہى تها جس كا قرآن ميں حكم ہے-).
  5. حضرت عائشہ رضى الله عنہا فرماتى ہيں كہ ميں نے رسول اللهe كو يہ فرماتے ہوئے سنا كہ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ» [ابو داود] (مومن آدمى اپنے اچهے اخلاق كى بدولت اس شخص كا سا درجہ حاصل كر ليتا ہے جو رات بهر كهڑے ہو كر عبادت كرے اور دن كو روزه ركهے-).
  6. جابر (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) سے روايت ہے كہ رسولِ الله ( صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) نے فرمايا: «إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالمُتَشَدِّقُونَ وَالمُتَفَيْهِقُونَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ وَالمُتَشَدِّقُونَ فَمَا المُتَفَيْهِقُونَ؟ قَالَ: «المُتَكَبِّرُونَ» [ترمذى] (تم ميں سے بہت پيارے ميرے نزديكـ اور بہت قريب بيٹهنے ميں ميرے نزديكـ قيامت كے دن وه لوگ ہيں جن كے اخلاق اچهے ہيں اور بہ تحقيق كہ تم ميں سے دشمن زياده ميرے اور دور تر مجھ سے قيامت كے دن بڑے باتونى بڑمارنے والے دہن دراز ہيں، عرض كى لوگوں نے كہ يا رسول الله ہم نے معلوم كيا ثرثارين اور متشدقين كيا ہيں، ليكن متفيہقون كون ہيں؟ رسول الله e نے فرمايا: تكبّر سے باتيں كرنے والے-).

تیسرا: موضوع:

بلا شبہ دینِ اسلام میں عظمت وشان کے کئى وجوہات ہیں- ان بڑائيوں میں سے یہ ہے کہ یہ اخلاق اور قانون والا دین ہے، جو اعلی اقدار وروایات اور شاندار انسانیت کے نمونے کو جمع کرتا ہے جو معيارى، بلند اور اچھے اخلاق كى مرقع كشى كرتى ہيں- اس دین کی عظمت وبڑائى اس بات سے بهى ظاہر ہے کہ یہ دین زنگى کے تمام پہلوؤں کو شامل اور یکجا کرتا ہے- کوئي بھى ایسا شرف وفضیلت کا کام نہیں ہے جس کی دعوت یہ دین نہ دیتا ہو، اور اس کے کرنے پر اکسایا نہ ہو، اور ساتھ ہی کوئى ایسى برائی نہیں ہے جس سے ہوشیار رہنے اور اس سے دور رہنے کا حکم نہ دیا ہو۔

وہ شرف وفضیلت جس کی یہ دین دعوت دیتا ہے، اور ان اخلاق سے آراستہ ہونے کی جانب رغبت دلاتا ہے وہ بلند اخلاق سے آراستہ ہونا ہے- جیسے ، صبر وتحمل ، بردباری، نرمي، سچائي، امانتداری، رحمت ووفاداري، جود وسخا، شرم وحیا، عجز وانکساری، بہادری، عدل وانصاف، ہمدردی ، دوسروں کي ضرورتوں کو پوری کرنا، نگاہ کی حفاظت کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، خندہ پیشانی، خوش گفتارى، اچھا گمان، بڑوں کی عزت، لوگوں کے درمیان صلح وصفائي، ایثار وقربانی، دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا، اور اسکے علاوہ دیگر بلند اخلاق ہیں۔ اس بات كى طرف قرآن مجيد كا اشاره ہے: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا} [اسراء: 9] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺟﻮ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺍﺟﺮ ﮨﮯ۔).

اس سلسلے میں کتاب وسنت نبوىe میں بہت سے نصوص وارد ہیں- ان میں سے اللہ تعالی کا یہ ارشاد اپنے رسول e کو حکم دیتے ہوئے: }خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ{[اعراف: 199]. (ﺁﭖ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ نيكـ كام ﻛﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ايكـ ﻛﻨﺎﺭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔). الله تعالى كا فرمان ہے:{وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا}[بقره: 83] (ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ)- الله تعالى فرماتا ہے:{لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاس وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا}[نساء: 114] (ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﻛﺜﺮ ﺧﻔﯿﮧ ﻣﺸﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﺎﮞ! ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﯿﺮﺍﺕ كا ﯾﺎ نيكـ ﺑﺎﺕ كا ﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﻠﺢ ﻛﺮﺍﻧﮯ كا ﺣﻜﻢ ﻛﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺻﺮﻑ الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﯾﮧ كام ﻛﺮﮮ ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺛﻮﺍﺏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔) اس سلسلے سے متعلق قرآن كريم كى اور بہت سی آیتيں ہیں- جو بھی شخص قرآن كريم کی آیتوں پر غور وفکر کریگا اس پر یہ بات ظاہر ہوجائگی کہ بہت سی آیتيں ہیں جو بلند اخلاق سے آراستگی کی دعوت دیتی ہیں- یہ اس لئے کہ اخلاق ہى وہ شرعى ترازو ہے جو انسان کو مہذب بناتا ہے، اور اسے کمال کی منزل تک پہونچاتا ہے۔

حدیث نبوى e نے انسانى زندگى میں اخلاق کی اہمیت پر زور دیا ہے- رسول الله e كى حديثوں ميں بتایا گيا ہے کہ ان اخلاق کریمہ سے آراستہ ہونے والا شخص بہت بڑے اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔ مثال كے طور پر رسول الله (صلَّى الله عليه وسلَّم) فرماتا ہے: « الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ» (مسلم) (نیکی تو اچھے اخلاق ہے). "البرّ” سے مراد خير وبهلائى كا جامع نام ہے- رسول الله (صلَّى الله عليه وسلَّم ) كا ارشاد ہے: «مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ في الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ» (ميزان ميں حسنِ خلق سے كوئى شئے بهارى زياده نہيں)- دوسرى روايت ہے: ابو الدرداء t سے روايت ہے كہ نبى (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ» (ترمذى) (مومن كے ترازو ميں (يعنى كفۂ حسنات ميں قيامت كے دن) خلقِ حسن سے زياده كوئى چيز بهارى نہيں- اس ليے كہ بے حيا بدگو كو الله تعالى دشمن ركهتا ہے)-

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اچهے اور بلند اخلاق پر بہت زیادہ زور دیتے تهے اور اس کی طرف رغبت دلاتے تهے ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ » [احمد] (ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔).

رسول الله (صلى الله عليه وسلم) سے پوچها گيا: أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا”(ابن ماجہ) (كون سا مومن افضل ہے؟ آپ e نے فرمايا: "جس كا اخلاق زياده اچها ہو”)- كسى نے رسول الله e سے پوچها كہ: كونسى چيز لوگوں كو جنت داخل كرتے ہے؟ رسول الله e نے فرمايا: « تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الخُلُقِ» (سنن الترمذي) (الله سے ڈرنا اور حسن خلق)- رسول الله e نے مكارم اخلاق كو اپنے سے محبت كے اسباب ميں سے ايكـ سبب بنايا ہے- اس سلسلے ميں آپ e فرماتا ہے: « إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَىَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّى مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلاَقًا” (ترمذى) (تم ميں سے بہت پيارے ميرے نزديكـ اور بہت قريب بيٹهنے ميں ميرے نزديكـ قيامت كے دن وه لوگ ہيں جن كے اخلاق اچهے ہيں).

اسلام میں اخلاق کو ایک بہت ہی اعلی مقام حاصل ہے، اور یہی دین اسلام کا خلاصہ اور مغز ہے- رسول اللہ e سے کسي نے پوچھا کہ دین کیا ہے؟ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن الخلق” (اچھے اخلاق) (بروايت مسلم)۔ بلکہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر بہت زیادہ توجہ دى ہے یہاں تک کہ آپe نے اعلان کیا کہ آپe کی بعثت اور رسالت کا پہلا مقصد بلند واعلی اخلاق کی تکمیل ہے۔ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) نے فرماتا ہے: (إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مكارم الأَخْلاقِ) [بروايت بخارى] (مجهے مكارم اخلاق كى تكميل كے لئے بهيجا گيا ہے)- رسالت ملنے سے پہلے بھی آپ صل اللہ علیہ وسلم کو لوگ سچے اور امین کہا کرتے تھے- بلا شبہ رسول الله e اچھے اخلاق کا اعلی نمونہ تھے- اسى لئے پروردگار نے انہیں ان اوصاف سے متصف فرمایا ہے: {وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ{[قلم: 4] (ﺍﻭﺭ بيشكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔). یہ اللہ کي جانب سے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق سے متعلق ایک عظیم الشان گواہي ہے- آپ صل اللہ علیہ وسلم دنیا کی ساری مخلوقات میں اخلاق کے سب سے اعلی مقام پر فائز تھے، کیونکہ آپ e قرآن كريم کو سب سے زیادہ محفوظ کرنے والے تھے، اور اس کے اوامر کو بجالانے والے اور اسکی منہیات سے اجتناب کرنے والے تھے- آپ صل اللہ علیہ وسلم كى شخصيت میں تمام شرف ومنزلت جمع ہوگئيں- اس بات کی تاکید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے جب ان سے کسى نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کے اخلاق كريمہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمايا: کہ "آپ صل اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تها۔”

قرآنى اخلاق کى بجا آورى میں رسول صل اللہ علیہ وسلم ایک عملي نمونہ تھے- آپ e لوگوں میں سب سے زیادہ بلند اخلاق تھے، سب سے زیادہ شفقت ومحبت رکھنے والے، عفو ودرگزر کرنے والے سب سے زیادہ بردبار، بات میں سب سے زیادہ سـچے ، وعدہ کے سب سے زیادہ پکے اور اسے پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ جود وسخا کرنے والے تھے- باوجود کہ آپ سید البشر تھے، آپ صل اللہ علیہ وسلم عاجزى وانکسارى کی مثال تھے- جو آپ e کو دیکھتا وہ مرعوب ہو جاتا اور جو آپ e سے ملتا وہ آپ e سے مانوس ہو جاتا۔ أمُ المؤمنين حضرت خديجہ (رضي الله عنہا) نے آپ e كى صفت كے بارے ميں آپ e سے كہا: "إنك لتصل الرحم، وتحمل الكلَّ، وتكسب المعدوم، وتعين على نوائب الحق ” (ناتے كو جوڑتے ہيں بوجھ اٹهاتے ہيں (يعنى عيال اور اطفال اور يتيم اور مسكين كے ساتھ حسن سلوكـ كرتے ہيں ان كا بار اٹهاتے ہيں) اور نادار كے ليے كمائى كرتے ہيں اور خاطر دارى كرتے ہيں مہمان كى اور سچى آفتوں ميں (جيسے كوئى قرضدار ہو گيا يا مفلس ہو گيا يا اور كوئى تباہى آئى) مدد كرتے ہو لوگوں كى-)- رسول الله e كى صفت كے بارے ميں الله تعالى فرماتا ہے:{ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ }[آل عمران: 159] (الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﻛﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺁﭖ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﺮﻡ ﺩﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺑﺪ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺖ ﺩﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﭖ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﭼﮭﭧ ﺟﺎﺗﮯ، ﺳﻮ ﺁﭖ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ كام كا ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﯾﮟ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺁﭖ كا ﭘﺨﺘﮧ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﻛﺮﯾﮟ، ﺑﮯ شكـ الله تعالى ﺗﻮ كل ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) انہی جیسے اعلی اخلاق کے ذریعہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کیلئے لوگوں کے دلوں اور عقلوں پر قابو پانا ممکن ہو سکا۔

نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے صابہ کرام کو بھی اچهے اور بلند اخلاق کی تربیت دى اور انہیں اس بلند اخلاق سے آراستہ ہونے اور اس کے اہتمام کرنے کا حکم دیا- جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا : "اتق الله حيثما كنت ، وأتبع السيئة الحسنة تمحها ، وخالق الناس بخلق حسن” (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور برائی کے بعد نیکى کرو جو اسے مٹادیگی، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ) تو صحابہ كرام نے عفو ودرگزر اور احسان کو سیکھا- عفو درگزر اور بردباری کے ذریعہ عصبیت اور شدت وغضب سے چھٹکارا پایا، اور انہوں نے عمدہ اخلاق اچھے معاملات اور فرد اور جماعت کے ساتھ نوازش وکرم کی شاندار نمونہ پیش کیا- جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کیا اور مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائى چارہ قائم کیا تو انصار اپنے مہاجر بھائى کو اپنے مال کے آدھے کا شریک بنا رہے تھے- انسانى اخلاق کی بنیاد نوازش وکرم پر ہے- قرآن کریم نے شاندار نمونے پیش کئے ہیں جو افراد کی حد تک ہی منحصر نہیں رہا بلکہ وہ تمام مسلمانوں کی عام صفت ہوگئى ہے۔ ارشاد بارى ہے:{ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ}[حشر: 9] (ﺑﻠﻜﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﻮ ﺧﻮﺩ ﻛﻮ ﻛﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺨﺖ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ).

اسى لئے وہ لوگ اس اخلاق کے ذریعہ قوموں پر حکومت کرتے تھے- جب تک وہ لوگ اس بلند اخلاق پر قائم تھے لوگوں کی نگاہوں کے مرکز ، آڈیل اور نمونہ بنے ہوئے تھے، جب لوگ اچھا اخلاق اور حسن معاملہ دیکھتے تھے تو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے تھے، اور جب اس سیدھے راستہ سے منہ موڑ لیا اور لوگوں کے اخلاق بگڑ گئے تو قیادت ضائع ہو گئى ، قدر وقیمت ختم ہو گئى اور حقائق ہی بدل گئے- امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہى سچى بات کہی ہے: (اس امت کے آخرى فرد کی اصلاح اسى کے ذریعہ ہوسکتى ہے جس سے پہلے کی اصلاح ہوچوکى ہے).

 اچھے اخلاق ہی معاشروں کو گراوٹ سے بچاتے ہیں، اور انارکى اور بدامنى سے اس کی حفاظت کرتے ہیں- امت کی سلامتی اور بنیاد کی پختگى اور اسکے مقام کى بلندی اور نسلوں کی عزت اچھے اخلاق سے وابستگی کے ہی ذریعہ ہے- جیساکہ گراوٹ اور برائی کا عام ہونا اچھے اخلاق اور اچھے کام سے دوری کا نتیجہ ہے۔

صَـلاحُ أَمـــــــــــــرِكَ لِـلأَخـلاقِ مَرجِـعُـهُ

آپ کے امور کى بہتری کا انحصار اخلاق پر ہے

 

فَقَـوِّمِ النَـفـسَ بِـالأَخــــــــــــلاقِ تَستَـقِـمِ

تو تم نفس کو اخلاق کے ذریعہ درست کرو تو تم ثابت قدم رہو گے

 

وَالنَفسُ مِن خَيرِهـا فـي خَيـــــرِ عافِيَـةٍ

نفس کی بھلائى میں خیریت وعافیت ہے

 

وَالنَفسُ مِن شَرِّهـا فـي مَرتَـعٍ وَخِـــــمِ

نفس کی برائى میں نقصان اور بربادی ہے)۔

اسى لئے اخلاقى گراوٹ سے ہوشیار کیا گیا ہے۔ سَهْل بْنِ سَعْدٍ سَّاعِدِى (رضي الله عنہ) سے روايت ہے كہ رسول الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فرمايا: « إِنَّ اللَّهَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا » (المستدرك للحاكم) (يقينًا الله تعالى سخى ہے اور سخاوت اسے پسند ہے، اسے اچهے اور بہترين اخلاق پسند ہے اور اسے بد اخلاق سے نفرت ہے)- "السَّفْسَافُ” سے مراد ہے: برى بات ہے اور ہر وه چيز ہے جو مكارم اخلاق كے منافى ہو-

اخلاق ہى کے ذریعہ قوميں زندہ رہتی ہیں اور اسکے آثار ہمیشہ باقی رہتے ہیں- اخلاق کے زوال اور گراوٹ کی وجہ سے قوميں نیست ونابود ہوجاتی ہیں- بہت سى تہذیبیں اپنی اقتصادی یا فوجى کمزوری کى وجہ سے نہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ صرف اپنے اخلاقى پستی کی وجہ سے ختم ہوگئيں۔ حافظ ابراہيم اپنے اس شعر ميں كہتے ہيں:

وَإِنَّمَا الأُمَمُ الأَخْلاقُ مَا بَقِيَتْ

قوميں اخلاق سے باقى رہتى ہيں

فَإِنْ هُمُ ذَهَبَتْ أَخْلاقُهُمْ ذَهَبُوا

اور جب اخلاق چلے جاتے ہيں تو وه بھى چلى جاتى ہيں

جب ہم قرآن وسنت میں عبادات پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا سب سے اہم مقصد مسلمانوں کے سلوک اور انکے اخلاق کی درستگى ہے- اسلام میں جو بھى عبادتیں دى گئيں ہیں، جیسے نماز روزہ زکات حج سب کا اثر افراد کے سلوک میں اخلاقی بلندی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، بلکہ یہ اثر فرد سے تجاوز کر کے معاشرے تک پہونچتا ہے- اسلام کسی کھوکھلے رسوم ورواج کا نام نہیں ہے جو مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں اور حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے کہ نمازى نماز پڑھـ کر نکلیں تاکہ ملاوٹ کریں اسٹوک کریں اور پڑوسیوں کو تکلیف دیں – تمام مذاہب میں عبادت کا حکم صرف انسانى ترقى اور اخلاقی بلندی کیلئے دیا گیا ہے- نماز کی فرضیت اور اسکے قائم کرنے کی حکمت كى وضاحت الله تعالى اس آيت كريمہ فرماتا ہے:}اتْلُ ما أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتابِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ ما تَصْنَعُون{[عنكبوت: 45] (ﺟﻮ ﻛﺘﺎﺏ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮﯾﮟ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ كچھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔). شر اور برائى سے دوری ، برى باتوں اور برے کاموں سے اجتناب ہی نماز کی حقیقت ہے۔ ابْن عَبَّاسٍ (رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا) سے مروى ہے كہ رسول الله (صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم) نے فرمايا ہے كہ: « قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّمَا أَتَقَبَّلُ الصَّلاةَ مِمَّنْ تَوَاضَعَ بِهَا لِعَظَمَتِي، وَلَمْ يَسْتَطِلْ عَلَى خَلْقِي، وَلَمْ يَبِتْ مُصِرًّا عَلَى مَعْصِيَتِي، وَقَطَعَ نَهَارَهُ فِي ذِكْرِي، وَرَحِمَ الْمِسْكِينَ، وَابن السَّبِيلِ وَالأَرْمَلَةَ، وَرَحِمَ الْمُصَابَ » ]رواه البزار[ (الله تعالى نے ارشاد فرمايا: يقينًا ميں اس شخص كى نماز قبول كرتا ہوں جو نماز كے ذريعے ميرى شان وشوكت كے سامنے سر تسليم خم كرتا ہے، اور ميرى مخلوق پر دست درازى نہيں كرتا، اور ميرى نافرمانى پر مصر ہو كر رات نہيں گزارتا، اپنا دن ميرى ياد ميں گزارتا ہے، اور مسكين، مسافر، بيوه اور مصيبت زده پر مہربانى اور شفقت كرتا ہے) (بروايت بزار)- حضرت عبد الله بن مسعود رضى الله عنہما سے مروى ہے كہ: "جس شخص كى نماز اسكو بهلائى كا حكم نہيں ديتى اور برائى سے نہيں روكتى تو وه الله تعالى سے مزيد دور ہى ہوتا ہے”. (بروايت طبرانى)- جسکى نماز اسے قول وفعل کے شر اور برائی سے دور نہیں کرتی ہے تو گویا کہ اسکى نماز کا سب سے اہم مقصد پورا نہیں ہوا۔

اسى طرح تمام عبادات جیسے نماز روزہ زکات حج ، سبھی عبادتیں نفس کی طہارت وپاکى اور اس کے ذریعہ اچھے اخلاق کی حصول کیلئے فرض کى گئى ہیں۔ الله تعالى زكات سے متعلق فرماتا ہے:{خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ}[توبه:103] (ﺁﭖ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺪﻗﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺠﺌﮯ، ﺟﺲ ﻛﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﻥ ﻛﻮ پاكـ ﺻﺎﻑ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎ ﻛﯿﺠﺌﮯ، ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺁﭖ ﻛﯽ ﺩﻋﺎ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺟﺐ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺧﻮﺏ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔). حضرت ابوذَر رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے ارشاد فرمایا: « تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ تُكْتَبُ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الشَّوْكَةَ وَالْحَجَرَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الضَّالَّ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ » ]بزار[ (تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی کیلئے مسکرانا صدقہ ہے، تمہارا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے، تمہارا کسی کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، پتھر کانٹا ہڈی (وغیرہ) کا راستہ سے ہٹا دینا صدقہ ہے اور کسی بھولے ہوئے کو راستہ بتانا صدقہ ہے-)

روزہ فرض عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے جسے اللہ تعالی نے اس لئے فرض کیا تاکہ بندہ متقى ہو سکے – اللہ تعالی روزے کا جو فائدہ اور مقصد چاہتا ہے وہ اللہ سے تقوی ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}[بقره: 183] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﻛﮭﻨﺎ ﻓﺮﺽ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﻛﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ، ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ تقوى ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﻭ۔). روزے سے مسلم کا ارادہ مضبوط ہوتا ہے – روزه اخلاق کو سنوارتا اور شہوت پر قابو پاتا ہے۔ ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ رسول اللهe نے فرمايا: « الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ»] بخارى[ (روزه دوزخ سے بچنے كے لئے ايكـ ڈهال ہے، اس لئے (روزه دار) نہ فحش باتيں كرے اور نہ جہالت كى باتيں اور اگر كوئى شخص اس سے لڑے يا اسے گالى دے تو اس كا جواب صرف يہ ہونا چاہئے كہ ميں روزه دار ہوں، (يہ الفاظ) دو مرتبہ (كہہ دے)). مطلب یہ ہے کہ روزہ مسلمان كو برے اخلاق اور برائى سے بچاتا ہے- ضرورى ہے کہ روزے کا مسلم کے سلوک اور اخلاق کی درستگي پر اثر ہو۔

فريضۂ حج كے بارے ميں الله تعالى فرماتا ہے:{الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ } [بقره: 197] (ﺣﺞ ﻛﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﻻﺯﻡ ﻛﺮ ﻟﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﻞ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﻧﮯ، ﮔﻨﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﭽﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ الله تعالى ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ساتھ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺗﻮﺷﮧ الله تعالى كا ﮈﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﻭ! مجھ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔). ابو ہريره نے كہا كہ رسول اللهؐ نے فرمايا كہ: « مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ »،]مسلم[ (جو اس گهر ميں آيا اور بيہوده شہوت رانى كى باتيں نہ كيں، نہ گناه كيا وه ايسا پهرا كہ گويا اسے ماں نے ابهى جنا (يعنى گناہوں سے پاكـ ہو گيا-).

ضرورى ہے کہ افراد اور معاشرے پر عبادت کا مثبت اثر ہو- اگر یہ عبادت انسان کے اخلاق اور اسکے سلوک کی درستگی میں اثر انداز نہیں ہوتی ہے تو آخرت میں ایسى عبادت کا کوئى فائدہ نہیں ہے- اس لئے کہ برے اخلاق اسکی عبادت اور نیکی کو ایسے ہی کھا جائگى جیسى کہ آگ لکڑي کو کھا جاتی ہے۔ ابو ہريره t سے مروى ہے كہ رسولِ خدا e نے فرمايا: « أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ»؟ قَالُوا: المُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): « المُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ» ]ترمذى[ (بهلا خبر دو مجهے كہ مفلس كون ہے، صحابہ نے عرض كى كہ مفلس ہمارى اصطلاح ميں يا رسول الله وه ہے كہ درہم ومتاع خانگى نہ ركهتا ہو- رسولِ خداe نے فرمايا: مفلس ميرى امت ميں وه ہے كہ قيامت كے دن روزه نماز اور زكوة ليكر آدمى اس صورت سے آئے گا كہ كسى كو بُرا كہا ہو اور كسى كو گالى دى ہو اور كسى كا مال كها گيا اور كسى كا خون بہايا گيا ہو اور كسى كو مارا ہو، پس اس كو بٹها ديں بدلہ ميں ديويں مظلوموں كو نيكياں اس كى پهر اگر نيكياں اس كى تمام ہو گئيں اس سے پيشتر كہ بدلہ پورا ہو اس كے ظلموں كا تو ليے جا ديں گناه مظلوموں كے اور ركھ ديے جا ديں اس پر اور ڈال ديا جا دے دوزخ ميں-) رسول الله e سے دريافت كيا گيا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي النَّارِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي الْجَنَّةِ»]احمد[ (یا رسول اللہ فلاں عورت کا زیادہ نماز، روزے اور کثرت صدقہ وخیرات کی وجہ سے بڑا چرچا ہے یعنی لوگ کہتے ہیں کہ وہ عورت بہت زیادہ عبادت کرتی ہے اور کثرت سے صدقہ وخیرات کرتی رہتی ہے لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ "وہ دوزخ میں جائے گی۔ اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ فلاں عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت کم روزے رکھتی ہے بہت کم صدقہ دیتی ہے اور بہت کم نماز پڑھتی ہے اور حقیقت میں اس کا صدقہ وخیرات قروط کے چند ٹکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے ہمسائیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: وہ عورت جنت جائے گی۔).

اچھے اخلاق تمام مخلوقات کو شامل ہے- اس میں مسلم یا کسی غیر کی تفریق نہیں ہے- انسانیت میں سبھی بھائى بھائی ہیں۔ اسلئے الله تعالى فرماتا ہے: {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا} [اسراء:70] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﺁﺩﻡ ﻛﻮ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺸﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﯼ ﻛﯽ ﺳﻮﺍﺭﯾﺎﮞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﯽ ﺭﻭﺯﯾﺎﮞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔)- جب رسول الله e كسى شخص كے جنازے كے احترام كرنے كے لئے كهڑا ہو گئے اور صحابہ كرام نے كہا: يہ ايكـ يہودى كا جنازه ہے- تو رسول الله e نے فرمايا: «أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟» ]بروايت بخارى[ (كيا يہ نفس نہيں ہے؟)- الله تعالى فرماتا ہے: {وَلا تُجادِلُوا أَهْلَ الْكِتابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلهُنا وَإِلهُكُمْ واحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ{[عنكبوت: 46] (ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ ساتھ ﺑﺤﺚ ﻭﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻋﻤﺪﮦ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتھ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﺍﻋﻼﻥ ﻛﺮ ﺩﻭ ﻛﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺒﻮﺩ ايكـ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺑﺮﺍﺩﺭ ﮨﯿﮟ۔). مجاہد سے روايت ہے كہ عبد الله بن عمرو (رضى الله عنہما) كے ليے ان كے گهر ميں ايكـ بكرى ذبح كى گئى پهر جب وه آئے تو كہا كيا تم نے ہمارے ہمسايہ يہودى كو ہديہ بهيجا؟ ميں نے آنحضرتe كو كہ فرماتے تهے سُنا: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» ]ترمذى[ (جبرائيل عليہ السلام مجهے ہميشہ پڑوسيوں كے ساتهـ نيكـ سلوكـ كرنے كى تاكيد كرتے رہے يہاں تكـ كہ ميں نے گمان كيا كہ وه اس كو ميراث دلا ديں گےـ)

اچھے اخلاق صرف انسانوں تک ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اسكے دائرے میں حیوانات بھي شامل ہیں- اللہ تعالی نے کتے کو پانى پلانے کی وجہ سے ایک شخص کو جنت میں داخل فرمایا۔ ابو ہريره نے بيان كيا، وه رسول كريمe سے نقل كرتے ہيں- رسول الله e نے فرمايا: «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»]بخارى[ (كہ ايكـ شخص نے ايكـ كتے كو ديكها، جو پياس كى وجہ سے گيلى مٹى كها رہا تها- تو اس شخص نے اپنا موزه ليا اور اس سے پانى بهر كر پلانے لگا، حتى كہ اس كو خوب سيراب كر ديا- الله نے اس شخص كے اس كام كى قدر كى اور اسے جنت ميں داخل كر ديا-). اسكے برعكس ايكـ بلى كى وجہ سے ايكـ عورت كو عذاب ہوا- عبد الله بن عمر (رضى الله عنہما) نے بيان كيا كہ رسول الله e نے فرمايا: « عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»]بروايت بخارى[ (ايكـ بلى كى وجہ سے ايكـ عورت كو عذاب ہوا جسے اس نے اتنى دير تكـ باندهے ركها تها كہ وه بهوكـ كى وجہ سے مر گئى- اور وه عورت اسى وجہ سے دوزخ ميں داخل ہوئى- نبى كريمe نے فرمايا كہ الله تعالى نے اس سے فرمايا تها—- اور الله تعالى ہى زياده جاننے والا ہے—- كہ جب تو نے اس بلى كو باندهے ركها اس وقت تكـ نہ تو نے اسے كچھ كهلايا نہ پلايا اور نہ چهوڑا كہ وه زمين كے كيڑے مكوڑے ہى كها كر اپنا پيٹ بهر ليتى-).

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اخلاق اور معاشرے میں ترقي کریں تو ضرورى ہے کہ اچھے آڈیل اور نمونے کی پیروی کریں، اسلئے كہ اخلاق کے بنانے میں آڈیل اور نمونے کا بنیادی رول ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے: } لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا]{احزاب: 21[ (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ الله ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺪﮦ ﻧﻤﻮﻧﮧ (ﻣﻮﺟﻮﺩ) ﮨﮯ، ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﻛﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻜﺜﺮﺕ الله تعالى ﻛﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) بيشكـ باپ اپنی اولاد کیلئے نمونہ ہے- رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ بچہ اپنی صاف فطرت پر پیدا ہوتا ہے، جس پر اللہ تعالی نے ہرانسان کو پیدا کیا، پھر آڈیل اور نمونے آتے ہیں جو اسے اچھے یا برے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ … » (کوئی بچہ ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہیں ہوتا؛ لیکن ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔) پهر ابو ہريره (رضى الله عنہ) يہ آيت كريمہ پڑهتے ہيں:{فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ القَيِّمُ}[روم: 30] (ﭘﺲ ﺁﭖ يكـ ﺳﻮ ﮨﻮ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺩﯾﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ۔ الله تعالى ﻛﯽ ﻭﮦ ﻓﻄﺮﺕ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ، الله تعالى ﻛﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻛﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ ﻟﯿﻜﻦ ﺍﻛﺜﺮ ﻟﻮﮒ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ۔)

اسي طرح استاد اخلاق اور اچھائي میں اپنے شاگردوں کیلئے نمونہ ہے- کیوں کہ اسٹوڈنٹ ان سے اخلاق سیکھتے ہیں اور انکی پيروى کرتے ہیں- ایک دن امام شافعى ہارون الرشيد کے پاس گئے اور انکے ساتھ سراج الخادم تھے، تو انہیں ابو عبد الصمد کے پاس بیٹھا دیا جو کہ ہارون کے بیٹے کے استاد تھے- سراج نے امام شافعي سے کہا: اے ابو عبد اللہ یہ امیر المؤمنین کے بچے ہیں، اور یہ انکے استاد ہیں، تو آپ انہیں بچوں کى رعايت کریں، تو امام شافعي ابو عبد الصمد کے پاس گئے اور ان سے کہا: امیر المؤمنین کے بچوں کی اصلاح کی شروعات سے پہلے آپ اپنے نفس کی اصلاح کریں، اسلئے کہ انکی آنکھیں آپ کی آنکھ سے وابستہ ہے، تو جسے آپ اچھا سمجھیں گے انکے نزدیک وہ اچھا ہوگا، اور جسے آپ چھوڑ دینگے وہ کام انکے نزدیک برا ہوگا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اچھے اخلاق صرف افراد کی حد تک محدود نہیں ہیں، یہاں فردی اخلاق ہیں جسکا فرد اوامر اور نواہی میں اہتمام کرتا ہے- خانداني اخلاق ہے جیسے میاں بیوي کے درمیان، ماں باپ اور اولاد کے درمیان ، رشتہ داروں کے درمیان وغیرہ، اسی طرح معاشرتى اخلاق بھی ہے جسے خرید وفروخت میں، پڑوسیوں اور ساتھ میں کام کرنے والے دوستوں میں،۔۔۔ وغیرہ- ملکى اخلاق ہے جو ملکوں کے درمیان آپس میں ہوتا ہے، اور امن وسلامتى اور جنگ کے اخلاق بھی ہیں۔

انسان کے اچھے اخلاق میں مدد گار امور ميں سے اللہ تعالی کیلئے اخلاص ہے، پھر اچھے اخلاق کے لئے دعا کرنا ہے، نفس اور شہوتوں کے ساتھ مجاھدہ ہے اور ہمیشہ نفس کا محاسبہ ہے- اسى كے ساتهـ ساتهـ اس بات پر نظر ركهنا ضرورى ہے کہ برے اخلاق کا انجام کیا ہے اور فرد اور معاشرے پر اسكے کے منفى اثرات ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان کے چند نمونے
7 ربیع الاول 1437 ھ مطابق 18 دسمبر 2015ء

awkaf

پہلا: عناصر:

  1. تخليق كے آغاز ميں رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان۔
  2. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش سے پہلے آپ e کی عزت وشان-
  3. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان سب سے بہترين اور عزت دار نسل کے ذریعہ-
  4. رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نام کے ساتھ ساتھ نبوت ورسالت کے شرف سے خطاب-
  5. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت اور فرمانبردارى کا لازمى ہونا-
  6. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان اللہ تعالى کا آپ e کی حفاظت اپنے ذمہ خود لینا-
  7. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کى رسالت کا عام ہونا-
  8. رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا تمام جہان والوں کے لئے رحمت ہونا-

دوسرا: دليليں:

قرآن كريم ميں دليليں:

  • الله تعالى فرماتا ہے: {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِين}[آل عمران: 81]. (ﺟﺐ الله تعالى ﻧﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﻟﯿﺎ ﻛﮧ ﺟﻮ كچهـ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺩﻭﮞ ﭘﮭﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺭﺳﻮﻝ ﺁﺋﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻛﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺳﭻ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭﯼ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﻣﮧ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗھ ﮔﻮﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔) – [آل عمران: 81].
  • الله تعالى كا ارشاد ہے: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ}[البقرة:129]. (ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ! ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺑﮭﯿﺞ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﭘﮍﮬﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺳﻜﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ پاكـ ﻛﺮﮮ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻮ ﻏﻠﺒﮧ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) [البقرة:129].
  • ارشادِ بارئ تعالى ہے:{وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَابَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ}[الصف: 6] . (ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﺮﯾﻢ ﻛﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻋﯿﺴﲐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﺍﮮ (ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ)، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ! ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﺐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ الله كا ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ مجهـ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻛﯽ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ايكـ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ جنكا ﻧﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍن ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻛﮭﻠﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮭﻼ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔) [الصف: 6] .
  • الله تعالى فرماتا ہے:{مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا}[النساء: 80]. (ﺍﺱ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺟﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻛﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﻧﮯ الله تعالى ﻛﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ كچهـ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔) [النساء: 80].
  • الله تعالى فرماتا ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ }[آل عمران: 31]. ( ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﮯ! ﺍﮔﺮ ﺗﻢ الله تعالى ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ، ﺧﻮﺩ الله تعالى ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﮔﺎﺍﻭﺭ الله تعالى ﺑﮍﺍ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔) [آل عمران: 31].
  • الله تعالى كا ارشاد ہے:{يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}[المائدة: 67] . (ﺍﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺟﻮ كچهـ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﻛﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ الله ﻛﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻮ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺑﮯ شكـ الله تعالى كافر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔) [المائدة: 67] .
  • الله تعالى كا فرمان ہے:{ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ}[سبأ: 28]. (ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯾﺎﮞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ (ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ) ﻛﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﯽ ﺍﻛﺜﺮﯾﺖ ﺑﮯﻋﻠﻢ ﮨﮯ۔)
  • الله تعالى فرماتا ہے: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ}[الأنبياء: 107] . (ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﮩﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﮨﯽ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔) [الأنبياء: 107] .
  • الله تعالى كا ارشاد ہے: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}[الأحزاب:56]. (الله تعالى ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﺗﻢ (ﺑﮭﯽ) ﺍﻥ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺳﻼﻡ (ﺑﮭﯽ) ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔) [الأحزاب:56].
  • ارشاد بارئ تعالى ہے: {لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذاً فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ}[النور: 63]. (ﺗﻢ الله تعالى ﻛﮯ ﻧﺒﯽ ﻛﮯ ﺑﻼﻧﮯ ﻛﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻼﻭﺍ ﻧﮧ ﻛﺮﻟﻮ ﺟﯿﺴﺎ ﻛﮧ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ايكـ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ الله ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﺑﭽﺎ ﻛﺮ ﭼﭙﻜﮯ ﺳﮯ سركـ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺣﻜﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻛﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻛﻮﺋﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺁﻓﺖ ﻧﮧ ﺁ ﭘﮍﮮ ﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﺭﺩناكـ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔) [النور: 63].

سنتِ نبوى ميں دليليں:

  1. واثلہ بن اسقع سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: « ِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِى هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِى مِنْ بَنِى هَاشِمٍ » (اللہ جل جلالہ نے اسمعيل كى اولاد ميں كنانہ كو چنا اور قريش كو كنانہ ميں سے اور بنى ہاشم كو قريش ميں سے اور مجھ كو بنى ہاشم ميں سے-) [رواه مسلم].
  2. عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَہ سُلّمى سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: «… أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَة عِيسَى قَوْمَهُ ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ» (… میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ کا خواب ہوں جو کہ انہوں نے میری وقت ولادت دیکھا بے شک اُن سے ایک نور خارج ہوا جس سے اُن کے لئے شام کے محلات روشن ہو گئے۔) (مسند أحمد).
  3. ابو سَعِيد (رضي الله عنه) سے مروى ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ: كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي ) (میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے کہا: بے شک آپ کا اور میرا رب آپ سے اِستفسار فرماتا ہے: میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : (اے حبیب!) جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا ذکر میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔) (مجمع الزوائد للهيثمى).
  4. ابو ہريره (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) سے روايت ہے كہ انہوں نے نبى كريمe سے سنا آپe فرماتے تهے كہ: «مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ» (جس نے ميرى اطاعت كى اس نے الله كى اطاعت كى اور جس نے ميرى نافرمانى كى اس نے الله كى نافرمانى كى) [متفق عليه].
  5. حضرت انس (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) سے روايت ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (تم ميں سے كوئى شخص ايمان دار نہ ہو گا جب تكـ اس كے والد اور اس كى اولاد اور تمام لوگوں سے زياده اس كے دل ميں ميرى محبت نہ ہو جائے-) [متفق عليه].
  6. ابو ہريره t سے مروى ہے كہ رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: «إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ» (میں رحمت ہوں اور ہدایت دینے کے لیے آیا ہوں-) [رواه الحاكم في المستدرك].
  7. جَابِر بْنِ عَبْدِ اللهِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُما) سے روايت ہے كہ رسول اللهe نے فرمايا: "أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ.” (مجهے پانچ ايسى چيزيں عطا كى گئى ہيں جو مجھ سے پہلے انبياء كو نہيں دى گئى تهيں- (1) ايكـ مہينے كى راه سے ميرا رعب ڈال كر ميرى مدد كى گئى (2) ميرے لئے تمام زمين ميں نماز پڑهنے اور پاكى حاصل كرنے كى اجازت ہے- اس لئے ميرى امت كے جس آدمى كى نماز كا وقت (جہاں بهى) آ جائے اسے (وہيں) نماز پڑھ لينى چاہئے- (3) ميرے لئے مال غنيمت حلال كيا گيا- (4) پہلے انبياء خاص اپنى قوموں كى ہدايت كے لئے بهيجے جاتے تهے- ليكن مجهے دنيا كے تمام انسانوں كى ہدايت كے لئے بهيجا گيا ہے- (5) مجهے شفاعت عطا كى گئى ہے-") [بخارى].

تیسرا: موضوع:

اللہ تعالى نے رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کو ایسی عزت وشان عطا فرمائی کہ کسی کو بھی کائنات کی تخلیق سے لیکر اب تک اورنہ تو آپ کی پیدائش سے پہلے یا بعد میں اور نہیں آپ کی زندگی یا آپ کی وفات کے بعد کسی اور کو میسر ہوئی ہے۔

     تخلیق کے آغاز میں اللہ تعالى کی جانب سے اپنے رسول کی عزت وشان افزائی یہ ہے کہ اللہ نے اولین وآخرین کے درمیان آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند فرمایا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی نبی کو بھیجا ان سے عہد وپیمان لیا کہ اگر کسی نے بھی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پایا تو ضروری ہے کہ ان پر ایمان لائے اور انکی مدد کرے۔ الله تعالى فرماتا ہے: {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِين}[آل عمران: 81]. (ﺟﺐ الله تعالى ﻧﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﻟﯿﺎ ﻛﮧ ﺟﻮ كچهـ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺩﻭﮞ ﭘﮭﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺭﺳﻮﻝ ﺁﺋﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻛﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺳﭻ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭﯼ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﻣﮧ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗھ  ﮔﻮﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔) – [آل عمران: 81]-  اللہ تعالی نے اس عہد وپیمان کی شان یوں بڑھائی کہ نبیوں کے ساتھ خود اللہ نے اس کی گواہی دی-

تمام پچھلے انبیاء نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی۔ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَہ سُلّمى سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: «… أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَة عِيسَى قَوْمَهُ ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ» (… میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ کا خواب ہوں جو کہ انہوں نے میری وقت ولادت دیکھا بے شک اُن سے ایک نور خارج ہوا جس سے اُن کے لئے شام کے محلات روشن ہو گئے۔) (مسند أحمد).

     حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اللہ تعالی کے اس قول میں: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [البقرة: 129] (ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ! ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺑﮭﯿﺞ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﭘﮍﮬﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺳﻜﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ پاكـ ﻛﺮﮮ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻮ ﻏﻠﺒﮧ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) [البقرة:129].  ، وبشارة عيسى (عليه السلام) في قوله سبحانه : {وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ} (ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﺮﯾﻢ ﻛﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻋﯿﺴﲐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﺍﮮ (ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ)، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ! ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﺐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﹴ ﰷ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻛﯽ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﻚ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺟﻨﲀ ﻧﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﮞ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻛﮭﻠﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮭﻼ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔) [الصف: 6].

حضرت عیسی (عليه السلام) کی بشارت اللہ تعالی کے اس قول میں : {وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ} [الصف: 6]. (ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﺮﯾﻢ ﻛﮯ ﺑﯿﭩﮯ عيسى ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﺍﮮ (ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ)، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ! ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﺐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ الله كا ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ مجهـ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻛﯽ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ايكـ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ جنكا ﻧﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍن ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻛﮭﻠﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮭﻼ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔) [الصف: 6] .

 اللہ تعالى کا اپنے رسول کی پیدائش سے پہلے انکی عزت وشان افزائی یہ ہے کہ انکا نام محمد رکھا۔ حضرت آمنہ بنت وھب بیان کرتی تھی کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے پیٹ میں تھے تب انہوں نے کسی کہنے والے سے سنا جو ان سے کہہ رہا ہے: کہ تمہارے پیٹ میں اس امت کا سردار ہے جب وہ زمین پر آ جائے تو تم کہو: اس کو ہر حاسد کے شر سے اللہ واحد کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اسکا نام محمد رکھو- بلا شبہ تورات میں انکا نام احمد ہے، اہل عرش وفرش انکی ثنا خوانی کرتے ہیں، اور انجیل میں انکا نام احمد ہے، اہل عرش وفرش انکی ثنا کرتے ہیں، اور قرآن میں انکا نام محمد ہے، تو اسکا یہی نام رکھنا- (شعب الايمان بيهقى).

رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی شرافت ميں سے يہ ہے کہ آپ انسانوں میں سب سے شریف النسب ہیں۔ اسى موضوع پر الله تعالى كا فرمان ہے:{وَتَقَلُّبَكَ فِي الساجدين}(ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﯿﺮﺍ ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ۔) [الشعراء: 219 ]

حضرت ابن عباس (رضى الله عنہما) بیان کرتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ آپ ‎(صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے آباء واجداد آدم ونوح وابراھیم کے صلب سے ہوتے ہوئے سب سے شریف خاندان میں پیدا ہوئے (تفسیر ابن کثیر) تو آپ سب سے شریف النسب ہیں، اور عرب کے سب سے معزز گھرانہ سے ہیں، جاہلیت کی بربریت سے اللہ تعالی نے آپ کی حفاظت فرمایا، اور نسل در نسل پاکیزہ صلبوں سے پاکیزہ ارحام میں منتقل کرتا رہا، تو حضرت اسماعیل کی اولاد میں کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو، تو آپ چیدوں میں سے چیدہ تھے۔ واثلہ بن اسقع سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: « ِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِى هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِى مِنْ بَنِى هَاشِمٍ » (اللہ جل جلالہ نے اسمعيل كى اولاد ميں كنانہ كو چنا اور قريش كو كنانہ ميں سے اور بنى ہاشم كو قريش ميں سے اور مجھ كو بنى ہاشم ميں سے-) [رواه مسلم].

اللہ عزوجل کا اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت افزائی انکی زندگی میں یہ ہے کہ اللہ نے دنیا وآخرت میں آپ کے ذکر کو بلند فرمایا، کہ جو بھی شخص اللہ تعالی کا ذکر کرے گا وہ رسول اللہ کا ذکر ضرور کرے گا۔  الله تعالى فرماتا ہے: {وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ} (ﺍﻭﺭ ﮨم ﻨﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﺫﻛﺮ ﺑﻠﻨﺪ ﻛﺮ ﺩﯾﺎ)- ابو سَعِيد (رضي الله عنه) سے مروى ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ: كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ: إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي ) (میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے کہا: بے شک آپ کا اور میرا رب آپ سے اِستفسار فرماتا ہے: میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : (اے حبیب!) جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا ذکر میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔) (مجمع الزوائد للهيثمى).

بہت سے امور میں اللہ تعالی نے رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) کا نام خود اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا ہے، تو کسی کا اسلام قابل قبول ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اللہ کی ربوبیت کے ساتھ ساتھ اس کے رسول کی رسالت کی گواہی نہ دے- حضرت حسان بن ثابت (رضى الله عنہ) کہتے ہیں:

وضمَّ الإلهُ اسمَ النبيّ إلى اسمهِ إذا قَالَ في الخَمْسِ المُؤذِّنُ أشْهَدُ
وشــــقّ لهُ منِ اسمـــــهِ ليجلـــــــهُ فذو العرشِ محمودٌ ، وهذا محمـــدُ

يعنى اللہ نے اپنے نبی کے نام کو اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا، کہ مؤذن پانچ وقت کہتا ہے اشھد، اور انکی تکریم کیلئے خود اپنے نام سے انکا نام نکالا، تو صاحب عرش محمود ہے اور یہ محمد ہے۔

الله كى وحدانيت اور رسالت محمد e پر گواہى، اذان، اذانِ اقامت  اور خطبۂ جمعہ ميں رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) كے نام كا ذكر فرض ہے- قرآن مجيد ميں رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) كا ذكر آيا ہے- الله تعالى فرماتا ہے:{مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا}[النساء: 80]. (ﺍﺱ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺟﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻛﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﻧﮯ الله تعالى ﻛﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ كچهـ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔) [النساء: 80]- الله تعالى كا ارشاد ہے: {وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ} (ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺭﺳﻮﻝ (e) ﻛﯽ) [النساء: 59] ، فَمَنْ أَطَاعَ اللَّهَ وَلَمْ يُطِعْ الرَّسُولَ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ.  يعنى اگر كوئى شخص الله تعالى كى اطاعت كرتا ہے ليكن رسول الله كى اطاعت نہيں كرتا، تو اسكى الله كى اطاعت قبول نہيں ہوتا-

اللہ تعالی نے اپنی بیعت کو رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) کی بیعت کے ساتھ شامل فرمایا- الله تعالى ارشاد فرماتا ہے:{ إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ} (ﺟﻮ ﻟﻮﮒ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ) [الفتح:10]- اسلئے رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) کی اطاعت جنت سے سرفرازی کی علامت ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے:{وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔) [الأحزاب: 71]- اس موضوع پر قرآن مجيد ميں بعض اور آيتيں بهى ہيں- ابو ہريرهt سے روايت ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: (كُلُّ أُمَّتِي يَدخُلُونَ الجَنَّةَ إلاَّ مَنْ أبَى ) قيلَ : وَمَنْ يَأبَى يَا رَسُول الله ؟ قَالَ : ( مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أبَى) (بخارى)- (سارى امت جنت ميں جائے گى سوائے ان كے جنہوں نے انكار كيا- صحابہ كرام نے عرض كيا: يا رسول الله! انكار كون كرے گا؟ فرمايا كہ جو ميرى اطاعت كرے گا وه جنت ميں داخل ہو گا اور جو ميرى نافرمانى كرے گا اس نے انكار كيا-)  (بخارى).  حضرت عمر (رضي الله عنه)  حجر اسود كے پاس آئے اور اسے بوسہ ديا اور فرمايا: ( إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) يُقَبِّلَكَ مَا قَبَّلْتكَ ) (ميں خوب جانتا ہوں كہ تو صرف ايكـ پتهر ہے، نہ كسى كو نقصان پہنچا سكتا ہے نہ نفع- اگر رسول الله e كو تجهے بوسہ ديتے ہوئے ميں نہ ديكهتا تو ميں بهى كبهى تجهے بوسہ نہ ديتا-) (بخارى). اللہ تعالی کی اطاعت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اسی طرح اللہ عزوجل کا اپنے رسول کی عزت افزائی میں سے یہ بھی ہے کہ رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اللہ تعالی پر ایمان کا جزو بنا دیا، بلکہ رسول کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا ہے، اور رسول الله کی اتباع کو اپنی محبت کی علامت قرار دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ }[آل عمران: 31]. ( ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﮯ! ﺍﮔﺮ ﺗﻢ الله تعالى ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ، ﺧﻮﺩ الله تعالى ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺑﮍﺍ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔) [آل عمران: 31]. اسلئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حضرت انس (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) سے روايت ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (تم ميں سے كوئى شخص ايمان دار نہ ہو گا جب تكـ اس كے والد اور اس كى اولاد اور تمام لوگوں سے زياده اس كے دل ميں ميرى محبت نہ ہو جائے-) [متفق عليه].

          صرف يہى نہيں بلکہ بندے کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ہے جب تک کہ وہ رسول اللہ کی محبت کو اپنی جان جو اس کے پہلو میں ہے اور اپنی اولاد اور تمام لوگوں کی محبت پر مقدم نہ کرے۔ عبد اللہ بن ہشام سے روايت ہے انہوں نے بيان كيا كہ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) وَهْوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلاَّ مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): «لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ » فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : فَإِنَّهُ الآنَ وَاللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ (صلى الله عليه وسلم) : « الآنَ يَا عُمَرُ. » (ہم نبى كريمe كے ساتھ تهے اور آپ e عمر بن خطابt كا ہاتھ پكڑے ہوئے تهے- عمرt نے عرض كيا، يا رسول الله! آپ مجهے ہر چيز سے زياده عزيز ہيں، سوا ميرى اپنى جان كے- آنحضرتe نے فرمايا نہيں، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے- (ايمان اس وقت تكـ مكمل نہيں ہو سكتا) جب ميں تمہيں تمہارى اپنى جان سے بهى زياده عزيز نہ ہو جاؤں- عمر t نے عرض كيا پهر والله! اب آپ مجهے ميرى اپنى جان سے بهى زياده عزيز ہيں- آنحضرتe نے فرمايا، ہاں، عمر! اب تيرا ايمان پورا ہوا-).[ بخارى]

جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اس شخص کے شرف ومنزلت کیلئے یہ کافی ہے کہ قیامت کے دن اسکا حشر رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگا۔ اور اس سے بڑھ کر کوئی عزت وشرف کا مقام نہیں ہو سکتا ہے۔ حضرت انس t بن مالكـ نے بيان كيا كہ ايكـ دفعہ ميں اور رسول الله e مسجد سے نكل رہے تهے كہ ايكـ صاحب (ذو الخويصره يا ابو موسى) نے رسول اللهe سے قيامت كے بارے ميں پوچها كہ اے رسول الله! قيامت كب قائم ہو گى؟ اس پر رسول الله e نے فرمايا: « مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟» فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ ، وَلاَ صَلاَةٍ ، وَلاَ صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ : «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ».[رواه البخاري]- ( تم نے قيامت كے لئے تيارى كيا كى ہے؟ انہوں نے عرض كيا: كچھ بهى نہيں، سوا اس كے كہ ميں الله اور اس كے رسول سے محبت ركهتا ہوں- آنحضرتe نے فرمايا كہ پهر تمہارا حشر بهى انہيں كے ساتھ ہو گا جن سے تمہيں محبت ہے-) (بخارى)-

رسول اللہ کی عزت وشان کی اعلی مثال میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو آپکے نام کے ساتھ مخاطب نہیں فرمایا جیسا کہ پچھلے تمام نبیوں کو مخاطب کیا ہے- پرورگار عالم ہر نبی کو صرف انکے نام سے مخاطب کرتا تھا۔ مثلا الله تعالى فرماتا ہے: { يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﺁﺩﻡ! ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ) [البقرة 35]- ارشادِ بارئ تعالى ہے: { يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ} (ﻛﮧ ﺍﮮ عيسى! ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ) [آل عمران 55]- الله تعالى كا ارشاد ہے: { يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻧﻮﺡ! ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﺮﻛﺘﻮﮞ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﺗﺮ، ﺟﻮ تجهـ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ) [هود 48]- { يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﲐ! ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ الله ﮨﻮﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﮩﺎﻧﻮﮞ كا ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ۔) [القصص 30]، { يَا يَحْيَى خُذْ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ} (ﺍﮮ يحيى ! ﻣﯿﺮﯼ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﻮ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﺎﻡ ﻟﮯ) [مريم 12] ، {يَا مُوسَى * إِنِّي أَنَا رَبُّكَ } (ﺍﮮ موسى! (١٢) ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮨﻮﮞ) [طه: 11، 12] ، {يَا إِبْرَاهِيمُ * قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ! (١٠٥) ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻛﻮ ﺳﭽﺎ ﻛﺮ ﺩﻛﮭﺎﯾﺎ، بيشكـ ﮨﻢ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺰﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) [الصافات: 104، 105]، {يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا } (ﺍﮮ ﺯﻛﺮﯾﺎ ! ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ايكـ ﺑﭽﮯ ﻛﯽ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ كا ﻧﺎﻡ يحيى ﮨﮯ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ كا ﮨﻢ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻛﺴﯽ ﻛﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯿﺎ۔) [مريم: 7].

     لیکن خاتم الانبیاء محمد صل اللہ علیہ وسلم کو ایسے القاب وآداب سے مخاطب کیا گيا جو انکی نبوت ورسالت کے شرف پر دلالت کرتے ہیں۔ الله تعالى فرماتا ہے: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} (ﺍﮮ ﻧﺒﯽ! ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺁﭖ ﻛﻮ (ﺭﺳﻮﻝ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ) ﮔﻮﺍﮨﯿﺎﮞ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ، ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯾﺎﮞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ، ﺁﮔﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔) [الأحزاب: 45] – ارشادِ بارى ہے:{يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ} (ﺍﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺟﻮ كچهـ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﻛﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ الله ﻛﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻮ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺑﮯ شكـ الله تعالى كافر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔) [المائدة: 67]-  اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ عزوجل نے امت کو منع کیا کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا نام لیکر آپ کو پکارا جا‎ئے، جیساکہ دیگر امتیں اپنے نبیوں کو انکے نام سے پکارتی تھیں، اور اسکی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی دی ہے۔ ارشاد بارئ تعالى ہے: {لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذاً فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ}[النور: 63]. (ﺗﻢ الله تعالى ﻛﮯ ﻧﺒﯽ ﻛﮯ ﺑﻼﻧﮯ ﻛﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻼﻭﺍ ﻧﮧ ﻛﺮﻟﻮ ﺟﯿﺴﺎ ﻛﮧ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ايكـ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ الله ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﺑﭽﺎ ﻛﺮ ﭼﭙﻜﮯ ﺳﮯ سركـ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺣﻜﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻛﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻛﻮﺋﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺁﻓﺖ ﻧﮧ ﺁ ﭘﮍﮮ ﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﺭﺩناكـ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔) [النور: 63].

اسی طرح اللہ عزوجل کا اپنے رسول کی عزت افزائی میں سے آپ e کی اتباع اور پیروی کا واجب ہونا ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا} (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ الله ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺪﮦ ﻧﻤﻮﻧﮧ (ﻣﻮﺟﻮﺩ) ﮨﮯ، ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﻛﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻜﺜﺮﺕ الله تعالى ﻛﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) [الأحزاب:21]. یہ آیت کریمہ رسول اللہ e کے اقوال وافعال اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے احوال کی اتباع اور پیروی کے وجوب کی بڑی دلیل ہے- كيا ہم لوگ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں؟

          اللہ عزوجل کا اپنے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی میں سے یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے اپنی کتاب میں ان پر درود بھیجا ہے، اور انکے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں اور مؤمنوں کو بھی اسکی ترغیب دیا ہے کہ وہ بھی نبی صلى اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔ الله تعالى كا ارشاد ہے: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}[الأحزاب:56]. (الله تعالى ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﺗﻢ (ﺑﮭﯽ) ﺍﻥ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺳﻼﻡ (ﺑﮭﯽ) ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔) [الأحزاب:56].

اسی طرح اللہ تعالى کا اپنے رسول e کی عزت افزائی میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انکی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے، جبکہ دیگر انبیاء کے سلسلے میں یہ بات نہیں ہے- نبیوں پر انکی قوم نے الزام لگایا تو وہ خود اپنا دفاع کرتے تھے- حضرت نوح کو انکی قوم نے گمراہی کا الزام لگایا۔ اس بات كے بارے ميں قرآن كريم فرماتا ہے: { قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ } (ﺍﻥ ﻛﯽ ﻗﻮﻡ ﻛﮯ ﺑﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﮨﻢ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺻﺮﯾﺢ ﻏﻠﻄﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) [الأعراف : 60]- نوح u خود اپنا دفاع كرتے ہيں- ارشادِ بارى ہے: { يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ * أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ! مجهـ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﯿﻜﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻋﺎﻟﻢ كا ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ۔ (٦٢) ﺗﻢ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻛﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﯿﺮ ﺧﻮﺍﮨﯽ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ الله ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺍﻣﻮﺭ ﻛﯽ ﺧﺒﺮ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻦ ﻛﯽ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔) [الأعراف: 61 – 62]- قوم ہود u نے انہيں u حماقت اور جھوٹ کا يہ الزام لگایا: {إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ} [الأعراف: 66] ۔ (ﺍﻥ ﻛﯽ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮍﮮ ﻟﻮﮒ كافر ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﮨﻢ ﺗﻢ ﻛﻮ ﻛﻢ ﻋﻘﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺑﮯ شكـ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) [الأعراف: 66] تو انہوں نے خود اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا: {يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (67) أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ } (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ! مجهـ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﻛﻢ ﻋﻘﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻜﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻋﺎﻟﻢ كا ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﻮﮞ۔ (٦٨) ﺗﻢ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻛﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﻣﺎﻧﺘﺪﺍﺭ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮦ ﮨﻮﮞ۔) [الأعراف :67، 68].

لیکن خاتم الانبیاء محمد e کی قوم نے جب جب انہيں بہتان تراشی کی اور ان پر جھوٹا الزام لگایا تو اللہ تعالی نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے دفاع کی ذمہ داری خود لے لی- جب قوم نے ان پر شاعر ہونے کا الزام لگایا، ارشاد بارى ہے: { بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلْ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُونَ}[الأنبياء 5] (ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﻜﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺮﺍﮔﻨﺪﮦ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ كا ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ ﺑﻠﻜﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺯ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﮯ ﮔﮭﮍ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﻜﮧ ﯾﮧ ﺷﺎﻋﺮ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﻻﺗﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻛﮧ ﺍﮔﻠﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ-) [الأنبياء 5]- تو اللہ تعالی نے آپ کی طرف سے جواب دیا- الله تعالى كا ارشاد ہے: { وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ} [يس:70]. (ﻧﮧ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﻛﻮ ﺷﻌﺮ ﺳﻜﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺿﺢ ﻗﺮﺁﻥ ﮨﮯ۔) [يس:69]-

جب كفار نے کہا کہ يہ  کاہن ہیں وہی بکتے ہیں جو شیطان انکو بتاتا ہے، تو اللہ تعالی نے انکو یوں جواب دیا: {فَذَكِّرْ فَمَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلا مَجْنُونٍ} (ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﻛﯿﻮﻧﻜﮧ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺗﻮ كاہن ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ) [الطور 29] تو اللہ تعالی نے نبی کے دفاع میں قسم کھائی، اور اس سے بڑھ کر عظیم کوئی قسم نہیں ہوسکتی، اور قرآن اور وحی کے سچ ہونے کی تصدیق اور انکے اتہام اور افتراء کے رد میں یوں فرمایا: { فَلا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ* وَمَا لا تُبْصِرُونَ * إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ * وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَا تُؤْمِنُونَ * وَلا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَا تَذَكَّرُونَ * تَنزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ} (ﭘﺲ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﯽ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﮨﻮ۔ (٣٩) ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﯽ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ۔ (٤٠) ﻛﮧ بيشكـ ﯾﮧ (ﻗﺮﺁﻥ) ﺑﺰﺭﮒ ﺭﺳﻮﻝ كا ﻗﻮﻝ ﮨﮯ۔ (٤١) ﯾﮧ ﻛﺴﯽ ﺷﺎﻋﺮ كا ﻗﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ (ﺍﻓﺴﻮﺱ) ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻛﻢ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ۔ (٤٢) ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻛﺴﯽ كاہن كا ﻗﻮﻝ ﮨﮯ، (ﺍﻓﺴﻮﺱ) ﺑﮩﺖ ﻛﻢ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ۔ (٤٣) (ﯾﮧ ﺗﻮ) ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ كا ﺍﺗﺎﺭﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔) [الحاقة 38-43] .

جب ان لوگوں نے کبھی یہ کہا کہ جادوگر ہیں تو اللہ نے ان الفاظ میں جواب دیا:{ كَذَلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ } (ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺁﯾﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﮧ ﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔) [الذاريات: 52] – اور کبھی یہ کہا کہ ان پر جادو کا اثر ہے تو اللہ تعالی نے ان الفاظ میں جواب دیا:{وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلاً مَسْحُوراً * انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلاً} (ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﻛﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮ ﻟﺌﮯ ﮨﻮ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺟﺎﺩﻭ ﻛﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ (٩) ﺧﯿﺎﻝ ﺗﻮ ﻛﯿﺠﯿﺌﮯ! ﻛﮧ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﻛﯿﺴﯽ ﻛﯿﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﺲ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ بہكـ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﻜﺘﮯ۔) [الفرقان 8-9] – جب ان لوگوں نے کہا کہ پاگل ہیں، تو اللہ تعالی نے انکا یوں جواب فرمایا:{أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ} (ﯾﺎ ﯾﮧ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺍﺳﮯ ﺟﻨﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﺑﻠﻜﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﻖ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻛﺜﺮ ﺣﻖ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔) [المؤمنون 70]- اور ارشاد ہے: ﴿ ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ * مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ * وَإِنَّ لَكَ لأَجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ * وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ} (ﻥ، ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﻗﻠﻢ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺟﻮ كچهـ ﻛﮧ ﻭﮦ (ﻓﺮﺷﺘﮯ) ﻟﻜﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔  (٢) ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔  (٣) ﺍﻭﺭ ﺑﮯ شكـ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍﺟﺮ ﮨﮯ۔ (٤) ﺍﻭﺭ بے شكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔) [القلم 1-4].

جب اس قوم نے ان پر گمراہی اور کج روی کا الزام لگایا تو اللہ نے انکو یوں جواب دیا: {وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى * مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى * وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى * إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى} (ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﻛﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔﺮﮮ۔  (٢) ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺭﺍﮦ ﮔﻢ ﻛﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻭﮦ ﭨﯿﮍﮬﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﮨﮯ۔  (٣) ﺍﻭﺭﻧﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٤) ﻭﮦ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔) [النجم: 1 – 4]- بلکہ اللہ تعالی نے مشرکین سے آپ e کی حفاظت اور آپ e کی حمایت اور تایید خود اپنے ذمہ لے لیا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ} (ﺍﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺟﻮ كچهـ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﻛﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ الله ﻛﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻮ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺑﮯ شكـ الله تعالى كافر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔) [المائدة: 67] .

اسی طرح اللہ تعالی کی جانب سے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی میں سے آپ e کی رسالت کا عام ہونا بھی ہے، کہ آپ e کی رسالت کسی خاص نسل یا کسی خاص قوم تک منحصر نہیں ہے، بلکہ یہ رسالت تمام لوگوں کیلئے عام ہے- اللہ تعالی نے ہر امت کیلئے مخصوص نبی بھیجا، اور ہمارے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کیلئے عام بنا کر بھیجا، اور قرآن کریم نے اس بات کی وضاحت کی ہے۔ ارشاد بارى ہے: :{ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ}[سبأ: 28]. (ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯾﺎﮞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ (ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ) ﻛﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﯽ ﺍﻛﺜﺮﯾﺖ ﺑﮯﻋﻠﻢ ﮨﮯ۔) جَابِر بْنِ عَبْدِ اللهِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُما) سے روايت ہے كہ رسول اللهe نے فرمايا:  "أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ.” (مجهے پانچ ايسى چيزيں عطا كى گئى ہيں جو مجھ سے پہلے انبياء كو نہيں دى گئى تهيں- (1) ايكـ مہينے كى راه سے ميرا رعب ڈال كر ميرى مدد كى گئى (2) ميرے لئے تمام زمين ميں نماز پڑهنے اور پاكى حاصل كرنے كى اجازت ہے- اس لئے ميرى امت كے جس آدمى كى نماز كا وقت (جہاں بهى) آ جائے اسے (وہيں) نماز پڑھ لينى چاہئے- (3) ميرے لئے مال غنيمت حلال كيا گيا- (4) پہلے انبياء خاص اپنى قوموں كى ہدايت كے لئے بهيجے جاتے تهے- ليكن مجهے دنيا كے تمام انسانوں كى ہدايت كے لئے بهيجا گيا ہے- (5) مجهے شفاعت عطا كى گئى ہے-") [بخارى].

اللہ تعالی کی جانب سے آپ کی عزت افزائی میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو دیگر انبیاء علیہ السلام پر فضیلت دی ہے، تو اللہ سبحانہ وتعالی نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء اور رسول پر افضلیت بخشی ہے۔ یہ بات قرآن کریم میں اللہ تعالی کے اس قول سے واضح ہے:{ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ للَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ” (ﯾﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻌﺾ ﻛﻮ ﺑﻌﺾ ﭘﺮ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﻌﺾ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ الله تعالى ﻧﮯ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﻛﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻛﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻛئے ﮨﯿﮟ) (البقرة/253)- اس بات پر محققین اور مفسرین علماء کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالی کے قول: { وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ} (ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻛﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻛئے ﮨﯿﮟ) سے مراد محمد صلى اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لئے کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی شخصیت عالی مقام ہے- آپ صلى اللہ علیہ وسلم  پر زندہ وجاوید معجزہ قرآن كريم اتارا ہے- رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی رسالت گزشتہ رسالتوں کی خوبیوں کو یکجا کرنے والی رسالت ہے-

مسلم اور ترمذى ميں يہ حديث ہے: ابو ہريره t سے مروى ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: (فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ – وفي رواية البخاري: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِيَ الغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ). (مجھے انبياء پر چھـ امور ميں فضيلت دى گئى ہے: مجھے جامع كلمات دئے گئے، رعب ودبدبہ سے ميرى مدد كى گئى” بخارى ميں آيا” ايكـ مہينے كى راه سے ميرا رعب ڈال كر ميرى مدد كى گئى ” اور ميرے لئے مالِ غنيمت حلال كيا گيا، زمين ميرے لئے سجده گاه اور پاكــ وصاف بنائى گئى، ميں تمام مخلوقات كے لئے بھيجا گيا اور مجھـ پر نبيوں كا سلسلہ ختم ہوگياـ)

اسی طرح اللہ تعالی کی جانب سے رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ آپ e کے زنگی کی قسم کھائی ہے جبکہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اس نے کسی بھی انسان کی قسم کبھی بھی نہیں کھائی- اللہ تعالی کسی چیز کی تاکید کیلئے اسکی قسم کھاتا ہے- الله تعالى بہت سی چیزوں کی قسم کھاتا ہے، جیسے جمادات، جانور، فرشتوں کی ، زمان ومکان كى اور مظہر کونی وغیرہ کی- لیکن اللہ تعالی نے قرآن میں کسی انسان کی قسم نہیں کھائی ہے سوائے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے- اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ” [الحجر: 72] (ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﻛﯽ ﻗﺴﻢ ! ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﮞ ﺗﮭﮯ۔) [الحجر: 72] یعنی: آپ کى زندگی کی قسم ائے محمد بلاشبہ وہ لوگ اس چیز سے غفلت میں ہیں جو انہیں لاحق ہونے والی ہے- بے شک وہ گمراہی اور حیرت میں ہیں خود انہیں اپنا راستہ بھی معلوم نہیں ہے اور حق سے ناواقف ہیں- جب مشرکین نے یہ سوچا کہ اللہ تعالی نے محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا ہے تو اللہ تعالی نے قسم کھا کر کہا کہ نہیں ہم نے ان سے ہاتھ نہیں اٹھایا ہے اور انہیں نہیں چھوڑا ہے- ارشاد بارى ہے:{وَالضُّحَى * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى * وَلَلآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنْ الأُولَى * وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} (ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﭼﺎﺷﺖ ﻛﮯ ﻭﻗﺖ ﻛﯽ۔  (٢) ﺍﻭﺭ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﺟﺐ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔  (٣) ﻧﮧ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔  (٤) ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺁﻏﺎﺯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﮔﺎ۔ (٥) ﺗﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ (ﺍﻧﻌﺎﻡ) ﺩﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺭﺍﺿﯽ (ﻭﺧﻮﺵ) ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔) [الضحى:1-5].

          اللہ تعالی نے رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم (وفات ہونے كے بعد بهى) کی عزت دى ہے کہ قيامت كے دن آپ e سب سے پہلے شفاعت كريں گے- بخارى اور مسلم ميں يہ حديث ہے: ابو ہريرهt سے روايت ہے كہ رسول اللهe نے فرمايا: « أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ » (ميں اولاد آدم كا سردار ہوں گا قيامت كے دن اور سب سے پہلے ميرى قبر پهٹے گى اور سب سے پہلے ميں شفاعت كروں گا اور سب سے پہلے ميرى شفاعت قبول ہو گى-).

آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو سارے جہاں کیلئے رحمت بنایا- ارشاد ہے:{وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ}(ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﮩﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﮨﯽ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔) (الأنبياء: 107)- ابو ہريره (رضى الله عنہ) سے مروى ہے كہ  رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ» (میں رحمت ہوں اور ہدایت دینے کے لیے آیا ہوں-) [رواه الحاكم في المستدرك]، ايكـ اور روايت ميں ہے :«بُعِثْتُ رَحْمَةً مُهْدَاةً» (رحمت اور ہدايت دينے كے لئے مجهے بهيجا گيا)-

تباہ کن دعوتوں کی سنگینی اور امن وامان کیلئے انکے تعاقب کی ضرورت
29 صفر 1437ہجرى مطابق 11 دسمبر 2015 ء

awkaf

پہلا: عنصر

1: امن اور استحكام کی نعمت۔

2: وطن کا استحكام شرعی اور قومى ضرورت۔

3: وطن كے استحكام کے چند اسباب:

الف- اپنے وطن سے انسان كى محبت۔

ب- لوگوں کے درمیان تعاون اور محبت عام ہونا

ج: اللہ تعالى کی اطاعت اور وطن کی خدمت كے لئے حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت-

4۔ فتنوں سے خبر دار كرنا-

5۔ سماج اور افراد کی زندگی میں تباہ کن دعوتوں کی سنگینی ۔

6۔ ان دعوتوں کے تعاقب کی ضرورت۔

دوسرا: دليليں:

  • قرآن كريم ميں دليليں:
  • الله تعالى فرماتے ہيں: )وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ( (ﺟﺐ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ، ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺗﻮ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺷﮩﺮ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻛﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﻛﻮ) (بقره: 126).
  • الله تعالى فرماتا ہے: "وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ”(ابراہيم:35). ((ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻛﯽ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﻭ) ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﻛﻮ ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺩﮮ۔).
  • الله تعالى فرماتے ہيں: ) الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ( (ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻛﻮ ﺷﺮكـ ﻛﮯ ساتهـ ﻣﺨﻠﻮﻁ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮﺗﮯ، ﺍﯾﺴﻮﮞ ﮨﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻣﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔) (انعام: 82).
  • الله تعالى فرماتے ہيں: ” لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ * إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ * فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ* الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ ” (قريش:1-4). (ﻗﺮﯾﺶ ﻛﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ۔ (2) (ﯾﻌﻨﯽ ) ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻣﯽ ﻛﮯ ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ۔ (ﺍﺱ ﻛﮯ ﺷﻜﺮﯾﮧ ﻣﯿﮟ )۔ (3) ﭘﺲ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﻛﮧ ﺍﺳﯽ ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔ (4) ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻙ ﻣﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮈﺭ(ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ) ﻣﯿﮟ ﺍﻣﻦ (ﻭﺍﻣﺎﻥ ) ﺩﯾﺎ۔ (
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ(القصص: 57). ((ﻛﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻣﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻣﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ؟ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﮯ ﭘﮭﻞ ﻛﮭﭽﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﻄﻮﺭ ﺭﺯﻕ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﻜﻦ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻛﺜﺮ كچهـ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ۔)
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنا حَرَماً آمِناً وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْباطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ (عنكبوت: 67).((ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﻛﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺣﺮﻡ ﻛﻮ ﺑﺎ ﺍﻣﻦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺣﺎﻻﻧﻜﮧ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﭼﻚ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﺷﻜﺮﯼ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔)
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ ((ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﺴﺘﯿﻮﮞ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺮﻛﺖ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻨﺪ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ (ﺁﺑﺎﺩ) ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﺮﺭﺍﮦ ﻇﺎﮨﺮ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯ ﻛﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﻛﺮﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺑﮧ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻣﺎﻥ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ۔) (سبا: 18).
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ((ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻛﮧ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﰷﻓﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﭘﺮ ﻟﺸﻜﺮ ﺟﻤﻊ ﻛﺮ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﻛﮭﺎ﯃ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﹴ ﰷﻓﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﰷﺭﺳﺎﺯﮨﮯ۔) (آل عمران:173).
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ ( (ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺑﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ! ﻛﮧ ﺟﻮ ﺧﺎﺹ ﻛﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻛﮯﻣﺮﺗﻜﺐ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺭﻛﮭﻮ ﻛﮧ ﺍﹴ ﺳﺨﺖ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (انفال:25).
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) إِنَّ الذين يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ((ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺣﯿﺎﺋﯽ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﻛﮯ ﺁﺭﺯﻭﻣﻨﺪ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﯿﮟ،ﺍﹴ ﺳﺐ ﻛﭽﮫ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻛﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ۔) (نور:19).
  • الله تعالى فرماتا ہے: )يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ((ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻝ۔ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﯽ۔ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻛﺮﻭ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﭨﺎﻭﺀ، ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ، ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﺘﺒﺎﺭ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻛﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔) (نساء:59).
  • الله تعالى فرماتا ہے: )وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا ((ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺧﺒﺮ ﺍﻣﻦ ﻛﯽ ﯾﺎ ﺧﻮﻑ ﻛﯽ ﻣﻠﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻛﺮﻧﺎﺷﺮﻭﻉ ﻛﺮ ﺩﯾﺎ،ﺣﺎﻻﻧﻜﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﯽ ﺗﮩﮧ ﺗﻚ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﻛﺮ ﺩﯾﺘﮯ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺟﻮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﰷ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﻣﻌﺪﻭﺩﮮ ﭼﻨﺪ ﻛﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﻢ ﺳﺐ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭﰷﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ۔) (نساء: 83).

سنت نبوى e ميں دليليں:

  • عبيد الله سے مروى ہے، رسول الله e نے فرمايا: (مَنْ أصْبَحَ مِنْكُمْ آمِناً في سربِهِ ، مُعَافَىً في جَسَدِهِ ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ ، فَكَأنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا) (رواه الترمذي). (جس نے صبح كى تم ميں سے فارغ البالى اور خوش حالى كے ساتھ اپنے نفس پر تندرستى كے ساتھ اپنے جسد سے اس كے پاس قوت ہے اس دن كا تو اس كے ليے گويا سب دنيا سميٹى گئى-)
  • ابن عباس رضى الله عنہما سے روايت ہے كہ انہوں نے سنا :ميں نے رسول خدا e سے كہ فرماتے تهے: «عَيْنَانِ لاَ تَمَسُّهُمَا النَّارُ : عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ».[رواه الترمذي]. (دو آنكهيں كبهى نہ لگے گى ان كو آگ ايك وه آنكھ كہ روئى ہے الله كے خوف سے دوسرى وه كہ رات كاٹى اس نے پہره ديتے ہوئے الله كى راه ميں-)
  • عبد الله بن عدى سے روايت ہے كہ انہوں نے كہا ميں نے ديكها رسولِ خدا e كو حروره كے اوپر كهڑے ہوئے اور فرماتے تهے كہ: « وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ » (مسند أحمد والترمذي). ( قسم ہے الله كى اے مكّہ تو بہتر ہے الله كى سارى زمين سے اور پيارا ہے سارى زمين سے الله كو اور اگر ميں نہ نكالا جاتا تو ہرگز تجھ سے باہر نہ جاتا-)
  • ابن عباس رضى الله عنہما سے روايت ہے كہ رسولِ خدا e نے  مكّہ سے  فرمايا كہ: « مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَىَّ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ » (رواه الترمذي). ( تو كيا اچها شہر ہے اور مجھ كو سب سے زياده پيارا ہے اور اگر ميرى قوم مجهے نہ نكالتى تو ميں سوا تيرے كہيں نہ رہتا-)
  • روايت ہے كہ عائشہ رضى الله عنہا نے كہا ہے كہ نبى كريم e نے فرمايا: « اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ».[رواه البخاري]. ("اے الله! ہمارے دل ميں مدينہ كى ايسى ہى محبت پيدا كر دے جيسى تو نے مكہ كى محبت ہمارے دل ميں پيدا كى ہے "-)
  • ابو ہريرهt سے روايت ہے  كہ  انہوں نے نبى كريمe سے سنا آپe فرماتے تهے كہ : « مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ، وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا، وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ » [رواه البخاري]. (جس نے ميرى اطاعت كى اس نے الله كى اطاعت كى اور جس نے ميرى نافرمانى كى اس نے الله كى نافرمانى كى اور جس نے امير كى اطاعت كى اس نے ميرى اطاعت كى اور جس نے امير كى نافرمانى كى، اس نے ميرى نافرمانى كى- امام كى مثال ڈهال جيسى ہے كہ اس كے پيچهے ره كر اس كى آڑ ميں (يعنى اس كے ساتھ ہو كر) جنگ كى جاتى ہے اور اسى كے ذريعہ (دشمن كے حملے سے) بچا جاتا ہے، پس اگر امام تمہيں الله سے ڈرتے رہنے كا حكم دے اور انصاف كرے اس كا ثواب اسے ملے گا، ليكن اگر بے انصافى كرے گا تو اس كا وبال اس پر ہو گا-)
  • ابو ہريره t سے روايت ہے، رسول اللهؐ نے فرمايا : « مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِى يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِي لِذِى عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ».[رواه مسلم]. (جو شخص حاكم كى اطاعت سے باہر ہو جائے اور جماعت كا ساتھ چهوڑدے پهر وه مرے تو اس كى موت جاہليت كى سى ہو گى اور جو شخص اندهے جهنڈے كے تلے لڑے (جس لڑائى كى درستى شريعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو) غصہ ہو قوم كے لحاظ سے يا بلاتا ہو قوم كى طرف يا مدد كرتا ہو قوم كى اور خدا كى رضا مندى مقصود نہ ہو پهر مارا جائے تو اس كا مارا جانا جاہليت كے زمانے كاسا ہو گا اور جو شخص (ميرى امت پر) دست درازى كرے اور اچهے اور بروں كو ان ميں كے قتل كرے اور مومن كو بهى نہ چهوڑے اور جس سے عہد ہوا ہو اس كا عہد پورا نہ كرے تو وه مجھ سے علاقہ نہيں ركهتا اور ميں اس سے تعلق نہيں ركهتا (يعنى وه مسلمان نہيں ہے)-
  • ابو ہريره t نے كہا كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا:  « سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الماشي ، والماشي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الساعي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ»[متفق عليه]. «فتنوں كا دور جب آئے گا تو اس ميں بيٹهنے والا كهڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا- كهڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس ميں جهانكے گا فتنہ بهى اسے اچك لے گا اور اس وقت جسے جہاں بهى پناه مل جائے بس وہيں پناه پكڑ لے تاكہ اپنے دين كو فتنوں سے بچا سكے»-

تیسرا: موضوع۔

        انسان پر اللہ تعالی کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت امن وامان کی نعمت ہے، اس کے بغیر انسان کو چین وسکون ، اور اسکے نفس کو قرار نہیں مل سکتا، اور انسان کو زندگی راس نہیں آسکتی گرچہ اسے پوری دنیاہی کیوں نہ مل جائے- تو دنیا اور اسکے نعمتوں کی خوشبختی امن واستقرار کے حصول میں ہے- رسول الله e نے فرمايا: (مَنْ أصْبَحَ مِنْكُمْ آمِناً في سربِهِ ، مُعَافَىً في جَسَدِهِ ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ ، فَكَأنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا) (رواه الترمذي) «جس نے صبح كى تم ميں سے فارغ البالى اور خوش حالى كے ساتھ اپنے نفس پر تندرستى كے ساتھ اپنے جسد سے اس كے پاس قوت ہے اس دن كا تو اس كے ليے گويا سب دنيا سميٹى گئى»-

تو روئے زمین کی تمام مخلوقات کی چاہت امن واستحكام کی نعمت کا حصول ہے، حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اسے اپنے اہل خانہ اور قوم کیلۓ مانگا، الله تعالى فرماتا ہے: )رَبِّ اجْعَلْ هَـَذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ( (ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺗﻮ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺷﮩﺮ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻛﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﻛﻮ ﺟﻮ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﻛﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮﮞ) (بقره: 126). تو جب حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ سے دعا مانگا کہ مکہ میں امن اور رزق کی نعمت نازل فرما، تو امن کو رزق پر مقدم کیا- کیوںکہ اگر امن ختم ہوجائے تو رزق کی لذت باقی نہیں رہتی، تو انسان امن کے ذریعہ زندگی کی قیمت کو محسوس کرتا ہے، اللہ نے اپنے نبی اور خلیل علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا، اور اپنے ارادہ اور مشیئت سے مکہ کو امن وامان اور اسلام کا شہر بنا دیا، اور یہ ابراھیم علیہ السلام کی دعا کی برکت ہے، بلکہ انہوں نے امن کی نعمت کو عبادت اور توحید پر بھی مقدم کیا، فرمایا: )رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ( ((ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻛﯽ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﻭ) ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﺩﮮ،ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﻛﻮ ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺩﮮ۔) (ابراہيم: 35).

جیساکہ اللہ تعالی نے اہل قریش کو اس نعمت سے نوازا، انکو زندگی کی آسودگی اور وطن کے امان سے بھی نوازا، الله تعالى فرماتا ہے: )فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ( (ﭘﺲ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﻛﮧ ﺍﺳﯽ ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔ (٤) ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻙ ﻣﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮈﺭ(ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ) ﻣﯿﮟ ﺍﻣﻦ (ﻭﺍﻣﺎﻥ) ﺩﯾﺎ۔) (قريش: 3، 4).

جیساکہ ان پر احسان کیا کہ ان کیلئے امن وامان کا حرم بنا دیا، الله تعالى فرماتا ہے: )أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ( (ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﻛﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺣﺮﻡ ﻛﻮ ﺑﺎ ﺍﻣﻦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺣﺎﻻﻧﻜﮧ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﭼﻚ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﺷﻜﺮﯼ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔) (عنكبوت: 67)- امن اور استحكام کے ذریعہ ہی ملک ترقی کرتا ہے- انسان اپنی زندگی اور معیشت میں امن واستحكام پاتا ہے- قومیں اور معاشرے آگے بڑھ جاتے ہيں- اقتصاد ترقی پذیر ہو جاتا ہے، الله تعالى فرماتا ہے: ) وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ( (ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﺴﺘﯿﻮﮞ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺮﻛﺖ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻨﺪ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ (ﺁﺑﺎﺩ) ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﺮﺭﺍﮦ ﻇﺎﮨﺮ ﺗﮭﯿﮟ،ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯ ﻛﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﻛﺮﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺑﮧ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻣﺎﻥ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ۔) (سبا: 18) کو‏ئی بھی قوم اور معاشرہ آگے نہیں بڑهـ سکتا جب تک انکے افراد کے درمیان امن اور استحكام عام نہ ہو۔

بلا شبہ بدامنی اور عدم استحكام انسان اور ملک کو متاثر کرتی ہے- یہاں تک کہ عبادت کو بھی- اور یہ انسان کی پیدائش کا مقصد اول ہے- اسی لئے حالت خوف کی نماز صفت اور ہیئت کے اعتبار سے حالت امن کی نماز سے مختلف ہے- اسی طرح انسان پر حج کے وجوب کیلئے راستہ کے امن کی شرط ہے، تو اگر راستہ مامون نہ ہو تو حج واجب نہیں ہے- اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عبادت بھی صحیح صورت میں ادا نہیں ہو سکتی جب تک کہ امن اور استحكام کی نعمت میسر نہ ہو-

جب قوم میں امن ہو گا اور ہر فرد اپنی جان، مال اور عزت کے تئیں مطمئن ہوگا تو معاشرہ میں زندگی بہتر اور مستحكم ہو جائے گی- اس میں خوف، انارکی، اور بے چینی نہیں ہوگی- معاشرہ اس طرح ترقی کرے گا، اسی وجہ سے وطن کا امن اور استحكام ایک شرعی ضرورت ، قومى تقاضہ اور دین حنيف کا اہم مقصد ہے۔

امن وامان اور استحكام کے اسباب میں سے یہ ہے کہ انسان اپنے اس وطن سے محبت کرے جس میں وہ دی گئی پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، اور اس وطن کی قیمت کو محسوس کرے جس میں وہ پروان چڑھا ہے- اس کی مثال نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر دی ہے- جب آپ صلى اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت فرما رہے تھے، تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وطن کی محبت اور اس سے تعلق سکھایا- نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ e کا احساس اپنے وطن عزیزمکہ مکرمہ کے تئیں وہاں کے لوگوں سخت دلی کے باوجود یہ بنیاد ہے- آپ e نے اس سے جدا ہوتے ہوئے فرمایا: « وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ » (مسند أحمد والترمذي). « كہ قسم ہے الله كى اے مكّہ تو بہتر ہے الله كى سارى زمين سے اور پيارا ہے سارى زمين سے الله كو اور اگر ميں نہ نكالا جاتا تو ہرگز تجھ سے باہر نہ جاتا» (مسند احمد، ترمذى)- ابن عباس رضى الله عنہما سے  روايت ہے كہ رسولِ خدا e نے مكّہ سے فرمايا: « مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَىَّ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ » (رواه الترمذي). « كہ تو كيا اچها شہر ہے اور مجھ كو سب سے زياده پيارا ہے اور اگر ميرى قوم مجهے نہ نكالتى تو ميں سوا تيرے كہيں نہ رہتا» (ترمذى).

جب آپ صلى اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے اور ایک نئے ملک کی بنیاد رکھنی شروع کی تو آپe نے چاہا کہ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اور پوری دنیا کو بتا دے کہ وطن کے بنانے کی وہی کوشش کرتا ہے جو اس سے محبت کرتا ہے- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے جو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، کہتی ہیں: نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: « اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ».[رواه البخاري]. "اے الله! ہمارے دل ميں مدينہ كى ايسى ہى محبت پيدا كر دے جيسى تو نے مكہ كى محبت ہمارے دل ميں پيدا كى ہے -"(بخارى)- نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے وطن کی محبت کی دعا صرف اس لئے فرمایا تاکہ ہر فرد کو استحكام اور اطمئنان حاصل ہو۔

اس لئے انسان پر فرض ہے کہ محبت واخلاص کے ساتھ اپنے وطن کی حفاظت کرے ، اسکا دفاع کرے، اور اسکے تئیں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرے- اسلام میں وطن کی بڑى اہمیت ہے اور اسکے تئیں کوتاہی سنگین ہے، اس لئے نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا درجہ بلند فرمایا جو وطن کے استحكام کی حفاظت کرتا ہے اور اسکے لئے قربانی دیتا ہے کہ اللہ تعالی اس کوعذاب میں مبتلا نہیں کریگا اور آگ اسے نہیں چھوئے گی- جیسا کام ویسا ہی بدلہ- ابن عباس سے روايت ہے،  رسول خدا e نے فرمايا: « عَيْنَانِ لاَ تَمَسُّهُمَا النَّارُ : عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ».[رواه الترمذي] «دو آنكهيں كبهى نہ لگے گى ان كو آگ- ايكـ وه آنكھ كہ روئى ہے الله كے خوف سے دوسرى وه كہ رات كاٹى اس نے پہره ديتے ہوئے الله كى راه ميں» (ترمذى)- کسی بھی معاشرے کے امن اور استحكام کیلئے وطن کی محبت اہم اور بنیادی سبب ہے- جب انسان اپنے وطن سے محبت کرتا ہے تو اسکے امن اور استحكام کی ذمہ داریوں کو محسوس کرتاہے اور اسے برباد کرنے والوں کی آواز پر لبیک نہیں کہتا- اس لئے کہ جب انسان اپنے وطن میں امن وامان محسوس کرتا ہے تو اسکے کام میں نکھار اور پیداوار میں بڑھوتری ہوتی ہے-

امن اور استحكام کے اسباب میں سے لوگوں کے درمیان باہمى محبت اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے- رسول الله e نے فرمايا : (المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ ) (متفق عليه) «ايك مومن دوسرے مومن كيلئے عمارت كى طرح ہے كہ اسكا ايك حصہ دوسرے حصہ كو قوت پہنچاتا ہے- اور آپ ؐنے ايك ہاتھ كى انگليوں كو دوسرے ہاتھ كى انگليوں ميں داخل كيا» (متفق عليه)- لڑائی جھگڑے اور اختلافات سے دور رہنا ہے، کیوںکہ یہ فرقہ بندی بربادی کی طرف لے جاتی ہے- الله تعالى فرماتے ہيں: )وَلا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ( (ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺑﺰﺩﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﻭﺀ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﻮﺍ ﺍﻛﮭﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺮﻭﺳﮩﺎﺭ ﺭﻛﮭﻮ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ۔) (انفال: 46). لڑائی جھگڑے اور اختلافات سے ہوشیار رہیں- کیوںکہ یہ فرقہ بندی اور بربادی کی طرف لے جاتی ہے- گروپ بندی سے ہوشیار رہیں- اس لئے کہ یہ معاشرے کو تباہ اور برباد کر دیتا ہے- تو ضروری ہے کہ تمام باہم گھل مل جائیں اور وطن کے امن اور استحكام کیلئے ایک دوسرے کی مدد کریں- اسی کا اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: )وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ( (ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮨﯿﺰﮔﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻚ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ،ﺍﻭﺭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻮ، ﺑﮯﺷﻚ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺳﺨﺖ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (مائده:2).

سب سے ضروی چیز جو وطن کے امن اور استحكام میں مدد گار ہے وہ ہے حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت وفرمابرداری جس میں اللہ تعالی کی معصیت نہ ہو- الله تعالى فرماتا ہے: )يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا( (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻝ۔ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﯽ۔ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻛﺮﻭ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﭨﺎﻭﺀ، ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ، ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﺘﺒﺎﺭ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻛﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔) (نساء: 59). کیوںکہ حاکم (ذمہ دار) زمین پر اللہ کا سایہ ہے- نبى كريم نے فرمايا: « السُّلْطَانُ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ ، فَمَنْ أَكْرَمَهُ أَكْرَمَهُ اللهُ ، وَمَنْ أَهَانَهُ أَهَانَهُ اللهُ » [رواه الطبراني والبيهقي]. (بے شک، حکمران زمین پر اللہ کا سایہ ہے-جو اسكى تكريم كى ، الله تعالى اسے عزت بخشے گا- اور جو اسكى توہين كرتا ہے تو الله اسے رسوا كرے گا)- رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللهِ فِي الدُّنْيَا ، أَكْرَمَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللهِ فِي الدُّنْيَا  ، أَهَانَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ » [رواه أحمد] .( جس نے دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے اقتدار کی تکریم کی، اللہ قیامت کے دن اسے عزت بخشے گا اور جس نے دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے اقتدار کی توہین کی، اللہ قیامت کے دن اسے رسواکرے گا۔)-

حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے اور وطن کی خیر خواہی دین کا عقیدہ ہے جسے مسلمان اپنے رب کیلئے رکھتا ہے- جب حاكم کسی کام کے کرنے کا حکم دے یا کسی کام سے روکے تو اطاعت ضروری ہے سوائے یہ کہ اس میں اللہ عزوجل کی معصیت نہ ہو- ابو ہريرهt سے  روايت ہے « مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ، وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا ، وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ»[رواه البخاري]. (جس نے ميرى اطاعت كى اس نے الله كى اطاعت كى اور جس نے ميرى نافرمانى كى اس نے الله كى نافرمانى كى اور جس نے امير كى اطاعت كى اس نے ميرى اطاعت كى اور جس نے امير كى نافرمانى كى، اس نے ميرى نافرمانى كى- امام كى مثال ڈهال جيسى ہے كہ اس كے پيچهے ره كر اس كى آڑ ميں (يعنى اس كے ساتھ ہو كر) جنگ كى جاتى ہے اور اسى كے ذريعہ (دشمن كے حملے سے)  بچا جاتا ہے، پس اگر امام تمہيں الله سے ڈرتے رہنے كا حكم دے اور انصاف كرے اس كا ثواب اسے ملے گا، ليكن اگر بے انصافى كرے گا تو اس كا وبال اس پر ہو گا-) (بخارى)- اسلئے حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت جس میں اللہ کی معصیت نہ ہو اس میں دین ودنیا کی بھلائی ہے، اور اسکی سرکشی میں دونوں کی بربادی ہے- (جُنَّة) کا معنی شرور وفتن سے ڈھال اور پردہ ہے۔

اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ لوگوں کو حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت کرنی چاہیئے، اور مسلمانوں کی جماعت کے خلاف نہیں نکلنا چاہیئے- کیوںکہ اس سے انکا شیرازہ بکھر جائگا- ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى e نے فرمايا: « مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِى يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِي لِذِى عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَلَسْتُ مِنْهُ » [رواه مسلم]. «جو شخص حاكم كى اطاعت سے باہر ہو جائے اور جماعت كا ساتھ چهوڑدے پهر وه مرے تو اس كى موت جاہليت كى سى ہو گى اور جو شخص اندهے جهنڈے كے تلے لڑے (جس لڑائى كى درستى شريعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو) غصہ ہو قوم كے لحاظ سے يا بلاتا ہو قوم كى طرف يا مدد كرتا ہو قوم كى اور خدا كى رضا مندى مقصود نہ ہو پهر مارا جائے تو اس كا مارا جانا جاہليت كے زمانے كاسا ہو گا اور جو شخص (ميرى امت پر) دست درازى كرے اور اچهے اور بروں كو ان ميں كے قتل كرے اور مومن كو بهى نہ چهوڑے اور جس سے عہد ہوا ہو اس كا عہد پورا نہ كرے تو وه مجھ سے علاقہ نہيں ركهتا اور ميں اس سے تعلق نہيں ركهتا (يعنى وه مسلمان نہيں ہے)»- (مسلم)-

حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت وفرمانبرداری کے ضروری ہونے کی وجہ شاید یہ بھی ہے کے اسکی نافرمانی اور اسکے خلاف نکلنے جو نقصانات ہیں وہ بہت زیادہ ہيں-  اصلاح اور خیر خواہی کے بہت سے پرامن اور ڈیموکریٹک طریقے ہیں- تاکہ امت کا اتحاد باقی رہے، اور فرقہ بندی اور پھوٹ پڑنے سے روکا جا سکے جس کے نتیجے میں قتل وغارت گری،عزت کی پامالی، مقدسات کی بے حرمتی، ملک اور مال کی تباہی ہوگی، اور شیرازہ بکھر جائگا- یہ بات تمام لوگوں پر آشکارا ہے جو بعض حاکم (ذمہ دار) کی عدم اطاعت اور خلفشار کی صورت میں پیش آیا ہے۔

سب سے خطرناک چیز جو وطن کے امن اور استحكام کو چلینج کرتی ہے فتنوں کو بھڑکانا ہے جو نعمت کے زوال، آفت کی آمد، اور قوموں اور امتوں کے درمیان رشتے کے ٹوٹ جانے، برائی کے پھیلنے، آچھائی کے ختم ہونے، دشمنی اور نفرتوں کے پھیلنے، محبت اور ميل جول اور بھائی چارگی کے ختم ہونے کا سبب ہے- فتنہ ایسی آگ ہے جو ہر خشک وتر کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے- بھائی بھائی کے درمیان، ماں اور بیٹے کے درمیان، دوستوں اور اولادوں کے درمیان پھوٹ ڈال ديتی ہے- اور اللہ کی بندگی سے دور کرديتی ہے- اس آگ کو بھڑکانے والا ملعون ہے- اس کو پھیلانے والا دھوکہ میں ہے، حالتوں کو بگاڑتے ہیں، جسکا انجام برا ہے، اور قاتل اور مقتول کا انجام جھنم ہے، جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اسی لئے اسلام معاشرے کو فتنہ سے بچانے پر بہت زیادہ زور دیتا ہے- نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے ظہور کے وقت اس سے بچنے کا ہمیں طریقہ بتایا ہے، اور مسلمانوں کو سکھایا ہے کہ کیسے اس کا مقابلہ کیا جائے- عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنهما) سے روايت ہے كہ رَسُولَ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمايا: «كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ – أَوْ يُوشِكُ أَنْ يأتي زَمَانٌ- يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا » وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، فَقَالُوا : وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: « تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ » [رواه أبو داود]

        اللہ وطن كى حفاظت كرنے والوں اور اتحاد وجماعت کے ساتھ ہے- فتنوں سے ہوشیار اور خبردار رہو خواہ وہ ظاہر ہو یا باطن- بلاشبہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں مختلف آيتوں ميں اس سے ڈرایا ہے- ان آيتوں میں سے جس میں اللہ نے خبردار کیا ہے، کہ جب فتنہ برپا ہوتا ہے تو اپنے اور غیروں میں فرق نہیں کرتا، اور اسی طرح نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس سے ڈرایا ہے، الله تعالى فرماتا ہے: )وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ( (ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺑﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ! ﻛﮧ ﺟﻮ ﺧﺎﺹ ﻛﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻛﮯﻣﺮﺗﻜﺐ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺭﻛﮭﻮ ﻛﮧ ﺍﹴ ﺳﺨﺖ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (انفال: 25). رسول الله e نے فتنوں سے بہت خبردار كيا- حذيفہ  t سے كہا انہوں نے نبى كريمe سے سنا آپe فرماتے تهے كہ «تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا ، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا – أي: قبلهَا وَسكن إِلَيْهَا – نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا – الْحجر الأملس- فَلاَ تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ، وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا – المرباد والمربد: الَّذِي فِي لَونه ربدة: وَهِي لون بَين السوَاد والغبرة كلون النعامة – كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا – المجخي: المائل ، وَيُقَال مِنْهُ: جخى اللَّيْل: إِذا مَال ليذْهب. وَالْمعْنَى: مائلا عَن الاسْتقَامَة منكوسًا- لاَ يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلاَ يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلاَّ مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ »[رواه مسلم].

        ابو ہريره t نے كہا كہ رسول الله e نے فرمايا: « سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ ».[متفق عليه].  «فتنوں كا دور جب آئے گا تو اس ميں بيٹهنے والا كهڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا- كهڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس ميں جهانكے گا فتنہ بهى اسے اچك لے گا اور اس وقت جسے جہاں بهى پناه مل جائے بس وہيں پناه پكڑ لے تاكہ اپنے دين كو فتنوں سے بچا سكے» (متفق عليه)-

ہر عقلمند انسان کو چاہیے کہ فتنے اور اس کے اسباب سے اجتناب کرے، اور اس سے ہوشیاری کے ساتھ معاملہ کرے، حضرت انس بن مالكt سے روايت ہے انہوں نے كہا كہ نبى كريمe نے انصار سے فرمايا: «إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي وَمَوْعِدُكُمُ الحَوْضُ» [رواه البخاري]. «ميرے بعد تم ديكهو گے كہ تم پر دوسروں كو فوقيت دى جائے گى- پس تم صبر كرنا يہاں تك كہ مجھ سے آ ملو اور ميرى تم سے ملاقات حوض پر ہو گى» (رواه البخاري)-

فتنوں سے بچنا اور دور رہنا ہر مسلمان کا شعار ہے جو اپنے لئے دنیا اور آخرت کی کامیابی چاہتا ہے- اس لئے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو فتنے میں پڑنے سے ہوشیار رہتے ہیں اپنی قدرت اور طاقت کے بقدر۔ ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الماشي ، والماشي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الساعي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ »[متفق عليه]. («فتنوں كا دور جب آئے گا تو اس ميں بيٹهنے والا كهڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا- كهڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس ميں جهانكے گا فتنہ بهى اسے اچك لے گا اور اس وقت جسے جہاں بهى پناه مل جائے بس وہيں پناه پكڑ لے تاكہ اپنے دين كو فتنوں سے بچا سكے»-)

فتنوں سے محفوظ رہنا اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری کے ذریعہ ہی ممکن ہے- جماعت کے ساتھ رہنے اور خیر کے کام اور وطن کی بھلائی کے کاموں میں حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت کے ذریعہ ممکن ہے- اس لئے اللہ تعالی نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں فتنوں کے شکار ہونگے اور آخرت کا سخت عذاب انکے انتظار میں ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے: )فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ( (ﺳﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺣﻜﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻛﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻛﻮﺋﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺁﻓﺖ ﻧﮧ ﺁ ﭘﮍﮮ ﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔) (نور: 63).

        اس  بڑے قدر وطن کی ترقی کیلئے تمام لوگوں کو باہم تعاون کرنا چاہیئے، اسکے آگے بڑھنے کیلئے پوری کوشش کرنی چاہیے، اسکی جائداد اور جاگیر کی حفاظت ، اس کے اخلاق واطواراور اسکے قانون وضوابط کی پاسداری کرنی چاہیے، تاکہ ہم ترقی کر سکیں اور ہم اپنے امن وامان اور استحكام کی حفاظت کر سکیں، اس لیئے کہ ایک اچھا شہری ہی اپنے وطن کی تعمیر اور اس کے استحكام کی حفاظت کرتا ہے، نفس پرستوں اور ذاتی مصلحت رکھنے والوں سے دور رہتا ہے – ان فتنہ برپا کرنے اور تباہی کی دعوت دینے والوں سے اپنے آپ كو محفوظ ركهتا ہے وه لوگ جو ملک میں انتشار اور بد امنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، الله تعالى فرماتا ہے: )وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ( (ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﺭﺳﯽ ﻛﻮ ﺳﺐ ﻣﻞ ﻛﺮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﮭﺎﻡ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﭦ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻮ،ﺍﻭﺭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻛﻮ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﻭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﯾﻚ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﺗﮭﮯ،ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺁﮒ ﻛﮯ ﮔﮍﮬﮯ ﻛﮯ ﻛﻨﺎﺭﮮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﻜﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﯿﺎﻥ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﭘﺎ﯃۔) (آل عمران: 99: 103).

سب سے خطرناک فتنہ جو وطن کےامن اور استحكام کو چلینج کرتا ہے تباہی کی دعوت ہے جو بیمار دل اور کمزور ایمان دیتے ہیں، جن کا اپنے وطن پر ایمان نہیں ، وہ شدت پسند فکر کے حامل ہیں، جو معاشرے کو کھوکھلا اور اس کے امن اور استحكام کو درہم برہم اور اسکی بنیاد اور جڑوں کو ہلانا اور اس کے ستونوں کو جھنجھوڑنا چاہتے ہیں، جو اپنی ناپاک سازش اور کرتوت سے باز نہیں آتے، انکا مقصد ملک کو گرانے اور اسکے امن اور استحكام کو نیست ونابود کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

        سب سے خطرناک چیز جو وطن کو چلینج کرتی ہے اور فرقوں اور ٹولیوں میں تقسیم کرتی ہے وہ دین کا غلط استعمال اور اسکے ساتھ سودا بازی ہے، خواہ وہ کھوکھلے نعرے یا شعلہ بیانی کے ذریعہ ہو یا بیکار کی جدال وجدل جس کا کوئی نتیجہ اور فائدہ نہیں- آجکل اسی طرح کی کچھ بے آہنگ آوازیں اور تباہی کی دعوتیں آرہی ہیں، جو بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ زمیں میں فساد کرنے ، خون خرابہ مچانے، خوف ودہشت پھیلانے اور فتنہ برپا کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ الله تعالى فرماتا ہے: )إِنَّ الذين يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ( (ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺣﯿﺎﺋﯽ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﻛﮯ ﺁﺭﺯﻭﻣﻨﺪ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﯿﮟ،ﺍﹴ ﺳﺐ ﻛﭽﮫ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻛﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ۔) (نور: 19)-

یہ تباہ کن دعوت دینے والے معاشرے میں فساد اور انارکی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، اور قانون اور قومی امن وامان اور استحكام کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے- یہ شدت پسندی اور دہشتگردی کا اہم اندھن شمار ہوتا ہے، اور معاشرے کے ایسے وصف کا سبب ہوتی ہے جونہیں ہے- یہ دعوت جو یہ بلند کر رہے ہیں یہ ایک بھیانک فتنے کو جنم دے گی جو ملک اور بندوں کو تباہ وبرباد اور لوگوں اور افرادوں کے امن وامان کو نیست ونابود کر دے گی، اور ہمارے ارد گرد جو ملک بدامنی کا شکار ہوگئے ہیں اس میں ہمارے لئے عبرت اور نصیحت ہے- ہمارا دین اسلام امن وامان اور استحكام قائم کرنے اور ظلم وزیادتی اور دہشتگردی کو جڑسے اکھاڑ پھیکنے کی دعوت دیتا ہے۔