:

تباہ کن دعوتوں کی سنگینی اور امن وامان کیلئے انکے تعاقب کی ضرورت
29 صفر 1437ہجرى مطابق 11 دسمبر 2015 ء

awkaf

پہلا: عنصر

1: امن اور استحكام کی نعمت۔

2: وطن کا استحكام شرعی اور قومى ضرورت۔

3: وطن كے استحكام کے چند اسباب:

الف- اپنے وطن سے انسان كى محبت۔

ب- لوگوں کے درمیان تعاون اور محبت عام ہونا

ج: اللہ تعالى کی اطاعت اور وطن کی خدمت كے لئے حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت-

4۔ فتنوں سے خبر دار كرنا-

5۔ سماج اور افراد کی زندگی میں تباہ کن دعوتوں کی سنگینی ۔

6۔ ان دعوتوں کے تعاقب کی ضرورت۔

دوسرا: دليليں:

  • قرآن كريم ميں دليليں:
  • الله تعالى فرماتے ہيں: )وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ( (ﺟﺐ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ، ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺗﻮ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺷﮩﺮ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻛﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﻛﻮ) (بقره: 126).
  • الله تعالى فرماتا ہے: "وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ”(ابراہيم:35). ((ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻛﯽ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﻭ) ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﻛﻮ ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺩﮮ۔).
  • الله تعالى فرماتے ہيں: ) الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ( (ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻛﻮ ﺷﺮكـ ﻛﮯ ساتهـ ﻣﺨﻠﻮﻁ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮﺗﮯ، ﺍﯾﺴﻮﮞ ﮨﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻣﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔) (انعام: 82).
  • الله تعالى فرماتے ہيں: ” لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ * إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ * فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ* الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ ” (قريش:1-4). (ﻗﺮﯾﺶ ﻛﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ۔ (2) (ﯾﻌﻨﯽ ) ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻣﯽ ﻛﮯ ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ۔ (ﺍﺱ ﻛﮯ ﺷﻜﺮﯾﮧ ﻣﯿﮟ )۔ (3) ﭘﺲ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﻛﮧ ﺍﺳﯽ ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔ (4) ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻙ ﻣﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮈﺭ(ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ) ﻣﯿﮟ ﺍﻣﻦ (ﻭﺍﻣﺎﻥ ) ﺩﯾﺎ۔ (
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ(القصص: 57). ((ﻛﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻣﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻣﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﺮﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯼ؟ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﮯ ﭘﮭﻞ ﻛﮭﭽﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﻄﻮﺭ ﺭﺯﻕ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﻜﻦ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻛﺜﺮ كچهـ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ۔)
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنا حَرَماً آمِناً وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْباطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ (عنكبوت: 67).((ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﻛﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺣﺮﻡ ﻛﻮ ﺑﺎ ﺍﻣﻦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺣﺎﻻﻧﻜﮧ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﭼﻚ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﺷﻜﺮﯼ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔)
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ ((ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﺴﺘﯿﻮﮞ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺮﻛﺖ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻨﺪ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ (ﺁﺑﺎﺩ) ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﺮﺭﺍﮦ ﻇﺎﮨﺮ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯ ﻛﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﻛﺮﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺑﮧ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻣﺎﻥ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ۔) (سبا: 18).
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ((ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻛﮧ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﰷﻓﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﭘﺮ ﻟﺸﻜﺮ ﺟﻤﻊ ﻛﺮ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﻛﮭﺎ﯃ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﹴ ﰷﻓﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﰷﺭﺳﺎﺯﮨﮯ۔) (آل عمران:173).
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ ( (ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺑﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ! ﻛﮧ ﺟﻮ ﺧﺎﺹ ﻛﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻛﮯﻣﺮﺗﻜﺐ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺭﻛﮭﻮ ﻛﮧ ﺍﹴ ﺳﺨﺖ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (انفال:25).
  • الله تعالى فرماتا ہے: ) إِنَّ الذين يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ((ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺣﯿﺎﺋﯽ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﻛﮯ ﺁﺭﺯﻭﻣﻨﺪ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﯿﮟ،ﺍﹴ ﺳﺐ ﻛﭽﮫ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻛﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ۔) (نور:19).
  • الله تعالى فرماتا ہے: )يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ((ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻝ۔ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﯽ۔ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻛﺮﻭ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﭨﺎﻭﺀ، ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ، ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﺘﺒﺎﺭ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻛﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔) (نساء:59).
  • الله تعالى فرماتا ہے: )وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا ((ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺧﺒﺮ ﺍﻣﻦ ﻛﯽ ﯾﺎ ﺧﻮﻑ ﻛﯽ ﻣﻠﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻛﺮﻧﺎﺷﺮﻭﻉ ﻛﺮ ﺩﯾﺎ،ﺣﺎﻻﻧﻜﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﯽ ﺗﮩﮧ ﺗﻚ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﻛﺮ ﺩﯾﺘﮯ، ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺟﻮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﰷ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﻣﻌﺪﻭﺩﮮ ﭼﻨﺪ ﻛﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﻢ ﺳﺐ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭﰷﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ۔) (نساء: 83).

سنت نبوى e ميں دليليں:

  • عبيد الله سے مروى ہے، رسول الله e نے فرمايا: (مَنْ أصْبَحَ مِنْكُمْ آمِناً في سربِهِ ، مُعَافَىً في جَسَدِهِ ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ ، فَكَأنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا) (رواه الترمذي). (جس نے صبح كى تم ميں سے فارغ البالى اور خوش حالى كے ساتھ اپنے نفس پر تندرستى كے ساتھ اپنے جسد سے اس كے پاس قوت ہے اس دن كا تو اس كے ليے گويا سب دنيا سميٹى گئى-)
  • ابن عباس رضى الله عنہما سے روايت ہے كہ انہوں نے سنا :ميں نے رسول خدا e سے كہ فرماتے تهے: «عَيْنَانِ لاَ تَمَسُّهُمَا النَّارُ : عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ».[رواه الترمذي]. (دو آنكهيں كبهى نہ لگے گى ان كو آگ ايك وه آنكھ كہ روئى ہے الله كے خوف سے دوسرى وه كہ رات كاٹى اس نے پہره ديتے ہوئے الله كى راه ميں-)
  • عبد الله بن عدى سے روايت ہے كہ انہوں نے كہا ميں نے ديكها رسولِ خدا e كو حروره كے اوپر كهڑے ہوئے اور فرماتے تهے كہ: « وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ » (مسند أحمد والترمذي). ( قسم ہے الله كى اے مكّہ تو بہتر ہے الله كى سارى زمين سے اور پيارا ہے سارى زمين سے الله كو اور اگر ميں نہ نكالا جاتا تو ہرگز تجھ سے باہر نہ جاتا-)
  • ابن عباس رضى الله عنہما سے روايت ہے كہ رسولِ خدا e نے  مكّہ سے  فرمايا كہ: « مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَىَّ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ » (رواه الترمذي). ( تو كيا اچها شہر ہے اور مجھ كو سب سے زياده پيارا ہے اور اگر ميرى قوم مجهے نہ نكالتى تو ميں سوا تيرے كہيں نہ رہتا-)
  • روايت ہے كہ عائشہ رضى الله عنہا نے كہا ہے كہ نبى كريم e نے فرمايا: « اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ».[رواه البخاري]. ("اے الله! ہمارے دل ميں مدينہ كى ايسى ہى محبت پيدا كر دے جيسى تو نے مكہ كى محبت ہمارے دل ميں پيدا كى ہے "-)
  • ابو ہريرهt سے روايت ہے  كہ  انہوں نے نبى كريمe سے سنا آپe فرماتے تهے كہ : « مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ، وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا، وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ » [رواه البخاري]. (جس نے ميرى اطاعت كى اس نے الله كى اطاعت كى اور جس نے ميرى نافرمانى كى اس نے الله كى نافرمانى كى اور جس نے امير كى اطاعت كى اس نے ميرى اطاعت كى اور جس نے امير كى نافرمانى كى، اس نے ميرى نافرمانى كى- امام كى مثال ڈهال جيسى ہے كہ اس كے پيچهے ره كر اس كى آڑ ميں (يعنى اس كے ساتھ ہو كر) جنگ كى جاتى ہے اور اسى كے ذريعہ (دشمن كے حملے سے) بچا جاتا ہے، پس اگر امام تمہيں الله سے ڈرتے رہنے كا حكم دے اور انصاف كرے اس كا ثواب اسے ملے گا، ليكن اگر بے انصافى كرے گا تو اس كا وبال اس پر ہو گا-)
  • ابو ہريره t سے روايت ہے، رسول اللهؐ نے فرمايا : « مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِى يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِي لِذِى عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ».[رواه مسلم]. (جو شخص حاكم كى اطاعت سے باہر ہو جائے اور جماعت كا ساتھ چهوڑدے پهر وه مرے تو اس كى موت جاہليت كى سى ہو گى اور جو شخص اندهے جهنڈے كے تلے لڑے (جس لڑائى كى درستى شريعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو) غصہ ہو قوم كے لحاظ سے يا بلاتا ہو قوم كى طرف يا مدد كرتا ہو قوم كى اور خدا كى رضا مندى مقصود نہ ہو پهر مارا جائے تو اس كا مارا جانا جاہليت كے زمانے كاسا ہو گا اور جو شخص (ميرى امت پر) دست درازى كرے اور اچهے اور بروں كو ان ميں كے قتل كرے اور مومن كو بهى نہ چهوڑے اور جس سے عہد ہوا ہو اس كا عہد پورا نہ كرے تو وه مجھ سے علاقہ نہيں ركهتا اور ميں اس سے تعلق نہيں ركهتا (يعنى وه مسلمان نہيں ہے)-
  • ابو ہريره t نے كہا كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا:  « سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الماشي ، والماشي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الساعي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ»[متفق عليه]. «فتنوں كا دور جب آئے گا تو اس ميں بيٹهنے والا كهڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا- كهڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس ميں جهانكے گا فتنہ بهى اسے اچك لے گا اور اس وقت جسے جہاں بهى پناه مل جائے بس وہيں پناه پكڑ لے تاكہ اپنے دين كو فتنوں سے بچا سكے»-

تیسرا: موضوع۔

        انسان پر اللہ تعالی کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت امن وامان کی نعمت ہے، اس کے بغیر انسان کو چین وسکون ، اور اسکے نفس کو قرار نہیں مل سکتا، اور انسان کو زندگی راس نہیں آسکتی گرچہ اسے پوری دنیاہی کیوں نہ مل جائے- تو دنیا اور اسکے نعمتوں کی خوشبختی امن واستقرار کے حصول میں ہے- رسول الله e نے فرمايا: (مَنْ أصْبَحَ مِنْكُمْ آمِناً في سربِهِ ، مُعَافَىً في جَسَدِهِ ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ ، فَكَأنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا) (رواه الترمذي) «جس نے صبح كى تم ميں سے فارغ البالى اور خوش حالى كے ساتھ اپنے نفس پر تندرستى كے ساتھ اپنے جسد سے اس كے پاس قوت ہے اس دن كا تو اس كے ليے گويا سب دنيا سميٹى گئى»-

تو روئے زمین کی تمام مخلوقات کی چاہت امن واستحكام کی نعمت کا حصول ہے، حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اسے اپنے اہل خانہ اور قوم کیلۓ مانگا، الله تعالى فرماتا ہے: )رَبِّ اجْعَلْ هَـَذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ( (ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺗﻮ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺷﮩﺮ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻛﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﻛﻮ ﺟﻮ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﻛﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮﮞ) (بقره: 126). تو جب حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اللہ سے دعا مانگا کہ مکہ میں امن اور رزق کی نعمت نازل فرما، تو امن کو رزق پر مقدم کیا- کیوںکہ اگر امن ختم ہوجائے تو رزق کی لذت باقی نہیں رہتی، تو انسان امن کے ذریعہ زندگی کی قیمت کو محسوس کرتا ہے، اللہ نے اپنے نبی اور خلیل علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا، اور اپنے ارادہ اور مشیئت سے مکہ کو امن وامان اور اسلام کا شہر بنا دیا، اور یہ ابراھیم علیہ السلام کی دعا کی برکت ہے، بلکہ انہوں نے امن کی نعمت کو عبادت اور توحید پر بھی مقدم کیا، فرمایا: )رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ( ((ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﻛﯽ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﻭ) ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ! ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻛﻮ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﺩﮮ،ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﻻﺩ ﻛﻮ ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺳﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺩﮮ۔) (ابراہيم: 35).

جیساکہ اللہ تعالی نے اہل قریش کو اس نعمت سے نوازا، انکو زندگی کی آسودگی اور وطن کے امان سے بھی نوازا، الله تعالى فرماتا ہے: )فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ( (ﭘﺲ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﻛﮧ ﺍﺳﯽ ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔ (٤) ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻙ ﻣﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮈﺭ(ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ) ﻣﯿﮟ ﺍﻣﻦ (ﻭﺍﻣﺎﻥ) ﺩﯾﺎ۔) (قريش: 3، 4).

جیساکہ ان پر احسان کیا کہ ان کیلئے امن وامان کا حرم بنا دیا، الله تعالى فرماتا ہے: )أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَكْفُرُونَ( (ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﻛﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺣﺮﻡ ﻛﻮ ﺑﺎ ﺍﻣﻦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺣﺎﻻﻧﻜﮧ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﭼﻚ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﻛﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﺷﻜﺮﯼ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔) (عنكبوت: 67)- امن اور استحكام کے ذریعہ ہی ملک ترقی کرتا ہے- انسان اپنی زندگی اور معیشت میں امن واستحكام پاتا ہے- قومیں اور معاشرے آگے بڑھ جاتے ہيں- اقتصاد ترقی پذیر ہو جاتا ہے، الله تعالى فرماتا ہے: ) وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ( (ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﺴﺘﯿﻮﮞ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺮﻛﺖ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﭼﻨﺪ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ (ﺁﺑﺎﺩ) ﺭﻛﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﺮﺭﺍﮦ ﻇﺎﮨﺮ ﺗﮭﯿﮟ،ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﮯ ﻛﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﻛﺮﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺑﮧ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻣﺎﻥ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ۔) (سبا: 18) کو‏ئی بھی قوم اور معاشرہ آگے نہیں بڑهـ سکتا جب تک انکے افراد کے درمیان امن اور استحكام عام نہ ہو۔

بلا شبہ بدامنی اور عدم استحكام انسان اور ملک کو متاثر کرتی ہے- یہاں تک کہ عبادت کو بھی- اور یہ انسان کی پیدائش کا مقصد اول ہے- اسی لئے حالت خوف کی نماز صفت اور ہیئت کے اعتبار سے حالت امن کی نماز سے مختلف ہے- اسی طرح انسان پر حج کے وجوب کیلئے راستہ کے امن کی شرط ہے، تو اگر راستہ مامون نہ ہو تو حج واجب نہیں ہے- اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عبادت بھی صحیح صورت میں ادا نہیں ہو سکتی جب تک کہ امن اور استحكام کی نعمت میسر نہ ہو-

جب قوم میں امن ہو گا اور ہر فرد اپنی جان، مال اور عزت کے تئیں مطمئن ہوگا تو معاشرہ میں زندگی بہتر اور مستحكم ہو جائے گی- اس میں خوف، انارکی، اور بے چینی نہیں ہوگی- معاشرہ اس طرح ترقی کرے گا، اسی وجہ سے وطن کا امن اور استحكام ایک شرعی ضرورت ، قومى تقاضہ اور دین حنيف کا اہم مقصد ہے۔

امن وامان اور استحكام کے اسباب میں سے یہ ہے کہ انسان اپنے اس وطن سے محبت کرے جس میں وہ دی گئی پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، اور اس وطن کی قیمت کو محسوس کرے جس میں وہ پروان چڑھا ہے- اس کی مثال نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر دی ہے- جب آپ صلى اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت فرما رہے تھے، تو نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وطن کی محبت اور اس سے تعلق سکھایا- نبی صلى اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ e کا احساس اپنے وطن عزیزمکہ مکرمہ کے تئیں وہاں کے لوگوں سخت دلی کے باوجود یہ بنیاد ہے- آپ e نے اس سے جدا ہوتے ہوئے فرمایا: « وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ » (مسند أحمد والترمذي). « كہ قسم ہے الله كى اے مكّہ تو بہتر ہے الله كى سارى زمين سے اور پيارا ہے سارى زمين سے الله كو اور اگر ميں نہ نكالا جاتا تو ہرگز تجھ سے باہر نہ جاتا» (مسند احمد، ترمذى)- ابن عباس رضى الله عنہما سے  روايت ہے كہ رسولِ خدا e نے مكّہ سے فرمايا: « مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَىَّ وَلَوْلاَ أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ » (رواه الترمذي). « كہ تو كيا اچها شہر ہے اور مجھ كو سب سے زياده پيارا ہے اور اگر ميرى قوم مجهے نہ نكالتى تو ميں سوا تيرے كہيں نہ رہتا» (ترمذى).

جب آپ صلى اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے اور ایک نئے ملک کی بنیاد رکھنی شروع کی تو آپe نے چاہا کہ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اور پوری دنیا کو بتا دے کہ وطن کے بنانے کی وہی کوشش کرتا ہے جو اس سے محبت کرتا ہے- آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے جو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، کہتی ہیں: نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: « اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ».[رواه البخاري]. "اے الله! ہمارے دل ميں مدينہ كى ايسى ہى محبت پيدا كر دے جيسى تو نے مكہ كى محبت ہمارے دل ميں پيدا كى ہے -"(بخارى)- نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے وطن کی محبت کی دعا صرف اس لئے فرمایا تاکہ ہر فرد کو استحكام اور اطمئنان حاصل ہو۔

اس لئے انسان پر فرض ہے کہ محبت واخلاص کے ساتھ اپنے وطن کی حفاظت کرے ، اسکا دفاع کرے، اور اسکے تئیں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرے- اسلام میں وطن کی بڑى اہمیت ہے اور اسکے تئیں کوتاہی سنگین ہے، اس لئے نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا درجہ بلند فرمایا جو وطن کے استحكام کی حفاظت کرتا ہے اور اسکے لئے قربانی دیتا ہے کہ اللہ تعالی اس کوعذاب میں مبتلا نہیں کریگا اور آگ اسے نہیں چھوئے گی- جیسا کام ویسا ہی بدلہ- ابن عباس سے روايت ہے،  رسول خدا e نے فرمايا: « عَيْنَانِ لاَ تَمَسُّهُمَا النَّارُ : عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ».[رواه الترمذي] «دو آنكهيں كبهى نہ لگے گى ان كو آگ- ايكـ وه آنكھ كہ روئى ہے الله كے خوف سے دوسرى وه كہ رات كاٹى اس نے پہره ديتے ہوئے الله كى راه ميں» (ترمذى)- کسی بھی معاشرے کے امن اور استحكام کیلئے وطن کی محبت اہم اور بنیادی سبب ہے- جب انسان اپنے وطن سے محبت کرتا ہے تو اسکے امن اور استحكام کی ذمہ داریوں کو محسوس کرتاہے اور اسے برباد کرنے والوں کی آواز پر لبیک نہیں کہتا- اس لئے کہ جب انسان اپنے وطن میں امن وامان محسوس کرتا ہے تو اسکے کام میں نکھار اور پیداوار میں بڑھوتری ہوتی ہے-

امن اور استحكام کے اسباب میں سے لوگوں کے درمیان باہمى محبت اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے- رسول الله e نے فرمايا : (المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ ) (متفق عليه) «ايك مومن دوسرے مومن كيلئے عمارت كى طرح ہے كہ اسكا ايك حصہ دوسرے حصہ كو قوت پہنچاتا ہے- اور آپ ؐنے ايك ہاتھ كى انگليوں كو دوسرے ہاتھ كى انگليوں ميں داخل كيا» (متفق عليه)- لڑائی جھگڑے اور اختلافات سے دور رہنا ہے، کیوںکہ یہ فرقہ بندی بربادی کی طرف لے جاتی ہے- الله تعالى فرماتے ہيں: )وَلا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ( (ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺑﺰﺩﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﻭﺀ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﻮﺍ ﺍﻛﮭﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺮﻭﺳﮩﺎﺭ ﺭﻛﮭﻮ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ۔) (انفال: 46). لڑائی جھگڑے اور اختلافات سے ہوشیار رہیں- کیوںکہ یہ فرقہ بندی اور بربادی کی طرف لے جاتی ہے- گروپ بندی سے ہوشیار رہیں- اس لئے کہ یہ معاشرے کو تباہ اور برباد کر دیتا ہے- تو ضروری ہے کہ تمام باہم گھل مل جائیں اور وطن کے امن اور استحكام کیلئے ایک دوسرے کی مدد کریں- اسی کا اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: )وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ( (ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﮨﯿﺰﮔﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻚ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ،ﺍﻭﺭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻮ، ﺑﮯﺷﻚ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺳﺨﺖ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (مائده:2).

سب سے ضروی چیز جو وطن کے امن اور استحكام میں مدد گار ہے وہ ہے حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت وفرمابرداری جس میں اللہ تعالی کی معصیت نہ ہو- الله تعالى فرماتا ہے: )يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا( (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻝ۔ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﯽ۔ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﻛﺮﻭ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻟﻮﭨﺎﻭﺀ، ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ، ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﺘﺒﺎﺭ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﻛﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔) (نساء: 59). کیوںکہ حاکم (ذمہ دار) زمین پر اللہ کا سایہ ہے- نبى كريم نے فرمايا: « السُّلْطَانُ ظِلُّ اللهِ فِي الْأَرْضِ ، فَمَنْ أَكْرَمَهُ أَكْرَمَهُ اللهُ ، وَمَنْ أَهَانَهُ أَهَانَهُ اللهُ » [رواه الطبراني والبيهقي]. (بے شک، حکمران زمین پر اللہ کا سایہ ہے-جو اسكى تكريم كى ، الله تعالى اسے عزت بخشے گا- اور جو اسكى توہين كرتا ہے تو الله اسے رسوا كرے گا)- رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللهِ فِي الدُّنْيَا ، أَكْرَمَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللهِ فِي الدُّنْيَا  ، أَهَانَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ » [رواه أحمد] .( جس نے دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے اقتدار کی تکریم کی، اللہ قیامت کے دن اسے عزت بخشے گا اور جس نے دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے اقتدار کی توہین کی، اللہ قیامت کے دن اسے رسواکرے گا۔)-

حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے اور وطن کی خیر خواہی دین کا عقیدہ ہے جسے مسلمان اپنے رب کیلئے رکھتا ہے- جب حاكم کسی کام کے کرنے کا حکم دے یا کسی کام سے روکے تو اطاعت ضروری ہے سوائے یہ کہ اس میں اللہ عزوجل کی معصیت نہ ہو- ابو ہريرهt سے  روايت ہے « مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ، وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا ، وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ»[رواه البخاري]. (جس نے ميرى اطاعت كى اس نے الله كى اطاعت كى اور جس نے ميرى نافرمانى كى اس نے الله كى نافرمانى كى اور جس نے امير كى اطاعت كى اس نے ميرى اطاعت كى اور جس نے امير كى نافرمانى كى، اس نے ميرى نافرمانى كى- امام كى مثال ڈهال جيسى ہے كہ اس كے پيچهے ره كر اس كى آڑ ميں (يعنى اس كے ساتھ ہو كر) جنگ كى جاتى ہے اور اسى كے ذريعہ (دشمن كے حملے سے)  بچا جاتا ہے، پس اگر امام تمہيں الله سے ڈرتے رہنے كا حكم دے اور انصاف كرے اس كا ثواب اسے ملے گا، ليكن اگر بے انصافى كرے گا تو اس كا وبال اس پر ہو گا-) (بخارى)- اسلئے حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت جس میں اللہ کی معصیت نہ ہو اس میں دین ودنیا کی بھلائی ہے، اور اسکی سرکشی میں دونوں کی بربادی ہے- (جُنَّة) کا معنی شرور وفتن سے ڈھال اور پردہ ہے۔

اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ لوگوں کو حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت کرنی چاہیئے، اور مسلمانوں کی جماعت کے خلاف نہیں نکلنا چاہیئے- کیوںکہ اس سے انکا شیرازہ بکھر جائگا- ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى e نے فرمايا: « مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِى يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلاَ يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلاَ يَفِي لِذِى عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّى وَلَسْتُ مِنْهُ » [رواه مسلم]. «جو شخص حاكم كى اطاعت سے باہر ہو جائے اور جماعت كا ساتھ چهوڑدے پهر وه مرے تو اس كى موت جاہليت كى سى ہو گى اور جو شخص اندهے جهنڈے كے تلے لڑے (جس لڑائى كى درستى شريعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو) غصہ ہو قوم كے لحاظ سے يا بلاتا ہو قوم كى طرف يا مدد كرتا ہو قوم كى اور خدا كى رضا مندى مقصود نہ ہو پهر مارا جائے تو اس كا مارا جانا جاہليت كے زمانے كاسا ہو گا اور جو شخص (ميرى امت پر) دست درازى كرے اور اچهے اور بروں كو ان ميں كے قتل كرے اور مومن كو بهى نہ چهوڑے اور جس سے عہد ہوا ہو اس كا عہد پورا نہ كرے تو وه مجھ سے علاقہ نہيں ركهتا اور ميں اس سے تعلق نہيں ركهتا (يعنى وه مسلمان نہيں ہے)»- (مسلم)-

حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت وفرمانبرداری کے ضروری ہونے کی وجہ شاید یہ بھی ہے کے اسکی نافرمانی اور اسکے خلاف نکلنے جو نقصانات ہیں وہ بہت زیادہ ہيں-  اصلاح اور خیر خواہی کے بہت سے پرامن اور ڈیموکریٹک طریقے ہیں- تاکہ امت کا اتحاد باقی رہے، اور فرقہ بندی اور پھوٹ پڑنے سے روکا جا سکے جس کے نتیجے میں قتل وغارت گری،عزت کی پامالی، مقدسات کی بے حرمتی، ملک اور مال کی تباہی ہوگی، اور شیرازہ بکھر جائگا- یہ بات تمام لوگوں پر آشکارا ہے جو بعض حاکم (ذمہ دار) کی عدم اطاعت اور خلفشار کی صورت میں پیش آیا ہے۔

سب سے خطرناک چیز جو وطن کے امن اور استحكام کو چلینج کرتی ہے فتنوں کو بھڑکانا ہے جو نعمت کے زوال، آفت کی آمد، اور قوموں اور امتوں کے درمیان رشتے کے ٹوٹ جانے، برائی کے پھیلنے، آچھائی کے ختم ہونے، دشمنی اور نفرتوں کے پھیلنے، محبت اور ميل جول اور بھائی چارگی کے ختم ہونے کا سبب ہے- فتنہ ایسی آگ ہے جو ہر خشک وتر کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے- بھائی بھائی کے درمیان، ماں اور بیٹے کے درمیان، دوستوں اور اولادوں کے درمیان پھوٹ ڈال ديتی ہے- اور اللہ کی بندگی سے دور کرديتی ہے- اس آگ کو بھڑکانے والا ملعون ہے- اس کو پھیلانے والا دھوکہ میں ہے، حالتوں کو بگاڑتے ہیں، جسکا انجام برا ہے، اور قاتل اور مقتول کا انجام جھنم ہے، جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اسی لئے اسلام معاشرے کو فتنہ سے بچانے پر بہت زیادہ زور دیتا ہے- نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے ظہور کے وقت اس سے بچنے کا ہمیں طریقہ بتایا ہے، اور مسلمانوں کو سکھایا ہے کہ کیسے اس کا مقابلہ کیا جائے- عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رضي الله عنهما) سے روايت ہے كہ رَسُولَ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمايا: «كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ – أَوْ يُوشِكُ أَنْ يأتي زَمَانٌ- يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا » وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، فَقَالُوا : وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: « تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ » [رواه أبو داود]

        اللہ وطن كى حفاظت كرنے والوں اور اتحاد وجماعت کے ساتھ ہے- فتنوں سے ہوشیار اور خبردار رہو خواہ وہ ظاہر ہو یا باطن- بلاشبہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں مختلف آيتوں ميں اس سے ڈرایا ہے- ان آيتوں میں سے جس میں اللہ نے خبردار کیا ہے، کہ جب فتنہ برپا ہوتا ہے تو اپنے اور غیروں میں فرق نہیں کرتا، اور اسی طرح نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس سے ڈرایا ہے، الله تعالى فرماتا ہے: )وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ( (ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺑﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ! ﻛﮧ ﺟﻮ ﺧﺎﺹ ﻛﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻛﮯﻣﺮﺗﻜﺐ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺭﻛﮭﻮ ﻛﮧ ﺍﹴ ﺳﺨﺖ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (انفال: 25). رسول الله e نے فتنوں سے بہت خبردار كيا- حذيفہ  t سے كہا انہوں نے نبى كريمe سے سنا آپe فرماتے تهے كہ «تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا ، فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا – أي: قبلهَا وَسكن إِلَيْهَا – نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ حَتَّى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلَى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا – الْحجر الأملس- فَلاَ تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ، وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا – المرباد والمربد: الَّذِي فِي لَونه ربدة: وَهِي لون بَين السوَاد والغبرة كلون النعامة – كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا – المجخي: المائل ، وَيُقَال مِنْهُ: جخى اللَّيْل: إِذا مَال ليذْهب. وَالْمعْنَى: مائلا عَن الاسْتقَامَة منكوسًا- لاَ يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلاَ يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلاَّ مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ »[رواه مسلم].

        ابو ہريره t نے كہا كہ رسول الله e نے فرمايا: « سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ ».[متفق عليه].  «فتنوں كا دور جب آئے گا تو اس ميں بيٹهنے والا كهڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا- كهڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس ميں جهانكے گا فتنہ بهى اسے اچك لے گا اور اس وقت جسے جہاں بهى پناه مل جائے بس وہيں پناه پكڑ لے تاكہ اپنے دين كو فتنوں سے بچا سكے» (متفق عليه)-

ہر عقلمند انسان کو چاہیے کہ فتنے اور اس کے اسباب سے اجتناب کرے، اور اس سے ہوشیاری کے ساتھ معاملہ کرے، حضرت انس بن مالكt سے روايت ہے انہوں نے كہا كہ نبى كريمe نے انصار سے فرمايا: «إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي وَمَوْعِدُكُمُ الحَوْضُ» [رواه البخاري]. «ميرے بعد تم ديكهو گے كہ تم پر دوسروں كو فوقيت دى جائے گى- پس تم صبر كرنا يہاں تك كہ مجھ سے آ ملو اور ميرى تم سے ملاقات حوض پر ہو گى» (رواه البخاري)-

فتنوں سے بچنا اور دور رہنا ہر مسلمان کا شعار ہے جو اپنے لئے دنیا اور آخرت کی کامیابی چاہتا ہے- اس لئے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو فتنے میں پڑنے سے ہوشیار رہتے ہیں اپنی قدرت اور طاقت کے بقدر۔ ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الماشي ، والماشي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الساعي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ ، وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ »[متفق عليه]. («فتنوں كا دور جب آئے گا تو اس ميں بيٹهنے والا كهڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا- كهڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس ميں جهانكے گا فتنہ بهى اسے اچك لے گا اور اس وقت جسے جہاں بهى پناه مل جائے بس وہيں پناه پكڑ لے تاكہ اپنے دين كو فتنوں سے بچا سكے»-)

فتنوں سے محفوظ رہنا اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری کے ذریعہ ہی ممکن ہے- جماعت کے ساتھ رہنے اور خیر کے کام اور وطن کی بھلائی کے کاموں میں حاکم (ذمہ دار) کی اطاعت کے ذریعہ ممکن ہے- اس لئے اللہ تعالی نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں فتنوں کے شکار ہونگے اور آخرت کا سخت عذاب انکے انتظار میں ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے: )فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ( (ﺳﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺣﻜﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻛﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻛﻮﺋﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺁﻓﺖ ﻧﮧ ﺁ ﭘﮍﮮ ﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔) (نور: 63).

        اس  بڑے قدر وطن کی ترقی کیلئے تمام لوگوں کو باہم تعاون کرنا چاہیئے، اسکے آگے بڑھنے کیلئے پوری کوشش کرنی چاہیے، اسکی جائداد اور جاگیر کی حفاظت ، اس کے اخلاق واطواراور اسکے قانون وضوابط کی پاسداری کرنی چاہیے، تاکہ ہم ترقی کر سکیں اور ہم اپنے امن وامان اور استحكام کی حفاظت کر سکیں، اس لیئے کہ ایک اچھا شہری ہی اپنے وطن کی تعمیر اور اس کے استحكام کی حفاظت کرتا ہے، نفس پرستوں اور ذاتی مصلحت رکھنے والوں سے دور رہتا ہے – ان فتنہ برپا کرنے اور تباہی کی دعوت دینے والوں سے اپنے آپ كو محفوظ ركهتا ہے وه لوگ جو ملک میں انتشار اور بد امنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، الله تعالى فرماتا ہے: )وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ( (ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﺭﺳﯽ ﻛﻮ ﺳﺐ ﻣﻞ ﻛﺮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﮭﺎﻡ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﭦ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻮ،ﺍﻭﺭ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻛﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻛﻮ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﻭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﯾﻚ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﺗﮭﮯ،ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺁﮒ ﻛﮯ ﮔﮍﮬﮯ ﻛﮯ ﻛﻨﺎﺭﮮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﻜﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﯿﺎﻥ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﭘﺎ﯃۔) (آل عمران: 99: 103).

سب سے خطرناک فتنہ جو وطن کےامن اور استحكام کو چلینج کرتا ہے تباہی کی دعوت ہے جو بیمار دل اور کمزور ایمان دیتے ہیں، جن کا اپنے وطن پر ایمان نہیں ، وہ شدت پسند فکر کے حامل ہیں، جو معاشرے کو کھوکھلا اور اس کے امن اور استحكام کو درہم برہم اور اسکی بنیاد اور جڑوں کو ہلانا اور اس کے ستونوں کو جھنجھوڑنا چاہتے ہیں، جو اپنی ناپاک سازش اور کرتوت سے باز نہیں آتے، انکا مقصد ملک کو گرانے اور اسکے امن اور استحكام کو نیست ونابود کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

        سب سے خطرناک چیز جو وطن کو چلینج کرتی ہے اور فرقوں اور ٹولیوں میں تقسیم کرتی ہے وہ دین کا غلط استعمال اور اسکے ساتھ سودا بازی ہے، خواہ وہ کھوکھلے نعرے یا شعلہ بیانی کے ذریعہ ہو یا بیکار کی جدال وجدل جس کا کوئی نتیجہ اور فائدہ نہیں- آجکل اسی طرح کی کچھ بے آہنگ آوازیں اور تباہی کی دعوتیں آرہی ہیں، جو بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ زمیں میں فساد کرنے ، خون خرابہ مچانے، خوف ودہشت پھیلانے اور فتنہ برپا کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ الله تعالى فرماتا ہے: )إِنَّ الذين يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ( (ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺣﯿﺎﺋﯽ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﻛﮯ ﺁﺭﺯﻭﻣﻨﺪ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﯿﮟ،ﺍﹴ ﺳﺐ ﻛﭽﮫ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻛﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ۔) (نور: 19)-

یہ تباہ کن دعوت دینے والے معاشرے میں فساد اور انارکی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، اور قانون اور قومی امن وامان اور استحكام کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے- یہ شدت پسندی اور دہشتگردی کا اہم اندھن شمار ہوتا ہے، اور معاشرے کے ایسے وصف کا سبب ہوتی ہے جونہیں ہے- یہ دعوت جو یہ بلند کر رہے ہیں یہ ایک بھیانک فتنے کو جنم دے گی جو ملک اور بندوں کو تباہ وبرباد اور لوگوں اور افرادوں کے امن وامان کو نیست ونابود کر دے گی، اور ہمارے ارد گرد جو ملک بدامنی کا شکار ہوگئے ہیں اس میں ہمارے لئے عبرت اور نصیحت ہے- ہمارا دین اسلام امن وامان اور استحكام قائم کرنے اور ظلم وزیادتی اور دہشتگردی کو جڑسے اکھاڑ پھیکنے کی دعوت دیتا ہے۔

اجتماعى اجتہاد كى ضرورت

أ.د/ محمد مختار جمعة وزير الأوقاف

ڈی / مختار محمد جمعہ اوقاف کے وزیر

ہمارے معاشرے، خلافِ اصول فتاوے اور شاذ آراء وافكار سے دو چار ہيں- اور بعض نا اہل غير ماہر اور شہرت كے طالب يا جاه ومنصب كے طلبگار يا منظرِ عام پر آنے كا شوق ركهنے والے علماء خلافِ اصول اور شاذ آراء وافكار كے پيچهے دوڑ رہے ہيں تاكہ لوگوں كى نگاہيں اپنى طرف متوجہ كريں- يا اسكے ذريعہ اپنى جماعت يا تنظيم كى خدمت كريں-

چونكہ آج كل مسائل بہت ہيں اور نئے نئے پيچيده اور حساس قسم كے مسائل سامنے آ رہى ہيں اور ان ميں سے بعض زمانۂ قديم كے علماء كرام اور فقہائے عظام كى اُن آراء اور فتاوے سے ٹكر رہے ہيں جو انہوں نے اپنے وقت اور جگہ كے اعتبار سے دئے تهے- اسى طرح يہ غير ماہر، نا اہل اور علت كى تنقيح وتحقيق سے نا بلد علماء صورتِ حال سے نا واقف ہونے اور صحيح قياس كى شرطوں كو نہ جاننے كى وجہ سے بعض احكام كا قياس دوسرى طرح كے احكام پر كر رہے ہيں- اسلئے اس وقت اجتماعى اجتہاد كى اشد ضرورت ہے-

اسى وجہ سے فضيلت مآب جناب شيخ الازہر پروفيسر ڈاكٹر احمد طيب صاحب نے "مذہبى خطاب ميں جدت لانے اور تشدد پسند فكر كو مٹانے كے سلسلے ميں علماء اور ائمہ كا نقطۂ نظر” كے عنوان سے شہرِ اقصر ميں منعقد ہونے والى اسلامى امور كى اعلى كونسل كى كانفرنس ميں تقرير كرتے ہوئے ايسے اجتماعى اجتہاد كى اپيل كى جس كے لئے دنيا كے مختلف ملكوں سے ايسے بڑے بڑے علمائے كرام بلائے جائيں جو امتِ مسلمہ كى مشكلات اور پريشانياں سمجهتے ہيں اور انہيں حل كرنے كى فكر ركهتے ہيں- اور يہ سب مل كر پورى بہادرى كے ساتهـ بعض معلق مسائل كا حل تلاش كريں- مثال كے طور پر دہشت گردى كے مسائل، دار الاسلام كا معنى متعين كرنے، مسلح تشدد پسند جماعتوں كے ساتهـ جا ملنے، معاشرے سے بغاوت كرنے اور اُسے نا پسند كرنے، قتل يا دهماكے كے ذريعے شہريوں كا خون حلال سمجهنے كے مسائل، انسانى حقوق اور آزادى كے مسائل، معاشرتى مسائل خصوصًا عورت كے مسائل، فلكياتى اندازے سے عربى مہينوں كے آغاز كے تعين كا مسئلہ، حج كے مسائل خصوصًا فضا يا سمندر كے ذريعے جده سے آنے والے كے لئے احرام باندهنے كے مسئلے اور كسى بهى وقت كنكرياں مارنے كے مسئلے جيسے اُن مسائل كا حل تلاش كريں- كيونكہ يہ وطن وقت اور لوگوں كى ضروريات اسكا تقاضا كر رہى ہيں- ساتهـ ہى قوم كو تيار كيا جائے كہ وه ايسے فتوے جارى كرنے كا مطالبہ كرے جو كام كو ضرورى قرار ديں اور سستى اور كاہلى كو حرام ٹهہرائيں، اور اس بات كا پورا پورا خيال ركها جائے كہ اِن نازكـ مسائل سے متعلق ايسے مجمل اور عام فتاوے نہ دے جائيں جنكا حقيقت سے كوئى تعلق نہ ہو اور نہ ان سے مسائل حل ہوں، اور نہ ہى صورتِ حال ميں كوئى تبديلى ہى آئے-

بلا شبہہ اس طرح كا اجتماعى اجتہاد خلافِ اصول اور شاذ افكار وخيالات ختم كرنے اور انتہا پسندى كے اُن اسباب كو دور كرنے ميں نہايت ہى واضح اور تعميرى شكل ميں حصہ لے گا جنكا خلاصہ اسلامى امور كى اعلى كونسل كى كانفرنس نے يوں بيان كيا:

  • اپنے ہى دائرے تكـ محدود رہنا، جمودى وتعطل، اندہى تقليد، غلط فہمى، نص كے حرف كو مضبوطى سے پكڑنا، اغراض ومقاصد كى فقہ سے دور ہونا، آئين سازى كے كلى قواعد اور ضابطوں كو اچهى طرح نہ سمجهنا، اور دعوت كا كام نا اہل اور غير ماہر افراد كے سپرد كرنا-
  • بعض جماعتوں اور تنظيموں كى طرف سے دين كى تجارت كرنا اور اسے سياسى مفادات اور پارٹى كے مفادات حاصل كرنے كا ذريعہ بنانا، مذہب اور وطن كے اعلى مفادات پر تنظيموں اور جماعتوں كے مفادات كو ترجيح دينا- اسى طرح ظاہرى ديندارى اور سياسى ديندارى كو الله تعالى كے لئے مخلصانہ ديندارى پر غالب كرنا-
  • بہت سے عربى اور اسلامى ملكوں سے اپنے ايجنٹ جمع كرنے ميں بعض سامراج طاقتوں كا كامياب ہونا، خواه ايسا متبادل مفادات كے پيش نظر كيا گيا ہو، يا بعض جماعتوں سے خيالى وعدے كر كے كيا گيا ہو، يا پهر انكے عہد وپيماں اور وفادارياں خريد كر كيا گيا ہو- اميد كى جاتى ہے كہ اس اجتماعى اجتہاد سے علمائے كرام كے ما بين بہت زياده قربت پيدا ہو گى اور انكے درميان پائے جانے والے بہت سے اختلافات ختم ہو جائيں گے- بلا شبہہ اس كى وجہ سے امتِ مسلمہ كى صفيں متحد كرنے ميں مدد ملے گى- خصوصًا راهِ حق سے ہٹے ہوئے شاذ گمراه اور انتہا پسند افكار وخيالات سے نمٹنے كى خاطر امت كى صفيں متحد كرنے ميں اس سے مدد ملے گى-

ظاہرى اور سياسى ديندارى

أ.د/ محمد مختار جمعة وزير الأوقاف

ڈی / مختار محمد جمعہ اوقاف کے وزیر

بلا شبہ ظاہرى ديندارى اور سياسى ديندارى كا شمار اُن خطر ناكـ ترين چيلنجز ميں ہو رہا ہے جن سے اسلامى اور عربى معاشرے دو چار ہيں- خواه اصل اور جوہر كو چهوڑ كر ظاہرى شكل وصورت پر توجہ مركوز كرنے والے اور اُسے ترجيح دينے والے يہ لوگ اُس انسانى اور اخلاقى معيار پر نہ ہوں جس كى وجہ سے انہيں اسوه اور نمونہ بنايا جائے كيونكہ ظاہرى شكل وصورت كو ترجيح دينے والے اور صرف اسى پر توجہ مركوز كرنے والے وه لوگ زوال اور نفرت انگيزى كى علامت ہوتے ہيں جنكا سلوكـ وكردار اسلام تعليمات سے ہم آہنگ نہيں ہوتا- كيونكہ اگر ظاہرى ديندارى كے ساتهـ ساتهـ معاملات بهى اچهے نہ ہوں- يا وه آدمى جهوٹ بولتا ہو، يا غدارى كرتا ہو، يا خيانت كرتا ہو، يا لوگوں كا مال باطل طريقے سے كهاتا ہو تو معاملہ انتہائى سنگين ہو جاتا ہے- بلكہ ايسا شخص منافقوں كى فہرست ميں داخل ہو جاتا ہے- الله كے رسول (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "منافق كى نشانى تين ہيں: جب وه بات كرتا ہے تو جهوٹ بولتا ہے- جب وعده كرتا ہے تو وعده خلافى كرتا ہے- اور جب اسے كوئى امانت سونپى جاتى ہے تو اس ميں خيانت كرتا ہے-” (صحيح بخارى)- يہى حال اس شخص كا بهى ہے جو ديندارى كو صرف عبادت اور بكثرت عبادت كرنے كے دائرے ميں محدود كر ديتا ہے اور دين كو اچهى طرح نہيں سمجهتا ہے- دوسروں پر دل كهول كر كفر كے فتوے لگاتا ہے- ہتهيار اٹهاتا ہے اور لوگوں كو اس سے تكليف پہنچاتا ہے جيسا كہ خوارج كا حال تها- چنانچہ وه لوگ بہت زياده نمازى، روزے دار اور تہجد گزار تهے- ليكن انكے پاس شرعى علم اتنا نہ تها جو انہيں خون وخرابے سے روكـ سكے- اسلئے ان لوگوں نے لوگوں كے خلاف تلواريں اٹها ليں- لہذا اگر وه پہلے علم حاصل كرتے ہو ايسا نہيں كرتے- جيسا ايمان شافعى نے فرمايا ہے- چناچہ اسلام سب سے پہلے مہربانى اور شفقت كا مذہب ہے- اور ہر وه چيز جو آپ كو مہربانى اور شفقت سے دور كرے گى وه آپ كو اسلام سے دور كرے گى- اور محض بات كا نہيں بلكہ اچهے سلوكـ وكردار كا اعتبار ہوتا ہے- زمانۂ قديم ميں لوگوں نے سچ كہا: ايكـ ہزار لوگوں كى باتوں سے ايكـ آدمى كى حالت ہزار درجے بہتر ہوتى ہے-

        عبادتوں كا فائده اس وقت تكـ سامنے نہيں آتا جب تكـ انكى وجہ سے عبادت گزار كے سلوكـ وكردار اور اخلاق بہتر نہ ہوں- چناچہ جو نماز برائيوں اور فحش كاريوں سے نہ روكے وه نماز نماز نہيں- ارشادِ بارى ہے: ” إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ(45) (ﯾﻘﯿﻨًﺎ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ،  ﺗﻢ ﺟﻮ كچهـ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ)- جس كا روزه اسے جهوٹ بولنے سے نہ روكے اسكا روزه روزه نہيں- ہمارے نبى (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "جو شخص جهوٹ بولنا اور اس پر عمل كرنا نہ چهوڑے تو الله كو اس بات كى كچهـ ضرورت نہيں كہ وه اپنا كهانا پينا چهوڑ دے”ـ (صحيح بخارى). الله تعالى زكات اور صدقے ميں حلال اور پاكيزه مال ہى قبول فرماتا ہے- ہمارے نبى (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "الله تعالى پاكيزه اور وه صرف پاكيزه چيز ہى قبول فرماتا ہے-” (صحيح مسلم)- الله تعالى كے رسول (صلى الله عليہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: "پاكى كے بغير نماز قبول نہيں ہوتى اور حرام مال سے صدقہ قبول نہيں ہوتا-” (صحيح مسلم)- حج كى مقبوليت بهى حلال مال اور اچهے سلوكـ اور معاملے سے مربوط ہے- الله كے رسول (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "جس نے حج كيا اور كوئى فحش بات نہيں كى، اور نہ الله كے كسى حكم كى خلاف ورزى كى تو وه اُس دن كى طرح واپس آتا ہے جس دن اس كى ماں نے اسے جنا تها-” اور آپ (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "آدمى لمبا سفر طے كر كے پراگنده حال اور پراگنده بال ہو جاتا ہے اور آسمان كى طرف ہاتهـ اٹها كر اے ميرے پروردگار اے ميرے پروردگار كرتا ہے اور اسكا كهانا حرام، پينا حرام اور كپڑا حرام ہوتا ہے اور وه حرام خور ہوتا ہے تو پهر اسكى دعا كس طرح قبول كى جائے گى-” (صحيح مسلم)-

        ظاہرى ديندارى سے زياده خطرناكـ سياسى ديندارى ہوتى ہے- يعنى وه لوگ زياده خطرناكـ ہوتے ہيں جو مذہب سے لوگوں كى محبت خصوصًا مذہب سے عوام الناس كى محبت اور انكے مذہبى جذبات سے غلط فائده اٹهاتے ہوئے اقتدار حاصل كرنے كے لئے مذہب كو وسيلہ اور ذريعہ بناتے ہيں- اور لوگوں كے اندر يہ وہم پيدا كرتے ہيں كہ وه دين كى خدمت كرنے اسكى مدد كرنے اور اسے مضبوط بنانے كے لئے اقتدار تكـ پہنچنا چاہتے ہيں- ہم اگرچہ لوگوں كى نيتوں پر حكم نہيں لگاتے اور نہ ہى نيتوں كے معاملے ميں كسى طرح كى مداخلت كرتے ہيں- كيونكہ يہ الله اور بندے كے درميان كى چيز ہے- اور ہر آدمى كو اسكى نيت كے مطابق بدلہ ملتا ہے- ليكن دہشت گرد جماعت "اخوان” اور اسكے نقشِ قدم پر چلنے والى ديگر جماعتوں يا سياسى اسلام كى جماعتوں ميں سے جس نے اسكے ساتهـ معاہده كيا اِن سب كے ساتهـ ہمارے تجربے نے يقينى طور پر دو چيزيں ثابت كى ہيں- ايكـ يہ كہ اِنكا مسئلہ مذہب كا مسئلہ بالكل نہيں ہے- وه محض اقتدار حاصل كرنے كى اسى حرص وہوس اور كشمكش ہے جنكى نظير نہيں ملتى- انكے اندر ايسى تعلّى گهمنڈ اور تكبر ہے كہ وه دوسروں كو خاطر ميں نہيں لاتے- اسى وجہ سے لوگ ان سے نفرت كرنے لگے اور وه اپنے اس سلوكـ وكردار سے مذہب پر بڑا بوجهـ بن گئے- اب اُس منفى فكر وخيال كو لوگوں كے ذہنوں سے نكالنے كے لئے بڑى محنت اور كوشش كى ضرورت ہے- جس كى وجہ سے وه اِن لوگوں كے سلوكـ وكردار اور دين كے درميان ربط وتعلق پيدا كرنے لگے ہيں- اور انكے ساتهـ ہمارے تجربے نے دوسرى چيز يہ ثابت كى ہے كہ انہوں نے اپنے مذہب كو بد نام كيا اور اسكى ترقى يافتہ اور سہولت آميز تہذيب كى شكل وصورت بگاڑ دى- اسى طرح انكے اندر نہ تو مذہب ہے اور نہ كسى چيز كى اہليت ہے- ورنہ كيا مذہب يہ سكهاتا ہے كہ انسان اپنے وطن كے ساتهـ غدارى كرے، اسكے راز فاش كرے، اسكى دستاويزات فروخت كرے اور اسكى گهات ميں لگنے والوں كے لئے اسكے خلاف جاسوسى كرے- كيا تشدد، قتل، بدعنوانى اور بگاڑ پيدا كرنے پر ابهارنا ديندارى ہے؟ نوع بنوع كى ايسى كميٹيان تشكيل دينا دين كا حصہ ہے جو وطن كے ساتهـ غدارى اور وطن كے دشمنوں كى ايجنٹى كرتے ہوئے زمين ميں بگاڑ اور فساد پيدا كر رہى ہيں؟ ميں نے پہلے بهى باور كرايا تها اور اب بهى باور كرا رہا ہوں كہ جو جماعت لوگوں كو دهوكہ دينے اور اقتدار سے متعلق اپنے مقاصد پورے كرنے كے لئے مذہب كا سہارا لے سكتى ہے- وه اپنے مذہب، اپنے وطن اور اپنى امت كى پرواه نہ كرتے ہوئے اپنے مقاصد كے حصول كے لئے شيطان كے ساتهـ بهى معاہده كر سكتى ہے-