وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے اور شہید ہونے کا مقام ومرتبہ

   ان دنوں مصری عوام اپنے ایک تاریخی دن  کا جشن منا رہی ہے جس میں اللہ کریم نے مصر کو اپنی سرزمین اورعزت و وقار کو واپس لوٹانے میں  فتح و کامیابی سے سرفراز فرمایا تھا ، یہ 6 اکتوبر 1973میلادی بمطابق 10 رمضان 1393ہجری  کی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور فتح کا جشن ہے جس میں مصری فوج نے بہادری، سرفروشی اور اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنے کی داستانیں رقم کیں اور  پوری دنیا نے مصری فوج کے اللہ پر ایمان اور اس  کی مدد پر بھروسے ، اور اپنے ہدف و مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اس کےقوی عزم و ارادے کا مشاہدہ کیا ۔

   جب اہداف و مقاصد بلند ہوتے ہیں تو اس کے لئے قربانیاں بھی بڑی قیمتی دینی پڑتی ہیں اور اللہ کی راہ میں حصول ِشہادت کے لئے اپنی جان کا  نذرانہ پیش کرنے سے بڑھ  کرکوئی چیز قیمتی  نہیں ہو سکتی ، آدمی اپنے دین ، اپنے وطن اور اپنی  عزت و ناموس کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کو  قربان کر دیتا ہے تاکہ وہ  اللہ تعالی کے ہاں شہادت کے بلند ترین مرتبہ پر  فائز ہو سکے ۔

   شہادت ایک ربانی عطیہ اور خداوندی انعام ہے جس سے  اللہ کریم انبیاء اور صدیقین کے بعد اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین لوگوں کو نوازتا ہے ، ارشاد خداوندی ہے : {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} "اور جو بھی اللہ تعالی کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے ، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا ہے ، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ ، یہ بہترین رفیق ہیں "۔ اللہ  تعالی کا کسی انسان کو شہادت کے مرتبہ پر فائز کرنے کے لئے منتخب کر لینا  اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی اس انسان سے راضی ہے ، اور اس مقام و مرتبہ سے بڑھ کر اور کون سا مقام و مرتبہ ہو سکتا ہے ، اللہ کریم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : {وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ} "اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے "۔ شہید اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے، آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی تمام تر خواہشات اور آرزؤں کو  قربان کرتے ہوئے دین اور وطن کی خاطر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے ۔

   شہید  کو یہ بلند مقام و مرتبہ مبارک ہو ، اس نے نفع بخش سَودا کیا ہے ، اس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: {إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ} "بلاشبہ اللہ تعالی نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی ۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پس وہ قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں ، اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں "۔ شہید نے کتنا عمدہ سودا کیا ہے جس کی جزا جنت  ہے ، حدیث پاک میں آیا ہے کہ ام ربیع بنت براء جو کہ حارثہ بن سراقہ کی ماں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا : اے اللہ کے رسول ، کیا آپ مجھے حارثہ کے بارے میں خبر نہیں دیں گے ؟ حارثہ رضی اللہ عنہ  بدر کے دن کسی نامعلوم تیر انداز کے تیرے لگنے سے شہید ہو گئے ، اگر و ہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی ورنہ میں اس پر خوب آہ و بکا کروں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے حارثہ کی ماں ، جنت میں کئی مقامات ہیں اور تیرے بیٹے کو فردوس الاعلی میں مقام نصیب ہوا ہے "۔

   حقیقی شہید وہ ہے جو اللہ کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے اور اللہ کے دین کی سربلندی ، اپنے وطن کے دفاع اور اس کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لئے اپنی جان تک قربان کردیتا ہے ، ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : ( اے اللہ کے رسول ) ایک آدمی مالِ غنیمت کے لئے لڑتا ہے ، اور ایک آدمی شہرت کے لئے لڑتا ہے اور ایک آدمی اس لئے لڑتا ہے تاکہ اس کی بہادری کے چرچے ہوں ، تو اِن میں سے اللہ کی راہ میں کون لڑ رہا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس لئے لڑتا ہے تاکہ اللہ کادین ہی سربلند ہو تو وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا ہے”۔

   اسی طرح حقیقی شہید وہ ہے جو ہر قسم کے گھٹیا پن کو ناپسند کرتا  ہے ، ذلت و رسوائی کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور اپنے مال و متاع پر ظلم و زیادتی کرنے کی کوشش کر نے والے ہر شخص سے مزاحمت کرتا ہے ، ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ آپ کا کیا خیال ہے  اگر  کوئی شخص آ کر میرا مال چھیننا چاہے ؟  آپ نے فرمایا : تم اپنا مال اسے نہ  دو،  اس نے عرض کی: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ مجھ سے لڑائی کرے؟  آپ نے فرمايا: تم بھی اس سے لڑائی کرو ، اس نے عرض کی: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ مجھے  قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم شہید ہو، اس نے عرض کی :آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اس کو قتل کر دوں ؟  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جہنمی ہے ۔

  اسی طرح حقیقی شہید وہ بھی ہے جو اپنے وطن ، اپنی سرزمین اور اپنی عزت و ناموس کا دفاع کرتا ہے ، ایک حقیقی مسلمان کے نزدیک وطن اور عزت و ناموس کا دفاع کرنا جان و مال اور دین کا دفاع کرنے  کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ دین کے لئے ایک وطن کا ہونا ناگزیر ہے جو اس کی حفاطت کرے ، سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا  وہ شہید ہے اور  جو شخص اپنے  اہل و عیال کا دفاع کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا  وہ شہید ہے اور جو شخص اپنے دین کا دفاع کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے "۔

  اس لئے اگر کوئی شخص  اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے دین کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے یا اپنے وطن کی سرزمین کی حفاظت اور اس پر دشمن کی سرکشی کا جواب دیتے ہوئے اپنی جان قربان کر دیتا ہے تو اس پر شہادت کے مفہوم کا اطلاق ہو گا کیونکہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے ، اور تاریخی معرکہء عبور کے شہداء مبارک باد کے مستحق ہیں جن کے پاکیزہ خون سے مصر کی پاک سرزمین سیراب ہوئی اور ان کی روحیں اللہ کریم کی بارگاہ کی طرف پرواز کرتے ہوئے اس کی خوشنودی اور ان نعمتوں کی مستحق ٹھہریں جن کا اللہ کریم نے ان سے وعدہ کر رکھا تھا ، ہم  اللہ کریم کی بارگاہ میں دست دعا دراز کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی شہادت کی موت نصیب فرمائے ۔

  اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے بہت بڑے انعامات ہیں ، ان میں سے ایک انعام یہ ہے جس کے بارے میں اللہ  تعالی نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ  شہدا ء زندہ ہے اپنے رب کے پاس رزق دیئےجاتے ہیں ، ارشاد خداوندی ہے : {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ* فَرِحِينَ بِمَا آَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ* يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ} ” جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے اپنا فضل جو انہیں دے رکھا ہے اس سے بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا  رہے ہیں ان لوگوں کی بابت جو اب تک ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے ہیں اس پر کہ انھیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اِس سے بھی کہ اللہ تعالی ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا "۔ جی ہاں وہ زندہ ہیں مردہ نہیں ہیں انہیں رزق دیا جاتا ہے اور ان کا رزق اللہ تعالی کی بارگاہ سے ملتا ہے ، وہ اللہ تعالی کی عطاکردہ نعمتوں سے خوش ہو رہے ہیں انہیں وہ جنت نصیب ہوئی ہے جس میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ ہی کسی انسان کے  دل میں ان کا خیال گزرا ہے ، وہ اپنے آنے والے بھائیوں سے خوش ہورہے ہیں ، وہاں نہ کوئی مَلال ہے ، نہ کوئی غم ہے نہ کوئی پریشانی بلکہ وہاں تو صرف خوشیاں ، اللہ کا فضل وکرم اور نعمتیں ہیں ۔

  حضرت جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تجھے پریشان دیکھ رہا  ہو ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور وہ  اہل و عیال اور قرض چھوڑ کر گئے ہیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس بات کی  خوش خبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی ضرور اے اللہ کے رسول تو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ رب العزت نے بغیر حجاب کے کبھی کسی سے کلام نہیں کیا لیکن اللہ رب العزت  نے  تمھارے والد کو زندہ کیا اور اس سے بغیر کسی  حجاب  کے براہِ راست کلام کیا ، اللہ نے فرمایا : اے بندے تو تمنا کر میں تجھے عطا کروں گا  تو (تمہارے والد نے)عرض کی کہ اے میرے رب تو مجھے زندگی عطا کر  تاکہ میں دوبارہ تیرے لئے لڑوں ، اللہ رب العزت نے فرمایا: کہ میرا فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں نہیں لوٹائے جائیں گے ۔حضرت جابر  نے کہا کہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا} "جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں "۔

  اللہ تعالی نے شہداء کو  جو مقام و مرتبے عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں شہید کے لئے چھ خوبیاں ہیں، حضرت مقدام بن معدیکرِب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے ہاں شھید  کیلئے چھ خوبیاں ہیں : اس کے خون کے پہلے قطرے میں اسکو بخش دیا جاتا ہے ،جنت میں اس کا مقام اس کو دکھا دیا جاتا ہے ، عذابِ قبر سے بچا لیا جاتا ہے ، قیامت  کی بڑی ہولناکیوں سے محفوظ رہتا ہے ، اس کے سر پر ایمان کا تاج سجایا جاتا ہے، اور حور العین میں سے بہتر  بیویوں  کے  ساتھ اس کی شادی کی جاتی ہےاور اسکے عزیز و اقارب کے ستر افراد کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔

  اور شہید کی عزت و تکریم کی ایک صورت  یہ ہے کہ فرشتے اپنے پروں سے اس پر سایہ کرتے ہیں ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  احد کے دن میرے والد کو شہید ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا جبکہ ان کا مُثلَہ کر دیا گیا تھا اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا ، میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے کے لئے گیا تو  میرے ساتھیوں نے مجھے منع کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہ وبکا کرنے والی عورت کی آواز سنی تو فرمایا : ” تم کیوں رو رہی ہو ؟ مت رو ، فرشتے اس پر اپنے پروں سے سایہ کر رہے ہیں ” ۔

  شہید کا ایک انعام یہ ہے  کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے کو پہلے لمحہ ہی بغیر کسی حساب اور عذاب کے جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے ، عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ” اللہ تعالی قیامت کے دن جنت کو بلائے گا پس وہ اپنی زیب و زینت اور آرائش و ستائش کے حاضر ہو گی ، اللہ تعالی فرمائے گا : میرے وہ بندے کہاں ہیں جو میری راہ میں لڑے اور میری راہ میں قتل کر دیئے گئے اور انہیں تکلیفیں پہنچائی گئیں اور انہوں نے میری راہ میں جہاد کیا ،  ( انہیں حکم ہو گا کہ ) جنت میں داخل ہو جاؤ  پس وہ بغیر کسی حساب اور عذاب کے اِس میں داخل ہو جائیں گے ، فرشتے آ کر کہیں گے : اے ہمارے رب ، ہم دن رات تیری تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ، یہ کون لوگ ہیں جنہوں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے ؟ تو اللہ رب العزت ارشاد فرمائے گا : یہ وہ لوگ ہیں جو میری راہ میں لڑے اور انہیں میری راہ میں تکلیفیں دی گئیں پس فرشتے  ان پر ہر دروازے سے یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے کہ "تمہارے صبر کی وجہ سے تم پر سلامتی ہو ، اور آخرت کا گھر  بہت اچھا ہے "۔

  اور شہید کے لئے ایک انعام یہ ہے کہ اس کے لئے جنت میں بہترین اور عمدہ گھر  ہوگا ، سَمُرَہ بن جُندَب رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے رات دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے ساتھ لے کر درخت پر چڑھے اور انہوں  نے مجھے ایک گھر میں داخل کیا جو بہت خوبصورت اور عمدہ تھا میں نے اس سے زیادہ خوبصورت گھر کبھی نہیں دیکھا ، انہوں نے مجھے  کہا کہ : یہ شہداء کا گھر ہے "۔

  ان تمام انعامات کی وجہ سے شہید ہی ایک واحد فرد ہو گا جو اس بات کو پسند کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے تاکہ اسے اللہ کی راہ میں دوبارہ  شہید کیا جائے جیساکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کے سوا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص اس بات کو  پسند نہیں کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے اور اس کے لئے زمین پر کوئی چیز ہو ، پس شہید جو عزت وتکریم دیکھتا  ہے اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ  شہادت کا جو مقام و مرتبہ دیکھتا ہے  اس کی  وجہ سے وہ  اس بات کی تمنا کرے گا کہ اسے دس مرتبہ  دنیا میں واپس بھیجا جائے  اور قتل کیا جائے "۔

  برادرانِ اسلام !

  اس دنیا میں بڑے اہداف اور اعلی مقاصد تک رسائی حاصل کرنا بڑی قیمتی قربانیوں کو مستلزم ہے ، اس بات میں شک نہیں ہے کہ اہداف و مقاصد کا بلند ہونا بڑی قیمتی  قربانیوں کا تقاضہ کرتا ہے اور یہی ہر اس شخص کا حال ہے جو اپنے وطن اور دین کی راہ میں جان کی قربانی پیش کرتا ہے ۔

  اپنے وطن عزیز اور دین متین کے حق میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق  اپنے وطن کو دشمنوں اور اس کو درپیش چیلنجز  سے محفوظ رکھنے کے لئے  شانہ بشانہ کھڑے ہوں ایک دوسرے کا دست و بازو  بن کر  اس کے دفاع کے لئے کوشش کریں اور ان کے امن و امان کی حفاظت کے لئے ہر وقت بیدار رہیں اور اس کے خلاف اٹھنےوالی ہر آنکھ کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔

  ہم اپنے بہادر سپاہیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا ، اللہ تعالی کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھایا اور اپنے پختہ عزم  اور یقین راسخ کے ذریعے  ہمارے پیارے ملک مصر کو تعمیر وترقی کی راہ پر  گامزن کرنے میں کامیاب ہوئے ، ہم اپنی بہادر مسلح فوج کو ان کی عظیم کامیابی کے دن کے موقع پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔

  اور ہمارے اوپر ایک اور ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ترقی ، خوشحالی ، کام اور محنت کی طرف پیش قدمی کریں تا کہ ہم ساری دنیا کے سامنے ثابت کردیں کہ وہ لوگ جنہوں نےاُس عظیم دن میں قلعوں کی دیواروں اور آگ کے شعلوں کو عبور کیا تھا ان کی اولاد اللہ تعالی کے حکم سے امن و امان کی بحالی اور تعمیروترقی کی راہ میں آنے والی ہر مشکل کا سامنا کرنے پر قادر ہے ، اور ہمیں چاہیے کہ ہم  سب اپنی حکیمانہ سیاسی قیادت ، اپنی بہادر فوج اور پولیس اور تمام قومی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔

  اے اللہ عالم اسلام كے تمام ممالك خاص طور پر مصر اور اس کی عوام ہر برائی اور شر سے محفوظ رکھ۔ آمين