نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان کے چند نمونے
7 ربیع الاول 1437 ھ مطابق 18 دسمبر 2015ء

awkaf

پہلا: عناصر:

  1. تخليق كے آغاز ميں رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان۔
  2. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش سے پہلے آپ e کی عزت وشان-
  3. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان سب سے بہترين اور عزت دار نسل کے ذریعہ-
  4. رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نام کے ساتھ ساتھ نبوت ورسالت کے شرف سے خطاب-
  5. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت اور فرمانبردارى کا لازمى ہونا-
  6. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت وشان اللہ تعالى کا آپ e کی حفاظت اپنے ذمہ خود لینا-
  7. رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کى رسالت کا عام ہونا-
  8. رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا تمام جہان والوں کے لئے رحمت ہونا-

دوسرا: دليليں:

قرآن كريم ميں دليليں:

  • الله تعالى فرماتا ہے: {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِين}[آل عمران: 81]. (ﺟﺐ الله تعالى ﻧﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﻟﯿﺎ ﻛﮧ ﺟﻮ كچهـ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺩﻭﮞ ﭘﮭﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺭﺳﻮﻝ ﺁﺋﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻛﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺳﭻ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭﯼ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﻣﮧ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗھ ﮔﻮﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔) - [آل عمران: 81].
  • الله تعالى كا ارشاد ہے: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ}[البقرة:129]. (ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ! ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺑﮭﯿﺞ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﭘﮍﮬﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺳﻜﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ پاكـ ﻛﺮﮮ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻮ ﻏﻠﺒﮧ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) [البقرة:129].
  • ارشادِ بارئ تعالى ہے:{وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَابَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ}[الصف: 6] . (ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﺮﯾﻢ ﻛﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻋﯿﺴﲐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﺍﮮ (ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ)، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ! ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﺐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ الله كا ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ مجهـ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻛﯽ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ايكـ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ جنكا ﻧﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍن ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻛﮭﻠﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮭﻼ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔) [الصف: 6] .
  • الله تعالى فرماتا ہے:{مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا}[النساء: 80]. (ﺍﺱ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺟﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻛﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﻧﮯ الله تعالى ﻛﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ كچهـ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔) [النساء: 80].
  • الله تعالى فرماتا ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ }[آل عمران: 31]. ( ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﮯ! ﺍﮔﺮ ﺗﻢ الله تعالى ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ، ﺧﻮﺩ الله تعالى ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﮔﺎﺍﻭﺭ الله تعالى ﺑﮍﺍ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔) [آل عمران: 31].
  • الله تعالى كا ارشاد ہے:{يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ}[المائدة: 67] . (ﺍﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺟﻮ كچهـ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﻛﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ الله ﻛﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻮ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺑﮯ شكـ الله تعالى كافر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔) [المائدة: 67] .
  • الله تعالى كا فرمان ہے:{ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ}[سبأ: 28]. (ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯾﺎﮞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ (ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ) ﻛﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﯽ ﺍﻛﺜﺮﯾﺖ ﺑﮯﻋﻠﻢ ﮨﮯ۔)
  • الله تعالى فرماتا ہے: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ}[الأنبياء: 107] . (ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﮩﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﮨﯽ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔) [الأنبياء: 107] .
  • الله تعالى كا ارشاد ہے: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}[الأحزاب:56]. (الله تعالى ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﺗﻢ (ﺑﮭﯽ) ﺍﻥ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺳﻼﻡ (ﺑﮭﯽ) ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔) [الأحزاب:56].
  • ارشاد بارئ تعالى ہے: {لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذاً فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ}[النور: 63]. (ﺗﻢ الله تعالى ﻛﮯ ﻧﺒﯽ ﻛﮯ ﺑﻼﻧﮯ ﻛﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻼﻭﺍ ﻧﮧ ﻛﺮﻟﻮ ﺟﯿﺴﺎ ﻛﮧ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ايكـ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ الله ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﺑﭽﺎ ﻛﺮ ﭼﭙﻜﮯ ﺳﮯ سركـ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺣﻜﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻛﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻛﻮﺋﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺁﻓﺖ ﻧﮧ ﺁ ﭘﮍﮮ ﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﺭﺩناكـ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔) [النور: 63].

سنتِ نبوى ميں دليليں:

  1. واثلہ بن اسقع سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: « ِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِى هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِى مِنْ بَنِى هَاشِمٍ » (اللہ جل جلالہ نے اسمعيل كى اولاد ميں كنانہ كو چنا اور قريش كو كنانہ ميں سے اور بنى ہاشم كو قريش ميں سے اور مجھ كو بنى ہاشم ميں سے-) [رواه مسلم].
  2. عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَہ سُلّمى سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: «… أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَة عِيسَى قَوْمَهُ ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ» (… میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ کا خواب ہوں جو کہ انہوں نے میری وقت ولادت دیکھا بے شک اُن سے ایک نور خارج ہوا جس سے اُن کے لئے شام کے محلات روشن ہو گئے۔) (مسند أحمد).
  3. ابو سَعِيد (رضي الله عنه) سے مروى ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ: كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي ) (میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے کہا: بے شک آپ کا اور میرا رب آپ سے اِستفسار فرماتا ہے: میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : (اے حبیب!) جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا ذکر میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔) (مجمع الزوائد للهيثمى).
  4. ابو ہريره (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) سے روايت ہے كہ انہوں نے نبى كريمe سے سنا آپe فرماتے تهے كہ: «مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ» (جس نے ميرى اطاعت كى اس نے الله كى اطاعت كى اور جس نے ميرى نافرمانى كى اس نے الله كى نافرمانى كى) [متفق عليه].
  5. حضرت انس (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) سے روايت ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (تم ميں سے كوئى شخص ايمان دار نہ ہو گا جب تكـ اس كے والد اور اس كى اولاد اور تمام لوگوں سے زياده اس كے دل ميں ميرى محبت نہ ہو جائے-) [متفق عليه].
  6. ابو ہريره t سے مروى ہے كہ رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: «إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ» (میں رحمت ہوں اور ہدایت دینے کے لیے آیا ہوں-) [رواه الحاكم في المستدرك].
  7. جَابِر بْنِ عَبْدِ اللهِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُما) سے روايت ہے كہ رسول اللهe نے فرمايا: "أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ." (مجهے پانچ ايسى چيزيں عطا كى گئى ہيں جو مجھ سے پہلے انبياء كو نہيں دى گئى تهيں- (1) ايكـ مہينے كى راه سے ميرا رعب ڈال كر ميرى مدد كى گئى (2) ميرے لئے تمام زمين ميں نماز پڑهنے اور پاكى حاصل كرنے كى اجازت ہے- اس لئے ميرى امت كے جس آدمى كى نماز كا وقت (جہاں بهى) آ جائے اسے (وہيں) نماز پڑھ لينى چاہئے- (3) ميرے لئے مال غنيمت حلال كيا گيا- (4) پہلے انبياء خاص اپنى قوموں كى ہدايت كے لئے بهيجے جاتے تهے- ليكن مجهے دنيا كے تمام انسانوں كى ہدايت كے لئے بهيجا گيا ہے- (5) مجهے شفاعت عطا كى گئى ہے-") [بخارى].

تیسرا: موضوع:

اللہ تعالى نے رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کو ایسی عزت وشان عطا فرمائی کہ کسی کو بھی کائنات کی تخلیق سے لیکر اب تک اورنہ تو آپ کی پیدائش سے پہلے یا بعد میں اور نہیں آپ کی زندگی یا آپ کی وفات کے بعد کسی اور کو میسر ہوئی ہے۔

     تخلیق کے آغاز میں اللہ تعالى کی جانب سے اپنے رسول کی عزت وشان افزائی یہ ہے کہ اللہ نے اولین وآخرین کے درمیان آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند فرمایا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی نبی کو بھیجا ان سے عہد وپیمان لیا کہ اگر کسی نے بھی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پایا تو ضروری ہے کہ ان پر ایمان لائے اور انکی مدد کرے۔ الله تعالى فرماتا ہے: {وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِين}[آل عمران: 81]. (ﺟﺐ الله تعالى ﻧﮯ ﻧﺒﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﻟﯿﺎ ﻛﮧ ﺟﻮ كچهـ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺩﻭﮞ ﭘﮭﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺭﺳﻮﻝ ﺁﺋﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻛﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺳﭻ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭﯼ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﻣﮧ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗھ  ﮔﻮﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔) - [آل عمران: 81]-  اللہ تعالی نے اس عہد وپیمان کی شان یوں بڑھائی کہ نبیوں کے ساتھ خود اللہ نے اس کی گواہی دی-

تمام پچھلے انبیاء نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی۔ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَہ سُلّمى سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: «… أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَة عِيسَى قَوْمَهُ ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ» (… میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ کا خواب ہوں جو کہ انہوں نے میری وقت ولادت دیکھا بے شک اُن سے ایک نور خارج ہوا جس سے اُن کے لئے شام کے محلات روشن ہو گئے۔) (مسند أحمد).

     حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اللہ تعالی کے اس قول میں: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [البقرة: 129] (ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ! ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺑﮭﯿﺞ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﭘﮍﮬﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﺘﺎﺏ ﻭﺣﻜﻤﺖ ﺳﻜﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ پاكـ ﻛﺮﮮ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻮ ﻏﻠﺒﮧ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) [البقرة:129].  ، وبشارة عيسى (عليه السلام) في قوله سبحانه : {وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ} (ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﺮﯾﻢ ﻛﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻋﯿﺴﲐ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﺍﮮ (ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ)، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ! ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﺐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﹴ ﰷ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻛﯽ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﻚ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺟﻨﲀ ﻧﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﮞ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻛﮭﻠﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮭﻼ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔) [الصف: 6].

حضرت عیسی (عليه السلام) کی بشارت اللہ تعالی کے اس قول میں : {وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ} [الصف: 6]. (ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﺮﯾﻢ ﻛﮯ ﺑﯿﭩﮯ عيسى ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﺍﮮ (ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ)، ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ! ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﺐ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ الله كا ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ مجهـ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻛﯽ ﻛﺘﺎﺏ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ايكـ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ جنكا ﻧﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍن ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻛﮭﻠﯽ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻛﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮭﻼ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ۔) [الصف: 6] .

 اللہ تعالى کا اپنے رسول کی پیدائش سے پہلے انکی عزت وشان افزائی یہ ہے کہ انکا نام محمد رکھا۔ حضرت آمنہ بنت وھب بیان کرتی تھی کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے پیٹ میں تھے تب انہوں نے کسی کہنے والے سے سنا جو ان سے کہہ رہا ہے: کہ تمہارے پیٹ میں اس امت کا سردار ہے جب وہ زمین پر آ جائے تو تم کہو: اس کو ہر حاسد کے شر سے اللہ واحد کی پناہ میں دیتی ہوں، پھر اسکا نام محمد رکھو- بلا شبہ تورات میں انکا نام احمد ہے، اہل عرش وفرش انکی ثنا خوانی کرتے ہیں، اور انجیل میں انکا نام احمد ہے، اہل عرش وفرش انکی ثنا کرتے ہیں، اور قرآن میں انکا نام محمد ہے، تو اسکا یہی نام رکھنا- (شعب الايمان بيهقى).

رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی شرافت ميں سے يہ ہے کہ آپ انسانوں میں سب سے شریف النسب ہیں۔ اسى موضوع پر الله تعالى كا فرمان ہے:{وَتَقَلُّبَكَ فِي الساجدين}(ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﯿﺮﺍ ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ۔) [الشعراء: 219 ]

حضرت ابن عباس (رضى الله عنہما) بیان کرتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ آپ ‎(صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے آباء واجداد آدم ونوح وابراھیم کے صلب سے ہوتے ہوئے سب سے شریف خاندان میں پیدا ہوئے (تفسیر ابن کثیر) تو آپ سب سے شریف النسب ہیں، اور عرب کے سب سے معزز گھرانہ سے ہیں، جاہلیت کی بربریت سے اللہ تعالی نے آپ کی حفاظت فرمایا، اور نسل در نسل پاکیزہ صلبوں سے پاکیزہ ارحام میں منتقل کرتا رہا، تو حضرت اسماعیل کی اولاد میں کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو، تو آپ چیدوں میں سے چیدہ تھے۔ واثلہ بن اسقع سے روايت ہے ميں نے رسول اللهe سے سنا آپ فرماتے تهے: « ِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِى هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِى مِنْ بَنِى هَاشِمٍ » (اللہ جل جلالہ نے اسمعيل كى اولاد ميں كنانہ كو چنا اور قريش كو كنانہ ميں سے اور بنى ہاشم كو قريش ميں سے اور مجھ كو بنى ہاشم ميں سے-) [رواه مسلم].

اللہ عزوجل کا اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت افزائی انکی زندگی میں یہ ہے کہ اللہ نے دنیا وآخرت میں آپ کے ذکر کو بلند فرمایا، کہ جو بھی شخص اللہ تعالی کا ذکر کرے گا وہ رسول اللہ کا ذکر ضرور کرے گا۔  الله تعالى فرماتا ہے: {وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ} (ﺍﻭﺭ ﮨم ﻨﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﺫﻛﺮ ﺑﻠﻨﺪ ﻛﺮ ﺩﯾﺎ)- ابو سَعِيد (رضي الله عنه) سے مروى ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّكَ يَقُولُ: كَيْفَ رَفَعْتُ ذِكْرَكَ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ: إِذَا ذُكِرْتُ ذُكِرْتَ مَعِي ) (میرے پاس جبریل آئے اور انہوں نے کہا: بے شک آپ کا اور میرا رب آپ سے اِستفسار فرماتا ہے: میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : (اے حبیب!) جب میرا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ کا ذکر میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔) (مجمع الزوائد للهيثمى).

بہت سے امور میں اللہ تعالی نے رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) کا نام خود اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا ہے، تو کسی کا اسلام قابل قبول ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اللہ کی ربوبیت کے ساتھ ساتھ اس کے رسول کی رسالت کی گواہی نہ دے- حضرت حسان بن ثابت (رضى الله عنہ) کہتے ہیں:

وضمَّ الإلهُ اسمَ النبيّ إلى اسمهِ إذا قَالَ في الخَمْسِ المُؤذِّنُ أشْهَدُ
وشــــقّ لهُ منِ اسمـــــهِ ليجلـــــــهُ فذو العرشِ محمودٌ ، وهذا محمـــدُ

يعنى اللہ نے اپنے نبی کے نام کو اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا، کہ مؤذن پانچ وقت کہتا ہے اشھد، اور انکی تکریم کیلئے خود اپنے نام سے انکا نام نکالا، تو صاحب عرش محمود ہے اور یہ محمد ہے۔

الله كى وحدانيت اور رسالت محمد e پر گواہى، اذان، اذانِ اقامت  اور خطبۂ جمعہ ميں رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) كے نام كا ذكر فرض ہے- قرآن مجيد ميں رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) كا ذكر آيا ہے- الله تعالى فرماتا ہے:{مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا}[النساء: 80]. (ﺍﺱ ﺭﺳﻮﻝ (ﹲ) ﻛﯽ ﺟﻮ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻛﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﻧﮯ الله تعالى ﻛﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ كچهـ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔) [النساء: 80]- الله تعالى كا ارشاد ہے: {وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ} (ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ ﺭﺳﻮﻝ (e) ﻛﯽ) [النساء: 59] ، فَمَنْ أَطَاعَ اللَّهَ وَلَمْ يُطِعْ الرَّسُولَ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ.  يعنى اگر كوئى شخص الله تعالى كى اطاعت كرتا ہے ليكن رسول الله كى اطاعت نہيں كرتا، تو اسكى الله كى اطاعت قبول نہيں ہوتا-

اللہ تعالی نے اپنی بیعت کو رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) کی بیعت کے ساتھ شامل فرمایا- الله تعالى ارشاد فرماتا ہے:{ إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ} (ﺟﻮ ﻟﻮﮒ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ) [الفتح:10]- اسلئے رسول الله (صلى الله عليہ وسلم) کی اطاعت جنت سے سرفرازی کی علامت ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے:{وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔) [الأحزاب: 71]- اس موضوع پر قرآن مجيد ميں بعض اور آيتيں بهى ہيں- ابو ہريرهt سے روايت ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: (كُلُّ أُمَّتِي يَدخُلُونَ الجَنَّةَ إلاَّ مَنْ أبَى ) قيلَ : وَمَنْ يَأبَى يَا رَسُول الله ؟ قَالَ : ( مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أبَى) (بخارى)- (سارى امت جنت ميں جائے گى سوائے ان كے جنہوں نے انكار كيا- صحابہ كرام نے عرض كيا: يا رسول الله! انكار كون كرے گا؟ فرمايا كہ جو ميرى اطاعت كرے گا وه جنت ميں داخل ہو گا اور جو ميرى نافرمانى كرے گا اس نے انكار كيا-)  (بخارى).  حضرت عمر (رضي الله عنه)  حجر اسود كے پاس آئے اور اسے بوسہ ديا اور فرمايا: ( إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) يُقَبِّلَكَ مَا قَبَّلْتكَ ) (ميں خوب جانتا ہوں كہ تو صرف ايكـ پتهر ہے، نہ كسى كو نقصان پہنچا سكتا ہے نہ نفع- اگر رسول الله e كو تجهے بوسہ ديتے ہوئے ميں نہ ديكهتا تو ميں بهى كبهى تجهے بوسہ نہ ديتا-) (بخارى). اللہ تعالی کی اطاعت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اسی طرح اللہ عزوجل کا اپنے رسول کی عزت افزائی میں سے یہ بھی ہے کہ رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اللہ تعالی پر ایمان کا جزو بنا دیا، بلکہ رسول کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا ہے، اور رسول الله کی اتباع کو اپنی محبت کی علامت قرار دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ }[آل عمران: 31]. ( ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﺌﮯ! ﺍﮔﺮ ﺗﻢ الله تعالى ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﻭ، ﺧﻮﺩ الله تعالى ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺑﮍﺍ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔) [آل عمران: 31]. اسلئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حضرت انس (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) سے روايت ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» (تم ميں سے كوئى شخص ايمان دار نہ ہو گا جب تكـ اس كے والد اور اس كى اولاد اور تمام لوگوں سے زياده اس كے دل ميں ميرى محبت نہ ہو جائے-) [متفق عليه].

          صرف يہى نہيں بلکہ بندے کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ہے جب تک کہ وہ رسول اللہ کی محبت کو اپنی جان جو اس کے پہلو میں ہے اور اپنی اولاد اور تمام لوگوں کی محبت پر مقدم نہ کرے۔ عبد اللہ بن ہشام سے روايت ہے انہوں نے بيان كيا كہ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) وَهْوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلاَّ مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): «لاَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ » فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : فَإِنَّهُ الآنَ وَاللَّهِ لأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ (صلى الله عليه وسلم) : « الآنَ يَا عُمَرُ. » (ہم نبى كريمe كے ساتھ تهے اور آپ e عمر بن خطابt كا ہاتھ پكڑے ہوئے تهے- عمرt نے عرض كيا، يا رسول الله! آپ مجهے ہر چيز سے زياده عزيز ہيں، سوا ميرى اپنى جان كے- آنحضرتe نے فرمايا نہيں، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے- (ايمان اس وقت تكـ مكمل نہيں ہو سكتا) جب ميں تمہيں تمہارى اپنى جان سے بهى زياده عزيز نہ ہو جاؤں- عمر t نے عرض كيا پهر والله! اب آپ مجهے ميرى اپنى جان سے بهى زياده عزيز ہيں- آنحضرتe نے فرمايا، ہاں، عمر! اب تيرا ايمان پورا ہوا-).[ بخارى]

جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اس شخص کے شرف ومنزلت کیلئے یہ کافی ہے کہ قیامت کے دن اسکا حشر رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگا۔ اور اس سے بڑھ کر کوئی عزت وشرف کا مقام نہیں ہو سکتا ہے۔ حضرت انس t بن مالكـ نے بيان كيا كہ ايكـ دفعہ ميں اور رسول الله e مسجد سے نكل رہے تهے كہ ايكـ صاحب (ذو الخويصره يا ابو موسى) نے رسول اللهe سے قيامت كے بارے ميں پوچها كہ اے رسول الله! قيامت كب قائم ہو گى؟ اس پر رسول الله e نے فرمايا: « مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟» فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ ، وَلاَ صَلاَةٍ ، وَلاَ صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ : «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ».[رواه البخاري]- ( تم نے قيامت كے لئے تيارى كيا كى ہے؟ انہوں نے عرض كيا: كچھ بهى نہيں، سوا اس كے كہ ميں الله اور اس كے رسول سے محبت ركهتا ہوں- آنحضرتe نے فرمايا كہ پهر تمہارا حشر بهى انہيں كے ساتھ ہو گا جن سے تمہيں محبت ہے-) (بخارى)-

رسول اللہ کی عزت وشان کی اعلی مثال میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ سبحانہ تعالی نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو آپکے نام کے ساتھ مخاطب نہیں فرمایا جیسا کہ پچھلے تمام نبیوں کو مخاطب کیا ہے- پرورگار عالم ہر نبی کو صرف انکے نام سے مخاطب کرتا تھا۔ مثلا الله تعالى فرماتا ہے: { يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﺁﺩﻡ! ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ) [البقرة 35]- ارشادِ بارئ تعالى ہے: { يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ} (ﻛﮧ ﺍﮮ عيسى! ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﮞ) [آل عمران 55]- الله تعالى كا ارشاد ہے: { يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻧﻮﺡ! ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﺮﻛﺘﻮﮞ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﺗﺮ، ﺟﻮ تجهـ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ) [هود 48]- { يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﲐ! ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ الله ﮨﻮﮞ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﮩﺎﻧﻮﮞ كا ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ۔) [القصص 30]، { يَا يَحْيَى خُذْ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ} (ﺍﮮ يحيى ! ﻣﯿﺮﯼ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﻮ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﺎﻡ ﻟﮯ) [مريم 12] ، {يَا مُوسَى * إِنِّي أَنَا رَبُّكَ } (ﺍﮮ موسى! (١٢) ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮨﻮﮞ) [طه: 11، 12] ، {يَا إِبْرَاهِيمُ * قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ! (١٠٥) ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻛﻮ ﺳﭽﺎ ﻛﺮ ﺩﻛﮭﺎﯾﺎ، بيشكـ ﮨﻢ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺰﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) [الصافات: 104، 105]، {يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا } (ﺍﮮ ﺯﻛﺮﯾﺎ ! ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ايكـ ﺑﭽﮯ ﻛﯽ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ كا ﻧﺎﻡ يحيى ﮨﮯ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ كا ﮨﻢ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻛﺴﯽ ﻛﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯿﺎ۔) [مريم: 7].

     لیکن خاتم الانبیاء محمد صل اللہ علیہ وسلم کو ایسے القاب وآداب سے مخاطب کیا گيا جو انکی نبوت ورسالت کے شرف پر دلالت کرتے ہیں۔ الله تعالى فرماتا ہے: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} (ﺍﮮ ﻧﺒﯽ! ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺁﭖ ﻛﻮ (ﺭﺳﻮﻝ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ) ﮔﻮﺍﮨﯿﺎﮞ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ، ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯾﺎﮞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ، ﺁﮔﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔) [الأحزاب: 45] – ارشادِ بارى ہے:{يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ} (ﺍﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺟﻮ كچهـ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﻛﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ الله ﻛﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻮ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺑﮯ شكـ الله تعالى كافر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔) [المائدة: 67]-  اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ عزوجل نے امت کو منع کیا کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا نام لیکر آپ کو پکارا جا‎ئے، جیساکہ دیگر امتیں اپنے نبیوں کو انکے نام سے پکارتی تھیں، اور اسکی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی دی ہے۔ ارشاد بارئ تعالى ہے: {لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذاً فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ}[النور: 63]. (ﺗﻢ الله تعالى ﻛﮯ ﻧﺒﯽ ﻛﮯ ﺑﻼﻧﮯ ﻛﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻼﻭﺍ ﻧﮧ ﻛﺮﻟﻮ ﺟﯿﺴﺎ ﻛﮧ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ايكـ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻛﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ الله ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﺑﭽﺎ ﻛﺮ ﭼﭙﻜﮯ ﺳﮯ سركـ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻨﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺣﻜﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻛﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻛﻮﺋﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺁﻓﺖ ﻧﮧ ﺁ ﭘﮍﮮ ﯾﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﺭﺩناكـ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔) [النور: 63].

اسی طرح اللہ عزوجل کا اپنے رسول کی عزت افزائی میں سے آپ e کی اتباع اور پیروی کا واجب ہونا ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا} (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ الله ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺪﮦ ﻧﻤﻮﻧﮧ (ﻣﻮﺟﻮﺩ) ﮨﮯ، ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﻛﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻜﺜﺮﺕ الله تعالى ﻛﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) [الأحزاب:21]. یہ آیت کریمہ رسول اللہ e کے اقوال وافعال اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے احوال کی اتباع اور پیروی کے وجوب کی بڑی دلیل ہے- كيا ہم لوگ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں؟

          اللہ عزوجل کا اپنے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی میں سے یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے اپنی کتاب میں ان پر درود بھیجا ہے، اور انکے فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں اور مؤمنوں کو بھی اسکی ترغیب دیا ہے کہ وہ بھی نبی صلى اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔ الله تعالى كا ارشاد ہے: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}[الأحزاب:56]. (الله تعالى ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﺱ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﺗﻢ (ﺑﮭﯽ) ﺍﻥ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺳﻼﻡ (ﺑﮭﯽ) ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔) [الأحزاب:56].

اسی طرح اللہ تعالى کا اپنے رسول e کی عزت افزائی میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انکی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے، جبکہ دیگر انبیاء کے سلسلے میں یہ بات نہیں ہے- نبیوں پر انکی قوم نے الزام لگایا تو وہ خود اپنا دفاع کرتے تھے- حضرت نوح کو انکی قوم نے گمراہی کا الزام لگایا۔ اس بات كے بارے ميں قرآن كريم فرماتا ہے: { قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ } (ﺍﻥ ﻛﯽ ﻗﻮﻡ ﻛﮯ ﺑﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﮨﻢ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺻﺮﯾﺢ ﻏﻠﻄﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) [الأعراف : 60]- نوح u خود اپنا دفاع كرتے ہيں- ارشادِ بارى ہے: { يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ * أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ} (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ! مجهـ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﻟﯿﻜﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻋﺎﻟﻢ كا ﺭﺳﻮﻝ ﮨﻮﮞ۔ (٦٢) ﺗﻢ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻛﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﯿﺮ ﺧﻮﺍﮨﯽ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ الله ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺍﻣﻮﺭ ﻛﯽ ﺧﺒﺮ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻦ ﻛﯽ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔) [الأعراف: 61 - 62]- قوم ہود u نے انہيں u حماقت اور جھوٹ کا يہ الزام لگایا: {إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ} [الأعراف: 66] ۔ (ﺍﻥ ﻛﯽ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮍﮮ ﻟﻮﮒ كافر ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﮨﻢ ﺗﻢ ﻛﻮ ﻛﻢ ﻋﻘﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺑﮯ شكـ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) [الأعراف: 66] تو انہوں نے خود اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا: {يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (67) أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ } (ﻛﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﻡ! مجهـ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﻛﻢ ﻋﻘﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻜﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻋﺎﻟﻢ كا ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﻮﮞ۔ (٦٨) ﺗﻢ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻛﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﻣﺎﻧﺘﺪﺍﺭ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮦ ﮨﻮﮞ۔) [الأعراف :67، 68].

لیکن خاتم الانبیاء محمد e کی قوم نے جب جب انہيں بہتان تراشی کی اور ان پر جھوٹا الزام لگایا تو اللہ تعالی نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے دفاع کی ذمہ داری خود لے لی- جب قوم نے ان پر شاعر ہونے کا الزام لگایا، ارشاد بارى ہے: { بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلامٍ بَلْ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُونَ}[الأنبياء 5] (ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﻜﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺮﺍﮔﻨﺪﮦ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ كا ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ ﺑﻠﻜﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺯ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﮯ ﮔﮭﮍ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﻜﮧ ﯾﮧ ﺷﺎﻋﺮ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ﻛﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﻻﺗﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻛﮧ ﺍﮔﻠﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ-) [الأنبياء 5]- تو اللہ تعالی نے آپ کی طرف سے جواب دیا- الله تعالى كا ارشاد ہے: { وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ} [يس:70]. (ﻧﮧ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﻛﻮ ﺷﻌﺮ ﺳﻜﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺿﺢ ﻗﺮﺁﻥ ﮨﮯ۔) [يس:69]-

جب كفار نے کہا کہ يہ  کاہن ہیں وہی بکتے ہیں جو شیطان انکو بتاتا ہے، تو اللہ تعالی نے انکو یوں جواب دیا: {فَذَكِّرْ فَمَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلا مَجْنُونٍ} (ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﻛﯿﻮﻧﻜﮧ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺗﻮ كاہن ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ) [الطور 29] تو اللہ تعالی نے نبی کے دفاع میں قسم کھائی، اور اس سے بڑھ کر عظیم کوئی قسم نہیں ہوسکتی، اور قرآن اور وحی کے سچ ہونے کی تصدیق اور انکے اتہام اور افتراء کے رد میں یوں فرمایا: { فَلا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ* وَمَا لا تُبْصِرُونَ * إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ * وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَا تُؤْمِنُونَ * وَلا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَا تَذَكَّرُونَ * تَنزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ} (ﭘﺲ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﯽ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ ﮨﻮ۔ (٣٩) ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﯽ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺘﮯ۔ (٤٠) ﻛﮧ بيشكـ ﯾﮧ (ﻗﺮﺁﻥ) ﺑﺰﺭﮒ ﺭﺳﻮﻝ كا ﻗﻮﻝ ﮨﮯ۔ (٤١) ﯾﮧ ﻛﺴﯽ ﺷﺎﻋﺮ كا ﻗﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ (ﺍﻓﺴﻮﺱ) ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻛﻢ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﮯ۔ (٤٢) ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻛﺴﯽ كاہن كا ﻗﻮﻝ ﮨﮯ، (ﺍﻓﺴﻮﺱ) ﺑﮩﺖ ﻛﻢ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ۔ (٤٣) (ﯾﮧ ﺗﻮ) ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ كا ﺍﺗﺎﺭﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔) [الحاقة 38-43] .

جب ان لوگوں نے کبھی یہ کہا کہ جادوگر ہیں تو اللہ نے ان الفاظ میں جواب دیا:{ كَذَلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ } (ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺁﯾﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﮧ ﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔) [الذاريات: 52] - اور کبھی یہ کہا کہ ان پر جادو کا اثر ہے تو اللہ تعالی نے ان الفاظ میں جواب دیا:{وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلاً مَسْحُوراً * انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلاً} (ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﻛﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮ ﻟﺌﮯ ﮨﻮ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺟﺎﺩﻭ ﻛﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ (٩) ﺧﯿﺎﻝ ﺗﻮ ﻛﯿﺠﯿﺌﮯ! ﻛﮧ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﻛﯿﺴﯽ ﻛﯿﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﺲ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ بہكـ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﻜﺘﮯ۔) [الفرقان 8-9] – جب ان لوگوں نے کہا کہ پاگل ہیں، تو اللہ تعالی نے انکا یوں جواب فرمایا:{أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ} (ﯾﺎ ﯾﮧ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺍﺳﮯ ﺟﻨﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﺑﻠﻜﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﻖ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻛﺜﺮ ﺣﻖ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔) [المؤمنون 70]- اور ارشاد ہے: ﴿ ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ * مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ * وَإِنَّ لَكَ لأَجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ * وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ} (ﻥ، ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﻗﻠﻢ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺟﻮ كچهـ ﻛﮧ ﻭﮦ (ﻓﺮﺷﺘﮯ) ﻟﻜﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔  (٢) ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔  (٣) ﺍﻭﺭ ﺑﮯ شكـ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍﺟﺮ ﮨﮯ۔ (٤) ﺍﻭﺭ بے شكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔) [القلم 1-4].

جب اس قوم نے ان پر گمراہی اور کج روی کا الزام لگایا تو اللہ نے انکو یوں جواب دیا: {وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى * مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى * وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى * إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى} (ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﻛﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔﺮﮮ۔  (٢) ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺭﺍﮦ ﮔﻢ ﻛﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻭﮦ ﭨﯿﮍﮬﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﮨﮯ۔  (٣) ﺍﻭﺭﻧﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻛﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٤) ﻭﮦ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔) [النجم: 1 - 4]- بلکہ اللہ تعالی نے مشرکین سے آپ e کی حفاظت اور آپ e کی حمایت اور تایید خود اپنے ذمہ لے لیا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ} (ﺍﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺟﻮ كچهـ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﭖ ﻛﮯ ﺭﺏ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﻛﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ الله ﻛﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻛﻮ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺑﮯ شكـ الله تعالى كافر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ۔) [المائدة: 67] .

اسی طرح اللہ تعالی کی جانب سے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی میں سے آپ e کی رسالت کا عام ہونا بھی ہے، کہ آپ e کی رسالت کسی خاص نسل یا کسی خاص قوم تک منحصر نہیں ہے، بلکہ یہ رسالت تمام لوگوں کیلئے عام ہے- اللہ تعالی نے ہر امت کیلئے مخصوص نبی بھیجا، اور ہمارے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کیلئے عام بنا کر بھیجا، اور قرآن کریم نے اس بات کی وضاحت کی ہے۔ ارشاد بارى ہے: :{ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ}[سبأ: 28]. (ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯾﺎﮞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﮕﺮ (ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ) ﻛﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﯽ ﺍﻛﺜﺮﯾﺖ ﺑﮯﻋﻠﻢ ﮨﮯ۔) جَابِر بْنِ عَبْدِ اللهِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُما) سے روايت ہے كہ رسول اللهe نے فرمايا:  "أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِي : نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ." (مجهے پانچ ايسى چيزيں عطا كى گئى ہيں جو مجھ سے پہلے انبياء كو نہيں دى گئى تهيں- (1) ايكـ مہينے كى راه سے ميرا رعب ڈال كر ميرى مدد كى گئى (2) ميرے لئے تمام زمين ميں نماز پڑهنے اور پاكى حاصل كرنے كى اجازت ہے- اس لئے ميرى امت كے جس آدمى كى نماز كا وقت (جہاں بهى) آ جائے اسے (وہيں) نماز پڑھ لينى چاہئے- (3) ميرے لئے مال غنيمت حلال كيا گيا- (4) پہلے انبياء خاص اپنى قوموں كى ہدايت كے لئے بهيجے جاتے تهے- ليكن مجهے دنيا كے تمام انسانوں كى ہدايت كے لئے بهيجا گيا ہے- (5) مجهے شفاعت عطا كى گئى ہے-") [بخارى].

اللہ تعالی کی جانب سے آپ کی عزت افزائی میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو دیگر انبیاء علیہ السلام پر فضیلت دی ہے، تو اللہ سبحانہ وتعالی نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء اور رسول پر افضلیت بخشی ہے۔ یہ بات قرآن کریم میں اللہ تعالی کے اس قول سے واضح ہے:{ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ للَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ " (ﯾﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻌﺾ ﻛﻮ ﺑﻌﺾ ﭘﺮ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﻌﺾ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ الله تعالى ﻧﮯ ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﻛﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻛﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻛئے ﮨﯿﮟ) (البقرة/253)- اس بات پر محققین اور مفسرین علماء کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالی کے قول: { وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ} (ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻛﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﻛئے ﮨﯿﮟ) سے مراد محمد صلى اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لئے کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی شخصیت عالی مقام ہے- آپ صلى اللہ علیہ وسلم  پر زندہ وجاوید معجزہ قرآن كريم اتارا ہے- رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی رسالت گزشتہ رسالتوں کی خوبیوں کو یکجا کرنے والی رسالت ہے-

مسلم اور ترمذى ميں يہ حديث ہے: ابو ہريره t سے مروى ہے كہ رسول الله e نے فرمايا: (فُضِّلْتُ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ - وفي رواية البخاري: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ - وَأُحِلَّتْ لِيَ الغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ). (مجھے انبياء پر چھـ امور ميں فضيلت دى گئى ہے: مجھے جامع كلمات دئے گئے، رعب ودبدبہ سے ميرى مدد كى گئى" بخارى ميں آيا" ايكـ مہينے كى راه سے ميرا رعب ڈال كر ميرى مدد كى گئى " اور ميرے لئے مالِ غنيمت حلال كيا گيا، زمين ميرے لئے سجده گاه اور پاكــ وصاف بنائى گئى، ميں تمام مخلوقات كے لئے بھيجا گيا اور مجھـ پر نبيوں كا سلسلہ ختم ہوگياـ)

اسی طرح اللہ تعالی کی جانب سے رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ آپ e کے زنگی کی قسم کھائی ہے جبکہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اس نے کسی بھی انسان کی قسم کبھی بھی نہیں کھائی- اللہ تعالی کسی چیز کی تاکید کیلئے اسکی قسم کھاتا ہے- الله تعالى بہت سی چیزوں کی قسم کھاتا ہے، جیسے جمادات، جانور، فرشتوں کی ، زمان ومکان كى اور مظہر کونی وغیرہ کی- لیکن اللہ تعالی نے قرآن میں کسی انسان کی قسم نہیں کھائی ہے سوائے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے- اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ" [الحجر: 72] (ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﻛﯽ ﻗﺴﻢ ! ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺪﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮔﺮﺩﺍﮞ ﺗﮭﮯ۔) [الحجر: 72] یعنی: آپ کى زندگی کی قسم ائے محمد بلاشبہ وہ لوگ اس چیز سے غفلت میں ہیں جو انہیں لاحق ہونے والی ہے- بے شک وہ گمراہی اور حیرت میں ہیں خود انہیں اپنا راستہ بھی معلوم نہیں ہے اور حق سے ناواقف ہیں- جب مشرکین نے یہ سوچا کہ اللہ تعالی نے محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا ہے تو اللہ تعالی نے قسم کھا کر کہا کہ نہیں ہم نے ان سے ہاتھ نہیں اٹھایا ہے اور انہیں نہیں چھوڑا ہے- ارشاد بارى ہے:{وَالضُّحَى * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى * وَلَلآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنْ الأُولَى * وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} (ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﭼﺎﺷﺖ ﻛﮯ ﻭﻗﺖ ﻛﯽ۔  (٢) ﺍﻭﺭ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﻛﯽ ﺟﺐ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔  (٣) ﻧﮧ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔  (٤) ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺁﻏﺎﺯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮﮔﺎ۔ (٥) ﺗﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ (ﺍﻧﻌﺎﻡ) ﺩﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺭﺍﺿﯽ (ﻭﺧﻮﺵ) ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔) [الضحى:1-5].

          اللہ تعالی نے رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم (وفات ہونے كے بعد بهى) کی عزت دى ہے کہ قيامت كے دن آپ e سب سے پہلے شفاعت كريں گے- بخارى اور مسلم ميں يہ حديث ہے: ابو ہريرهt سے روايت ہے كہ رسول اللهe نے فرمايا: « أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ » (ميں اولاد آدم كا سردار ہوں گا قيامت كے دن اور سب سے پہلے ميرى قبر پهٹے گى اور سب سے پہلے ميں شفاعت كروں گا اور سب سے پہلے ميرى شفاعت قبول ہو گى-).

آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو سارے جہاں کیلئے رحمت بنایا- ارشاد ہے:{وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ}(ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﮩﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﻨﺎ ﻛﺮ ﮨﯽ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮨﮯ۔) (الأنبياء: 107)- ابو ہريره (رضى الله عنہ) سے مروى ہے كہ  رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ» (میں رحمت ہوں اور ہدایت دینے کے لیے آیا ہوں-) [رواه الحاكم في المستدرك]، ايكـ اور روايت ميں ہے :«بُعِثْتُ رَحْمَةً مُهْدَاةً» (رحمت اور ہدايت دينے كے لئے مجهے بهيجا گيا)-