اجتماعى اجتہاد كى ضرورت

أ.د/ محمد مختار جمعة وزير الأوقاف

ڈی / مختار محمد جمعہ اوقاف کے وزیر

ہمارے معاشرے، خلافِ اصول فتاوے اور شاذ آراء وافكار سے دو چار ہيں- اور بعض نا اہل غير ماہر اور شہرت كے طالب يا جاه ومنصب كے طلبگار يا منظرِ عام پر آنے كا شوق ركهنے والے علماء خلافِ اصول اور شاذ آراء وافكار كے پيچهے دوڑ رہے ہيں تاكہ لوگوں كى نگاہيں اپنى طرف متوجہ كريں- يا اسكے ذريعہ اپنى جماعت يا تنظيم كى خدمت كريں-

چونكہ آج كل مسائل بہت ہيں اور نئے نئے پيچيده اور حساس قسم كے مسائل سامنے آ رہى ہيں اور ان ميں سے بعض زمانۂ قديم كے علماء كرام اور فقہائے عظام كى اُن آراء اور فتاوے سے ٹكر رہے ہيں جو انہوں نے اپنے وقت اور جگہ كے اعتبار سے دئے تهے- اسى طرح يہ غير ماہر، نا اہل اور علت كى تنقيح وتحقيق سے نا بلد علماء صورتِ حال سے نا واقف ہونے اور صحيح قياس كى شرطوں كو نہ جاننے كى وجہ سے بعض احكام كا قياس دوسرى طرح كے احكام پر كر رہے ہيں- اسلئے اس وقت اجتماعى اجتہاد كى اشد ضرورت ہے-

اسى وجہ سے فضيلت مآب جناب شيخ الازہر پروفيسر ڈاكٹر احمد طيب صاحب نے "مذہبى خطاب ميں جدت لانے اور تشدد پسند فكر كو مٹانے كے سلسلے ميں علماء اور ائمہ كا نقطۂ نظر" كے عنوان سے شہرِ اقصر ميں منعقد ہونے والى اسلامى امور كى اعلى كونسل كى كانفرنس ميں تقرير كرتے ہوئے ايسے اجتماعى اجتہاد كى اپيل كى جس كے لئے دنيا كے مختلف ملكوں سے ايسے بڑے بڑے علمائے كرام بلائے جائيں جو امتِ مسلمہ كى مشكلات اور پريشانياں سمجهتے ہيں اور انہيں حل كرنے كى فكر ركهتے ہيں- اور يہ سب مل كر پورى بہادرى كے ساتهـ بعض معلق مسائل كا حل تلاش كريں- مثال كے طور پر دہشت گردى كے مسائل، دار الاسلام كا معنى متعين كرنے، مسلح تشدد پسند جماعتوں كے ساتهـ جا ملنے، معاشرے سے بغاوت كرنے اور اُسے نا پسند كرنے، قتل يا دهماكے كے ذريعے شہريوں كا خون حلال سمجهنے كے مسائل، انسانى حقوق اور آزادى كے مسائل، معاشرتى مسائل خصوصًا عورت كے مسائل، فلكياتى اندازے سے عربى مہينوں كے آغاز كے تعين كا مسئلہ، حج كے مسائل خصوصًا فضا يا سمندر كے ذريعے جده سے آنے والے كے لئے احرام باندهنے كے مسئلے اور كسى بهى وقت كنكرياں مارنے كے مسئلے جيسے اُن مسائل كا حل تلاش كريں- كيونكہ يہ وطن وقت اور لوگوں كى ضروريات اسكا تقاضا كر رہى ہيں- ساتهـ ہى قوم كو تيار كيا جائے كہ وه ايسے فتوے جارى كرنے كا مطالبہ كرے جو كام كو ضرورى قرار ديں اور سستى اور كاہلى كو حرام ٹهہرائيں، اور اس بات كا پورا پورا خيال ركها جائے كہ اِن نازكـ مسائل سے متعلق ايسے مجمل اور عام فتاوے نہ دے جائيں جنكا حقيقت سے كوئى تعلق نہ ہو اور نہ ان سے مسائل حل ہوں، اور نہ ہى صورتِ حال ميں كوئى تبديلى ہى آئے-

بلا شبہہ اس طرح كا اجتماعى اجتہاد خلافِ اصول اور شاذ افكار وخيالات ختم كرنے اور انتہا پسندى كے اُن اسباب كو دور كرنے ميں نہايت ہى واضح اور تعميرى شكل ميں حصہ لے گا جنكا خلاصہ اسلامى امور كى اعلى كونسل كى كانفرنس نے يوں بيان كيا:

  • اپنے ہى دائرے تكـ محدود رہنا، جمودى وتعطل، اندہى تقليد، غلط فہمى، نص كے حرف كو مضبوطى سے پكڑنا، اغراض ومقاصد كى فقہ سے دور ہونا، آئين سازى كے كلى قواعد اور ضابطوں كو اچهى طرح نہ سمجهنا، اور دعوت كا كام نا اہل اور غير ماہر افراد كے سپرد كرنا-
  • بعض جماعتوں اور تنظيموں كى طرف سے دين كى تجارت كرنا اور اسے سياسى مفادات اور پارٹى كے مفادات حاصل كرنے كا ذريعہ بنانا، مذہب اور وطن كے اعلى مفادات پر تنظيموں اور جماعتوں كے مفادات كو ترجيح دينا- اسى طرح ظاہرى ديندارى اور سياسى ديندارى كو الله تعالى كے لئے مخلصانہ ديندارى پر غالب كرنا-
  • بہت سے عربى اور اسلامى ملكوں سے اپنے ايجنٹ جمع كرنے ميں بعض سامراج طاقتوں كا كامياب ہونا، خواه ايسا متبادل مفادات كے پيش نظر كيا گيا ہو، يا بعض جماعتوں سے خيالى وعدے كر كے كيا گيا ہو، يا پهر انكے عہد وپيماں اور وفادارياں خريد كر كيا گيا ہو- اميد كى جاتى ہے كہ اس اجتماعى اجتہاد سے علمائے كرام كے ما بين بہت زياده قربت پيدا ہو گى اور انكے درميان پائے جانے والے بہت سے اختلافات ختم ہو جائيں گے- بلا شبہہ اس كى وجہ سے امتِ مسلمہ كى صفيں متحد كرنے ميں مدد ملے گى- خصوصًا راهِ حق سے ہٹے ہوئے شاذ گمراه اور انتہا پسند افكار وخيالات سے نمٹنے كى خاطر امت كى صفيں متحد كرنے ميں اس سے مدد ملے گى-