ظاہرى اور سياسى ديندارى

أ.د/ محمد مختار جمعة وزير الأوقاف

ڈی / مختار محمد جمعہ اوقاف کے وزیر

بلا شبہ ظاہرى ديندارى اور سياسى ديندارى كا شمار اُن خطر ناكـ ترين چيلنجز ميں ہو رہا ہے جن سے اسلامى اور عربى معاشرے دو چار ہيں- خواه اصل اور جوہر كو چهوڑ كر ظاہرى شكل وصورت پر توجہ مركوز كرنے والے اور اُسے ترجيح دينے والے يہ لوگ اُس انسانى اور اخلاقى معيار پر نہ ہوں جس كى وجہ سے انہيں اسوه اور نمونہ بنايا جائے كيونكہ ظاہرى شكل وصورت كو ترجيح دينے والے اور صرف اسى پر توجہ مركوز كرنے والے وه لوگ زوال اور نفرت انگيزى كى علامت ہوتے ہيں جنكا سلوكـ وكردار اسلام تعليمات سے ہم آہنگ نہيں ہوتا- كيونكہ اگر ظاہرى ديندارى كے ساتهـ ساتهـ معاملات بهى اچهے نہ ہوں- يا وه آدمى جهوٹ بولتا ہو، يا غدارى كرتا ہو، يا خيانت كرتا ہو، يا لوگوں كا مال باطل طريقے سے كهاتا ہو تو معاملہ انتہائى سنگين ہو جاتا ہے- بلكہ ايسا شخص منافقوں كى فہرست ميں داخل ہو جاتا ہے- الله كے رسول (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "منافق كى نشانى تين ہيں: جب وه بات كرتا ہے تو جهوٹ بولتا ہے- جب وعده كرتا ہے تو وعده خلافى كرتا ہے- اور جب اسے كوئى امانت سونپى جاتى ہے تو اس ميں خيانت كرتا ہے-" (صحيح بخارى)- يہى حال اس شخص كا بهى ہے جو ديندارى كو صرف عبادت اور بكثرت عبادت كرنے كے دائرے ميں محدود كر ديتا ہے اور دين كو اچهى طرح نہيں سمجهتا ہے- دوسروں پر دل كهول كر كفر كے فتوے لگاتا ہے- ہتهيار اٹهاتا ہے اور لوگوں كو اس سے تكليف پہنچاتا ہے جيسا كہ خوارج كا حال تها- چنانچہ وه لوگ بہت زياده نمازى، روزے دار اور تہجد گزار تهے- ليكن انكے پاس شرعى علم اتنا نہ تها جو انہيں خون وخرابے سے روكـ سكے- اسلئے ان لوگوں نے لوگوں كے خلاف تلواريں اٹها ليں- لہذا اگر وه پہلے علم حاصل كرتے ہو ايسا نہيں كرتے- جيسا ايمان شافعى نے فرمايا ہے- چناچہ اسلام سب سے پہلے مہربانى اور شفقت كا مذہب ہے- اور ہر وه چيز جو آپ كو مہربانى اور شفقت سے دور كرے گى وه آپ كو اسلام سے دور كرے گى- اور محض بات كا نہيں بلكہ اچهے سلوكـ وكردار كا اعتبار ہوتا ہے- زمانۂ قديم ميں لوگوں نے سچ كہا: ايكـ ہزار لوگوں كى باتوں سے ايكـ آدمى كى حالت ہزار درجے بہتر ہوتى ہے-

        عبادتوں كا فائده اس وقت تكـ سامنے نہيں آتا جب تكـ انكى وجہ سے عبادت گزار كے سلوكـ وكردار اور اخلاق بہتر نہ ہوں- چناچہ جو نماز برائيوں اور فحش كاريوں سے نہ روكے وه نماز نماز نہيں- ارشادِ بارى ہے: " إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ" (45) (ﯾﻘﯿﻨًﺎ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ،  ﺗﻢ ﺟﻮ كچهـ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ)- جس كا روزه اسے جهوٹ بولنے سے نہ روكے اسكا روزه روزه نہيں- ہمارے نبى (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "جو شخص جهوٹ بولنا اور اس پر عمل كرنا نہ چهوڑے تو الله كو اس بات كى كچهـ ضرورت نہيں كہ وه اپنا كهانا پينا چهوڑ دے"ـ (صحيح بخارى). الله تعالى زكات اور صدقے ميں حلال اور پاكيزه مال ہى قبول فرماتا ہے- ہمارے نبى (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "الله تعالى پاكيزه اور وه صرف پاكيزه چيز ہى قبول فرماتا ہے-" (صحيح مسلم)- الله تعالى كے رسول (صلى الله عليہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: "پاكى كے بغير نماز قبول نہيں ہوتى اور حرام مال سے صدقہ قبول نہيں ہوتا-" (صحيح مسلم)- حج كى مقبوليت بهى حلال مال اور اچهے سلوكـ اور معاملے سے مربوط ہے- الله كے رسول (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "جس نے حج كيا اور كوئى فحش بات نہيں كى، اور نہ الله كے كسى حكم كى خلاف ورزى كى تو وه اُس دن كى طرح واپس آتا ہے جس دن اس كى ماں نے اسے جنا تها-" اور آپ (صلى الله عليہ وسلم) نے فرمايا: "آدمى لمبا سفر طے كر كے پراگنده حال اور پراگنده بال ہو جاتا ہے اور آسمان كى طرف ہاتهـ اٹها كر اے ميرے پروردگار اے ميرے پروردگار كرتا ہے اور اسكا كهانا حرام، پينا حرام اور كپڑا حرام ہوتا ہے اور وه حرام خور ہوتا ہے تو پهر اسكى دعا كس طرح قبول كى جائے گى-" (صحيح مسلم)-

        ظاہرى ديندارى سے زياده خطرناكـ سياسى ديندارى ہوتى ہے- يعنى وه لوگ زياده خطرناكـ ہوتے ہيں جو مذہب سے لوگوں كى محبت خصوصًا مذہب سے عوام الناس كى محبت اور انكے مذہبى جذبات سے غلط فائده اٹهاتے ہوئے اقتدار حاصل كرنے كے لئے مذہب كو وسيلہ اور ذريعہ بناتے ہيں- اور لوگوں كے اندر يہ وہم پيدا كرتے ہيں كہ وه دين كى خدمت كرنے اسكى مدد كرنے اور اسے مضبوط بنانے كے لئے اقتدار تكـ پہنچنا چاہتے ہيں- ہم اگرچہ لوگوں كى نيتوں پر حكم نہيں لگاتے اور نہ ہى نيتوں كے معاملے ميں كسى طرح كى مداخلت كرتے ہيں- كيونكہ يہ الله اور بندے كے درميان كى چيز ہے- اور ہر آدمى كو اسكى نيت كے مطابق بدلہ ملتا ہے- ليكن دہشت گرد جماعت "اخوان" اور اسكے نقشِ قدم پر چلنے والى ديگر جماعتوں يا سياسى اسلام كى جماعتوں ميں سے جس نے اسكے ساتهـ معاہده كيا اِن سب كے ساتهـ ہمارے تجربے نے يقينى طور پر دو چيزيں ثابت كى ہيں- ايكـ يہ كہ اِنكا مسئلہ مذہب كا مسئلہ بالكل نہيں ہے- وه محض اقتدار حاصل كرنے كى اسى حرص وہوس اور كشمكش ہے جنكى نظير نہيں ملتى- انكے اندر ايسى تعلّى گهمنڈ اور تكبر ہے كہ وه دوسروں كو خاطر ميں نہيں لاتے- اسى وجہ سے لوگ ان سے نفرت كرنے لگے اور وه اپنے اس سلوكـ وكردار سے مذہب پر بڑا بوجهـ بن گئے- اب اُس منفى فكر وخيال كو لوگوں كے ذہنوں سے نكالنے كے لئے بڑى محنت اور كوشش كى ضرورت ہے- جس كى وجہ سے وه اِن لوگوں كے سلوكـ وكردار اور دين كے درميان ربط وتعلق پيدا كرنے لگے ہيں- اور انكے ساتهـ ہمارے تجربے نے دوسرى چيز يہ ثابت كى ہے كہ انہوں نے اپنے مذہب كو بد نام كيا اور اسكى ترقى يافتہ اور سہولت آميز تہذيب كى شكل وصورت بگاڑ دى- اسى طرح انكے اندر نہ تو مذہب ہے اور نہ كسى چيز كى اہليت ہے- ورنہ كيا مذہب يہ سكهاتا ہے كہ انسان اپنے وطن كے ساتهـ غدارى كرے، اسكے راز فاش كرے، اسكى دستاويزات فروخت كرے اور اسكى گهات ميں لگنے والوں كے لئے اسكے خلاف جاسوسى كرے- كيا تشدد، قتل، بدعنوانى اور بگاڑ پيدا كرنے پر ابهارنا ديندارى ہے؟ نوع بنوع كى ايسى كميٹيان تشكيل دينا دين كا حصہ ہے جو وطن كے ساتهـ غدارى اور وطن كے دشمنوں كى ايجنٹى كرتے ہوئے زمين ميں بگاڑ اور فساد پيدا كر رہى ہيں؟ ميں نے پہلے بهى باور كرايا تها اور اب بهى باور كرا رہا ہوں كہ جو جماعت لوگوں كو دهوكہ دينے اور اقتدار سے متعلق اپنے مقاصد پورے كرنے كے لئے مذہب كا سہارا لے سكتى ہے- وه اپنے مذہب، اپنے وطن اور اپنى امت كى پرواه نہ كرتے ہوئے اپنے مقاصد كے حصول كے لئے شيطان كے ساتهـ بهى معاہده كر سكتى ہے-