اسلام میں مكارم اخلاق
14 ربیع الاول 1437ھ مطابق 25 دسمبر 2015ء

awkaf

پہلا: عناصر:

  1.  اسلام بلند اخلاق والا دین ہے۔
  2. اخلاق کا زوال امت کا زوال ہے۔
  3.  بلند اخلاق صحیح عبادت کا نتیجہ ہے۔
  4. ہم اپنے اخلاق کے ذریعہ کیسے بلند ہو جائيں؟

دوسرا: دلیلں:

قرآن کی دلیلں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے: }وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيم{[قلم: 4] (ﺍﻭﺭ بيشكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔).
  2. ارشاد بارى ہے :}خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ{[الأعراف: 199] (ﺁﭖ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ نيكـ كام ﻛﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ايكـ ﻛﻨﺎﺭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔).
  3. الله تعالى فرماتا ہے:}وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صالِحاً وَقالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ * وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَما يُلَقَّاها إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَما يُلَقَّاها إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ{. [فصلت: 33 – 35] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﻻ ﻛﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ الله ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﺋﮯ ﺍﻭﺭ نيكـ كام ﻛﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻛﮩﮯ ﻛﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﻘﯿﻨًﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ۔  (٣٤) ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯼ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔  (٣٥) ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﻮ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯﺟﻮ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺑﮍﮮ ﻧﺼﯿﺒﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎ ﺳﻜﺘﺎ۔).
  4. الله تعالى كا فرمان ہے :{وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً{[فرقان: 63] (رحمن ﻛﮯ (ﺳﭽﮯ) ﺑﻨﺪﮮ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻓﺮﻭﺗﻨﯽ ﻛﮯ ساتھ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﮯ ﻋﻠﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺳﻼﻡ ﮨﮯ۔).
  5. الله تعالى فرماتا ہے :{يا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلى ما أَصابَكَ إِنَّ ذلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ * وَلا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتالٍ فَخُورٍ * وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْواتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ{ [لقمان: 17- 19] (ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ! ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﻛﮭﻨﺎ، ﺍﭼﮭﮯ كاموں ﻛﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ، ﺑﺮﮮ كاموں ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺻﺒﺮ ﻛﺮﻧﺎ (ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ) ﻛﮧ ﯾﮧ ﺑﮍﮮ ﺗﺎﻛﯿﺪﯼ كاموں ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ (١٨) ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯﮔﺎﻝ ﻧﮧ ﭘﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﺗﺮﺍ ﻛﺮ ﻧﮧ ﭼﻞ ﻛﺴﯽ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﯿﺨﯽ ﺧﻮﺭﮮ ﻛﻮ الله تعالى ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ۔(١٩) ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺎﻧﮧ ﺭﻭﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺴﺖ ﻛﺮ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﻛﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﮯ۔).
  6. الله تعالى كا ارشاد ہے: }اتْلُ ما أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتابِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ ما تَصْنَعُونَ * وَلا تُجادِلُوا أَهْلَ الْكِتابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلهُنا وَإِلهُكُمْ واحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ{ [عنكبوت: 45 – 46] (ﺟﻮ ﻛﺘﺎﺏ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯﭘﮍﮬﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮﯾﮟ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ كچھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔(٤٦) ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ ساتھ ﺑﺤﺚ ﻭﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻋﻤﺪﮦ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتھ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﺍﻋﻼﻥ ﻛﺮ ﺩﻭ ﻛﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ،ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺒﻮﺩ ايكـ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺑﺮﺍﺩﺭ ﮨﯿﮟ۔).
  7. الله تعالى فرماتا ہے:} الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُوماتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدالَ فِي الْحَجِّ وَما تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوى وَاتَّقُونِ يا أُولِي الْأَلْبابِ}[بقره: 197] (ﺣﺞ ﻛﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﻻﺯﻡ ﻛﺮﻟﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﻞ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﻧﮯ، ﮔﻨﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﭽﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ساتھ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺗﻮﺷﮧ الله تعالى كا ﮈﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﻭ! مجھ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔).
  8. الله تعالى كا ارشاد ہے: } وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ * هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ * مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ * عُتُلٍّ بَعْدَ ذلِكَ زَنِيمٍ * أَنْ كانَ ذا مالٍ وَبَنِينَ * إِذا تُتْلى عَلَيْهِ آياتُنا قالَ أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ * سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ {[قلم: 10 – 16] (ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﻛﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ كا ﺑﮭﯽ ﻛﮩﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺟﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻛﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ۔ (١١) ﺑﮯ ﻭﻗﺎﺭ، ﻛﻤﯿﻨﮧ، ﻋﯿﺐ ﮔﻮ، ﭼﻐﻞ ﺧﻮﺭ۔ (١٢) ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﻨﮯﻭﺍﻻ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ۔ (١٣) ﮔﺮﺩﻥ ﻛﺶ ﭘﮭﺮ ساتھ ﮨﯽ ﺑﮯ ﻧﺴﺐ ﮨﻮ۔ (١٤) ﺍﺱ ﻛﯽ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﻣﺎﻝ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔  (١٥) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﻮﮞ ﻛﮯ ﻗﺼﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١٦) ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺳﻮﻧﮉ (ناكـ) ﭘﺮ ﺩﺍﻍ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔).

سنت نبوى کی دلیليں:

  1. نواس بن سمعان (رضٰ اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ e سے نیکی اور گناہ کے کام کے متعلق سوال کیا تو آپe نے جواب ارشاد فرمایا کہ «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَّ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ » (مسلم) (نیکی تو اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل مین کھٹک پیدا کرے اور تجھے یہ ناگوار ہوکہ لوگ اس سے باخبر ہوں۔).
  2. ابو الدرداء t سے روايت ہے كہ نبى (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ» (ترمذى) (مومن كے ترازو ميں (يعنى كفۂ حسنات ميں قيامت كے دن) خلقِ حسن سے زياده كوئى چيز بهارى نہيں- اس ليے كہ بے حيا بدگو كو الله تعالى دشمن ركهتا ہے)-
  1. ابو ہريره (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) نے كہا: حضور r نے فرمايا كہ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» [رواه احمد] (ميں اخلاق حسنہ كى تكميل كے لئے بهيجا گيا ہوں).
  2. ابو ذَرٍّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) سے روايت ہے كہ رسول الله e نے مجهـ سے فرمايا: «اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ » [ترمذى] (ڈر الله سے يہاں كہيں ہو تو اور پيچهے كر ہر بُرائى كے ايكـ بهلائى كہ مٹا دے اس كو اور نيكـ خلقى سے لوگوں كے ساتھ مِل-).
  3. ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ » [احمد] (ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔).
  4. سَعْد بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ سے روايت ہے كہ ميں نے عائشہ رضى الله عنہا سے كہ: "يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ – يَعْنِي عَائِشَةَ – حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) قَالَتْ: «أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) كَانَ الْقُرْآنَ» [مسلم] (اے مسلمانوں كى ماں مجهے رسول اللهe كے اخلاق سے خبر ديجئے؟ انهوں نے فرمايا: كيا تم نے قرآن نہيں پڑها؟ ميں نے كہا: كيوں نہيں- انهوں نے فرمايا: رسول اللهe كا خلق وہى تها جس كا قرآن ميں حكم ہے-).
  5. حضرت عائشہ رضى الله عنہا فرماتى ہيں كہ ميں نے رسول اللهe كو يہ فرماتے ہوئے سنا كہ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ» [ابو داود] (مومن آدمى اپنے اچهے اخلاق كى بدولت اس شخص كا سا درجہ حاصل كر ليتا ہے جو رات بهر كهڑے ہو كر عبادت كرے اور دن كو روزه ركهے-).
  6. جابر (رَضِيَ اللَّهُ عَنْہ) سے روايت ہے كہ رسولِ الله ( صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) نے فرمايا: «إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ الثَّرْثَارُونَ وَالمُتَشَدِّقُونَ وَالمُتَفَيْهِقُونَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُونَ وَالمُتَشَدِّقُونَ فَمَا المُتَفَيْهِقُونَ؟ قَالَ: «المُتَكَبِّرُونَ» [ترمذى] (تم ميں سے بہت پيارے ميرے نزديكـ اور بہت قريب بيٹهنے ميں ميرے نزديكـ قيامت كے دن وه لوگ ہيں جن كے اخلاق اچهے ہيں اور بہ تحقيق كہ تم ميں سے دشمن زياده ميرے اور دور تر مجھ سے قيامت كے دن بڑے باتونى بڑمارنے والے دہن دراز ہيں، عرض كى لوگوں نے كہ يا رسول الله ہم نے معلوم كيا ثرثارين اور متشدقين كيا ہيں، ليكن متفيہقون كون ہيں؟ رسول الله e نے فرمايا: تكبّر سے باتيں كرنے والے-).

تیسرا: موضوع:

بلا شبہ دینِ اسلام میں عظمت وشان کے کئى وجوہات ہیں- ان بڑائيوں میں سے یہ ہے کہ یہ اخلاق اور قانون والا دین ہے، جو اعلی اقدار وروایات اور شاندار انسانیت کے نمونے کو جمع کرتا ہے جو معيارى، بلند اور اچھے اخلاق كى مرقع كشى كرتى ہيں- اس دین کی عظمت وبڑائى اس بات سے بهى ظاہر ہے کہ یہ دین زنگى کے تمام پہلوؤں کو شامل اور یکجا کرتا ہے- کوئي بھى ایسا شرف وفضیلت کا کام نہیں ہے جس کی دعوت یہ دین نہ دیتا ہو، اور اس کے کرنے پر اکسایا نہ ہو، اور ساتھ ہی کوئى ایسى برائی نہیں ہے جس سے ہوشیار رہنے اور اس سے دور رہنے کا حکم نہ دیا ہو۔

وہ شرف وفضیلت جس کی یہ دین دعوت دیتا ہے، اور ان اخلاق سے آراستہ ہونے کی جانب رغبت دلاتا ہے وہ بلند اخلاق سے آراستہ ہونا ہے- جیسے ، صبر وتحمل ، بردباری، نرمي، سچائي، امانتداری، رحمت ووفاداري، جود وسخا، شرم وحیا، عجز وانکساری، بہادری، عدل وانصاف، ہمدردی ، دوسروں کي ضرورتوں کو پوری کرنا، نگاہ کی حفاظت کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، خندہ پیشانی، خوش گفتارى، اچھا گمان، بڑوں کی عزت، لوگوں کے درمیان صلح وصفائي، ایثار وقربانی، دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا، اور اسکے علاوہ دیگر بلند اخلاق ہیں۔ اس بات كى طرف قرآن مجيد كا اشاره ہے: {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا} [اسراء: 9] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺟﻮ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺍﺟﺮ ﮨﮯ۔).

اس سلسلے میں کتاب وسنت نبوىe میں بہت سے نصوص وارد ہیں- ان میں سے اللہ تعالی کا یہ ارشاد اپنے رسول e کو حکم دیتے ہوئے: }خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ{[اعراف: 199]. (ﺁﭖ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ نيكـ كام ﻛﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﺳﮯ ايكـ ﻛﻨﺎﺭﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔). الله تعالى كا فرمان ہے:{وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا}[بقره: 83] (ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ)- الله تعالى فرماتا ہے:{لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاس وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا}[نساء: 114] (ﺍﻥ ﻛﮯ ﺍﻛﺜﺮ ﺧﻔﯿﮧ ﻣﺸﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﺎﮞ! ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺍﺱ ﻛﮯ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﯿﺮﺍﺕ كا ﯾﺎ نيكـ ﺑﺎﺕ كا ﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺻﻠﺢ ﻛﺮﺍﻧﮯ كا ﺣﻜﻢ ﻛﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺻﺮﻑ الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﯾﮧ كام ﻛﺮﮮ ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺛﻮﺍﺏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔) اس سلسلے سے متعلق قرآن كريم كى اور بہت سی آیتيں ہیں- جو بھی شخص قرآن كريم کی آیتوں پر غور وفکر کریگا اس پر یہ بات ظاہر ہوجائگی کہ بہت سی آیتيں ہیں جو بلند اخلاق سے آراستگی کی دعوت دیتی ہیں- یہ اس لئے کہ اخلاق ہى وہ شرعى ترازو ہے جو انسان کو مہذب بناتا ہے، اور اسے کمال کی منزل تک پہونچاتا ہے۔

حدیث نبوى e نے انسانى زندگى میں اخلاق کی اہمیت پر زور دیا ہے- رسول الله e كى حديثوں ميں بتایا گيا ہے کہ ان اخلاق کریمہ سے آراستہ ہونے والا شخص بہت بڑے اجر وثواب کا مستحق ہوگا۔ مثال كے طور پر رسول الله (صلَّى الله عليه وسلَّم) فرماتا ہے: « الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ» (مسلم) (نیکی تو اچھے اخلاق ہے). "البرّ” سے مراد خير وبهلائى كا جامع نام ہے- رسول الله (صلَّى الله عليه وسلَّم ) كا ارشاد ہے: «مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ في الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ» (ميزان ميں حسنِ خلق سے كوئى شئے بهارى زياده نہيں)- دوسرى روايت ہے: ابو الدرداء t سے روايت ہے كہ نبى (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ» (ترمذى) (مومن كے ترازو ميں (يعنى كفۂ حسنات ميں قيامت كے دن) خلقِ حسن سے زياده كوئى چيز بهارى نہيں- اس ليے كہ بے حيا بدگو كو الله تعالى دشمن ركهتا ہے)-

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اچهے اور بلند اخلاق پر بہت زیادہ زور دیتے تهے اور اس کی طرف رغبت دلاتے تهے ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رسول الله e نے ارشاد فرمايا: « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ » [احمد] (ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎﻣﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺣﺴﻦ ﺳﻠﻮﮎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔).

رسول الله (صلى الله عليه وسلم) سے پوچها گيا: أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا”(ابن ماجہ) (كون سا مومن افضل ہے؟ آپ e نے فرمايا: "جس كا اخلاق زياده اچها ہو”)- كسى نے رسول الله e سے پوچها كہ: كونسى چيز لوگوں كو جنت داخل كرتے ہے؟ رسول الله e نے فرمايا: « تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الخُلُقِ» (سنن الترمذي) (الله سے ڈرنا اور حسن خلق)- رسول الله e نے مكارم اخلاق كو اپنے سے محبت كے اسباب ميں سے ايكـ سبب بنايا ہے- اس سلسلے ميں آپ e فرماتا ہے: « إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَىَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّى مَجْلِسًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلاَقًا” (ترمذى) (تم ميں سے بہت پيارے ميرے نزديكـ اور بہت قريب بيٹهنے ميں ميرے نزديكـ قيامت كے دن وه لوگ ہيں جن كے اخلاق اچهے ہيں).

اسلام میں اخلاق کو ایک بہت ہی اعلی مقام حاصل ہے، اور یہی دین اسلام کا خلاصہ اور مغز ہے- رسول اللہ e سے کسي نے پوچھا کہ دین کیا ہے؟ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حسن الخلق” (اچھے اخلاق) (بروايت مسلم)۔ بلکہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر بہت زیادہ توجہ دى ہے یہاں تک کہ آپe نے اعلان کیا کہ آپe کی بعثت اور رسالت کا پہلا مقصد بلند واعلی اخلاق کی تکمیل ہے۔ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) نے فرماتا ہے: (إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مكارم الأَخْلاقِ) [بروايت بخارى] (مجهے مكارم اخلاق كى تكميل كے لئے بهيجا گيا ہے)- رسالت ملنے سے پہلے بھی آپ صل اللہ علیہ وسلم کو لوگ سچے اور امین کہا کرتے تھے- بلا شبہ رسول الله e اچھے اخلاق کا اعلی نمونہ تھے- اسى لئے پروردگار نے انہیں ان اوصاف سے متصف فرمایا ہے: {وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ{[قلم: 4] (ﺍﻭﺭ بيشكـ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ (ﻋﻤﺪﮦ) ﺍﺧﻼﻕ ﭘﺮ ﮨﮯ۔). یہ اللہ کي جانب سے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق سے متعلق ایک عظیم الشان گواہي ہے- آپ صل اللہ علیہ وسلم دنیا کی ساری مخلوقات میں اخلاق کے سب سے اعلی مقام پر فائز تھے، کیونکہ آپ e قرآن كريم کو سب سے زیادہ محفوظ کرنے والے تھے، اور اس کے اوامر کو بجالانے والے اور اسکی منہیات سے اجتناب کرنے والے تھے- آپ صل اللہ علیہ وسلم كى شخصيت میں تمام شرف ومنزلت جمع ہوگئيں- اس بات کی تاکید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے جب ان سے کسى نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کے اخلاق كريمہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمايا: کہ "آپ صل اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تها۔”

قرآنى اخلاق کى بجا آورى میں رسول صل اللہ علیہ وسلم ایک عملي نمونہ تھے- آپ e لوگوں میں سب سے زیادہ بلند اخلاق تھے، سب سے زیادہ شفقت ومحبت رکھنے والے، عفو ودرگزر کرنے والے سب سے زیادہ بردبار، بات میں سب سے زیادہ سـچے ، وعدہ کے سب سے زیادہ پکے اور اسے پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ جود وسخا کرنے والے تھے- باوجود کہ آپ سید البشر تھے، آپ صل اللہ علیہ وسلم عاجزى وانکسارى کی مثال تھے- جو آپ e کو دیکھتا وہ مرعوب ہو جاتا اور جو آپ e سے ملتا وہ آپ e سے مانوس ہو جاتا۔ أمُ المؤمنين حضرت خديجہ (رضي الله عنہا) نے آپ e كى صفت كے بارے ميں آپ e سے كہا: "إنك لتصل الرحم، وتحمل الكلَّ، وتكسب المعدوم، وتعين على نوائب الحق ” (ناتے كو جوڑتے ہيں بوجھ اٹهاتے ہيں (يعنى عيال اور اطفال اور يتيم اور مسكين كے ساتھ حسن سلوكـ كرتے ہيں ان كا بار اٹهاتے ہيں) اور نادار كے ليے كمائى كرتے ہيں اور خاطر دارى كرتے ہيں مہمان كى اور سچى آفتوں ميں (جيسے كوئى قرضدار ہو گيا يا مفلس ہو گيا يا اور كوئى تباہى آئى) مدد كرتے ہو لوگوں كى-)- رسول الله e كى صفت كے بارے ميں الله تعالى فرماتا ہے:{ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ }[آل عمران: 159] (الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﻛﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺁﭖ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻧﺮﻡ ﺩﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺑﺪ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺖ ﺩﻝ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﭖ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﭼﮭﭧ ﺟﺎﺗﮯ، ﺳﻮ ﺁﭖ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﻛﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ كام كا ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﯾﮟ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺁﭖ كا ﭘﺨﺘﮧ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﻛﺮﯾﮟ، ﺑﮯ شكـ الله تعالى ﺗﻮ كل ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) انہی جیسے اعلی اخلاق کے ذریعہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کیلئے لوگوں کے دلوں اور عقلوں پر قابو پانا ممکن ہو سکا۔

نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے صابہ کرام کو بھی اچهے اور بلند اخلاق کی تربیت دى اور انہیں اس بلند اخلاق سے آراستہ ہونے اور اس کے اہتمام کرنے کا حکم دیا- جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا : "اتق الله حيثما كنت ، وأتبع السيئة الحسنة تمحها ، وخالق الناس بخلق حسن” (جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور برائی کے بعد نیکى کرو جو اسے مٹادیگی، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ) تو صحابہ كرام نے عفو ودرگزر اور احسان کو سیکھا- عفو درگزر اور بردباری کے ذریعہ عصبیت اور شدت وغضب سے چھٹکارا پایا، اور انہوں نے عمدہ اخلاق اچھے معاملات اور فرد اور جماعت کے ساتھ نوازش وکرم کی شاندار نمونہ پیش کیا- جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کیا اور مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائى چارہ قائم کیا تو انصار اپنے مہاجر بھائى کو اپنے مال کے آدھے کا شریک بنا رہے تھے- انسانى اخلاق کی بنیاد نوازش وکرم پر ہے- قرآن کریم نے شاندار نمونے پیش کئے ہیں جو افراد کی حد تک ہی منحصر نہیں رہا بلکہ وہ تمام مسلمانوں کی عام صفت ہوگئى ہے۔ ارشاد بارى ہے:{ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ}[حشر: 9] (ﺑﻠﻜﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﻮ ﺧﻮﺩ ﻛﻮ ﻛﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺨﺖ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ).

اسى لئے وہ لوگ اس اخلاق کے ذریعہ قوموں پر حکومت کرتے تھے- جب تک وہ لوگ اس بلند اخلاق پر قائم تھے لوگوں کی نگاہوں کے مرکز ، آڈیل اور نمونہ بنے ہوئے تھے، جب لوگ اچھا اخلاق اور حسن معاملہ دیکھتے تھے تو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے تھے، اور جب اس سیدھے راستہ سے منہ موڑ لیا اور لوگوں کے اخلاق بگڑ گئے تو قیادت ضائع ہو گئى ، قدر وقیمت ختم ہو گئى اور حقائق ہی بدل گئے- امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہى سچى بات کہی ہے: (اس امت کے آخرى فرد کی اصلاح اسى کے ذریعہ ہوسکتى ہے جس سے پہلے کی اصلاح ہوچوکى ہے).

 اچھے اخلاق ہی معاشروں کو گراوٹ سے بچاتے ہیں، اور انارکى اور بدامنى سے اس کی حفاظت کرتے ہیں- امت کی سلامتی اور بنیاد کی پختگى اور اسکے مقام کى بلندی اور نسلوں کی عزت اچھے اخلاق سے وابستگی کے ہی ذریعہ ہے- جیساکہ گراوٹ اور برائی کا عام ہونا اچھے اخلاق اور اچھے کام سے دوری کا نتیجہ ہے۔

صَـلاحُ أَمـــــــــــــرِكَ لِـلأَخـلاقِ مَرجِـعُـهُ

آپ کے امور کى بہتری کا انحصار اخلاق پر ہے

 

فَقَـوِّمِ النَـفـسَ بِـالأَخــــــــــــلاقِ تَستَـقِـمِ

تو تم نفس کو اخلاق کے ذریعہ درست کرو تو تم ثابت قدم رہو گے

 

وَالنَفسُ مِن خَيرِهـا فـي خَيـــــرِ عافِيَـةٍ

نفس کی بھلائى میں خیریت وعافیت ہے

 

وَالنَفسُ مِن شَرِّهـا فـي مَرتَـعٍ وَخِـــــمِ

نفس کی برائى میں نقصان اور بربادی ہے)۔

اسى لئے اخلاقى گراوٹ سے ہوشیار کیا گیا ہے۔ سَهْل بْنِ سَعْدٍ سَّاعِدِى (رضي الله عنہ) سے روايت ہے كہ رسول الله (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فرمايا: « إِنَّ اللَّهَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا » (المستدرك للحاكم) (يقينًا الله تعالى سخى ہے اور سخاوت اسے پسند ہے، اسے اچهے اور بہترين اخلاق پسند ہے اور اسے بد اخلاق سے نفرت ہے)- "السَّفْسَافُ” سے مراد ہے: برى بات ہے اور ہر وه چيز ہے جو مكارم اخلاق كے منافى ہو-

اخلاق ہى کے ذریعہ قوميں زندہ رہتی ہیں اور اسکے آثار ہمیشہ باقی رہتے ہیں- اخلاق کے زوال اور گراوٹ کی وجہ سے قوميں نیست ونابود ہوجاتی ہیں- بہت سى تہذیبیں اپنی اقتصادی یا فوجى کمزوری کى وجہ سے نہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ صرف اپنے اخلاقى پستی کی وجہ سے ختم ہوگئيں۔ حافظ ابراہيم اپنے اس شعر ميں كہتے ہيں:

وَإِنَّمَا الأُمَمُ الأَخْلاقُ مَا بَقِيَتْ

قوميں اخلاق سے باقى رہتى ہيں

فَإِنْ هُمُ ذَهَبَتْ أَخْلاقُهُمْ ذَهَبُوا

اور جب اخلاق چلے جاتے ہيں تو وه بھى چلى جاتى ہيں

جب ہم قرآن وسنت میں عبادات پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا سب سے اہم مقصد مسلمانوں کے سلوک اور انکے اخلاق کی درستگى ہے- اسلام میں جو بھى عبادتیں دى گئيں ہیں، جیسے نماز روزہ زکات حج سب کا اثر افراد کے سلوک میں اخلاقی بلندی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، بلکہ یہ اثر فرد سے تجاوز کر کے معاشرے تک پہونچتا ہے- اسلام کسی کھوکھلے رسوم ورواج کا نام نہیں ہے جو مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں اور حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے کہ نمازى نماز پڑھـ کر نکلیں تاکہ ملاوٹ کریں اسٹوک کریں اور پڑوسیوں کو تکلیف دیں – تمام مذاہب میں عبادت کا حکم صرف انسانى ترقى اور اخلاقی بلندی کیلئے دیا گیا ہے- نماز کی فرضیت اور اسکے قائم کرنے کی حکمت كى وضاحت الله تعالى اس آيت كريمہ فرماتا ہے:}اتْلُ ما أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتابِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ ما تَصْنَعُون{[عنكبوت: 45] (ﺟﻮ ﻛﺘﺎﺏ ﺁﭖ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮﯾﮟ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﻛﺘﯽ ﮨﮯ، بيشكـ الله كا ﺫﻛﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ كچھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ الله ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮨﮯ۔). شر اور برائى سے دوری ، برى باتوں اور برے کاموں سے اجتناب ہی نماز کی حقیقت ہے۔ ابْن عَبَّاسٍ (رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا) سے مروى ہے كہ رسول الله (صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم) نے فرمايا ہے كہ: « قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِنَّمَا أَتَقَبَّلُ الصَّلاةَ مِمَّنْ تَوَاضَعَ بِهَا لِعَظَمَتِي، وَلَمْ يَسْتَطِلْ عَلَى خَلْقِي، وَلَمْ يَبِتْ مُصِرًّا عَلَى مَعْصِيَتِي، وَقَطَعَ نَهَارَهُ فِي ذِكْرِي، وَرَحِمَ الْمِسْكِينَ، وَابن السَّبِيلِ وَالأَرْمَلَةَ، وَرَحِمَ الْمُصَابَ » ]رواه البزار[ (الله تعالى نے ارشاد فرمايا: يقينًا ميں اس شخص كى نماز قبول كرتا ہوں جو نماز كے ذريعے ميرى شان وشوكت كے سامنے سر تسليم خم كرتا ہے، اور ميرى مخلوق پر دست درازى نہيں كرتا، اور ميرى نافرمانى پر مصر ہو كر رات نہيں گزارتا، اپنا دن ميرى ياد ميں گزارتا ہے، اور مسكين، مسافر، بيوه اور مصيبت زده پر مہربانى اور شفقت كرتا ہے) (بروايت بزار)- حضرت عبد الله بن مسعود رضى الله عنہما سے مروى ہے كہ: "جس شخص كى نماز اسكو بهلائى كا حكم نہيں ديتى اور برائى سے نہيں روكتى تو وه الله تعالى سے مزيد دور ہى ہوتا ہے”. (بروايت طبرانى)- جسکى نماز اسے قول وفعل کے شر اور برائی سے دور نہیں کرتی ہے تو گویا کہ اسکى نماز کا سب سے اہم مقصد پورا نہیں ہوا۔

اسى طرح تمام عبادات جیسے نماز روزہ زکات حج ، سبھی عبادتیں نفس کی طہارت وپاکى اور اس کے ذریعہ اچھے اخلاق کی حصول کیلئے فرض کى گئى ہیں۔ الله تعالى زكات سے متعلق فرماتا ہے:{خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ}[توبه:103] (ﺁﭖ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺪﻗﮧ ﻟﮯ ﻟﯿﺠﺌﮯ، ﺟﺲ ﻛﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﻥ ﻛﻮ پاكـ ﺻﺎﻑ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎ ﻛﯿﺠﺌﮯ، ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺁﭖ ﻛﯽ ﺩﻋﺎ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﺟﺐ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺧﻮﺏ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺏ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔). حضرت ابوذَر رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے ارشاد فرمایا: « تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ تُكْتَبُ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الشَّوْكَةَ وَالْحَجَرَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الضَّالَّ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ » ]بزار[ (تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی کیلئے مسکرانا صدقہ ہے، تمہارا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا صدقہ ہے، تمہارا کسی کو نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، پتھر کانٹا ہڈی (وغیرہ) کا راستہ سے ہٹا دینا صدقہ ہے اور کسی بھولے ہوئے کو راستہ بتانا صدقہ ہے-)

روزہ فرض عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے جسے اللہ تعالی نے اس لئے فرض کیا تاکہ بندہ متقى ہو سکے – اللہ تعالی روزے کا جو فائدہ اور مقصد چاہتا ہے وہ اللہ سے تقوی ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}[بقره: 183] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﻛﮭﻨﺎ ﻓﺮﺽ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﻛﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ، ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ تقوى ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻛﺮﻭ۔). روزے سے مسلم کا ارادہ مضبوط ہوتا ہے – روزه اخلاق کو سنوارتا اور شہوت پر قابو پاتا ہے۔ ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ رسول اللهe نے فرمايا: « الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ»] بخارى[ (روزه دوزخ سے بچنے كے لئے ايكـ ڈهال ہے، اس لئے (روزه دار) نہ فحش باتيں كرے اور نہ جہالت كى باتيں اور اگر كوئى شخص اس سے لڑے يا اسے گالى دے تو اس كا جواب صرف يہ ہونا چاہئے كہ ميں روزه دار ہوں، (يہ الفاظ) دو مرتبہ (كہہ دے)). مطلب یہ ہے کہ روزہ مسلمان كو برے اخلاق اور برائى سے بچاتا ہے- ضرورى ہے کہ روزے کا مسلم کے سلوک اور اخلاق کی درستگي پر اثر ہو۔

فريضۂ حج كے بارے ميں الله تعالى فرماتا ہے:{الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ } [بقره: 197] (ﺣﺞ ﻛﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﻻﺯﻡ ﻛﺮ ﻟﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﻞ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﻧﮯ، ﮔﻨﺎﮦ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﭽﺘﺎ ﺭﮨﮯ، ﺗﻢ ﺟﻮ ﻧﯿﻜﯽ ﻛﺮﻭ ﮔﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ الله تعالى ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ساتھ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ، ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺗﻮﺷﮧ الله تعالى كا ﮈﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﻭ! مجھ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﻛﺮﻭ۔). ابو ہريره نے كہا كہ رسول اللهؐ نے فرمايا كہ: « مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ »،]مسلم[ (جو اس گهر ميں آيا اور بيہوده شہوت رانى كى باتيں نہ كيں، نہ گناه كيا وه ايسا پهرا كہ گويا اسے ماں نے ابهى جنا (يعنى گناہوں سے پاكـ ہو گيا-).

ضرورى ہے کہ افراد اور معاشرے پر عبادت کا مثبت اثر ہو- اگر یہ عبادت انسان کے اخلاق اور اسکے سلوک کی درستگی میں اثر انداز نہیں ہوتی ہے تو آخرت میں ایسى عبادت کا کوئى فائدہ نہیں ہے- اس لئے کہ برے اخلاق اسکی عبادت اور نیکی کو ایسے ہی کھا جائگى جیسى کہ آگ لکڑي کو کھا جاتی ہے۔ ابو ہريره t سے مروى ہے كہ رسولِ خدا e نے فرمايا: « أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ»؟ قَالُوا: المُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): « المُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ» ]ترمذى[ (بهلا خبر دو مجهے كہ مفلس كون ہے، صحابہ نے عرض كى كہ مفلس ہمارى اصطلاح ميں يا رسول الله وه ہے كہ درہم ومتاع خانگى نہ ركهتا ہو- رسولِ خداe نے فرمايا: مفلس ميرى امت ميں وه ہے كہ قيامت كے دن روزه نماز اور زكوة ليكر آدمى اس صورت سے آئے گا كہ كسى كو بُرا كہا ہو اور كسى كو گالى دى ہو اور كسى كا مال كها گيا اور كسى كا خون بہايا گيا ہو اور كسى كو مارا ہو، پس اس كو بٹها ديں بدلہ ميں ديويں مظلوموں كو نيكياں اس كى پهر اگر نيكياں اس كى تمام ہو گئيں اس سے پيشتر كہ بدلہ پورا ہو اس كے ظلموں كا تو ليے جا ديں گناه مظلوموں كے اور ركھ ديے جا ديں اس پر اور ڈال ديا جا دے دوزخ ميں-) رسول الله e سے دريافت كيا گيا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي النَّارِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: «هِيَ فِي الْجَنَّةِ»]احمد[ (یا رسول اللہ فلاں عورت کا زیادہ نماز، روزے اور کثرت صدقہ وخیرات کی وجہ سے بڑا چرچا ہے یعنی لوگ کہتے ہیں کہ وہ عورت بہت زیادہ عبادت کرتی ہے اور کثرت سے صدقہ وخیرات کرتی رہتی ہے لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ "وہ دوزخ میں جائے گی۔ اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ فلاں عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت کم روزے رکھتی ہے بہت کم صدقہ دیتی ہے اور بہت کم نماز پڑھتی ہے اور حقیقت میں اس کا صدقہ وخیرات قروط کے چند ٹکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا لیکن وہ اپنی زبان کے ذریعہ اپنے ہمسائیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی- رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: وہ عورت جنت جائے گی۔).

اچھے اخلاق تمام مخلوقات کو شامل ہے- اس میں مسلم یا کسی غیر کی تفریق نہیں ہے- انسانیت میں سبھی بھائى بھائی ہیں۔ اسلئے الله تعالى فرماتا ہے: {وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا} [اسراء:70] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻭﻻﺩ ﺁﺩﻡ ﻛﻮ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺸﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﯼ ﻛﯽ ﺳﻮﺍﺭﯾﺎﮞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻛﯽ ﺭﻭﺯﯾﺎﮞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔)- جب رسول الله e كسى شخص كے جنازے كے احترام كرنے كے لئے كهڑا ہو گئے اور صحابہ كرام نے كہا: يہ ايكـ يہودى كا جنازه ہے- تو رسول الله e نے فرمايا: «أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟» ]بروايت بخارى[ (كيا يہ نفس نہيں ہے؟)- الله تعالى فرماتا ہے: {وَلا تُجادِلُوا أَهْلَ الْكِتابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلهُنا وَإِلهُكُمْ واحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ{[عنكبوت: 46] (ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﻛﺘﺎﺏ ﻛﮯ ساتھ ﺑﺤﺚ ﻭﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻋﻤﺪﮦ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتھ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﺍﻋﻼﻥ ﻛﺮ ﺩﻭ ﻛﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻛﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﮔﺌﯽ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺒﻮﺩ ايكـ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﺳﯽ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺑﺮﺍﺩﺭ ﮨﯿﮟ۔). مجاہد سے روايت ہے كہ عبد الله بن عمرو (رضى الله عنہما) كے ليے ان كے گهر ميں ايكـ بكرى ذبح كى گئى پهر جب وه آئے تو كہا كيا تم نے ہمارے ہمسايہ يہودى كو ہديہ بهيجا؟ ميں نے آنحضرتe كو كہ فرماتے تهے سُنا: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ» ]ترمذى[ (جبرائيل عليہ السلام مجهے ہميشہ پڑوسيوں كے ساتهـ نيكـ سلوكـ كرنے كى تاكيد كرتے رہے يہاں تكـ كہ ميں نے گمان كيا كہ وه اس كو ميراث دلا ديں گےـ)

اچھے اخلاق صرف انسانوں تک ہی منحصر نہیں ہے بلکہ اسكے دائرے میں حیوانات بھي شامل ہیں- اللہ تعالی نے کتے کو پانى پلانے کی وجہ سے ایک شخص کو جنت میں داخل فرمایا۔ ابو ہريره نے بيان كيا، وه رسول كريمe سے نقل كرتے ہيں- رسول الله e نے فرمايا: «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»]بخارى[ (كہ ايكـ شخص نے ايكـ كتے كو ديكها، جو پياس كى وجہ سے گيلى مٹى كها رہا تها- تو اس شخص نے اپنا موزه ليا اور اس سے پانى بهر كر پلانے لگا، حتى كہ اس كو خوب سيراب كر ديا- الله نے اس شخص كے اس كام كى قدر كى اور اسے جنت ميں داخل كر ديا-). اسكے برعكس ايكـ بلى كى وجہ سے ايكـ عورت كو عذاب ہوا- عبد الله بن عمر (رضى الله عنہما) نے بيان كيا كہ رسول الله e نے فرمايا: « عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»]بروايت بخارى[ (ايكـ بلى كى وجہ سے ايكـ عورت كو عذاب ہوا جسے اس نے اتنى دير تكـ باندهے ركها تها كہ وه بهوكـ كى وجہ سے مر گئى- اور وه عورت اسى وجہ سے دوزخ ميں داخل ہوئى- نبى كريمe نے فرمايا كہ الله تعالى نے اس سے فرمايا تها—- اور الله تعالى ہى زياده جاننے والا ہے—- كہ جب تو نے اس بلى كو باندهے ركها اس وقت تكـ نہ تو نے اسے كچھ كهلايا نہ پلايا اور نہ چهوڑا كہ وه زمين كے كيڑے مكوڑے ہى كها كر اپنا پيٹ بهر ليتى-).

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اخلاق اور معاشرے میں ترقي کریں تو ضرورى ہے کہ اچھے آڈیل اور نمونے کی پیروی کریں، اسلئے كہ اخلاق کے بنانے میں آڈیل اور نمونے کا بنیادی رول ہے۔ الله تعالى فرماتا ہے: } لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا]{احزاب: 21[ (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ الله ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺪﮦ ﻧﻤﻮﻧﮧ (ﻣﻮﺟﻮﺩ) ﮨﮯ، ﮨﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻛﮯ ﺩﻥ ﻛﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻜﺜﺮﺕ الله تعالى ﻛﯽ ﯾﺎﺩ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔) بيشكـ باپ اپنی اولاد کیلئے نمونہ ہے- رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ بچہ اپنی صاف فطرت پر پیدا ہوتا ہے، جس پر اللہ تعالی نے ہرانسان کو پیدا کیا، پھر آڈیل اور نمونے آتے ہیں جو اسے اچھے یا برے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ابو ہريره t سے روايت ہے كہ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: «مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ … » (کوئی بچہ ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہیں ہوتا؛ لیکن ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔) پهر ابو ہريره (رضى الله عنہ) يہ آيت كريمہ پڑهتے ہيں:{فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ القَيِّمُ}[روم: 30] (ﭘﺲ ﺁﭖ يكـ ﺳﻮ ﮨﻮ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺩﯾﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﻛﺮ ﺩﯾﮟ۔ الله تعالى ﻛﯽ ﻭﮦ ﻓﻄﺮﺕ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ، الله تعالى ﻛﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻛﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ ﻟﯿﻜﻦ ﺍﻛﺜﺮ ﻟﻮﮒ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ۔)

اسي طرح استاد اخلاق اور اچھائي میں اپنے شاگردوں کیلئے نمونہ ہے- کیوں کہ اسٹوڈنٹ ان سے اخلاق سیکھتے ہیں اور انکی پيروى کرتے ہیں- ایک دن امام شافعى ہارون الرشيد کے پاس گئے اور انکے ساتھ سراج الخادم تھے، تو انہیں ابو عبد الصمد کے پاس بیٹھا دیا جو کہ ہارون کے بیٹے کے استاد تھے- سراج نے امام شافعي سے کہا: اے ابو عبد اللہ یہ امیر المؤمنین کے بچے ہیں، اور یہ انکے استاد ہیں، تو آپ انہیں بچوں کى رعايت کریں، تو امام شافعي ابو عبد الصمد کے پاس گئے اور ان سے کہا: امیر المؤمنین کے بچوں کی اصلاح کی شروعات سے پہلے آپ اپنے نفس کی اصلاح کریں، اسلئے کہ انکی آنکھیں آپ کی آنکھ سے وابستہ ہے، تو جسے آپ اچھا سمجھیں گے انکے نزدیک وہ اچھا ہوگا، اور جسے آپ چھوڑ دینگے وہ کام انکے نزدیک برا ہوگا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اچھے اخلاق صرف افراد کی حد تک محدود نہیں ہیں، یہاں فردی اخلاق ہیں جسکا فرد اوامر اور نواہی میں اہتمام کرتا ہے- خانداني اخلاق ہے جیسے میاں بیوي کے درمیان، ماں باپ اور اولاد کے درمیان ، رشتہ داروں کے درمیان وغیرہ، اسی طرح معاشرتى اخلاق بھی ہے جسے خرید وفروخت میں، پڑوسیوں اور ساتھ میں کام کرنے والے دوستوں میں،۔۔۔ وغیرہ- ملکى اخلاق ہے جو ملکوں کے درمیان آپس میں ہوتا ہے، اور امن وسلامتى اور جنگ کے اخلاق بھی ہیں۔

انسان کے اچھے اخلاق میں مدد گار امور ميں سے اللہ تعالی کیلئے اخلاص ہے، پھر اچھے اخلاق کے لئے دعا کرنا ہے، نفس اور شہوتوں کے ساتھ مجاھدہ ہے اور ہمیشہ نفس کا محاسبہ ہے- اسى كے ساتهـ ساتهـ اس بات پر نظر ركهنا ضرورى ہے کہ برے اخلاق کا انجام کیا ہے اور فرد اور معاشرے پر اسكے کے منفى اثرات ہیں۔