خانداني مضبوط واستوار تعلقات
23 جماي الآخر 1437ھ مطابق 1 اپریل 2016ء

awkaf-

پہلا: عناصر:

  1. اسلام میں خاندان کا مقام۔
  2. خاندان کے استقرار کیلئے اسلام کا منہج۔

ا- انتخاب میں عمدگي۔

ب- حقوق وواجبات کي رعایت۔

ج- الفت ومحبت کا وجود۔

د- اچھي زندگي گزارنا۔

ھ- اولاد کے درمیان انصاف۔

  1. خاندان کے استقرار کا معاشرہ پر اثر۔

دوسرا: دلیليں:

قرآن کی دلیليں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ } [الروم: 21] . (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔)
  2. الله تعالى فرماتا ہے: {وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ} [نحل: 72]. (الله تعالى ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺗﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻛﮭﺎﻧﮯ ﻛﻮ ﺩﯾﮟ۔ ﻛﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﻃﻞ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻛﯽ ﻧﺎﺷﻜﺮﯼ ﻛﺮﯾﮟ ﮔﮯ؟)
  3. الله تعالى فرماتا ہے: {وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ}[نور: 32]. (ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮯ نكاح ﻛﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ كا نكاح ﻛﺮ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ نيكـ ﺑﺨﺖ ﻏﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﻧﮉﯾﻮﮞ كا ﺑﮭﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﻔﻠﺲ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺗﻮ الله تعالى ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻏﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ الله تعالى ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔)
  4. الله تعالى فرماتا ہے: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [بقره: 228]. (ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻛﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﻀﻠﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔)
  5. الله تعالى فرماتا ہے: {وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا}[نساء: 19]. (ﺍﻥ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﺍﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﻭﺑﺎﺵ ﺭﻛﮭﻮ، ﮔﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﻛﺮﻭ ﻟﯿﻜﻦ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﻜﻦ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺑﺮﺍ ﺟﺎﻧﻮ، ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻛﺮ ﺩﮮ۔)
  6. الله تعالى فرماتا ہے:{وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا}[نساء: 35]. (ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﻛﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺁﭘﺲ ﻛﯽ ﺍﻥ ﺑﻦ كا ﺧﻮﻑ ﮨﻮ ﺗﻮ ايكـ ﻣﻨﺼﻒ ﻣﺮﺩ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ايكـ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﻛﺮﻭ، ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺻﻠﺢ ﻛﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ الله ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﭖ ﻛﺮﺍ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﭘﻮﺭﮮ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻻ ﭘﻮﺭﯼ ﺧﺒﺮ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔)
  7. الله تعالى فرماتا ہے: {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا}[طلاق: 7] . (ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺧﺮﭺ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺯﻕ ﻛﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻛﮧ ﺟﻮ كچهـ الله تعالى ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ (ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺴﺐ ﺣﯿﺜﯿﺖ) ﺩﮮ، ﻛﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻛﻮ الله تكليف ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﮨﮯ)

حدیث نبوى کی دلیليں:

  1. عبد الله بن مسعود (رضى الله عنه) سے روايت ہے كہ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) نے فرميايا: (يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ) (متفق عليه). (اے نوجوانوں كے گروه! جو تم ميں سے شادى كى طاقت ركهتا ہے اسے چاہيے كہ وه شادى كرے كيونكہ يہ غضِ بصر كا باعث اور عصمت كى خوب حفاظت كرنے والى ہے- اور جسے طاقت نہ ہو تو وه روزے ركهے كيونكہ يہ اس كے ضبطِ نفس كا ذريعہ ہے-) (متفق عليه)
  2. ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا: ( تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاك َ). (رواه البخاري). «عورت سے نكاح چار چيزوں كى بنياد پر كيا جاتا ہے- اس كے مال كى وجہ سے اور اسكے خاندانى شرف كى وجہ سے اور اسكى خوبصورتى كى وجہ سے اور اسكے دين كى وجہ سے اور تو ديندار عورت سے نكاح كر كے كاميابى حاصل كر، اگر ايسا نہ كرے تو تيرے ہاتهوں كو مٹى لگے گى (يعنى اخير ميں تجھ كو ندامت ہو گى)» (بخارى)
  3. حضرت انسt بن مالكـ نے بيان كيا كہ تين حضرات (على بن ابى طالب، عبد الله بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون- رضى الله عنہم-) نبى كريم r كى ازواج مطہرات كے گهروں كى طرف آپ كى عبادت كے متعلق پوچهنے آئے، جب انہيں حضور اكرم r كا عمل بتايا گيا تو جيسے انہوں نے اسے كم سمجها اور كہا كہ ہمارا آنحضرت r سے كيا مقابلہ! آپ كى تو تمام اگلى پچهلى لغزشيں معاف كر دى گئى ہيں- ان ميں سے ايكـ نے كہا كہ آج سے ميں ہميشہ رات بهر نماز پڑها كروں گا- دوسرے نے كہا كہ ميں ہميشہ روزے سے رہوں گا اور كبهى ناغہ نہيں ہونے دوں گا- تيسرے نے كہا كہ ميں عورتوں سے جدائى اختيار كر لوں گا اور كبهى نكاح نہيں كروں گا- پهر آنحضرتr تشريف لائے اور ان سے پوچها كيا تم نے ہى يہ باتيں كہى ہيں؟ سن لو! الله تعالى كى قسم! الله رب العالمين سے ميں تم سب سے زياده ڈرنے والا ہوں- ميں تم سب سے زياده پرہيزگار ہوں ليكن ميں اگر روزے ركهتا ہوں تو افطار بهى كرتا رہتا ہوں- نماز بهى پڑهتا ہوں (رات ميں) اور سوتا بهى ہوں اور ميں عورتوں سے نكاح كرتا ہوں- ميرے طريقے سے جس نے بے رغبتى كى وه مجھ ميں سے نہيں ہے- (بخارى)
  4. (روايت ہے ابو حاتم مزنى سے كہا انہوں نے فرمايا رسولِ خدا r نے فرميايا: ( إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ ، إِلاَّ تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادٌ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ؟ قَالَ: إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ. (رواه الترمذي) يعنى جب آئے تمہارے پاس ايسا شخص كہ تم پسند كرو اس كے دين كو اور خلق اور عادات كو تو نكاح كر دو اس سے اگر ايسا نہ كرو گے تو بڑا فتنہ ہو گا زمين ميں اور بہت فساد لوگوں نے كہايا رسول الله اگر اس ميں كچھ ہو يعنى مفلسى يا تنگ دستى كہ بيوى كو اپنى روٹى نہ دے سكے تو فرمايا آپ نے جب آوے تمہارے پاس ايسا شخص كہ پسند كرو تم اس كا دين اور عادات تو نكاح كر دو اس سے تين بار يہى فرمايا-) (ترمذى)
  5. (عبد الله بن عمر – رضى الله عنہما- نے كہا انہوں نے رسول كريم r سے سنا، رسول الله نے فرمايا كہ ہر آدمى حاكم ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- امام حاكم ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- مرد اپنے گهر كے معاملات كا افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- عورت اپنے شوہر كے گهر كى افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- خادم اپنے سيد كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كے بارے ميں سوال ہو گا- انہوں نے بيان كيا كہ ميں نے نبى كريمr سے يہ باتيں سنى ہيں اور مجهے خيال ہے كہ آپ نے يہ بهى فرمايا تها كہ مرد اپنے باپ كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- غرض تم ميں سے ہر فرد حاكم ہے اور سب سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا-) (بخارى).

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُمَا) سے روايت ہے كہ  رَسُولَ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمايا: (آدمی کے گناہ کے لئے اتنا کافی ہے کہ اپنے عیال کو ضائع کردے) (احمد)

تیسرا: موضوع:

اسلام نے خاندان کا بہت زیادہ اہتمام کیا ہے، کیونکہ یہ معاشرہ کی تعمیر کی پہلي اینٹ ہیں، اسکي اصلاح  معاشرہ کي اصلاح ہے اور اسکا فساد معاشرہ کا فساد ہے، اسي لئے اسلام نے انسان اور معاشرہ کي حفاظت کے خاطر خاندان کیلئے اصول وقواعد  بنایاہے، جو اسکے قیام کو منظم کرتا ہے اور اسکي سلامتي اور استقرار کا خیال رکھتا ہے، اس لئے کہ خاندان کے استقرار ہي معاشرہ کا استقرار ہے۔

خاندان کے سلسلے میں اسلام کا اہتمام اسکے بنیادي مرحلہ سے ہي شروع ہوجاتا ہے، جو خاندان کے تمام افراد کے  درمیان باہم الفت ومحبت اور یکجہتي ورواداري اور ہم آہنگي  پیدا  کرتا ہے، اور اسکي بنیاد کے ڈھاجانے  اور گرنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں، تو اسلام نے اپنے پیروکاروں کو قانوني طور پر خاندان کے بنانے پر زور دیا ہے، جس میں  انسان کي عزت کي حفاظت ہے اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق بھي ہے۔ اور وہ ہے شادي جو تمام مخلوق میں اللہ تعالی کي ایک سنت ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [ذاريات: 49] (ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﻮﮌﺍ ﺟﻮﮌﺍ ﭘﯿﺪﺍﻛﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻭ) اور فرمايا ہے: {سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ} [يس: 36] (ﻭﮦ پاكـ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻛﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮯ ﺧﻮﺍﮦ ﻭﮦ ﺯﻣﯿﻦ ﻛﯽ ﺍﮔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﻮﮞ، ﺧﻮﺍﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻧﻔﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺍﮦ ﻭﮦ (ﭼﯿﺰﯾﮟ) ﮨﻮﮞ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔). شادى ايكـ فطرى سنت ہے- الله تعالى فرماتا: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} [روم: 21] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ، ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔).

اسي طرح اسلام نے زمین ووطن کي تعمیر اور معاشرہ  اصلاح کے لئے خاندان کے بنانے اور اسکے استقرار پر زور دیا ہے، تاکہ اعلی مقاصد حاصل ہو سکے اور وہ ہے شرافت وپاکدامني کو پھیلانا اور ہر طرح کي گندگیوں سے معاشرہ کي حفاظت، اور خاندانوں کے درمیان آپس میں رشتوں کا ربط، اور اسکے علاوہ بھي دیگر حکمتیں اور مقاصد ہیں۔ الله ةتعالى فرماتا ہے:}وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ * وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ  { [نور: 32 - 33] (ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮯ نكاح ﻛﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ كا نكاح ﻛﺮ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ نيكـ ﺑﺨﺖ ﻏﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﻧﮉﯾﻮﮞ كا ﺑﮭﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﻔﻠﺲ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺗﻮ الله تعالى ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻏﻨﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ الله تعالى ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔ (٣٢) ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ پاكـ ﺩﺍﻣﻦ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ نكاح ﻛﺮﻧﮯ كا ﻣﻘﺪﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﯾﮩﺎﮞ تكـ ﻛﮧ الله تعالى ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻀﻞ ﺳﮯ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ، ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻛﻮﺋﯽ كچھ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﻛﺮ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻛﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻛﺮﺍﻧﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻛﻮ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺟﻮ ﻣﺎﻝ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﻮ ﻟﻮﻧﮉﯾﺎﮞ پاكـ ﺩﺍﻣﻦ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻛﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻛﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﻛﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺑﺪكارى ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻧﮧ ﻛﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻛﺮﺩﮮ ﺗﻮ الله تعالى ﺍﻥ ﭘﺮ ﺟﺒﺮ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺨﺸﺶ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔). بلکہ نبي صل اللہ علیہ وسلم نے  شادي کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے نوجوانوں کو اس سنت کے ادا کرنے پر ابھارا ہے- الله كے رسول(r) كا ارشاد ہے:: (اے نوجوانوں كے گروه! جو تم ميں سے شادى كى طاقت ركهتا ہے اسے چاہيے كہ وه شادى كرے كيونكہ يہ غضِ بصر كا باعث اور عصمت كى خوب حفاظت كرنے والى ہے- اور جسے طاقت نہ ہو تو وه روزے ركهے كيونكہ يہ اس كے ضبطِ نفس كا ذريعہ ہے-) (متفق عليه)

اس کے مقابلہ میں اسلام  نے ہر ان امور سے منع کیا ہے جو عالم کى تعمیر کے منافى ہے، جیسے کنواراپن اور عورتوں سے بے تعلقي رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں سے منع فرمایا ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے کو خصی بنا لیتے ۔  (بخارى) (حضرت انسt بن مالكـ نے بيان كيا كہ تين حضرات (على بن ابى طالب، عبد الله بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون- رضى الله عنہم-) نبى كريم r كى ازواج مطہرات كے گهروں كى طرف آپ كى عبادت كے متعلق پوچهنے آئے، جب انہيں حضور اكرم r كا عمل بتايا گيا تو جيسے انہوں نے اسے كم سمجها اور كہا كہ ہمارا آنحضرت r سے كيا مقابلہ! آپ كى تو تمام اگلى پچهلى لغزشيں معاف كر دى گئى ہيں- ان ميں سے ايكـ نے كہا كہ آج سے ميں ہميشہ رات بهر نماز پڑها كروں گا- دوسرے نے كہا كہ ميں ہميشہ روزے سے رہوں گا اور كبهى ناغہ نہيں ہونے دوں گا- تيسرے نے كہا كہ ميں عورتوں سے جدائى اختيار كر لوں گا اور كبهى نكاح نہيں كروں گا- پهر آنحضرتr تشريف لائے اور ان سے پوچها كيا تم نے ہى يہ باتيں كہى ہيں؟ سن لو! الله تعالى كى قسم! الله رب العالمين سے ميں تم سب سے زياده ڈرنے والا ہوں- ميں تم سب سے زياده پرہيزگار ہوں ليكن ميں اگر روزے ركهتا ہوں تو افطار بهى كرتا رہتا ہوں- نماز بهى پڑهتا ہوں (رات ميں) اور سوتا بهى ہوں اور ميں عورتوں سے نكاح كرتا ہوں- ميرے طريقے سے جس نے بے رغبتى كى وه مجھ ميں سے نہيں ہے-) (بخارى)

    جب خاندانى استقرار - ہر اس کلمہ سے عبارت ہے جو سکون واطمئنان کے معنی میں شامل ہے- شرعي اور دنیاوي  مقصد ہے، تو اسلام نے اسکے لئے درست شرعي اصول اور مضبوط منہج بنایا ہے تاکہ میاں بیوي کے درمیان ہمیشہ الفت ومحبت اور استقرار قائم رہے، اور ان اہم اصولوں میں سے چند ذیل ہے:

*میاں بیوي کا ایک دوسرے کو صحیح انتخاب کرنا، نبي صل اللہ علیہ وسلم نے شوہر کو اپنے لئے بیوي کے اچھے انتخاب کي وصیت فرمایا ہے، کہ وہ اچھي مربیہ اور اپنے شوہر کے مال اور اسکے آبرو کي حفاظت کرنے والي ہو، یہ دنیا کي سب سے اچھي چیز ہے، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "دنیا سازوسامان ہے، اور دنیا کا بہترین سازوسامان نیک بیوي ہے، جب اچھے انتخاب کے ساتھ خاندان کي بنیاد رکھي جاتي ہے تو سکون اور استقرار اور غیر منقطع محبت اور باہم رحم وکرم وجود میں آتا ہے، اسوقت شادي سب سے عمدہ نعمت اور بابرکت چیز ہوتي ہے۔

ضروري ہے کہ یہ انتخاب دین اور اخلاق کي بنیاد پر ہوں-

(ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا: عورت سے نكاح چار چيزوں كى بنياد پر كيا جاتا ہے- اس كے مال كى وجہ سے اور اسكے خاندانى شرف كى وجہ سے اور اسكى خوبصورتى كى وجہ سے اور اسكے دين كى وجہ سے اور تو ديندار عورت سے نكاح كر كے كاميابى حاصل كر، اگر ايسا نہ كرے تو تيرے ہاتهوں كو مٹى لگے گى (يعنى اخير ميں تجھ كو ندامت ہو گى))- (بخارى)-

تو خاندان کي دیکھ ریکھ میں بیوي کا اہم  کردار ہے،  اسکے صلاح میں خاندان کا استقرار ہے، بلکہ تمام معاشرے کا استقرار ہے اور اسکے فساد میں خاندان کا انہدام ہے۔ شاعر کا قول ہے:

ماں ایک مدرسہ ہے اگر تم اسے تیار کر لو ، تو تم ایک پختہ اور اچھي قوم تیار کرلوگے۔

اسي طرح  نبي صل اللہ علیہ وسلم نے بیوي کو بھي اپنے لئے شوہر کے انتخاب کي وصیت فرمایا ہے کہ وہ دین اور اخلاق کي بنیاد پر ہونا چاہئے-

 (روايت ہے ابو حاتم مزنى سے كہا انہوں نے فرمايا رسولِ خدا r نے جب آئے تمہارے پاس ايسا شخص كہ تم پسند كرو اس كے دين كو اور خلق اور عادات كو تو نكاح كر دو اس سے اگر ايسا نہ كرو گے تو بڑا فتنہ ہو گا زمين ميں اور بہت فساد لوگوں نے كہايا رسول الله اگر اس ميں كچھ ہو يعنى مفلسى يا تنگ دستى كہ بيوى كو اپنى روٹى نہ دے سكے تو فرمايا آپ نے جب آوے تمہارے پاس ايسا شخص كہ پسند كرو تم اس كا دين اور عادات تو نكاح كر دو اس سے تين بار يہى فرمايا-) (ترمذى)- نبي صل اللہ علیہ وسلم نے دین اور اخلاق کو نیک شوہر کي اہم صفت بنایا، یہاں سے یہ بات صاف ہوگئي کہ دین کي بنیاد پر انتخاب سے خاندان میں  استقرار پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کي ترقي کا سبب ہوتا ہے۔

*اسى طرح خاندان کے استقرار کي بنیاد میں سے یہ ہے: کہ اس کے ہر افراد کو چاہئے کہ جو انکے حقوق و واجبات ہیں اس کا خیال رکھے، تو اسلام نے دونوں کو ایک دوسرے پر مساوي حقوق وواجبات دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [ سورة البقرة : 228] (ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻛﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﻛﮯ ﺳﺎﺗھ ﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﻀﻠﯿﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ ﺣﻜﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) اسلئے فرض يہ ہے کہ خاندان کا کوئي فرد اپنے حقوق کا اس وقت تک مطالبہ نہ کرے جب تک کہ وہ اپنے ذمہ واجبات ادا نہ کر لے، تاکہ الفت ومحبت اور سکون پیدا ہو جس سے  خاندان میں استقرار پیدا ہوتا ہے۔

اسلام نے ان حقوق وواجبات کو بیان کیا ہے، اور خاندان کے تمام افراد پر تقسیم کیا ہے، اور ہر ایک پر اس کي حفاظت ضروري قرار دیا ہے،  ان حقوق میں سے مادي ومعنوي اور تربیتي حقوق ہیں، اور ان میں سے تعمیري کاموں میں شراکت اور زندگي کے مطالبات اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں باہم مدد کرنا بھي ہے- عبد الله بن عمر – رضى الله عنہما- نے كہ انہوں نے رسول كريم r سے سنا آپr نے فرمايا كہ: (كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)، قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلاَءِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)، وَأَحْسِبُ النَّبِيَّ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: (وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ) (رواه البخاري( (ہر آدمى حاكم ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- امام حاكم ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- مرد اپنے گهر كے معاملات كا افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- عورت اپنے شوہر كے گهر كى افسر ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارے ميں سوال ہو گا- خادم اپنے سيد كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كے بارے ميں سوال ہو گا- انہوں نے بيان كيا كہ ميں نے نبى كريمr سے يہ باتيں سنى ہيں اور مجهے خيال ہے كہ آپ نے يہ بهى فرمايا تها كہ مرد اپنے باپ كے مال كا محافظ ہے اور اس سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا- غرض تم ميں سے ہر فرد حاكم ہے اور سب سے اس كى رعيت كے بارے ميں سوال ہو گا-) (بخارى)- عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (رَضِى اللَّهُ عَنْهُمَا) سے روايت ہے كہ رسول الله r نے فرمايا: (آدمی کے گناہ کے لئے اتنا کافی ہے کہ اپنے عیال کو ضائع کردے) (احمد)

ايكـ صحابى نے رسول اللهr سے دريافت كيا: (اے الله كے رسول! ہم پر بيوى كے كيا حقوق ہيں؟ آپ نے فرمايا: "جب تو كهائے تو اسے كهلائے، جب تو پہنے تو اسے پہنائے-" يا يوں كہا: "جب كما كر لائے (تو اسے پہنائے) اور چہرے پر نہ مار، برانہ بول اور اس سے جدانہ ہو مگر گهر ميں-") (ابو داود)

یہ اسماء بنت یزید انصاریہ ہیں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتي ہیں کہتي ہیں: (۔۔۔۔ ہم عورتوں کي جماعت تو آپ لوگوں کے گھروں کي دیواروں میں قید اور آپ کي شہوتوں کي تکمیل اور آپ کي اولادوں کو پیدا کرنے کي ذمہ داریوں میں مشغول ہوتي ہیں،  اور آپ مرد لوگ جمعہ اور جماعت اور مریضوں کي عیادت اور جنازہ میں شرکت اور ایک کے بعد ایک حج  اور اس سے بھي زیادہ افضل اللہ کے راستہ میں جھاد کے ذریعہ ہم پر فوقیت لے جاتے ہیں، اور آپ میں سے جب کوئي مرد حج یا عمرہ یا اللہ کے راستہ میں نکلتا ہے تو ہم انکے مال کي حفاظت انکے لئے کپڑے بننا  اور انکے اولاد کي تربیت کرتے ہیں، تو اے اللہ کے رسول کیا ہم آپکے ساتھ اجر میں شریک نہیں ہیں؟،  کہا: کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم اپنا پورا چہرا صحابہ کي طرف کرکے فرمایا: کیا تم لوگوں نے دین کے مسئلہ میں اس عورت کي بات سے بہتر کوئي بات سني؟،لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ہم گمان نہیں کرسکتے تھے کہ ایک عورت ایسي بات کہہ سکتي ہے،پھر نبی صل اللہ علیہ وسلم ان عورت کي جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے عورت تم لوٹ جاؤ اور دوسري عورتوں کو بھي بتادو کہ جو اپنے شوہروں کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اسکي خوشنودي چاہے وہ سب برابر کي شریک ہیں، کہتے ہیں: عورت لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتے ہوئے خوشي سے لوٹ گئي۔(شعب الإيمان).

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلم خاندان کي کامیابي اور اسکا استقرار تمام افراد کے حقوق وواجبات کي حفاظت کرنے، اور اس سے عدم تجاھل اور عدم کوتاہي میں ہے۔

*اور وہ امور جو خاندان کے استقرار میں مددگار ہے، ان میں سے ایک افراد کے درمیان رحمت کا پایا جانا ہے، کیونکہ رحمت خوشحال گھر کا ایک اہم  ستون ہے، اور کسي بھی کامیاب خاندان کي مضبوط بنیاد ہے، اور وہ ایسے مبادي وقیم ہیں جن سے میاں بیوي کو آراستہ ہونا چاہئے تاکہ خاندان سکون واطمئنان اور الفت ومحبت اور استقرار کي نعمت سے سرفراز ہوسکے-

الله تعالى فرماتا ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُم أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ}[روم:21] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ  ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ  ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ،  ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ ﻏﻮﺭ ﻭﻓﻜﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ۔)

تو معاشرہ کے تمام افراد کے درمیان رحم کا پایا جانا خاندان میں  پایے جانے کا سبب ہے، اور رسول اللہ کي زندگي میں ہمارے لئے ایک اچھا نمونہ ہے، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ رحم میں آڈیل اور نمونہ ہیں، اپني بیوي اور بچوں یہاں تک کہ اپنے نواسوں اور خادموں کے ساتھبھي، تو آپ صل اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر تھے۔

جب رحمت کسي گھر سے مفقود ہوجائے تو خانداني زندگی تباہ وبرباد ہوجاتي ہے، تو خاندان کے ہر افراد کو چاہئے کہ رحمت کے وجود کیلئے سنجیدگي کے ساتھ کوشش کرے۔

*اسي طرح خاندان کے استقرار کي بنیاد میں سے یہ ہے:کہ حسن وخوبي کے ساتھ زندگي گزارنا، اور اس بات کا ہمیں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے، اور نبي صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کي ہے،

الله تعالى فرماتا ہے :{وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا}[سورة النساء: 19] (ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﭼﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﻭﺑﺎﺵ ﺭﻛﮭﻮ، ﮔﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﻛﺮﻭ ﻟﯿﻜﻦ ﺑﮩﺖ ﻣﻤﻜﻦ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺑﺮﺍ ﺟﺎﻧﻮ، ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻛﺮ ﺩﮮ۔)

تو ہرایک میاں بیوي سے باہم صلہ رحمي اور حسن معاملہ کا مطالبہ ہے تاکہ خاندان میں الفت ومحبت اور تعاون قائم ہو اور اسي کے ساتھ اس تعلق کا مقصد پورا ہوتا ہے،

الله تعالى كا ارشاد ہے: {هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ}[بقره: 187] (ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻟﺒﺎﺱ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﮨﻮ)- الله تعالى فرماتا ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً َورَحْمَةً} [روم:21] (ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﺟﻨﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﮟ ﺗﺎﻛﮧ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﻗﺎﺋﻢ ﻛﺮ ﺩﯼ) ارشاد بارى ہے: {وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا}[اعراف: 189] (ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ كا ﺟﻮﮌﺍ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﺍﻧﺲ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﮮ)

اور وہ جس سے اچھي زندگي کا وجود ہوتا ہے: اچھي بات، اچھے کام ، اور رواداري، تعاون، احترام، مشورہ، رازوں کي حفاظت ہے، اور لڑائي جھگڑے کے اسباب اور تمام بري عادتوں سے بچنا اور اجتناب کرنا بھي ہے۔

نبي صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے سامنے حسن زندگي کي شاندار مثال پیش کي، حدیث اسود میں کہتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ سے پوچھاکہ رسول اللہ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ کہتي ہیں: (اپنے گھر والوں کا کام کرتے تھے، یعني انکي مدد کرتے تھے،جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ نماز کیلئے چلے جاتے)، (صحيح البخاري)، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہےکہتے ہیں: میں عورت کیلئے بننا سنورنا پسند کرتا ہوں جیساکہ میں چاہتا ہوںکہ عورت میرے لئے سنگار کرے، اس لئے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [بقره: 228] (ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻛﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺣﻖ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ)

اور میں پسند نہیں کرتا کہ اپنا تمام حق ان سے لوں کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ}[بقره: 228]  (ﮨﺎﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻛﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﻀﻠﯿﺖ ﮨﮯ) (المصنف لابن أبي شيبة).

میاں بیوى کے درمیان اچھي زندگي کا مطلب: یہ ہے کہ کسي ایک کے کندھے پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے جسے دوسرا جھیل رہا ہے، اچھي زندگي ایسا کلمہ ہے جو ازدواجي زندگي کے ہر خیر کو شامل ہے، اور اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ ازدواجي زندگي میں الفت ومحبت اور ہم آہنگي اور تفاھم ہو، اور یہ معاشرہ کي اصلاح کیلئے اہم قدم ہے۔

*اور وہ امور جو خاندان کے استقرار میں مددگار ہے: میاں بیوي کا ایک دوسرے سے مشورہ کرنا ہے، تو مشورہ سے آپس میں الفت ومحبت پیدا ہوگا، یہاں تک کہ بعض ان مسئلہ میں بھي جن کو بعض لوگ چھوٹا محسوس کرتے ہیں، اور یہ دو سال میں دودھ  چھوڑانے کا  مسئلہ ہے-

الله تعالى كا ارشاد ہے:{فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضِ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَليهِمَا}[بقره: 233] (ﭘﮭﺮ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ) ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭼﮭﮍﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻛﭽﮫ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ)

تو میاں بیوى کے درمیان مشورہ بلکہ خاندان کے تمام افراد کے درمیان ہمارى اسلامى زندگى کا منہج ہے، اور اللہ کي کتاب میں عموم کے صیغہ کے ساتھ اس کا حکم نازل ہوا ہے-

الله تعالى فرماتا ہے:{وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ}[سورۂ شورى: 38] (ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﻛﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ كا (ﮨﺮ) كام ﺁﭘﺲ ﻛﮯ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ (ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ) ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔)

اس کو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے عملى طور پر کر کے دیکھایا ہے، اوراپنى بیویوں کے ساتھ  مشورہ پر سنت نبوى میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کے متعدد واقعات ہیں، ان میں سے :

 (پهر جب صلح نامہ سے آپ فارغ ہو چكے تو صحابہ – رضوان الله عليہم- سے فرمايا كہ اب اٹهو اور (جن جانوروں كو ساتهـ لائے ہو ان كى) قربانى كر لو اور سر بهى منڈوالو- انہوں نے بيان كيا كہ الله گواه ہے صحابہ ميں سے ايكـ شخص بهى نہ اٹها اور تين مرتبہ آپr نے يہ جملہ فرمايا- جب كوئى نہ اٹها تو حضرتr ام سلمہ كے خيمہ ميں گئے اور ان سے لوگوں كے طرز عمل كا ذكر كيا- حضرت ام سلمہ – رضى الله عنہا- كہا اے الله كے نبى! كيا آپ يہ پسند كريں گے كہ باہر تشريف لے جائيں اور كسى سے كچهـ نہ كہيں بلكہ اپنا قربانى كا جانور ذبح كر ليں اور اپنے حجام كو بلا ليں جو آپ كے بال مونڈ دے- چنانچہ آنحضرت r باہر تشريف لائے- كسى سے كچهـ نہيں كہا اور سب كچهـ كيا، اپنے جانور كى قربانى كر لى اور اپنے حجام كو بلوايا جس نے آپr كے بال مونڈے- جب صحابہ نے ديكها تو وه بهى ايكـ دوسرے كے بال مونڈنے لگے، ايسا معلوم ہوتا تها كہ رنج وغم ميں ايكـ دوسرے سے لڑپڑيں گے-)  (بخارى)

حسن بصرى رحمہ الله  کہتے ہیں: گرچہ رسول اللہ کو ام سلمہ سے مشورہ کي ضرورت نہيں تھي ، لیکن آپ نے چاہا کہ لوگ اس معاملہ میں آپ کي پیروى کرے، اور یہ کہ مرد عورت کے ساتھ مشورہ میں شرم اور جھجھک محسوس نہ کرے۔

*اسي طرح خاندان کے استقرار کي بنیاد میں سے ہے:خاندان کے تمام افراد پر خرچ کرنا، اور یہ وہ حق ہے جسے اللہ تعالی نے ذمہ دار شخص پر واجب کیا ہے،

الله تعالى فرماتا ہے:{الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ}[النساء:34] (ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﺎﻛﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻛﮧ الله تعالى ﻧﮯ ايكـ ﻛﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺩﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻛﮧ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﻛﺌﮯ ﮨﯿﮟ) الله تعالى كا ارشاد ہے: {وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ}[البقرة : 233] (ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻛﮯ ﺑﭽﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺫﻣﮧ ﺍﻥ كا ﺭﻭﭨﯽ ﻛﭙﮍﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﻛﮯ ﮨﻮ۔ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ تكليف ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺘﻨﯽ ﺍﺱ ﻛﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮨﻮ۔ ﻣﺎﮞ ﻛﻮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﭽﮧ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﯾﺎ ﺑﺎﭖ ﻛﻮ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺍﻭﻻﺩﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﺿﺮﺭ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻭﺍﺭﺙ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮨﮯ) ارشاد بارى ہے:{لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا}[الطلاق : 7 ] (ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻛﺸﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺧﺮﭺ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺯﻕ ﻛﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻛﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻛﮧ ﺟﻮ ﻛﭽﮫ ﺍﹴ ﺗﻌﺎﻟﲐ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ (ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺴﺐ ﺣﯿﺜﯿﺖ) ﺩﮮ، ﻛﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻛﻮ الله تكليف ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﺭﻛﮭﯽ ﮨﮯ)

*اور وہ امور جو خاندان کے استقرار میں مددگار ہے:خاندان کے افراد کے درمیان انصاف کا پایا جاناہے، تو بچوں کي دیني تربیت اور دیني شعار کي تعلیم ، اور انکے درمیان انصاف خانداني استقرار کي اہم بنیاد ہے، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے خانداني ربط کي حفاظت  اور افراد کے درمیان الفت کے خاطر بچوں کے درمیان معاملات میں تفریق کرنے سے ڈرایا ہے-

بلاشبہ  اسلام نے خاندان کو عزت واحترام کي نگاہ سے دیکھا ہے، تو یہ اسلام کي نگآہ میں ایک مقدس بندھن ہے جس کا بلند مقصد ہے، اور اسلام نے اسکےطاقتور اور مضبوط رہنے پر زور دیا ہے،تاکہ اپنے مقصد کو پورا کر سکے اور کٹھن اور آزمائش کي گھڑي میں ثابت قدم رہ سکے، اس لئے اسلام نے تمام آداب پر زور دیا ہے تاکہ تعمیر مضبوط  رہے، اسي طرح اسلام معاشرہ کو استقرار بخشتا ہے اور ہر طرح کي زیادتي اور سرکشي سے اسکي حفاظت کرتا ہے، تو اسلام نے خاندان اور اسکے استقرار کا اہتمام کیا ہے تاکہ امت کے افراد کے درمیان باہم ربط قائم ہو، اور ترقي اور خوشحالي میسر ہو۔

جب خاندان میں استقرار ہوگا تو تمام افراد ہر صورت میں امن وامان محسوس کر یں گے، جیسا کے نفسي ، جسماني، معاشرتي، اقتصادي، جسکا عکس معاشرے کے امن وسلامتي پر پڑے گا، تو خانداني استقرار کو اسلام معاشرہ کا فساد وبگاڑ سے  حفاظت کا وسیلہ مانتا ہے، تو معاشرہ کے امن کي ابتدا خاندان کے امن سے ہے پھر اسکول ومدرسہ امن اور پھر معاشرہ کا امن ہے۔

خاندان یہ پہلا مدرسہ ہے جہاں بچہ حق وباطل اور خیر وشر کي تعلیم حاصل کرتا ہے، اور ذمہ داریاں اٹھانا اور رائے کي آزادي سیکھتا ہے، اور خاندان میں بچوں کے شخصي عناصر متحد ہوتے ہیں، اور اسکي شخصیت کے خد وخال میں تمیز پیدا ہوتا ہے، اور ایک صالح معاشرہ کا اچھا فرد ثابت ہوتا ہے۔

امن وامن صرف طاقت کے ذریعہ سے قائم نہیں کیا جا سکتا ہے، بلکہ وہ معاشرہ کے افراد سے انکے ضمیر کے نتیجہ میںوجود میں آتا ہے، ، تو خاندان کے لوگوں کے اندر ضمیر بیدار کرنے میں خاندان کا اہم رول ہے۔