صحابہ کرام رضي اللہ عنھم کے فضائل، اور انکي پاکیزہ سیرت کے نمونے۔
16 جمادي الآخر 1437ھ مطابق 25/3/20016ء

awkaf-

پہلا: عناصر:

  • صحابہ کرام کا مقام اور انکا بلند رتبہ ۔
  • قرآن و سنت میں صحابہ کرام کے فضائل۔
  • صحابہ کرام سے محبت ایمان کا جزء ہے۔
  • صحابہ کرام کي پیروى کرنے پر زور۔
  • صحابہ کرام پر طعن و تشنيع کى حرمت۔

صحابہ کرام کى سیرت کے  نمونے۔

دوسرا: دلیلں:

قرآن کی دلیلں:

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً}[الفتح:29]. (ﻣﺤﻤﺪ (ﹲ) الله ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ كافروں ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﮯ ﮔﺎ ﻛﮧ ﺭﻛﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ الله تعالى ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ كا ﻧﺸﺎﻥ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻛﮯ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻛﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺜﻞ ﺍﺳﯽ ﻛﮭﯿﺘﯽ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﻜﮭﻮﺍ نكالا ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻛﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﭨﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻛﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺧﻮﺵ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ كافروں ﻛﻮ ﭼﮍﺍﺋﮯ، ﺍﻥ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ الله ﻧﮯ ﺑﺨﺸﺶ كا ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺛﻮﺍﺏ كا ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ۔)
  2. ارشاد بارى ہے:{وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[التوبة:100]. (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺧﻼﺹ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﮨﯿﮟ الله ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﻣﮩﯿﺎ ﻛﺮ ﺭﻛﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

الله تعالى فرماتا ہے:{وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ * أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ * فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ * ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ * وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ}[الواقعة:10-14]. (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ (١٠)  ﻭﮦ بالكل ﻧﺰﺩﯾﻜﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١١) ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (١٢) (ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ) ﮔﺮﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ (١٣) ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ۔)

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِيَ أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}[الأعراف:157]. (ﺳﻮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻧﺒﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﻮﺭ كا ﺍﺗﺒﺎﻉ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﭘﻮﺭﯼ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ۔)

ارشاد بارى ہے:{لَقَد تَّابَ الله عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ}[التوبة:117]. (الله تعالى ﻧﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻛﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ كا ساتهـ ﺩﯾﺎ، ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ايكـ ﮔﺮﻭﮦ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ كچهـ ﺗﺰﻟﺰﻝ ﮨﻮ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔ ﺑﻼﺷﺒﮧ الله تعالى ﺍﻥ ﺳﺐ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺷﻔﯿﻖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔)

الله تعالى فرماتا ہے:{لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[التوبة:88-89]. (ﻟﯿﻜﻦ ﺧﻮﺩ ﺭﺳﻮﻝ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﻛﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻼﺋﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ كاميابى ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٨٨) ﺍﻧﮩﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ الله ﻧﮯ ﻭﮦ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

  1. الله تعالى فرماتا ہے:{لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا}[الفتح: 18]. (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﻣﻮﻣﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﺒﻜﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻠﮯ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﻛﯽ ﻓﺘﺢ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ)

الله تعالى كا فرمان ہے:{لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ*وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}[الحشر:8-9]. ((فىء كا ﻣﺎﻝ) ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﻣﺴﻜﯿﻨﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ نكال ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ الله ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ۔ (٨) ﺍﻭﺭ (ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ) ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺪﯾﻨﮧ) ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﺠﺮﺕ ﻛﺮﻛﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﻛﻮ ﺟﻮ ﻛﭽﮫ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻛﮭﺘﮯ ﺑﻠﻜﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﻮ ﺧﻮﺩ ﻛﻮ ﻛﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺨﺖ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ (ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ) ﻛﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﻛﮯ ﺑﺨﻞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﯽ كامياب (ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻣﺮﺍﺩ) ﮨﮯ۔)

حدیث نبوى سے دلیليں:

  • عبد اللهt بن مسعود نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا كہ (خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ) (متفق عليه). «بہترين زمانہ ميرا زمانہ ہے- پهر ان لوگوں كا جو اس زمانہ كے بعد آئيں گے پهر ان لوگوں كا جو اس كے بعد آئيں گے- اس كے بعد ايكـ ايسى قوم پيدا ہو گى كہ گواہى دينے سے پہلے قسم ان كى زبان پر آ جايا كرے گى اور قسم كهانے سے پہلے گواہى ان كى زبان پر آ جايا كرے گى-»
  • حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ: (لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِى، لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِى، فَوَالَّذِى نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ) (رواه الشيخان). «ميرے صحابہ- y- كو بُرا بهلا مت كہو- ميرے صحابہ – y- كو بُرا بهلا مت كہو- اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-»
  • رسول اللہ نے فرمایا کہ:  (اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى، اللَّهَ اللَّهَ فِى أَصْحَابِى، لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِى، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّى أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِى أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِى، وَمَنْ آذَانِى فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ) (مسند أحمد). میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجهـ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالى کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اللہ تعالی عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔ (احمد)
  • حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ: (مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: (فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟) قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ): (مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ) (صحيح مسلم). تم ميں سے آج كون روزه دار ہے؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- آپr نے فرمايا كون تم ميں سے آج جنازه كے ساتهـ گيا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مسكين كو كهانا كهلايا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مريض كى عيادت كى؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- اس پر رسول اللهr نے فرمايا جس آدمى ميں يہ سب باتيں جمع ہو گئيں وه جنت ميں داخل ہو گيا-) (مسلم)

تیسرا: موضوع:

اللہ تعالی نے اپنے نبي صل اللہ علیہ وسلم کیلئے برگزیدہ اشخاص اور نیک وصالح اصحاب کا انتخاب فرمایا، جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ کی مدد کي، اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کي درسگاہ سے فارغ ہوئے اور آپ کے ہاتھوں انکي تعلیم وتربیت ہوئي، اور ایسے صاف و شفاف چشمہ سے سیراب ہوئے جو ایمان اور قوت سے چھلک رہا تھا ، تو وہ لوگوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے سچے، اور ان میں سب سے زیادہ ذي علم، اور فہم کے اعتبار سے سب سے زیادہ تیز اور عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ اچھے تھے، جو دین کا جھنڈا لیکر دنیا کے کونے کونے گھومتے رہے،  اور اللہ کے سلسلے میں کسي ملامت کرنے والوں کي ملامت کي پرواہ نہیں کي،  تو انہیں اللہ عزوجل کي خوشنودي حاصل ہوئي، اور اللہ تعالی نے اپنے قرآن کریم میں انکي تعریف کى-  ارشاد بارى ہے: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}[توبہ: 100] (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻣﮩﺎﺟﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺪﻡ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺧﻼﺹ ﻛﮯ ساتهـ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭘﯿﺮﻭ ﮨﯿﮟ الله ﺍﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ الله ﻧﮯ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﻍ ﻣﮩﯿﺎ ﻛﺮ ﺭﻛﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔) یہ لوگ اللہ کے رسول کے وہ صحابہ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے آخري رسول صل اللہ علیہ وسلم کي صحبت کییلئے منتخب فرمایا ہے۔

وہ ایسى نسل ہیں جسے زندگي کے رخ کو موڑنے میں سبقت حاصل تھا، انہوں نے اس نور کو ساری دنیا تک پہونچایا جس نور کو سید الرسلین صل اللہ علیہ وسلم لیکر تشریف لائے، ہم چاہیں جو بھی کر لیں ہم ان کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہونچ سکتے ہیں، ہمارے لئے اتنا جان لینا کافي ہے کہ اگر ہم ہر روز احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کریں تب بھی ہم انکے برابر یا انکے آدھے بھی کو نہیں پہونچ سکتے ہیں، جیساکہ حبیب خدا صل اللہ علیہ وسلم نے بتایاہے، فرمایا : ( … فَوَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلاَ نَصِيفَهُ) (رواه الشيخان). «اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-» اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس دین کو پہونچانے کي ذمہ داري نبھائی اور اس کے خاطر سب کچھ برداشت کیا،  اور اللہ عز وجل   کے دین اور اسکے رسول کی مدد کے لئے انہوں نے اپني جان و مال تک لگا دیا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [توبہ:111] (ﺑﻼﺷﺒﮧ الله تعالى ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻛﯽ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﻮ ﺟﻨﺖ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ الله ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﻛﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﭽﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪ ﻛﻮ ﻛﻮﻥ ﭘﻮﺭﺍ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﯿﻊ ﭘﺮ ﺟﺲ كا ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﻨﺎؤ،ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم آپ کی سیرت پڑھیں اور آپ کي سنت و ہدایت کي پیروي کریں اور آپ کی شریعت پر عمل کریں،  تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی ہم پر حق ہے کہ ہم انکے رتبہ اور مقام کو پہچانیں اور انکي تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ اعلی اخلاق اور اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگي میں ہم ان کے جیسے ہو جائيں، اور انکى زندگى سے ہم عبرت ونصیحت حاصل کریں، یہ وہى لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے نبى کى صحبت اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کى تبلیغ کیلئے اللہ عزوجل نے انہیں منتخب فرمایا ہے، کیونکہ وہ اس امت کے سب سے زیادہ افضل لوگ ہیں، اللہ تعالی نے انکا ذکر وصف کمال کے ساتھ کیا ہے، انہیں انصاف پسند اور پاکباز بنایا،  تو کائنات انسانیت میں زھد وتقوی اور اخلاص میں انکا کوئي ثاني نہیں، اللہ تعالی نے انکى تعریف کي ہے، اور انکے لئے جو اجرء عظیم تیار کیا ہے اسکو بیان کیا ہے، ارشاد ہے:  {وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ * أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ * فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ * ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ *  وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ}[واقعہ: 10- 14] (ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﮔﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ (١٠)  ﻭﮦ بالكل ﻧﺰﺩﯾﻜﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ (١١) ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (١٢) (ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ) ﮔﺮﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ (١٣) ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ۔)

انکے رتبہ اور بلند مقام کے بیان کیلئے اللہ تعالی نے اپنے قرآن میں انکي صحبت کے شرف کا ذکر بعض صفات کے ساتھ کیا ہے، بلکہ توراۃ اور انجیل میں انکي تعریف کی ہے،  ارشاد ہے: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً}[فتح: 29] (ﻣﺤﻤﺪ (ﹲ) الله ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﻛﮯ ساتهـ كافروں ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﮨﯿﮟ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﮯ ﮔﺎ ﻛﮧ ﺭﻛﻮﻉ ﺍﻭﺭ ﺳﺠﺪﮮ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ الله تعالى ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ كا ﻧﺸﺎﻥ ﺍﻥ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻛﮯ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﻛﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺗﻮﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺜﻞ ﺍﺳﯽ ﻛﮭﯿﺘﯽ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻧﻜﮭﻮﺍ نكالا ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻛﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﻮﭨﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻛﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﺎﻧﻮﮞ ﻛﻮ ﺧﻮﺵ ﻛﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﺎﻛﮧ ﺍﻥ ﻛﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ كافروں ﻛﻮ ﭼﮍﺍﺋﮯ، ﺍﻥ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ نيكـ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ الله ﻧﮯ ﺑﺨﺸﺶ كا ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺛﻮﺍﺏ كا ﻭﻋﺪﮦ ﻛﯿﺎ ﮨﮯ۔) اللہ تعالی نے انکا وصف یہ بیان کیا کہ وہ کفار کیلئے بغیر کسي ظلم کے سخت ہیں ، اور آپس میں رحم دل ہیں، صرف اللہ کي عبادت کرتے ہیں اسکے ساتھ کسي کو بھی شریک نہیں ٹہرتے ہیں، رکوع اور سجدوں کي حالت میں ہوتے ہیں، اور صرف اللہ سے ہي فضل اور رضا کے طلبگار ہوتے ہیں، اور عبادت کا ان میں اثر ہوا یہاں تک کہ اسکا اثر انکے اعضاء اور جوارح پر ظاہر ہوا، اگر تم ان میں کسی کو دیکھوگے تو یہ جان لوگے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے اور اس سے ڈرنے والے ہیں، اس لئے اللہ تعالی ان سے راضي ہوگيا، اور یہ عظیم انعام ہے جو اللہ تعالی اپنے بندوں پر کرتا ہے، ارشاد ہے :  {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا}[فتح: 18] (ﯾﻘﯿﻨﺎﹰ الله تعالى ﻣﻮﻣﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﺒﻜﮧ ﻭﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻠﮯ تجهـ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﻛﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﻛﯽ ﻓﺘﺢ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ)

جب ہم حبیب مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کي سنت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم بہت سي احادیث پاتے ہیں جو انکے عظیم فضل اور بلند مقام و رتبہ  پر دالالت کرتي ہیں، اور ان میں سے آپ صل اللہ علیہ وسلم کي گواہي کہ انکا زمانہ سب سے بہتر زمانہ اور وہ سب سے بہتر امت ہیں-  عبد اللهt بن مسعود نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا كہ (خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ) (متفق عليه). «بہترين زمانہ ميرا زمانہ ہے- پهر ان لوگوں كا جو اس زمانہ كے بعد آئيں گے پهر ان لوگوں كا جو اس كے بعد آئيں گے- اس كے بعد ايكـ ايسى قوم پيدا ہو گى كہ گواہى دينے سے پہلے قسم ان كى زبان پر آ جايا كرے گى اور قسم كهانے سے پہلے گواہى ان كى زبان پر آ جايا كرے گى-»

وہ اسلئے سب بہتر ہوئے کہ وہ آپ صل اللہ علیہ وسلم پر اس وقت ایمان لائے جب دیگر لوگوں نے انکار کیا، اور جب لوگوں نے آپ کو جھٹلایا تو انہوں نے آپ کي تصدیق کي، اور اللہ کے راستہ میں اپني جان و مال کے ذریعہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی نصرت و مدد کي اور پناہ دیا ، اور مسند احمد میں ہے- عبد الله بن مسعود (رضى الله عنه) نے بيان كيا: اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو حضرت محمدr کے دل کو ان سب دلوں سے بہتر پایا تو اس کو رسالت کے لئے مقرر فرمایا، پھر دوسرے قلوب (دلوں) پر نظر ڈالی تو اصحاب محمدr کے قلوب کو دوسرے تمام بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبیؐ کی صحبت کے لئے منتخب کرلیا، پس ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبیr کا وزیر بنالیا، پس جس کام کو مسلمان (صحابہ) اچھا سمجھیں وہ عند اللہ بھی اچھا ہے اور جس کو یہ بُرا سمجھیں وہ اللہ کے پاس بھی بُرا ہے۔

اور ان میں سے: وہ حدیث جس کي جانب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے کہ وہ امت کی ڈھال ہیں- آپr نے فرمايا: «ستارے آسمان كے لئے باعث امن ہيں پس جب ستارے چلے جائيں گے تو آسمان پر وه آ جائے گا جس كا وعده ديا جاتا ہے اور اسى طرح ميں اپنے صحابہ y كے لئے باعثِ امن ہوں- جب ميں چلا جاؤں گا تو ميرے صحابہ y پر وه آ جائے گا جس كا ان سے وعده كيا جاتا ہے اور ميرے صحابہ y ميرى امت كے لئے باعث امن ہيں- پهر جب ميرے صحابہ y چلے جائيں گے تو ميرى امت پر وه آ جائے گا جس كا ان سے وعده كيا جاتا ہے-» (مسلم)- صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا وجود امت میں بدعت کے ظہور سے امان تھا ، بلکہ ان کى برکتیں انکے بعد اگلى دو نسلوں تک پہونچى- حضرت ابو سعيد خدرىt نے بيان كيا كہ رسول الله r نے فرمايا: (يَأْتِى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ. ثُمَّ يَأْتِى عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ (صلى الله عليه وسلم)؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ) (متفق عليه) (ايكـ زمانہ آئے گا كہ اہل اسلام كى جماعتيں جہاد كريں گى تو ان سے پوچها جائے گا كہ كيا تمہارے ساتهـ رسول اللهr كے كوئى صحابى بهى ہيں؟ وه كہيں گے كہ ہاں ہيں- تب ان كى فتح ہو گى- پهر ايكـ ايسا زمانہ آئے گا كہ مسلمانوں كى جماعتيں جہاد كريں گى اور اس موقع پر يہ پوچها جائے گا كہ كيا يہاں رسول اللهr كے صحابى كى صحبت اٹهانے والے (تابعى) بهى موجود ہيں؟ جواب ہو گا كہ ہاں ہيں اور ان كے ذريعہ فتح كى دعا مانگى جائے گى- اس كے بعد ايكـ زمانہ ايسا آئے گا كہ مسلمانوں كى جماعتيں جہاد كريں گى اور اس وقت سوال اٹهے گا كہ كيا يہاں كوئى بزرگ ايسے ہيں جو رسول اللهr كے صحابہ كے شاگردوں ميں سے كسى بزرگ كى صحبت ميں رہے ہوں؟ جواب ہو گا كہ ہاں ہيں تو ان كے ذريعہ فتح كى دعا مانگى جائے گى پهر ان كى فتح ہو گى-) (متفق عليه)

اور ان میں سے : یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے راستہ میں اپني رضا کے حصول کے خاطر  انکے جود و سخا اور مجاھدہ کي گواہي دی ہے، اور اس پر ان سے ہمیشگى کى جنت اور نعمتوں کا وعدہ کیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: "لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ”[توب:88-89] (ﻟﯿﻜﻦ ﺧﻮﺩ ﺭﺳﻮﻝ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎتهـ ﻛﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻼﺋﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻟﻮﮒ كاميابى ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ (٨٨) ﺍﻧﮩﯽ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ الله ﻧﮯ ﻭﮦ ﺟﻨﺘﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﻛﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ كاميابى ﮨﮯ۔)

حضرت عمر t بن خطاب بيان كرتے ہيں كہ ايكـ دن رسول اللهr نے ہميں صدقہ كرنے كا حكم ديا- اس موقع پر ميرے پاس مال بهى تها- چنانچہ ميں نے (دل ميں) كہا: اگر ميں ابو بكر t سے سبقت لينا چاہوں تو آج لے سكتا ہوں- چنانچہ ميں اپنا آدها مال (آپ كى خدمت ميں) لے آيا- رسول اللهr نے پوچها: «تم نے اپنے گهروالوں كے ليے كيا باقى چهوڑا ہے؟» ميں نے كہا: اسى قدر (چهوڑ آيا ہوں) اور پهر حضرت ابو بكر t اپنا كل مال (آپ كے پاس) لے آئے- رسول اللهr نے ان سے پوچها: «تم نے اپنے گهروالوں كے ليے كيا باقى چهوڑا ہے؟» كہا: ميں نے ان كے ليے الله اور اس كے رسول كو چهوڑا ہے- تب مجهے كہنا پڑا: ميں كسى شے ميں كبهى بهى ان سے نہيں بڑهـ سكتا-) (ترمذى)

جب یہ رسول اللہ کے صحابہ کا مقام تھا تو ان سے محبت اور دوسروں پر انکے افضلیت کا اقرار ہر مسلمان کا  ایماني فریضہ ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے کہ آپ نے ان سے محبت کیا اور اپنا ساتھی چنا، تو مؤمن اس سے محبت کرتا ہے جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے  اور جس سے اللہ اور اسکا رسول محبت کرتا ہے، اور ان میں سر فہرست صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں- رسول اللہ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور انکو حدف ملامت نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض کی اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے انہیں ایذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالی کو اذیت دی اللہ تعالی عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔ (ترمذى، احمد) (حضرت براءt نے بيان كيا كہ نبى كريمr نے فرمايا: «انصار سے صرف مومن ہى محبت ركهے گا اور ان سے صرف منافق ہى بغض ركهے گا- پس جو شخص ان سے محبت ركهے اس سے الله محبت ركهے گا اور جو ان سے بغض ركهے گا اس سے الله تعالى بغض ركهے گا (معلوم ہوا كہ انصار كى محبت نشان ايمان ہے اور ان سے دشمنى ركهنا بے ايمان لوگوں كا كام ہے)» (بخارى)

شریعت اسلامیہ نے صحابہ رضی اللہ عنھم پر طعن و تشنیع کو حرام کیا ہے، کیونکہ جس نے انہیں رسول اللہ کی صحبت کیلئے منتخب کیا اور انکي تعریف کي اور ان سے راضي ہوا وہ اللہ سبحانہ تعالی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے انہیں گالي دینے سے ہمیں منع فرمایا ہے- حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ «ميرے صحابہ- y- كو بُرا بهلا مت كہو- ميرے صحابہ – y- كو بُرا بهلا مت كہو- اس كى قسم جس كے ہاتهـ ميں ميرى جان ہے اگر تم ميں سے كوئى احد جتنا سونا بهى خرچ كرے وه ان ميں سے كسى ايكـ كے ايكـ مد كے برابر يا آدهے مد كے برابر بهى نہيں پہنچ سكتا-» (مسلم)

(حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو برا بھلا مت کہو، پس ان کے عمل کا ایک لمحہ تم میں سے کسی کے زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے-) (فضائل الصحابة لأحمد)- تو اسي لئے ہم پر ضروري ہے کہ ہم انکي عزت کی حفاظت کریں اور انکے رتبہ اور مقام کو پہچانیں۔

صحابہ کرام  کي زندگی پر نگاہ رکھنے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایمان و یقین کے بلند مقام پر فائز، اور اللہ اور رسول سے محبت کے پیکر ہیں، اور اعلی اخلاق سے آراستہ حقیقي تصویر ہیں، تو وہ سب سے بہتر قائد و رہنما تھے، جنہوں نے اللہ کے دین کی نصرت و مدد کے خاطر جود و سخا اور علم وعمل اور قربانيوں کي شاندار مثال قائم کي،  یہاں تک کہ انکے سلسلے میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد نازل ہوا: {لِلْفُقَرَاءِ المُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ}[حشر: 8]. ((فىء كا ﻣﺎﻝ) ﺍﻥ ﻣﮩﺎﺟﺮ ﻣﺴﻜﯿﻨﻮﮞ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ نكال ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ الله ﻛﮯ ﻓﻀﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺭﺿﺎﻣﻨﺪﯼ ﻛﮯ ﻃﻠﺐ ﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻛﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﻣﺪﺩ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ۔)

اسکى سب سے بڑي مثال حضرت علي بن طالب رضی اللہ عنہ ہیں جو ہجرت کي رات اپني جان کا نظرانہ پیش کرتے ہوئے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سوگئے، جبکہ انکو یہ معلوم تھا کہ مشرکین انکو قتل کر سکتس ہیں۔

اسى طرح حضرت صھیب رومى اللہ کے دین اور رسول اللہ کي مدد کے لئے اپنے مال کى  قربانياں دیتے ہیں، جب مدینہ کي جانب ہجرت کا ارادہ کیا، تو کفار قریش نے ان سے کہا کہ تم ہمارے پاس فقیر آئے تھے، ہمارے پاس آکر تمہارا مال بڑھ گیا، اور تم وہ ہو گئے  جو ابھي ہو، اور اب تم اپنا مال اور جان لیکر یہاں سے نکلنا چاہتے ہو، اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ہے، تو انہونے کہا : کیا خیال اگر میں تم لوگوں کو اپنا مال  دے دوں تو کیا تم لوگ میرا راستہ چھوڑ دوگے؟، لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہا کہ: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا مال تم لوگوں کے لئے کر دیا، جب اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: صھیب کامیاب ہوگیا، صھیب کامیاب ہوگیا، اور ان کے سلسلے میں اللہ کا یہ قول نازل ہوا- {وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ} (ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ الله تعالى ﻛﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﻛﯽ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺗﻚ ﺑﯿﭻ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﮍﯼ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ۔) (بقره: 207)

یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اعلی اخلاق اور عمدہ صفات کي شاندار مثال قائم کي، یہاں تک کہ وہ اچھے نمونہ اور  اعلی اخلاق کے آڈیل بن گئے، اور نبي صل اللہ علیہ وسلم نے انکے جنتي ہونے کي گواہي دی-  (حضرت ابو ہريرهt بيان كرتے ہيں كہ رسول اللهr نے فرمايا كہ تم ميں سے آج كون روزه دار ہے؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- آپr نے فرمايا كون تم ميں سے آج جنازه كے ساتهـ گيا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مسكين كو كهانا كهلايا؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- حضورr نے فرمايا تم ميں سے كس نے آج كسى مريض كى عيادت كى؟ حضرت ابو بكرt نے عرض كيا ميں نے- اس پر رسول اللهr نے فرمايا جس آدمى ميں يہ سب باتيں جمع ہو گئيں وه جنت ميں داخل ہو گيا-) صحيح مسلم-

یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ایک رات گشت کر رہے تھے، کہ ایک عورت کے پاس سے گزر ہوا جس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور آگ پر ہانڈي رکھي ہوئي تھي اور بچے بلک بلک کے رو رہے تھے، تو حضرت عمر نے ان سے کہا: اے روشني والے تم پر اللہ کي سلامتي ہو ، آپ نے ناپسند کیا کہ انکو آگ والے کہہ کر مخاطب کریں، تو انہوں نے جواب دیا آپ پر اللہ کي سلامتي ہو، عمر نے کہا: کیا حال ہے، عورت نے کہا ٹھیک ہے رہنے دو، عمر قریب ہوئے کہا: تمہاري کیا حالت ہے؟ عورت نے جواب دیا: رات اور سردي نے ہمیں مجبور کر دیا ہے، عمر نے کہا: بچے کیوں بلک رہے ہیں؟ عورت نے کہا: بھوک کي وجہ سے، آپ نے کہا: اس ہانڈي میں کیا ہے؟ عورت نے کہا: انکو چپ کرنے  کیلئے آگ پررکھا ہوا ہے تاکہ یہ سو جائيں، ہمارے اور عمر کے درمیان اللہ ہے، عمر نے کہا: تم پر اللہ کي رحمت ہو، عمر کو بھلا تمہارے حال کا کیسے علم ہو سکتا ہے؟ عورت نے کہا: عمر ہمارا ذمہ دار بن گیا اور ہم سے بے خبر ہوگیا ، اس حدیث کے راوي زید بن اسلم کہتے ہیں: کہ وہ میرے پاس آئے اور کہا: تم میرے ساتھ چلو، تو ہم بھاگتے ہوئے نکلے اور آٹے کے گودام میں پہونچے وہاں سے ایک بوري آٹا لیا اور ایک گولا چربي کا لیا، کہا : اسے مجھ پر رکھ دو، میں نے کہا آپ کے بجائے میں اٹھا لیتا ہوں، تو عمر نے کہا : کیا کل قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤگے؟ راوي کہتے ہیں کہ میں نے انپر رکھ دیا اور وہ تیز بھاگے اور میں بھي انکے ساتھ بھاگا، عورت کے پاس پہونچ کر اس کے سامنے رکھ دیا، پھر کچھ آٹا نکالا، کہنے لگے: اسے نچار لو میں حرکت دیتا ہوں

پھر خود چولہا پھونکنے لگے، پھر ہانڈي اتارا اور کہا: کوئي برتن لاؤ، وہ ایک پلیٹ لیکر آئي، تو آپ نے اس میں انڈیل دیا، پھرعورت سے کہا: تم انہيں کھلاؤ اور میں اسے ٹھنڈا کرنے کیلئے پھیلاتا ہوں، تو انہیں کھلاتے رہے یہاں تک کہ شکم سیر ہوگئے، اور باقي ماندہ اسي کے پاس چھوڑ دیا، راوي کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہوا، عورت کہنے لگي : جزاک اللہ خیر ،   تم اس امر کے امیر المؤمنین سے زیادہ حقدار تھے، عمر کہتے ہیں جب تم امیر المؤمین کے پاس جانا تو اچھي بات کہنا، اور انشاء اللہ وہاں میري بات کرنا، پھر عورت سے کنارہ ہوکر وہاں سے رخصت ہوگئے، اور دور ہوکر گھات لگا کر بیٹھ گئے، ہم نے ان سے کہا: اس کے علاوہ ہمیں اور بھي کام ہے،  تو آپ نے کچھ بھي جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ بچے  کھیلنے لگے اور پھر سو گئے اور سکون ہوگیا، تو آپ نے کہا: اے اسلم ، بھوک نے انہیں جگایا اور رولایا تھا،  تو جو اب میں نے دیکھا اس کے دیکھنے سے پہلے واپس جانا مجھے اچھا نہ لگا۔ (فضائل صحابہ امام احمد)

اسي طرح اللہ کے دین کی مدد اور نصرت کے خاطر ایثار وقرباني  اور جود و سخا کے بہت سے واقعات صحابیات (رضوان الله تعالى عليهن أجمعين)  کے بھي ہیں، ہم ان میں سے بعض کو بیان کرتے ہیں۔

*  ام المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنھا کا موقف اور کردار ہے جو انہوں نے اللہ کے دین کے نشر و اشاعت کي راہ میں ادا کیا، کہ وہ اپنے شوہر نبي کریم صل اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ کھڑي ہوئيں اور اور اپنے جان و مال کي بازي لگاديں، اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کو تسلي دیں جب غار حراء میں آپ پر وحي نازل ہوئي، تو پورے بھروسہ اور اعتماد سے  بغیر کسي خوف و ڈر کے کہا: (خدا كى قسم آپ كو الله كبهى رسوا نہيں كرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ كے مالكـ ہيں، آپ تو كنبہ پرور ہيں، بے كسوں كا بوجهـ اپنے سر پر ركهـ ليتے ہيں، مفلسوں كے ليے آپ كماتے ہيں، مہان نوازى ميں آپ بے مثال ہيں اور مشكل وقت ميں آپ امر حق كا ساتهـ ديتے ہيں-) (بخارى)- تو اچھي اور وفادار بیوي تھی جو اپنے شوہر کا حق جانتي تھي، اس لئے نبي صل اللہ علیہ وسلم انکي وفادري کي وجہ سے ہمیشہ انکا ذکر اور تعریف کیا کرتے تھے- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی بھی حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی خوب تعریف فرماتے : آپ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں غصہ میں آ گئی اور میں نے کہا کہ آپ سرخ رخساروں والی کا تذکرہ بہت زیادہ کرتے ہیں حالانکہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر عورتیں اس کے نعم البدل کے طور پر آپ کو عطا فرمائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ﷲ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر بدل عطا نہیں فرمایا وہ تو ایسی خاتون تھیں جو مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے اور میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اور اپنے مال سے اس وقت میری ڈھارس بندھائی جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اﷲ تبارک و تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے مجھے اولاد عطا فرمانے سے محروم رکھا۔ (احمد كى روايت)

اسى طرح صحابیات کے اچھے اور عمدہ نمونوں میں سے ایک سیدہ ام عمار ہیں جو کعب انصاریہ کي بیٹي کے رشتہ دار ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ غزوہ احد میں میں نے دائیں بائیں جدھر بھی رخ کیا ام عمار کو دیکھا کہ وہ میرا دفاع کر رہي تھي ، یہاں تک کہ ایک شخص آیا جو رسول اللہ کو قتل کرنا چاہتا تھا جب جب اسنے رسول اللہ کو نیزہ مارنے کا ارادہ کیا ام عمارہ اسکے  درمیان حائل ہو گئيں، وہ ان کو تلوار سے مارنے لگا یہاں تک کہ تلوار کي مار کي وجہ سے ان کے کندھے کي ہڈي جھک گئي، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اے ام عمار تم اپني استطاعت سے زیادہ کر رہي ہو، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ بلکہ میں استطاعت رکھتي ہوں، میں استطاعت رکھتي ہوں، میں استطاعت رکھتي ہوں، رسول اللہ نے ان سے کہا: اے ام عمار تم مجھ سے مانگو، کہتي ہیں: اے اللہ کے رسول میں جنت میں آپ کا ساتھ چاہتي ہوں، تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم  اکیلے ہي نہیں بلکہ تم اور تمہارے اہل خانہ بھي ہونگے، تو انہوں کہا:  کہ دنیا میں مجھے جو مصیبت بھي ملي اس کي کوئي پرواہ نہیں ہے۔ (سير أعلام النبلاء).

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ترقي کریں اور اگے بڑھیں ہلاکت سے محفوظ رہیں،  اور دنیا اور آخرت میں اللہ تعالی کي خوشنودي اور  رضا  حاصل کر سکیں، تو ضروري ہے کہ رسول اللہ کے صحابہ کرام کي زندگی سے روشني حاصل کریں اور انکے نقش قدم پر چلیں، اور انکے اخلاق کو اپنائیں، کیونکہ وہ مؤمنوں اور مسلموں کیلئے آڈیل اور نمونہ ہیں، نبي صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں انکي پیروي کرنے اور انکے راستے پر چلنے کا حکم دیا ہے- (حضرت عرباض بن ساريہt سے روايت ہے… «تو ميرى سنت كو اور ہدايت يافتہ خلفائے راشدين كے طريقے كو اختيار كرنا، اسے ڈاڑهوں سے پكڑ كر ركهنا، (اس پر مضبوطى سے قائم رہنا) اور نئے نئے كاموں سے پرہيز كرنا، كيونكہ ہر بدعت گمراہى ہے-» (سنن ابن ماجہ)

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے بچوں اور عورتوں کو صحابہ کرام کے اخلاق سکھائیں، کہ وہ رسول اللہ کي کیسے اتباع اور پیروي کرتے تھے اور آپ صل اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے دین کي مدد کیلئے کیسے قربانياں دیتےتھے، یہاں تک کہ انہوں نے اپني جانوں کو بھی اللہ پر ایمان و یقین کے بدلہ بیچ دیا تھا۔