کلمہ ( بات ) کى امانت اور اسکى ذمہ داریاں
1 رجب 1437ھ مطابق 8 اپریل 2016 ء

awkaf-

پہلا عناصر :

  • اسلام میں کلمہ ( بات ) کا مقام ۔
  • زبان پر قابو ایمان کي علامت ہے۔
  • کلمہ ( بات ) کي امانت اور اسکي ذمہ داریاں اخلاقي اور شرعي فریضہ ہے۔

کلمہ ( بات ) کي اہمیت اور معاشرہ اور افراد کي زندگي میں اسکا اثر۔

دوسرا دلیلیں :

قرآن كريم کى دلیلیں:

  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب :70-71] . (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {.. وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا…}[البقرة: 83] . (…ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ…)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا}[ الإسراء: 53] . (ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ نكالا ﻛﺮﯾﮟ ﻛﯿﻮﻧﻜﮧ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻓﺴﺎﺩ ﮈﻟﻮﺍﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﮯ شكـ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ كا ﻛﮭﻼ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ}[ فصلت:34]. (ﻧﯿﻜﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯼ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: { الرَّحْمَنُ * عَلَّمَ الْقُرْآنَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ * عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} [الرحمن :1ـ 4] . (ﺭﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ۔(١) ﻗﺮﺁﻥ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔ (٢) ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ۔ (٣) ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ * تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ * وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ} [ إبراهيم: 24ــ 26] . (ﻛﯿﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻜﮭﺎ ﻛﮧ الله تعالى ﻧﮯ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﻛﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ، ﻣﺜﻞ ايكـ ﭘﺎﻛﯿﺰﮦ ﺩﺭﺧﺖ ﻛﮯ ﺟﺲ ﻛﯽ ﺟﮍ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻛﯽ ﭨﮩﻨﯿﺎﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ (٢٤) ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﻛﮯ ﺣﻜﻢ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮭﻞ ﻻﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ الله تعالى ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺜﺎﻟﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﻛﮧ ﻭﮦ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﯾﮟ۔ (٢٥) ﺍﻭﺭ ناپاكـ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﮔﻨﺪﮮ ﺩﺭﺧﺖ ﺟﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﻛﮯ كچهـ ﮨﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﻛﮭﺎﮌ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺳﮯ كچهـ ﺛﺒﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ }[البقرة: 263] . (ﻧﺮﻡ ﺑﺎﺕ ﻛﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻑ ﻛﺮﺩﯾﻨﺎ ﺍﺱ ﺻﺪﻗﮧ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﺬﺍ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ الله تعالى ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺩﺑﺎﺭ ﮨﮯ)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ}[النحل: 116]. (ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﻧﮧ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﻛﮧ الله ﭘﺮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﻮ، سمجهـ ﻟﻮ ﻛﮧ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ كاميابى ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔)
  • اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى}[طه :43- 44] . (ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﻛﯽ ﮨﮯ۔ (٤٣) ﺍﺳﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎؤ ﻛﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ سمجهـ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮈﺭ ﺟﺎﺋﮯ۔)

سنت نبوى کى دلیلیں:

  • (حضرت ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى كريمr نے فرمايا بنده الله كى رضامندى كے لئے ايكـ بات زبان سے نكالتا ہے اسے وه كوئى اہميت بهى نہيں ديتا مگر اسى كى وجہ سے الله اس كے درجے بلند كر ديتا ہے اور ايكـ دوسرا بنده ايكـ ايسا كلمہ زبان سے نكالتا ہے جو الله كى ناراضگى كا باعث ہوتا ہے اسے وه كوئى اہميت نہيں ديتا ليكن اس كى وجہ سے وه جہنم ميں چلا جاتا ہے-)

  • ابو ہريرهt نے بيان كيا كہ رسول كريمr نے فرمايا: «انسان كے ہر ايكـ جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے- ہر دن جس ميں سورج طلوع ہوتا ہے- پهر اگر وه انسانوں كے درميان انصاف كرے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے اور كسى كو سوارى كے معاملے ميں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر كہ اسے اس پر سوار كرائے يا اس كا سامان اٹها كر ركهدے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے اور اچهى بات منہ سے نكالنا بهى ايكـ صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز كے لئے اٹهتا ہے وه بهى صدقہ ہے اور اگر كوئى راستے سے كسى تكليف دينے والى چيز كو ہٹا دے تو يہ بهى ايكـ صدقہ ہے-»
  • حضرت ابو ہريرهt سے روايت كرتے ہيں، وه رسول الله r سے نقل كرتے ہيں كہ آپr نے فرمايا: «منافق كى علامتيں تين ہيں- جب بات كرے جهوٹ بولے، جب وعده كرے اس كے خلاف كرے اور جب اس كو امين بنايا جائے تو خيانت كرے-»
  • حضرت ابو ہريره t سے روايت ہے كہ نبى كريم r نے فرمايا: «جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ اپنے پڑوسى كو تكليف نہ دے، جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ اپنے مہمان كى عزت كرے اور جو شخص الله اور آخرت كے دن پر ايمان ركهتا ہو، اس پر لازم ہے كہ بهلى بات كہے ورنہ چپ رہے-»
  • حضرت ابن عباس – رضى الله عنہما- سے روايت ہے كہ نبىr كے زمانے ميں ہو اسے ايكـ شخص كى چادر اڑ گئى تو اس نے اسے لعنت كر دى، تو نبىr نے فرمايا: «اسے لعنت مت كرو، بلاشبہ يہ (الله كے حكم كى) پابند ہے- اور بلاشبہ جس نے كسى چيز كو لعنت كى جب كہ وه اس كى حق دارنہ ہو، تو يہ لعنت كرنے والے پر لوٹ آتى ہے-»

تیسرا: موضوع:

اللہ سبحانہ تعالی نے انسان کو بہت سي نعمتوں سے نواز جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ}[النحل: 18] (ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ الله ﻛﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ كا ﺷﻤﺎﺭ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﺮ ﺳﻜﺘﮯ۔ بيشكـ الله ﺑﮍﺍ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﮨﮯ۔) ان نعمتوں میں سے ایک نعمت زبان کي نعمت ہے-{أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ*وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ}[البلد:8 ـ 9](ﻛﯿﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺩﻭ ﺁﻧﻜﮭﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ۔ (٨) ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﭧ (ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ))- پھر اللہ تعالی نے زبان کو بیان کي نعمتوں سے مزین کیا جس کے ذریعہ انسان تمام دیگر مخلوقات سے جداگانہ حیثیت کا حامل ہے-{الرَّحْمَنُ * عَلَّمَ الْقُرْآنَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ * عَلَّمَهُ الْبَيَانَ} [الرحمن:1ـ 4] (ﺭﺣﻤٰﻦ ﻧﮯ۔(١) ﻗﺮﺁﻥ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔ (٢) ﺍﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻛﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻛﯿﺎ۔ (٣) ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺳﻜﮭﺎﯾﺎ۔)- بلاشبہ کلمہ ( بات ) ہى انسان کی پہچان ہے، اور ایک دوسرے سے رابطہ کا ذریعہ ہے، اور اسي کے ذریعہ سے انسان کي زندگي میں سب کچھ ممکن ہے، اور دنیا کي کسی شریعت نے کلمہ ( بات ) کي اہمیت پر ایسا زور نہيں دیا جیساکہ اسلامي شریعت نے ہر حال میں کلمہ کي اہمیت پر زور دیا ہے یہاں تک کہ مزاق کی حالت میں بھي، تو کلمہ ( بات ) کے ذریعہ ہي قوم اور امتیں خوش بخت ہوتی ہیں اور بد بخت بھي، اور اسي کے ذریعہ جان اور عزت و آبرو کي حفاظت ہوتی ہے، اور اسى کے ذریعہ ان کي پائمالی بھى۔

انسان کى زندگى میں کلمہ ( بات ) کي اہمیت کے پیش نظر زبان کي درستگي اور اسکى حفاظت، اور لوگوں کي عزت و آبرو کے تئیں اسے بے لگام نہ ہونے، اور بیکار اور لایعنی باتوں سے بچنے کا اللہ کي جانب سے حکم نازل ہوا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ}[ق: 18] ((ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻛﻮﺋﯽ ﻟﻔﻆ نكال ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮕﮩﺒﺎﻥ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﮯ۔)

انسان کے تمام اعضاء کا تعلق زبان سے ہے، اگر وہ درست ہے تو سب کچھ درست ہے اور اگر وہ درست نہیں تو کچھ بھی درست نہیں ہے- (روايت ہے ابى سعيد خدرىt سے مرفوع كيا انہوں نے اس حديث كو يعنى قول رسول اللهr ٹهہرايا كہ فرمايا آپ نے جب صبح كرتا ہے آدمى سب اعضا اس كے عاجزى كرتے ہيں زبان كے آگے اور كہتے ہيں ڈر تو الله تعالے سے ہمارے مقدمہ ميں اس ليے كہ ہم تيرے ساتهـ ہيں اگر تو سيدهى ہوئى تو ہم سب سيدهے ہوئے اور اگر تو ٹيڑهى ہوئى تو ہم سب ٹيڑهے ہوئے-)

آپ صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بیان فرمایا: بلاشبہ زبان انسان کے جنت یا جہنم کے دخول کا سبب ہو سکتا ہے- وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں آپ صل اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہوگیا ۔۔۔ اور ان میں ۔۔ پھر فرمایا: ( کیا میں تمہے اس تمام کا خلاصہ اور نچوڑ نہ بتا دوں؟) کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے نبي، تو آپ نے اپني زبان مبارک پکڑا اور فرمایا: (اس پر قابو رکھو)- میں نے کہا: اے اللہ کے رسول، کیا ہم جو بولتے ہیں ہم سے اس کا مؤاخذہ ہوگا؟، فرمایا: (اے معاذ تمہاري ماں تمهيں کھو دے) لوگ صرف اپنى زبان کى وجہ سے آگ میں اپنے منہ کے بل ڈالے جائنگے – یا فرمایا: اپنے ناک کے بل-

کلمہ (بات) ایک امانت ہے، اس کے کہنے والوں کو چاہئے کہ اس بارے میں اللہ عزوجل سے ڈرے، جو اسکي اہمیت و عظمت ہے اور جو اسکي وجہ سے بڑا خیر وجود میں اتا ہے یا بھیانک تباہي، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ بنی صل اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: (بیشک بندہ اللہ کي خوشنودی کے کلمات بولتا ہے، جس پر وہ دھیان بھی نہیں دیتا، اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے، اور بیشک بندہ اللہ کی ناراضگي کے کلمات بولتا ہے جس پر وہ دھیان بھی نہیں دیتا اور اسکي وجہ سے وہ جہنم میں گر جاتا ہے)۔

جیساکہ رسول اللہ ل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا: کہ اچھے کلمات (بات) آدمي کے ایمان کی دلیل ہے، آپ نے فرمایا: (جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے) اسي طرح اللہ تعالی نے ہمیں بلا تفریق تمام لوگوں کے ساتھ سچي بات کہنے کا حکم دیاہے، اور یہ کہ ہم درست بات ہي کہیں جو فساد کے بجایے اصلاح، اور بگاڑ کے بجایے بنانے، اور تخریب کے بجایے تعمیر کا کام کرے- الله تعالى فرماتا ہے: {وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا …} [بقره:83] (…ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﮩﻨﺎ…)- اور ارشاد بارى ہے: {وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ}[اسراء:53] (ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ ﻛﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ نكالا ﻛﺮﯾﮟ)- الله تعالى فرماتا ہے:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}[احزاب:70-71] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔) اعمال کي اصلاح اور گناہوں کی مغفرت اچھی باتوں اور سچے کلمات پر مرتب ہوتے ہیں، اسي لئے اسلام نے باتوں اور افواہوں کی چھان بین پر زور دیا ہے، کہ ہر کہي ہوئی باتوں کي تصدیق نہیں کي جا سکتی ہے- الله تعالى كا ارشاد ہے:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ}[حجرات: 6] (ﺍﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ! ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻛﻮﺋﯽ ﻓﺎﺳﻖ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻛﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻛﺮ ﻟﯿﺎ ﻛﺮﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻛﮧ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻛﺴﯽ ﻗﻮﻡ ﻛﻮ ﺍﯾﺬﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻛﯿﮯ ﭘﺮ ﭘﺸﯿﻤﺎﻧﯽ ﺍﭨﮭﺎؤ۔)

یہاں سے یہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ زبان کی حفاظت کمال ایمان اور حسن اسلام کي دلیل اور فردوس اعلی تک پہونچنے کا ذریعہ ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ}[مؤمنون: 3] (ﺟﻮ ﻟﻐﻮﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) إلى أن قال: {أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ * الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [مؤمنون:10ــ11] (ﯾﮩﯽ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﯿﮟ۔ (١٠) ﺟﻮ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﻛﮯ ﻭﺍﺭﺙ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔)، سہلt بن سعد سے روايت ہے كہ رسول اللهr نے فرمايا: «مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الجَنَّةَ» (بخارى). (ميرے لئے جو شخص دونوں جبڑوں كے درميان كى چيز (زبان) اور دونوں پاؤں كے درميان كى چيز (شرمگاه) كى ذمہ دارى دے دے ميں اس كے ليے جنت كى ذمہ دارى دے دوں گا-)

بلا شبہ کلمہ (بات) کى امانت اور اسکى ذمہ داریاں اخلاقى اور شرعى فریضہ ہے، کیونکہ وہ امت کو متحد اور اسکے ارادوں کو مضبوط اور دشمن کو دوست بناتا ہے، اور بغض و کینہ کو محبت میں تبدیل کر دیتا ہے، اور شیطان کے مکر کا سد باب کرتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{ …ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ}[فصلت: 34] (ﺑﺮﺍﺋﯽ ﻛﻮ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﻛﺮﻭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﺲ ﻛﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻟﯽ ﺩﻭﺳﺖ۔)

جیساکہ اچھى باتیں دلوں کو جوڑتى اور نفس کی اصلاح کرتى ہیں، اور غموں کو دور اور غصہ کو ختم کرتی ہیں، اور اس سے خوش بختى اور رضامندگى کا احساس ہوتا ہے خاص طور پر جب کہ باتوں کے ساتھ ساتھ سچى مسکراہٹ بھی ہو- (اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھ کرمسکرانا صدقہ ہے) (الادب المفرد للبخارى)- کلمہ (بات) کي امانت صاحب کلمہ سے اس بات کا متقاضي ہے کہ خیر اور سچ کے علاوہ کچھ نہ بولے، نہ جھوٹ بولے اور نہ دھوکہ دے اور نہ جھوٹي گواہي دے اور نہ حقیقت کو چھپانے کى کوشش کرے، اور بغیر علم کے کوئی بات نہ کہے- ارشاد بارى ہے: {وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ}[النحل: 116] (ﻛﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻛﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﻧﮧ ﻛﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﻛﺮﻭ ﻛﮧ ﯾﮧ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﻛﮧ الله ﭘﺮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﻧﺪهـ ﻟﻮ، سمجهـ ﻟﻮ ﻛﮧ الله تعالى ﭘﺮ ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ كاميابى ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔) اسى طرح کلمہ (بات) کي امانت صاحب کلمہ سے نصیحت اور مشورہ کے طلبگار کیلئے اس میں سچائي کا متقاضي ہے، تو دین نصیحت ہے جیساکہ صادق و امین صل اللہ علیہ وسلم نے بتایا: (حضرت تميم دارىt سے روايت ہے كہ نبى r نے فرمايا كہ دين خير خواہى اور خلوص (كا نام) ہے- ہم نے عرض كيا كس كے لئے؟ آپr نے فرمايا الله كے لئے اور اس كى كتاب كے لئے اور اس كے رسولr كے لئے، مسلمانوں كے ائمّہ اور ان كے عوام كے لئے-) (مسلم) (حضرت ابو ہريرهt سے روايت ہے كہ رسول اللهr نے فرمايا: «مشوره دينے والا امين ہوتا ہے-») (ابو داود)

نصیحت اور خلوص پر مبنى سچے مشورہ کے ذریعہ بندوں کے معاملات کي اصلاح ہوتى ہے، اور امن و امان کا بول بالا ہوتا ہے اور ملک میں خوشحالي آتى ہے۔

بلاشبہ کلمہ (بات) ایک تباہکن دو دھاري تلوار ہے، یا تو تعمیر و ترقي کا سبب ہوگا، اگر بات سچي اور درست ہو- یا فساد وبگاڑ اور تباہي کا ذریعہ ہوگي اگر بات جھوٹی اور بے بنیاد ہوگی، تو کلمات کوئي معمولي بات نہیں ہے، بلکہ انسان کي زندگي میں اس کي بڑي اہمیت اور مقام ہے، اور لوگوں کے ساتھ جو خرید و فروخت اور عہد و پیمان اور ان جیسے معاملات کیے جاتے ہیں اس میں سچي بات کہنے کا مطالبہ ہے۔ اور لوگوں کے ساتھ تعلق میں سچي بات کا جو اچھا اثر ہے وہ کسي سے چھپا ہوا نہیں ہے، تو پڑوسیوں کے ساتھ اچھي بات جنت میں داخلہ کا سبب بن سکتا ہے، اور ان کے ساتھ بري بات جہنم میں داخلہ کا سبب بھی ہو سکتا ہے-

اسى طرح مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلق میں بات کا اچھا اثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے دشمنوں کے ساتھ بھی نرم بات کہنے کا حکم دیا ہے- الله تعالى فرماتا ہے: {اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى} [طه :43 -44] (ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎؤ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺳﺮﻛﺸﯽ ﻛﯽ ﮨﮯ۔ (٤٣) ﺍﺳﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎؤ ﻛﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ سمجهـ ﻟﮯ ﯾﺎ ﮈﺭ ﺟﺎﺋﮯ۔)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لکھي ہوئی باتوں کے بہت سے نقصانات ہیں جو امت کو مکمل طور پر تباہ کر دیتے ہیں، انکے نقصانات بولي جانے والي باتوں سے کم نہیں ہے، تو یہ دونوں باتیں امانت ہیں، یہاں سے یہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ ہر صاحب قلم کو چاہئے کہ اس کا کما حقہ حق ادا کرے، اور کسی طرح کي لغزش کے سرزد ہونے سے پر ہیز کرے، کیونکہ وہ اسکے اخلاق اور اسکي رایے کا عکس ہے، اسے حق کی مدد اور اجھائی کی حمایت میں استعمال کرے، جیسا کہ جاحظ نے کہا ہے: ( قلم دو زبان میں سے ایک زبان ہے، اور اسکا اثر دیر تک باقي رہتا ہے)، بلکہ وہ طاقت میں ایک تلوار ہے، اسکی وار وہاں تک پہونچتي ہے جہاں تک زبان نہیں پہونچ سکتى۔

یہاں سے یہ بات سمجھ میں آتي ہے کہ جھوٹي خبریں پھیلانا اور حقیقت کو بگاڑنا یا اسے چھپانا، یا کسي شریف انسان کو بے آبرو کرنا اور ہر وہ جو معاشرے میں فحش و بے حیائي کو فروغ دے وہ کلمہ (بات) کی خیانت شمار ہوگى۔

ہر لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے، اور اسے اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جو اسنے لکھا ہے وہ اس کے لئے یا اسکے خلاف گواہ ہوگا۔

ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے سامنے اپني مکمل ذمہ داريوں کو محسوس کرے، اسي طرح اپنے ضمیر اور مخلوق کے سامنے بھی اور ہر اس چیز کے تئيں جو وہ کہتا ہے، تاکہ وہ ایک ہی معاشرہ کے افراد کے درمیان اختلاف اور نفرت کا سبب نہ بنے، اور رشتوں کے ٹوٹنے اور لوگوں کے درمیان تعلقات کے بگڑنے کا سبب نہ ہو- تو معاشرے کے افراد کے درمیان الفت و محبت پھیلانے اور بغض اور دوري کو مٹانے کیلئے ہم اچھے کلمات کے کتنے زیادہ محتاج ہیں اسکے اچھے اثر کي وجہ سے- اعمال کى اصلاح اور گناہوں کي مغفرت کیلئے اچھے کلمات کا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}[احزاب:70-71 ] (ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ! الله تعالى ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ (ﺳﭽﯽ) ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻛﯿﺎ ﻛﺮﻭ۔ (٧٠) ﺗﺎﻛﮧ الله تعالى ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ كام ﺳﻨﻮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ،ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ الله ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﻛﯽ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺮﺍﺩ ﭘﺎﻟﯽ۔)